BN

سعد الله شاہ



قومی مشاعرہ اور اڑتے ہوئے اشعار


کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو تو رکے یا نہ رکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا دل نے در کھول دیے ہیں تری آسانی کو میرے پیارے قارئین: میں نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ دسویں قومی کتاب میلے میں ہونے والے مشاعرہ کا تذکرہ کروں گا مگر اس سے پہلے مجھے یہ بیان کرنا ہے کہ جب ہم شعرا اکٹھے ہوتے ہیں تو جہاں لطف لطف کی باتیں ہوتی ہیں وہاں کچھ نایاب اشعار بھی سننے کو ملتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے اشعار جو اپنے تخلیق کاروں سے آگے
پیر 22 اپریل 2019ء

قومی کتاب میلہ کی افتتاحی تقریب

اتوار 21 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
میرے کمرے میں پڑے ہیں میری قسمت کے نجوم ہر طرف بکھرے رسالے اور کتابوں کا ہجوم اب جگہ کافی نہیں ہے میرے رہنے کے لئے میں نے کتنا پڑھ لیا ہے کچھ نہ کہنے کے لئے میرے معزز قارئین میں جہاں آیا ہوں وہاں کتب کا جہان اور کتب سے پہچان ہے کہ کتابوں سے روشنی‘ زندگی ‘ تابندگی اور امن حاصل کرنا ہے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ میں قومی تاریخ وادی ورثہ ڈویژن کے زیر اہتمام ہونے والے دسویں سالانہ قومی کتاب میلہ کے افتتاحی اجلاس میں ہوں چونکہ پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر اسلام آباد میں 19تا 21اپریل 2019ء کے
مزید پڑھیے


اب لاشیں بھی محفوظ نہیں

هفته 20 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
باہر بارش برس رہی ہے اور میں اندر بیٹھا کالم لکھ رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ موسم فصلوں کی کٹائی کا ہے اور رہ رہ کے دھیان کسان کی طرف جاتا ہے کہ اب اس کو فصل اٹھانی ہے اور ایسے میں سونے کی بوند بھی جان لیوا ہے۔ گویا یہ بارش تو کسان کے دل پر برس رہی ہے۔ مشیت ایزدی کے سامنے کس کا بس چلتا ہے مگر دعا تو ہمارے پاس ہے کہ اے خدا اس بارش کو موخر کر دے اور ہمارے حال پر رحم فرما۔ تو بھی جانتا ہے کہ یہ بارش کسان
مزید پڑھیے


حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

بدھ 17 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
کس جہاں کی فصل بیچی کس جہاں کا زر لیا ہم نے دنیا کی دکاں سے کاسئہ سر بھر لیا لوگ فہم و آگہی میں دور تک جاتے مگر اے جمالِ یار تونے راستے میں دھر لیا بات یہ ہے کہ ہمار انفس ہمیں سمت نمائی نہیں کرنے دیتا لیکن میں یہاں بات کچھ اور کرنا چاہتا ہوں کہ انسان کی کامیابی کا اصل راز کیا ہے۔ وہی جو کہا جاتا ہے کہ انسان اپنے آپ کوپا لے تو وہ خدا کو پا لیتا ہے لیکن ایک بنیادی بات جسے کامیابی کی کلید کہا جا سکتا ہے وہ ادراک ہے جس کے بارے
مزید پڑھیے


کیا کرے جس کا سہارا خواب ہے

پیر 15 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
گردش میں ہم رہے ہیں تو اپنا قصور کیا تونے ہمیں کشش سے نکلنے نہیں دیا اے ماہتاب حسن ہمارا کمال دیکھ تجھ کو کسی بھی رنگ میں ڈھلنے نہیں دیا یہ اشعار میں نے نیب کی طرف سے لکھے ہیں کہ کچھ اس طرح کا حسن سلوک اپنے مطلوبہ لوگوں کے لئے وہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی ان کے حضور پیش ہوتا ہے۔ آئے دن کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جاتا ہے اور کسی کا نکالا جاتا ہے اب اگلہ مرحلہ اور بھی دلچسپ ہے کہ بات خاندانوں تک آن پہنچی ہے۔ اب شہباز شریف
مزید پڑھیے




