BN

سہیل اقبال بھٹی


اصلاحاتی عمل سے ذاتی مفاد تک !


وزیراعظم عمران خان نے تبدیلی کے نام پر مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد دوسال قبل اصلاحات کابیڑا اٹھایا۔بہتر کارکردگی اور شفافیت اپنا کر سالانہ کھربوں روپے نقصان کو منافع میں بدلنے کا عزم کیا۔مختلف شعبوں میں اصلاحات کیلئے کئی کمیٹیاں قائم کیں۔ کمیٹیوں کی سفارشات حتمی مراحل میں داخل ہوچکیں جس کے تحت کئی ادارے اور کمپنیاں بند جبکہ سینکڑوں ملازمین گھر بھیج دئیے جائیں گے۔ کئی ادارے لیز پر غیرملکی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی تیاری بھی کی جاچکی ۔ائیرپورٹس کو غیرملکی کمپنیوں کو لیز پر دینے کا سلسلہ بھی حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ اہم ہوائی اڈوں
جمعرات 20  اگست 2020ء

نقب زنی

جمعرات 13  اگست 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزرا ء ‘ کارکن اورپڑھی لکھی کلاس وزیراعظم عمران خان کی دیانت کے گن گاتے نہیںتھکتی مگر قومی خزانے اور عوام سے وارداتوں کا سلسلہ کیوں نہیں تھم رہا؟عمران خان سے سب سے بڑی یہی امید تھی کہ قومی خزانے اور عوام کی جیبوں پر کوئی ڈاکا نہیں ڈال سکے گا ۔ مافیاز خان کی ٹیم تک رسائی کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ لوٹ مار والوں کا عدالتوں میں کڑا احتساب ہوگا مگر خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے فوجداری مقدمات خلاف قانون کابینہ میں حل ہونا شرو ع ہوگئے ہیں ۔کیا حکومت نے رولز آف بزنس میں ترمیم
مزید پڑھیے


افسرشاہی اور بے حال عوام

جمعرات 30 جولائی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد ارباب نے وزیراعظم کو وزارتوں کی کارگردگی سے متعلق رپور ٹ پیش کی ہے۔وفاقی کابینہ کی جانب سے ستمبر2019میں وفاقی حکومت کیلئے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کی منظوری دی گئی تھی۔اس کا بنیادی مقصد سمت کے تعین کے ساتھ ڈلیوری پر توجہ مرکوز کرنا ہے ۔وزیر اعظم اور متعلقہ وزیر کی جانب سے مالی سال کی سہ ماہی کیلئے اہداف مقرر کیے گئے تھے۔پرفارمنس ایگریمنٹ کا دائرہ کار مکمل وفاقی حکومت تک پھیلانے سے پہلے ابتدائی طور پر اسے11وزارتوں پر آزمانے کا فیصلہ کیا گیا جس کا مقصد ماڈل سے متعلق سیکھنے اور اس میں
مزید پڑھیے


Subversion of Law

جمعرات 23 جولائی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں تحریک انصاف کی حکومت’ نیاپاکستان اور تبدیلی‘کیلئے دوسال سے کوشاں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرکے عوام کی دلی خواہشات کو مہمیز لگائی۔ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے حکومت کی سب سے بڑی پالیسی کڑا احتساب ٹھہرائی گئی مگر تلاطم خیز لہروںسے نبردآزمایہ کشتی منجدھار میںپھنستی جارہی ہے۔مسائل او ر چیلنجزکے ہمالیہ کے سر ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ کشتی کو منجدھار سے نکالنے میں ناکامی کی تین بنیادی وجوہات ریونیو شارٹ فال‘ گردشی قرضہ اور نیب ہیں۔ کسی بھی حکومت کو سیاسی‘ـسماجی اورمعاشی چیلنجز
مزید پڑھیے


انوکھے فیصلے

جمعرات 16 جولائی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
سرکاری اداروں‘ کمپنیوں اور کارپوریشنز کی بدترین کارکردگی پر وزیراعظم پریشان ہی نہیں‘ صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا۔ وزراء اور بیوروکریسی کو فائنل وارننگ جاری ہوچکی۔ جو وزیراعظم کے ایجنڈے کے روشنی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ اور عوامی توقعات پر پورا اترے گا ‘ وہی وزارت میں رہ سکے گا۔ ناقص کارکردگی کا مزید بوجھ قومی خزانہ اٹھانے کا متحمل نہیں۔ مختلف شعبوں میں کھربوں روپے کا خسارہ ہمالیہ سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آئندہ 6ماہ کے دوران ’ڈو آرڈائی ‘کی بنیاد پر کام ہوگا۔ وزیر‘مشیراور معاون خصوصی سمیت کسی کیساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔پالیسی سازی اور
مزید پڑھیے



