BN

سہیل اقبال بھٹی


منجدھار سے آگے کیا ہے؟


کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی تباہ کاریوں کیساتھ سیاسی اوراحتسابی جنگ عروج پکڑ رہی ہے۔وہیں کورونا وائرس نے کروڑوں افراد کو خط غربت سے نیچے دھکیلنے کیساتھ بے روزگاری سے بھی دوچارکردیا ہے۔ ہر گزرتے دن کیساتھ عام آدمی کی زندگی بے پناہ مشکلات سے دوچار ہورہی ہے۔کمپنیاں دیوالیہ ہوکر بندش کی جانب سے بڑھ رہی ہیں۔ان مشکل لمحات میں عوام کی نظریں حکومت پر لگی ہیں کہ وزیر اعظم اورانکی ٹیم اپنے وعدوں اوردعوؤں کو عملی جامہ پہنائیں جن کا مقصد ملکی معیشت کی بحالی اورعوام کے دکھوں کا مداوا ہے۔اسی تناظر میں حکومتی ٹیم نے عوام کو
جمعرات 04 جون 2020ء

مٹی پاؤ؟

جمعرات 21 مئی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کڑے احتساب کے منشور کی حامل تحریک انصاف کی حکومت کوروناوائرس کے سنگین چیلنج کے دوران بھی احتسابی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔مہنگائی‘ـگورننس اور کمزور معیشت کے باعث جیسے ہی حکومتی ساکھ متاثرہوتی ہے‘وزیراعظم کڑے احتساب کا نعرہ بلند کردیتے ہیں۔ دل گرفتہ سیاسی ورکرز دوبارہ امید وابستہ کرلیتے ہیں کہ چلوکچھ دن مزید مشکلات جھیل لیتے ہیں۔اسی میں تحقیق کاروںکوایک اور اسکینڈل کے پیچھے لگادیا جاتا ہے۔آٹاـ‘ چینی اسکینڈل کی انکوائری کا حکم اور رپور ٹ پبلک کرنے سے وزیراعظم نے خوب پذیرائی حاصل کی۔ چینی اسکینڈل کا کلائمیکس آئند ہ چند روز بعد عوام کے ہوش اڑادے گا۔
مزید پڑھیے


تین وزارتیں…تین کہانیاں

جمعرات 14 مئی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
ملک کو درپیش چیلنجز اور معاشی صورتحال کے باعث وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ 21ماہ کے دوران وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں 1ہزار630فیصلے کئے ۔قومی وعوامی مفاد کے امور سے متعلق کئی کابینہ اجلاس تین گھنٹوں سے بھی زائد طویل رہے۔ وزیراعظم اور ارکان سر جوڑ کر بیٹھے اور خلوص نیت سے فیصلے کئے مگر ان فیصلوں کے نتائج اسکینڈلز اورعوامی مشکلات میںبے پناہ اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔وزیراعظم نے اب وجوہات جاننے کیلئے وزارتوں اور افسران کی انکوائری اور بازپُر س شروع کردی ہے۔ جواب طلبی کے اس عمل کے دوران ایسے انکشافات ہوئے کہ
مزید پڑھیے


سسکتا احساس

جمعرات 07 مئی 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے اثرات انسانوںاور ہرشعبے پر خوفناک انداز میں مرتب ہورہے ہیں ۔کورونا وائرس نے دیہاڑی دار طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ مختلف صنعتوں نے گھر بیٹھے ورکروں کو تنخواہ کی ادائیگی سے معذوری کا اظہار کیا تو وفاقی حکومت نے عوام کو درپیش مالی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے24مارچ کو 1200ارب روپے کے کورونا ریلیف پیکج کا اعلان کیا ۔ ریلیف پیکج میں وزرات صنعت وپیداوار نے بے روزگار اور دووقت کی روٹی کو ترستے مزدوروں کیلئے200ارب روپے منظور کروائے۔ پیکج کے تحت بے روزگار ی سے دوچار افراد کو 12ہزار روپے کی امداد ملنا
مزید پڑھیے


کمپرومائز؟

جمعرات 30 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے والے کیلئے معافی کا وقت گزر چکا۔وزیراعظم نے آٹا اور چینی اسکینڈل کی انکوائری رپورٹس پبلک کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔ تحقیقات میں حکومتی شخصیات کے نام آنے کے باوجود وزیراعظم نے رپورٹ پبلک کروائیں ۔ ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی اوراربوں روپے کی وصولیاں ہوں گی۔وغیرہ وغیرہ! پی ٹی آئی ر ہنماؤں اورسوشل میڈیاپر موجود سپورٹرز نے حکومتی اقدام کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادئیے۔اسی اثناء میں پاورسیکٹر اسکینڈل کی رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کردی گئی جس میں قومی خزانے اور عوام کو 4ہزار802ارب روپے کا ناقابل تلافی
مزید پڑھیے



