BN

شاہین صہبائی



بلیک میل، بلیک میل اور بلیک میل


وزیر اعظم عمران خان تو چین کے کامیاب دورے کے بعد واپس آ گئے ہیں اور اب وہ شاید ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ خارجی سطح پر تو ان کو کامیابیاں مل ہی رہی ہیں لیکن داخلی محاذ پر ان کو بڑے مسئلوں کا سامنا ہے اور وہ ہیں بلیک میل، بلیک میل اور مزید بلیک میل۔ سیاسی پارٹیاں پہلے تو اداروں کو بلیک میل کر رہی تھیں جیسے ن لیگ نے عدلیہ کو یا کیوں نکالا مارچ میں انتظامیہ اور فوج کو، یا پی پی کا سندھ میں کچھ نہ کر کے
جمعه 11 اکتوبر 2019ء

تبدیلی کا ہنی مون

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
ہر سیاسی لیڈر بڑے کام کرنے کے لئے اپنی دانست میں سب سے بہترین وقت کا انتخاب کرتا ہے اور ہر سیاسی فیصلے کی ٹائمنگ سب سے اہم ہوتی ہے۔ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں ایک دبنگ خطاب کرکے جو کشمیر کے مسئلے پر اثر ڈالا وہ تو اپنی جگہ مگر داخلی ملکی سیاست میں انہوںنے اپنے لئے ایک ایسا موقع پیدا کر لیا ہے جس کی مثال اسی طرح ہے جیسے کوئی لیڈر الیکشن جیت کر جب آتا ہے تو کچھ مہینے اس کے پاس ہوتے ہیں کہ مشکل اور کڑوے فیصلے کرے جسے عام لفظوں میں ہنی
مزید پڑھیے


کشمیر کی اصل کہانی

جمعه 27  ستمبر 2019ء
شاہین صہبائی
آج وزیر اعظم عمران خان دنیا بھر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے بتائیں گے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور اگر بھارت کی دیوانگی کو روکا نہ گیا تو پھر دنیا کا ہر بڑا ملک ذمہ دار ہو گا۔ خان صاحب اپنی تقریر کے اہم نکات کئی دفعہ بتا چکے ہیں اور اپنی بے شمار ملاقاتوں میں دنیا کے لیڈروں کو اچھی طرح سمجھا بھی دیا ہے مگر کشمیر کے اندر کیا ہورہا ہے اور وہاں کیا لاوا پک رہا ہے کسی قابل بھروسہ میڈیا کے ذریعے سے ابھی تک سامنے نہیں آیا تھا
مزید پڑھیے


خان بمقابلہ میڈیا

جمعه 20  ستمبر 2019ء
شاہین صہبائی
اخبارات میں جب یہ خبر پڑھی کہ حکومت میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں بنانے جا رہی ہے تو مجھے عمران خان کا جولائی کا دورہ یاد آیا۔23 جولائی کو انہوں نے تھنک ٹینک USIPمیں نینسی لینڈ برگ کے سوال کے جواب میں تفصیل سے کہا کہ پاکستان کا میڈیا نہ صرف آزاد ہے بلکہ بعض اوقات تو کنٹرول سے باہر یعنی آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کئی مثالیں دیں، جیسے کہ ایک اینکر کی ان کی طلاق کے بارے میں خبر۔ ایسی باتیں تو نہ برطانیہ اور نہ ہی امریکہ کے میڈیا میں کہی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیے


کہانیوں کا موسم

جمعه 13  ستمبر 2019ء
شاہین صہبائی
آج کل میڈیا میں پھر ہر طرح کی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں۔ محترم ہارون رشید نے لکھا کہ وزیر اعظم نے دفتر میں وقت دینا کم کر دیا ہے اور دیر سے آتے ہیں اور جلدی چلے جاتے ہیں۔ کئی ٹی وی اینکر کبھی Minus-1اور کبھی minus Allکے منظر پیش کر رہے ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ کابینہ میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پنجاب میں بزدار صاحب کے بارے میں تو ایسی مہم چلی کہ وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ بزدار اس وقت تک رہیں گے جب تک وہ خود وزیر اعظم رہیں گے۔ میں
مزید پڑھیے