مادر ملت سے عمران خان تک

جمعرات 09 جولائی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
نوٹسز اور انکوائری کمیٹیوں کے قیام کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔عوام بے حال ہیں کہ جس بھی عوامی مسئلے پر نوٹس لے کر انکوائری کمیٹی قائم کی گئی‘وہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے بحران میں بدل جاتا ہے۔ حکومتی اقدامات کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود سے محدودتر ‘ بے روزگاری ومہنگائی میں اضافہ اور مختلف شعبوں میں حکومتی رٹ بے اثر ہوچکی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وزیراعظم نے جس مافیا کے خلاف قومی وعوامی مفاد میں کارروائی کا آغاز کیا ‘ان کے دفاع میں کابینہ ارکان ہی کھل کر سامنے آگئے ‘ـ
مزید پڑھیے


دیوار سے آگے کیا ہے؟

جمعرات 02 جولائی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
بحرانوں سے دوچار وفاقی حکومت کیلئے ہمالیہ جیسے مسائل ٹلنے کا نام نہیں لے رہے۔عجب اتفاق ہے کہ وزیراعظم جس شعبے میں بہتری کیلئے کوشش شروع کرتے ہیں ‘بحران سنگین اور معاملات بے قابو ہوجاتے ہیں۔کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں سسٹم میں کوتاہوں اور غلطیوں کو برداشت کرنے کی بریدنگ سپیس ختم ہوچکی ہے۔نیب مقدمات کا سامنا کرنے والی اپوزیشن ‘حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں پیش قدمی کررہی ہے تو ایڈہاک ازم‘ـاقربا پروری اورغلط منصوبہ بندی کے باعث نئے بحران سراٹھار ہے ہیں۔ معاشی سست روی اور تنگدستی کا سامنا کرنے والے عوام کیلئے آنے
مزید پڑھیے


یہ راستہ کوئی اور ہے ؟

جمعرات 25 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
طلاطم خیزدور‘ـسیاسی جنگ‘انقلابی نعروں اور وعدوں کے بعد بالآخر 25جولائی 2018ء کوتبدیلی کا سفر شروع ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف نے مشکلات اور معاشی چیلنجز میں گھرے عوام کے مسائل حل کرنے کا فریضہ انجام دینا شروع کیا۔ اکتوبر 2018ء میں حکومتی کارکردگی اورگورننس پر سوال اٹھے تو وزیراعظم نے قوم کو 6ماہ تک صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ عمران خان نئی ٹیم کیساتھ میدان میں اترے تھے ‘ جنہیں ملکی معاملات کی سمت درست کرنے اور گڈ گورننس کیلئے یقینی طور پرکچھ ماہ درکار تھے۔6ماہ گزرے پھر ایک سال‘ڈیڑھ سال اور اب اقتدار کی مسند پر فائز ہوئے
مزید پڑھیے


گڈگورننس کی راہ میں رکاوٹ؟

جمعرات 18 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
قومی اسمبلی کے اجلاس میںخواجہ آصف کے لب ولہجے اور گزشتہ ہفتے خلاف توقع ٹیلی فونک روابط نے اہم حکومتی شخصیات کو چوکنا کردیا ہے۔ وفاقی حکومت اپوزیشن کے خوف سے بے نیا ز ‘کورونا وائرس اورٹڈی دل کی تباہ کاریوں سے نمٹنے‘ـاحتسابی عمل اور نئے ریلیف پیکج کی تیاری میں مشغول تھی ۔ جہانگیر ترین کا پنجاب اور وفاق میں ممکنہ سیاسی حملے کا خطرہ ٹل چکا تھا۔وزیراعظم نے بجٹ سیشن میں ناراض عناصرکو رام کرنے کا بیڑاقابل اعتماد معاون خصوصی کو سونپ دیا تھا۔وزیراعظم اور انکی ٹیم یکسوئی کیساتھ ملک اور عوا م کو درپیش چیلنج سے نمٹنے
مزید پڑھیے


روک سکو تو روک لو!

جمعرات 11 جون 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
عجب معاملہ ہے کہ دوسال کے عرصے میں تمام تر حکومتی دعوؤں اورکاوشوں کے باوجود عوام مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں موجود مافیا آئے روز نیا بحران پیداکرکے حکومتی رٹ کو چیلنج کررہا ہے۔ حکومت ایک شعبے میں مافیا پرہاتھ ڈالتی ہے تودوسرے شعبے میںموجود عناصر سرگرم ہوجاتے ہیں۔ایف آئی اے ‘ـ نیب اور دیگر اداروں کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مختلف کمپنیاں دھڑلے سے حکومت اور عوام کو بلیک میل کرکے لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم عمران خان حکومت سنبھالنے سے قبل ایسے عناصر کی سرکوبی کا اعلان کیا کرتے تھے
مزید پڑھیے