BN

سعید خاور



’’کراچی میرا ہے!‘‘


کراچی کی دولت اور سیاست ایسی پر فریب چیزیں ہیں کہ کوئی بھی ان کے چسکے سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہو ، ایم کیو ایم یا شہر قائد میں نووارد تحریک انصاف اور دوسری چھوٹی بڑی، نئی پرانی سب کی سب سیاسی جماعتیں اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا ہر انڈہ خود کھانا چاہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کھینچاتانی میں اس شہر کا حلیہ بگڑ گیا ہے۔بے چارا شہر خراباں اور اس کے خراب حال باشندے ہیں کہ سیاسی بالادستی اور لوٹ کھسوٹ کی اس آپا دھاپی میں کہیں طاق
جمعه 17 جنوری 2020ء

عمران خان کے نام میر حسن کی چٹھی

هفته 11 جنوری 2020ء
سعید خا ور
کراچی کے اوسط درجے کے علاقے براہیم حیدری کورنگی کامیر حسن ریڑھی بان تھا لیکن کچھ عرصے سے کام نہ ملنے کی وجہ سے بہت افسردہ اور غمگین تھا، وہ جب بھی گھر آتا اس کے معصوم بچے دوڑ کراسے اس وجہ سے لپٹ جاتے کہ شایدآج بابا کچھ کھانے کو لائے ہوں ، میر حسن کی آنکھوں میں آنسو لیکن ہاتھ خالی ہوتے۔میر حسن کانام تو امیروں جیسا تھا مگر وہ اپنے نام جیسی تقدیر پانے میں ناکام رہاتھا۔غربت اور بے چارگی نے اس کے گھرانے کو اپنے چنگل میں لے رکھا تھا۔وہ واجبی سا پڑھا لکھاتھا،
مزید پڑھیے


تبدیلی سرکار کہاں گم ہے؟

بدھ 08 جنوری 2020ء
سعید خاور
جب کسی معاشرے کی دہلیز پر زوال دستک دیتا ہے تووہاں سے اتفاق و برکت اٹھ جاتی ہے اور وہ معاشرہ جنون میں مبتلا ہوکرساری خوشیوںاور سکون کی دولت سے محروم کردیا جاتا ہے، یہی قانون قدرت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔جب معاشروں میں انصاف کی جگہ ظلم واستبداد اپنے پنجے گاڑ دے توایسے معاشرے کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔ان دنوں امریکا ،بھارت اور اسرائیل بھی اپنے احمقانہ تجربوں سے اسی بے کسی کی تصویر بنتے چلے جارہے ہیں۔طاقت کے نشے میں چور یہ ریاستیں اقوام عالم کی آوازدبا کر اپنے من مانے دستور نافذ کرنے
مزید پڑھیے


پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑامعاشی این آر او

جمعرات 02 جنوری 2020ء
سعید خا ور
یہ5اکتوبر2007ء کا واقعہ ہے ، ملک میں جنرل پرویزمشرف کا طوطی بول رہا تھا،امریکا ان پر ایسے مہربان تھا کہ جیسے وہ پاکستان میں امریکی وائسرائے ہوں اور انہیں کوئی آئینی مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود سارے مینڈیٹ حاصل تھے جن کا وہ بے دریغ استعمال کررہے تھے ، یہ دیکھے بغیر کے یہ ملک اور عوام کے حق میں بھی ہیں کہ نہیں؟ اس دور میں ان کے اشارہ ابرو پہ منظر در منظر بدل جایا کرتے تھے،گویا جنرل پرویز مشرف ملک میں سیاہ سفید کے مالک تھے ۔ ملک کی مقبول سیاسی قیادت ایک طرح سے جلاوطنی
مزید پڑھیے


آئی جی سندھ پولیس اگلے قدموں پر

اتوار 29 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
مدت ہوئی سندھ حکومت کوپولیس کا کوئی آئی جی راس ہی نہیں آرہا۔ اے ڈی خواجہ جب تک رہے ان کی سندھ حکومت سے ٹھنی رہی اور اپنی پوری مدت ملازمت میں حکم امتناعی پر سندھ پولیس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی رخصتی کے بعد اب جب سے ڈاکٹر سید کلیم امام نے سندھ پولیس کی سربراہی سنبھالی ہے تو اے ڈی خواجہ کادور سندھ میں لوٹ آیا ہے۔ سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے دور میں بھی تقسیم تھی جس کا بالواسطہ فائدہ جرائم پیشہ عناصر نے اٹھایااور شہرقائد میں وارداتیں بڑھتی چلی
مزید پڑھیے




بات شاید پھر بگڑ گئی !