ہونا کجھ وی نئیں؟

جمعرات 23 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
اکتوبر 2015ء میں سینیٹ اجلاس سے خلاف معمو ل جوش خطابت کی انتہاء پر پہنچے خواجہ آصف نے کہا تھاآئی پی پیز والے ’Robber Barons‘ہیں۔وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کا حقیقت پرمبنی یہ بیان میڈیا سمیت آئی پی پیز مالکان کیلئے بم شیل تھا۔وجہ صاف ظاہر تھی کہ آئی پی پیز کے ایک بڑے مالک کی وزیراعظم نوازشریف کیساتھ انتہاء درجے کی قربت تھی۔ ایسی قربت کہ کوئی بھی وزیر اس شخصیت کے کاروباری مفاد کے خلاف ایک لفظ بھی عوام کے سامنے کہنے کا سوچ بھی نہ سکے۔تاہم خواجہ آصف کے’خطاب‘نے آئی پی پیز کے خلاف ’سیکنڈل‘کی بنیاد
مزید پڑھیے


واردات

جمعرات 16 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کورونا وائرس کے خلاف جنگ جاری ہے۔ لاک ڈاؤن اورحفاظتی اقدامات کے ذریعے کورونا وائرس کاپھیلاؤ روکنے کی حکمت عملی بنی۔ وفاقی حکومت نے قومی خزانے سے صوبوں کوادویات اور آلات کی فراہمی کے ذریعے امداد نہ دینے کا فیصلہ کیا جس کی وفاقی کابینہ نے باضابطہ منظوری دی ۔وجہ صاف ظاہر تھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری ہے اور قومی خزانہ اضافی بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا‘تاہم یہ حقیقت ہے کہ صوبوں کی رہنمائی اور عالمی اداروں کیساتھ کوآرڈینیشن وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت یہ بنیادی ذمہ
مزید پڑھیے


فیصلہ کن گھڑی

جمعرات 09 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
آپ متفکر کیوں ہیں؟کورونا وائرس کی تباہ کاریوں اور حکومت کو درپیش بے پناہ چیلنجز کے باوجود اصلاحات اور احتساب کا عمل تیز ی سے مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ کپتان نے جو اقدامات آئندہ دوبرس میں کرنے تھے‘اب یہ سب آپ کو آئندہ تین ماہ میں عملی طور پر ہوتے نظر آئیں گے۔ احتساب کا فیصلہ کن مرحلہ شرو ع ہونے کو ہے۔حکومتی وزراء ہوں یا ماضی میں اقتدار پر فائز رہنے والی سیاسی شخصیات‘بیوروکریٹس یا کارپوریٹ کمپنیاں‘قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والا کوئی نہیں بچ سکے گا۔ چینی اور آٹا سکینڈل کے بعد رواں ہفتے کے
مزید پڑھیے


پردیسی یاملتانی فارمولہ

جمعرات 02 اپریل 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاؤن کے باعث تین کروڑ سے زائد دیہاڑی دار افراد معاشی تنگدستی سے دوچار ہوچکے ہیں ۔ ہزاروں خاندانوں کے پاس راشن ختم ہوچکا‘غریب عوام ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ۔ انسانی تاریخ کا ایساالمناک باب رقم ہورہا ہے جسے بیان کرنے کی سکت نہیں ۔اگرچہ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں محدود ہوکرہی کورونا وائرس کی وباء سے بچاؤ تجویز کیا گیا ہے اور عوام نے جیسے تیسے حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں میں قید بھی کرلیا ہے مگر بیوی بچوں کے لیے
مزید پڑھیے


کڑا امتحان

جمعرات 26 مارچ 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
تسخیرکائنات اور چاند پر نئی دنیا بسانے میں مصروف انسان ایک کمرے میںمحدود ہو چکا جبکہ آئے روزانسانی عقل کو دنگ کردینے والی سائنسی ایجادات کا سلسلہ ترک اور تمام فوکس’’کرونا‘‘ پر ہے۔کرونا وائرس پاکستان سمیت دنیابھر کو اپنی لپیٹ میںلے چکاہے۔ بازار‘مارکیٹس‘تجارتی مراکز‘تفریحی اور سیاحتی مقامات پر ہوکا عالم ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان تین ماہ سے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں مگر تمام تر ٹیکنالوجیکل جدت کے باوجود کرونا کی وبا پر قابو پانے کیلئے کوئی مؤثر دوا دستیاب نہیں۔دنیا بھر میں ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے کہ خودکو گھروں میں محدود کرلیں کہ جو محدود ہے‘
مزید پڑھیے