BN

سعید خاور



گھرکا بھیدی لنکا ڈھائے


پاکستان کی سیاست ان دنوں مختلف بیانیوں کے اردگرد گھوم رہی ہے،اشرافیہ کا بیانیہ، ریاست کا بیانیہ،پاکستان سے متعلق ٹرمپ مودی بیانیہ،معزول وزیر اعظم نواز شریف کا بیانیہ۔ان مختلف بیانیوںسے سیاسی پارہ بہت اوپر چلا گیا ہے۔مقدمات اور سیاسی تاریکیوں میں گھرے تاحیات نااہل میاں نواز شریف کے تازہ دم بیانیے نے پوری دنیا میں اودھم مچا دیا ہے اوریہ محض اتفاق نہیں ،سب کچھ لگتا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے،کیونکہ اس بیانیے سے ٹرمپ مودی بیانیے کو تقویت ملی ہے،ایک ایسے شخص کی طرف سے ممبئی حملے سے متعلق متنازعہ بیان اوراس کی ٹائمنگ بہت معنی
اتوار 20 مئی 2018ء

دھوکے پر دھوکا

جمعه 11 مئی 2018ء
سعید خا ور

بھٹو صاحب اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل میںعدالت عظمیٰ کے روبروپیش تھے، جہاں انہوں نے کسی بھی دنیاوی عدالت میں اپنا آخری بیان ریکارڈ کرایا،انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں سرائیکی دھرتی کے عظیم المرتبت صوفی بزرگ شاعر حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کا یہ شعر سنایا،’’درداں دی ماری دلڑی علیل اے، سوہنا نہ سنڑدا ڈکھاں دی اپیل اے‘‘(دردوں کا مارا یہ میرا دل بہت علیل ہے، محبوب ہے کہ میرے دکھوں کی اپیل سنتا ہی نہیں۔) اس وقت کی اندھی،بہری اور گونگی عدالت اس شعر کے مفاہیم کیا سمجھتی، اسے تو بس وہی کرنا تھا جس کے
مزید پڑھیے