BN

سہیل دانش


صحافت کا روشن ستارہ غروب


بالآخر وہ کینسر کے مرض سے شکست کھا گئے ان کا وقت آگیا ان کو جانا ہی تھا۔ صحافت میں ان کا نام ان کے کام سے باقی رہے گا۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے ایک بھر پور زندگی گزاری۔ لکھنے پڑھنے کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ عامل صحافی تھے، ہوا میں خبر کی آہٹ کو پہچان لیتے۔ سونگھ کر بتاتے تھے کہ خبر کا وزن کیا ہے۔ ان کی خبر سے متعلق معلومات تحقیق اور اس کے قاری کو اس کے مصدقہ ہونے کا یقین یہی ان کی صحافت کا شاہکار چہرہ تھا۔ انہیں اللہ نے آنکھیں بھی دے رکھی تھیں
جمعه 17  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

طالبان سے دنیا کی توقعات

بدھ 15  ستمبر 2021ء
سہیل دانش
چند نو جوان کھلی جگہ پر نصب اینٹی ائیر کرافٹ کی طرف دوڑتے گئے اور چند گولے فائر کیے جہاز کی چند منٹ تک آواز آتی رہی پھر دو دھماکے ہوئے اور پھر سکوت چھا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ روسی طیاروں کا ایک معمول ہے روزانہ آتے ہیں۔ پہاڑوں پر چند بم گراتے ہیں اور چکر لگا کر چلے جاتے ہیں۔ مجاہد کہنے لگا شاید یہ ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔اب امریکی اپنے وطن لوٹ گئے ہیں۔ صدر بائیڈن دنیا بھر سے تنقید اور لعن طعن کو سمیٹ کر اعلان کر رہے ہیں کہ امریکہ آئندہ
مزید پڑھیے


افغانستان کا مستقبل

جمعرات 09  ستمبر 2021ء
سہیل دانش
امریکی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔ حقیقتاً یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ویتنام میں دس سال اور افغانستان میں 20سال امریکہ جن قوتوں سے ان ممالک کو بچانے کے لئے میدان میں اتر اتھا۔ آخر میں انہی قوتوں کے آگے ہارمان کر میدان جنگ انہی قوتوں کے حوالے کر گیا۔ جنگ و یت نام میں امریکہ کمیو نزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے مشن اور اسے بریک لگانے کے لئے میدان میں آیا تھا۔ اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف اس کے جذبے تھک ہار کر اسے پسپائی پر مجبور کر گئے۔
مزید پڑھیے


افغانستان۔ مستقبل کے خواب(3)

جمعه 03  ستمبر 2021ء
سہیل دانش
20سال تک ننگے پاؤں اور خالی پیٹ زمینی اورفضائی حملوں کو اپنے سینوں پر جھیلنے والے، اور ان کے کٹے ہوئے اعضائ،دشمن کی سفاکی کی کہانی سنار ہے ہیں۔ کابل ائیر پورٹ کے احاطے میں خود کش حملوں کے بعد قیامت صغریٰ کے منظر نے افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے کئی حساس سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔ حملو ں اس کی ذمہ داری داعش نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ اس تنظیم کی ساخت اس کے پھیلنے اور سکڑنے اور اثر و نفود اور مستقبل میں اس کا کردار،یہ ایک لمبی داستان ہے۔ ایسے موڑ بھی
مزید پڑھیے


مستقبل کے خواب……(2)

پیر 30  اگست 2021ء
سہیل دانش
سفارتی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مشرق سے مغرب تک حکمرانی کرنے والا امریکہ سمندری چٹانوں پر کھڑے چھوٹے سے ’’کیوبا‘‘ کو فتح نہ کر سکا۔ایک وقت میں صحرا کی ریت میں ہواؤں کے رحم و کرم پر قائم لیبیا کو اپنی قوت کے باوجود مسخر نہ کر سکا۔انقلاب کے بعد اپنے تمامتر جبر کے باوجود ایران کو سرنگوں نہ کر سکا اور اپنی ساری عسکری طاقت کے باوجود ویت نام کے نہتے جنگلیوں کو قابو نہ کر سکا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب امریکی افواج تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر چڑھ دوڑی تھیں،امریکیوں کا استدلال یہ
مزید پڑھیے



افغانستان۔ مستقبل کے خواب (۱)