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
سعید خاور
عمران خان اور سید مراد علی شاہ کے مابین طویل مدت کے بعدشکووں بھری ملاقات سے سندھ اور وفاق کے درمیان خدا خدا کر کے ذرا سی برف پگھلنے کو تھی کہ شاید معاملہ پھر سے بگڑ گیا۔ جب سید مراد علی شاہ وزیراعظم عمران خان کے حضور سندھ کے تحفظات پیش کررہے تھے کہ عین اسی لمحے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو نیب سے پیشی کا بلاوا آگیا۔لگتا ہے سندھ اور وفاق کے درمیان فاصلے قائم رکھنے والی قوتیں ایک بار پھر سے کامیاب ہو گئیں اور جلتی آگ پر پانی چھڑکنے والی
مزید پڑھیے


پیرصاحب پگاڑواور سردارمینگل وزیراعظم سے نالاں ؟

هفته 21 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
سیاست میں وعدوں اور معاہدوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، موجودہ پاکستانی سیاست میں جب کوئی پارٹی واضح اکثریت سے محروم رہتی ہے تو اسے حکومت سازی کے لئے بھانت بھانت کی سیاسی پارٹیوں کی جائزناجائز خوشامدیں کرنا پڑتی ہیں اور ان کی بیساکھیوں کا سہاراحاصل کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت سازی کے لئے ان چھوٹے چھوٹے سیاسی دھڑوں سے بڑے بڑے وعدے کرلئے جاتے ہیں اور حکومت بننے کے بعد ان وعدوں کو یکسر فراموش کردیا جاتا ہے جس سے اتحادیوں کی بغاوتوں کے خدشات ہر وقت سر پر منڈلاتے رہتے ہیں اور حکومتیں عدم
مزید پڑھیے


مردحرآصف زرداری کی واپسی ٗڈھیل یا ڈیل

بدھ 18 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
مجید نظامی مرحوم کارزار صحافت کی کامیاب شخصیت تھے،ان کے نکتہ چیں انہیں ’’خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے ...... کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے‘‘کی مجسم تصویر قراردیتے تھے۔ جسٹس (ر)سید غوث علی شاہ ،نور بصیرت کے خالق میاں عبدالرشید کے چھوٹے بھائی میاں عبدالمجید، سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ ،ڈاکٹر رفیق احمد،سابق صدر محمد رفیق تارڑ اور جسٹس(ر) آفتاب فرخ دعویٰ کرتے تھے کہ مجید نظامی صاحب ان کے مہربان دوست ہیں لیکن فریق ثانی نے ان کے اس دعوے کو کبھی اعلانیہ شرف قبولیت نہیں بخشا۔نظامی صاحب کی زندگی پر نظر رکھنے
مزید پڑھیے


سندھ کے سیاسی پنڈت کی نئی پیش گوئیاں (2)

اتوار 15 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کابینہ میں کئی بار مختلف وزارتوں پر فائز رہنے والے منظور احمد وسان ان دنوںنیب کے ریڈار پر ہیں اور پارٹی میں بھی آج کل ان کی دال گلتی دکھائی نہیں دے رہی، کچھ دن پہلے تک دال تو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج علی درانی کی بھی نہیں گل رہی تھی، ایک طرف پارٹی سے ان کے شکوے اور فاصلے زبان زد عام تھے، اوپر سے پورا درانی خاندان نیب کے شکنجے میں کسمسا رہا تھا ۔ کل کا دن پیپلزپارٹی کے لئے بڑی خبریں اور خوشیاں لے کر آیا۔ آصف علی زرداری بھی
مزید پڑھیے


سندھ کے سیاسی پنڈت کانیا خواب

هفته 14 دسمبر 2019ء
سعید خا ور
وادی مہران میں سندھ اور وفاق کی کشمکش اور رہنمائوں کی ایک دوسرے پر تنقیدکوئی نئی بات نہیں ، جب سے یہ حکومتیں بنی ہیں، پہلے روز سے ہی دونوں بلکہ کراچی کی تینوں نمائندہ جماعتیں بات بے بات دست بہ گریباں رہتی ہیں،بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ایم کیوایم سندھ میں پیپلزپارٹی کی شریک اقتدار تھی اور اس بار وفاق میں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔صوبے میں جاری سیاسی جنگ سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ ؎عوام کی خدمت سے زیادہ باہم جنگ کی تیاری
مزید پڑھیے