BN

سعید خاور



نوے کی دہائی اورموجودہ سیاست


اس بار وزیراعظم عمران خان کراچی آئے تو مجھے نوے کی دہائی کی سیاست یاد آگئی۔ تاریخ کس طرح خود کو دہراتی ہے ،یہ سوچ کر بھی حیرت ہوتی ہے اور یہ بھی سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ زمانہ بدل گیا لیکن ہماری سیاست کے رنگ ڈھنگ نہیں بدلے۔ نوے کی دہائی میںجب بی بی شہید وزیراعظم اور میاں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تووزیر اعظم جب بھی لاہور تشریف لاتیں ،پنجاب کے وزیراعلیٰ نے ایک بار بھی ان کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ جانا گوارا نہیں کیا۔ نوے کی دہائی کی وہ سیاست کرداروں کے
بدھ 23 اکتوبر 2019ء

پیپلزپارٹی کے لئے آزمائش کی گھڑی

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
سعید خاور
آج جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو سندھ کی ایک اہم صوبائی نشست پی ایس 11لاڑکانہIIکے ضمنی انتخاب کانتیجہ سامنے آچکا ہوگا،اس نشست پر پورے ملک کے تجزیہ کاروں کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اس ایک نشست نے25جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے جیالوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثاراحمد کھوڑوکی روایتی نشست ہے،جو وہ ہمیشہ ’’زندہ ہے بھٹو ،زندہ ہے‘‘کی بنیادپر بہ آسانی جیتتے چلے آئے ہیں،گزشتہ سال عام انتخابات میںنثار کھوڑو اپنی ایک شادی خفیہ رکھنے میںناکام رہے تو انتخابات کے لئے نا اہل قراردے دئیے گئے
مزید پڑھیے


گھرکا بھیدی لنکا ڈھائے

اتوار 20 مئی 2018ء
سعید خا ور

پاکستان کی سیاست ان دنوں مختلف بیانیوں کے اردگرد گھوم رہی ہے،اشرافیہ کا بیانیہ، ریاست کا بیانیہ،پاکستان سے متعلق ٹرمپ مودی بیانیہ،معزول وزیر اعظم نواز شریف کا بیانیہ۔ان مختلف بیانیوںسے سیاسی پارہ بہت اوپر چلا گیا ہے۔مقدمات اور سیاسی تاریکیوں میں گھرے تاحیات نااہل میاں نواز شریف کے تازہ دم بیانیے نے پوری دنیا میں اودھم مچا دیا ہے اوریہ محض اتفاق نہیں ،سب کچھ لگتا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے،کیونکہ اس بیانیے سے ٹرمپ مودی بیانیے کو تقویت ملی ہے،ایک ایسے شخص کی طرف سے ممبئی حملے سے متعلق متنازعہ بیان اوراس کی ٹائمنگ بہت معنی
مزید پڑھیے


دھوکے پر دھوکا

جمعه 11 مئی 2018ء
سعید خا ور

بھٹو صاحب اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل میںعدالت عظمیٰ کے روبروپیش تھے، جہاں انہوں نے کسی بھی دنیاوی عدالت میں اپنا آخری بیان ریکارڈ کرایا،انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں سرائیکی دھرتی کے عظیم المرتبت صوفی بزرگ شاعر حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کا یہ شعر سنایا،’’درداں دی ماری دلڑی علیل اے، سوہنا نہ سنڑدا ڈکھاں دی اپیل اے‘‘(دردوں کا مارا یہ میرا دل بہت علیل ہے، محبوب ہے کہ میرے دکھوں کی اپیل سنتا ہی نہیں۔) اس وقت کی اندھی،بہری اور گونگی عدالت اس شعر کے مفاہیم کیا سمجھتی، اسے تو بس وہی کرنا تھا جس کے
مزید پڑھیے