ایک زندہ شخص کی رخصتی

اتوار 14 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
سیف صاحب نے کہا تھا: مرنے والوں پر حیرتیں کیسی موت آسان ہو گئی ہو گی آج مجھے ایک ایسی ہی موت پر کالم لکھناہے کہ جس نے ہمارے دوست رائو ظفر کو آناً فاناً آ لیا۔ کیا خوبصورت شخص تھا وہ مسکراتا چہرہ‘ ہنستی ہوئی آنکھیں اور ادب آداب سے آشنا گفتگو۔ وہ میرا کلاس فیلو تھا۔ نمایاں طالب علم۔ خالد محمود اور سہیل احمد وڑائچ بھی میرے کلاس فیلو تھے۔ اس نے اوکاڑہ سے آ کر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں داخلہ لیا تھا۔ اس میں اضافی خوبی یہ تھی کہ وہ ادب سے بھی وابستہ تھا۔ معروف استاد
مزید پڑھیے


میرے سوا بھی باغ میں کوئی ضرور تھا

هفته 13 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
کشتی میں بیٹھ کر تو میں ڈرتا رہا مگر کشتی الٹ گئی تو سمندر نہیں رہا ڈاکٹر خورشید رضوی نے کمال کی بات سنائی کہ ایک روز جب وہ منیر نیازی سے ملنے گئے تو نیازی صاحب نے رابرٹ فرسٹ کے کچھ اشعار سنائے۔ خورشیدرضوی صاحب بہت متاثر ہوئے اور نیازی صاحب سے پوچھا کہ انہوں نے کون سے انگریز شاعر پڑھے ہیں۔ نیازی صاحب نے کہا’’کوئی ایک بھی نہیں پڑھا‘‘ پھر خود ہی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا’’ایسا ان پڑھ شاعر آپ کو اور کوئی نہیں ملے گا‘‘ خورشید رضوی نے کہا واقعتاً ایسا ہی نظر آتا ہے کہ منیر
مزید پڑھیے


عمران نذیر کہاں تھے؟

جمعه 12 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
یقینا شاعری کھیل نہیں ہے اور نہ کھیل شاعری۔ مگر کہیں نہ کہیں دونوں ایک دوسرے کو یاد ضرور کرتے ہیں۔ میرا مطلب کہیں شاعری پر کھیل کا اور کہیں کھیل پر شاعری کا گمان ہونے لگتا ہے۔ مثلاً اگر آپ نے برائن لارا کو کھیلتے دیکھا ہو تو میری بات آپ کی سمجھ میں آ سکتی ہے۔ صرف کورڈرائیو ہی نہیں وہ بال کو ڈک کرتے ہوئے یعنی روکتے ہوئے ہی شاعری کرتا تھا۔ اس کا فٹ ،کلائیوں کا استعمال اور کمر کی لچک ۔ دوسرا کھلاڑی ماجد خاں تھا جو اپنے اسی شاعرانہ انداز کے باعث دنیا کے
مزید پڑھیے


ایک ایوارڈ تقریب

بدھ 10 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
اس محبت نے تمہیں کیسے ثمر بار کیا میں کہ خود اپنا نہیں اور تمہارے سارے میں نے یہ شعر عطاء الحق قاسمی کے لئے لکھا ہے کہ میں نے انہیں ڈھیر سارے مداحوں میں گھرے ہوئے دیکھا۔ اکثر برے دنوں میں لوگ آپ کو چھوڑ جاتے ہیں اور ایسا کرنے والے یقینا برے لوگ ہوتے ہیں۔ میں تو خیر ان کا ایک مدت سے مداح ہوں‘ اس کے باوجود کہ مزاج میں میرے گستاخی ہے کہ زہر کو قند نہیں کہا جاتا، مگر پھول تو اپنی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے۔ مجھے تو رات کی رانی کی مہک زنجیر ڈال دیتی
مزید پڑھیے


خودی کا سر نہاں لااِلہ الااللہ

پیر 08 اپریل 2019ء
سعد الله شاہ
باب حِریم حِرف کو کھولا نہیں گیا لکھنا جو چاہتے تھے وہ لکھا نہیں گیا تخلیق کار میں ایک کمی کا احساس ہمیشہ رہتاہے۔ یہ اچھی بات بھی ہے کہ تکمیل تو موت ہوتی ہے۔ ایک ادھورا پن ‘ کچا پن اور ایک آنچ کی کسر کچھ گنجائش چھوڑ دیتی ہے۔ اوریہی کچھ کہا جا سکتا ہے اس عجزو انکسار کے حوالے سے ہے۔ مگر بات کہنی ضرور چاہیے کہ بات آگے چلے۔ اس کے لئے یاروں کی محفل انگیخت کرتی ہے اور بات سمجھاتی ہے۔ درس سے فارغ ہوئے تھے آج خدیجتہ الکبریٰ پارک میں یوسف صاحب نے پرتکلف ناشتہ رکھا
مزید پڑھیے