BN

سعد الله شاہ


جہان ہوتے نہیں اسباب بنا دیتی ہے


میری حیرت کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب، بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارہ کہیں مہتاب بنا دیتی ہے ویسے اس ذات کو اسباب پیدا کرنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اسے تو کن کہنے کی بھی ضرورت کب تھی۔شاید صرف ہمارے محدود ذھنوں میں بات بٹھانے کے لئے اسباب تو فطرت میں پہلے سے بھی موجود ہیں۔ کس کو معلوم تھا کہ ہوا کے دوش پر کیا کچھ سفر کرتا ہے کس کو معلوم تھا کہ بے حیثیت مچھر اپنے ناتواں پروں پر موت اٹھائے پھرتا ہے اور کس کے علم
اتوار 01 مارچ 2020ء

زنگار نامہ کی تقریب پذیرائی

هفته 29 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ اے سعدؔ فن یہی ہے کہ کہہ جائے آدمی مشکل ترین بات بڑی سادگی کے ساتھ آپ میرا حال دیکھیں کہ میرے ہاتھ عامر ہاشم خاکوانی کی کتاب زنگار نامہ لگ گئی اور میں نے رات سرداروں کے وقت پر اٹھ کر اپنے لئے کافی بنائی اور ابوالکلام کی چائے کی طرح اسے نوش کیا اور مزے لے لے کر کتاب کا ابتدائی حصہ پڑھ ڈالا۔ اصل میں آج ہی سرشام ایک مقامی ہوٹل میں ہمارے محمد ضیاء الحق نقش بندی نے اس کتاب کی تقریب
مزید پڑھیے


شبہ طراز کے یورپ میں 19دن

جمعه 28 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
آج مجھے ایک ایسے ہی تروتازہ سفر نامے کا حال لکھنا ہے جس میں جھیلیں‘دریا‘ سبزہ اور یادگار جگہوں کا تذکرہ بہت ہی شاعرانہ انداز میں کیا ہوا ہے۔ یہ سفر نامہ یورپ ہماری صاحب اسلوب ادیبہ اور شاعرہ شبہ طراز کے قلم نے صفحہ قرطاس پر رنگ و خوشبو کے احساس میں گوندھ کر اتارا ہے۔یہ محاورہ تو عام ہے کہ ایک کریلا اور اوپر سے نیم چڑھا مگر یہ محاورہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ انگور اور انناس چڑھا بہرحال شبہ طراز نے کیکر پر انگور نہیں چڑھایا اور نہ کوئی گوشہ زخمایا ہے۔عدیم یاد آ گیا: دور سے
مزید پڑھیے


زندگی کیسے گزاری جائے

بدھ 26 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
لفظ ٹوٹے لبِ اظہار تک آتے آتے مر گئے ہم ترے معیار تک آتے آتے بات ایسی ہے بتانے کی نہیں دنیا کو رو پڑے ہم بھی خریدار تک آتے آتے بات اب معیار کی بھی ہو گی اور بے وقعتی کی بھی۔ پہلے ایک دلچسپ اور خوبصورت بات پر بات کر لیتے ہیں۔ بات طرحدار اور ادبی ہو تو توجہ حاصل کرتی ہے اور ہم جیسے تشنگانِ ادب کو تو متاثر بھی کرتی ہے۔ اس سے غرض نہیں کہ بات کون کر رہا ہے۔ بس بات لطف دے جائے۔ وہی تقریر کی لذت والی بات ہے۔ جون ایلیا نے تو کسی اور تناظر
مزید پڑھیے


اب استغفار ہی کریں

اتوار 23 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کیا کیا جائے بات تو آخر دعائوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بندہ اور جائے تو جائے کہاں کہ غالب نے بھی کہا تھا کہ ’’الٹا پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا‘‘ وہی تو ایک در ہے اور وہی ایک آسرا۔ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ امید دلانے والے خود بھی اعتماد سے خالی ہیں۔ خود ہی لوگوں کو ریلیف دینے کی بات کرتے ہیں اور اپنے حساس ہونے کا رونا روتے ہیں مگر عملی طور پر وہی صفر ضرب صفر۔ لوگ بھی حیران ہیں کہ یہ قبلہ بات کرتے
مزید پڑھیے