جمعه 27  اگست 2021ء
سہیل دانش
لگتا ہے کہ طالبان نے وقت اور تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ 1994کے طالبان سے بہت مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ نہ عمارتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور نہ مارکیٹوں اور سڑکوں پر لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ان کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ کیا وہ افغانستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق اس سر زمین کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنا سکیں گے۔ سیا نے کہتے ہیں۔ جس بستی سے ایک بار موت گزرجائے وہاں زندگی کو نمو کے لئے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ ان کا یہ دکھ کئی نسلوں پر
مزید پڑھیے


اقتدار کی مجبوریاں

جمعه 13  اگست 2021ء
سہیل دانش
جنرل (ر)اسلم بیگ نے اپنی کتاب’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ میں کئی انکشافات کیے ہیں۔ چند حقائق ایسے ہیں جن سے ہم سب واقف ہیں جزل بیگ اگر بعض نکات پر ذرا تفصیل سے روشنی ڈالتے تو کسی مورخ یا محقق کے سامنے پاکستان کی تاریخ کا منظر نامہ زیادہ واضح ہوتا ہم یہاں ان نکات پر کچھ حاصل معلومات پیش کررہے ہیں۔ مثلاً انہوں نے لکھا1970کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت شیخ مجیب الرحمن کو ملنی چاہئیے تھی۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو حزب اختلاف میں بیٹھنے پر آمادہ نہیں تھے۔ یحییٰ خان نے مجیب کو ان کا یہ حق نہ دے
مزید پڑھیے


رفیق افغان مرحوم۔۔ ایک بیباک صحافی

جمعه 06  اگست 2021ء
سہیل دانش
قدرت نے کچھ ایسی حکمت رکھی ہے کہ انسان موت اور سورج کو زیادہ دیر تک ٹکٹکی باندھ کر نہیں دیکھ سکتا ۔حقیقت یہی ہے کہ کوئی طاقت قبر کی رات اور آخری سانس کو ٹال نہیں سکتی۔ جب سے انہیں کرونا ہوا تھا اور ڈاکٹروں کے چہروں پر پھیلی ہوئی مایوسی کے سبب دھڑکا ہر وقت لگا رہتا تھالیکن سننے کو کوئی تیار نہیں تھا لیکن موت برحق ہے اور رفیق افغان کا سفر زندگی بھی تمام ہوا۔ تنازعات، شکایتیں، غلط فہمیاں، دوریاں، قربتیں، تلخیاں، عزم و حوصلہ، اندیشے، دھڑکے، بے خوفی رفیق افغان کی زندگی کے رنگ
مزید پڑھیے


سردارممتاز بھٹو بھی رخصت ہوئے!

جمعه 30 جولائی 2021ء
سہیل دانش
وہ اپنے دوستوں اور دلداروں کے شانوں پر اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ اب زیر زمین یہ ان کا آخری آشیانہ ہے۔مجھے آج بھی یاد ہے 1972ء میں قوم کے نام اپنے خطاب میں پاکستان کے پہلے سویلین چیف مارشل لائیڈمنسٹریٹر اور صدر ذوالفقار علی بھٹو اعلان کر رہے تھے کہ وہ اپنے خاندان کے کسی اور فرد کو نہیں صرف اپنے ٹیلینٹڈ کزن کو ایک اہم ذمہ داریاں سونپ رہے ہیں۔ یہ بھٹو قبیلے کے سردرار نبی بخش بھٹو کے صاحبزادے ممتاز علی بھٹو تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ 2اپریل 1979ء کی دوپہر چند فو
مزید پڑھیے


ممنون حسین۔سفر زندگی تمام ہوا !

اتوار 25 جولائی 2021ء
سہیل دانش
عجز و انکساری نرم گفتاری اور ملنساری میں لاجواب ممنون حسین زندگی کے سیاسی سفر میں ہر کولیس ثابت ہو ئے۔ اب وہ ابدی نیند سونے چلے گئے ، ان کے اصول ان کی رواداری اور ان کی دریا دلی کے سوتے خشک ہو گئے ، ان سے تعلق رکھنے والی نسل اب تیزی سے رخصت ہو رہی ہے۔ سابق گورنر سندھ لفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر بتارہے تھے کہ جب نواز شریف وزیر اعظم کی حیثیت سے کراچی کے دورے میں گورنر ہاؤ س آتے تو وہ بڑے غور سے دیوار پر آویزا ں اس بورڈ پر ضرور
مزید پڑھیے








اہم خبریں