گل افشاں اور ہچکی لیتا سورج

هفته 22 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
اظہار شاہین نے کہا تھا: اپنے ہونے کا پتہ دے کوئی شیشہ کہیں گرا دے یہ انسان کی جبلت ہے کہ وہ توجہ مانگتا ہے اپنے ہونے کا اظہار چاہتا ہے اور کائنات کی آنکھوں سے گزرنا چاہتا ہے۔ایک تخلیق کار میں یہ خواہش مزید شدت اختیار کر جاتی ہے اور کبھی کبھی تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ ’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘‘ کبھی کبھی تو وہ فطرت کو بھی ہم رنگ کر کے سوچتا ہے اور خود ہی مظاہر کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ محرومی بہت کچھ عطا کر جاتی
مزید پڑھیے


آواز دے کے دیکھ لو

جمعرات 20 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کتنا نازک ہے وہ پری پیکر جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے بات اپنی وضاحتوں سے بڑھی ہم نے سوچا تھا بات ٹل جائے خان صاحب کی نازک مزاجیوں نے کہیں کا نہیں رکھا۔ اب وہ اورنج ٹرین پر لال پیلے ہو رہے ہیں کہ اسے کیسے چلایا جائے۔ وہ فرماتے ہیں اورنج ٹرین چلائیں‘ ہسپتال ‘سکول‘60روپے کا ٹکٹ رکھیں تو دس ارب کی سبسڈی دینا پڑتی ہے اور اربوں روپے قرض واپس کرنا پڑے گا۔ ان کا مقصد یہ بانسری اب بجانا پڑے کہ بانسری بجی تو اس کے چھیدوں پر انگلیوں کے آنے سے کئی راز پھوٹیں گے خاص طور
مزید پڑھیے


کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

بدھ 19 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی آنکھوں میں لے کر وفا کے دیے دیکھو بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے اپنی مٹھی میں کوئی بھی لمحہ نہیں اور کہنے کو ہم کتنے برسوں جئیے اچھا شعر مجھے کھینچتا ہے، رات کی رانی خوشبو میں دھلتی ہے تو راہی کے پائوں میں حلقہ ڈال دیتی ہے۔ گرمیوں کے ٹھنڈے سائے اور سردیوں کی گرم دھوپ اپنے لمس سے رگ و پے میں اتر جاتی ہے۔ سخن کی اثر آفرینی جنہیں محسوس ہوتی ہے وہ تو فرحت و انبساط میں نہال ہو جاتے ہیں۔ فراز نے درست ہی تو کہا تھا کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ وہ خود
مزید پڑھیے


آہ !علی یاسر

منگل 18 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
غضب کی چمک اس کے چہرے پہ تھی مجھے کیا خبر تھی وہ مر جائے گا احمد مشتاق کی بات اپنی جگہ مگر کچھ لوگ مرتے نہیں دوسروں کو مار جاتے ہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ درست کہ جانے والے ٹوکویں ہندسوں کی طرح ہوتے ہیں کہ کب کسی کا نمبر لگ جائے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ کہ جواں مرگ سب کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ میں نے اس کو ابھی قومی کانفرنس میں دیکھا۔ وہ زندگی سے بھر پور اور توانائی سے سرشار نظر آتا تھا۔ چھوٹی سی عمر میں منزلیں مارتا ہوا کہ ڈاکٹریٹ بھی اس نے
مزید پڑھیے


ذکرماہنامہ الحمرا کے سالنامے کا

پیر 17 فروری 2020ء
سعد الله شاہ
ماہنامہ الحمرا کا سالانہ شمارہ 2020ء میرے سامنے ہے۔ اس کی علمی حیثیت تو اپنی جگہ بلند و اعلیٰ ہے مگر اس کا معیاری ہونا اور اجرا کا تسلسل بھی حیران کن ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اپنی تزئین میں یہ اپنے ایڈیٹر شاہد علی خاں کی طرح خوبصورت ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اصل میں اس پرچے کی اپنی درخشندہ و تابندہ تاریخ ہے کہ اس کے بانی نامور شاعر مولانا حامد علی خاں ہیں جن کا شعر بھی اس ماہنامہ کے صفحہ تین پر چھپا ہوتا ہے۔ صبح ازل سے ہوں تن گیتی میں مثل روح۔ مجھ
مزید پڑھیے