BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


کند ہتھیار‘اوچھا وار


پشتو زبان کا محاورہ ہے ’’جلد باز کو دو دفعہ پیشاب کرنا پڑتا ہے‘‘ ہمارے جلد بازوں کا ویسے ہی خطا ہو گیا، وہ سوتے ہوئے نیند ہی نیند میں‘ ہمارے بہت ہی عزیز دوست جو کالم نویس ہیں، تجزیہ کار اور فن تقریر میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں‘ شہباز حکومت کے اولین دنوں میں ٹیلی ویژن کی میزبان نے سوال کیا‘ حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خاں کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے تو شہباز شریف ان کا مقابلہ کس طرح کر سکیں گے؟ چمک کر بولے‘ انتظار کرو‘ دیکھتے جائو‘ مقبولیت کو شہباز شریف
اتوار 25  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

وہ بات ناگوار گزری ہے!

اتوار 18  ستمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے (فیض احمد فیض) عمران خان کا تازہ ترین انٹرویو‘ ہمارا آج کا موضوع ہے‘ ایک گھنٹے سے زیادہ دورانیے کے انٹرویو میں سے سات آٹھ منٹ پر محیط سوال و جواب کا ضروری حصہ ایک دفعہ پھر سے پڑھ لیجیے! بعد میں اس پر اپنی بات کریں گے‘ عمران خاں کو انتخاب چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا‘ اگر پاکستان کو نیچے جانے سے روکنا ہے تو نئے الیکشن کے سوا کوئی راستہ نہیں‘ 10اپریل سے آج تک جب سے یہ لوگ اقتدار
مزید پڑھیے


قوم زندہ ہے!

اتوار 11  ستمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
لوگوں کی اکثریت کہا کرتی تھی‘ ایسا ہسپتال جو مفت علاج کرے وہ بن نہیں سکتا‘ بن جائے تو چل نہیں سکتا‘ دو‘ چار‘ چھ ماہ زیادہ سے زیادہ ایک سال مگر ہم نے ناقدین کی پرواہ کئے بغیر فیصلہ کیا اور پیسے اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ابھی ارادہ 1500بستروں کے ہسپتال کا تھا‘ ڈیڑھ(150) سو بستروں کے ہسپتال سے آج تیرہ(13) ہسپتال پورے پاکستان میں ہیں۔51اضلاع میں ہمارے پرائمری ہیلتھ کیئر اور کمیونٹی کے پروگرام چل رہے ہیں‘ کلینک چل رہے ہیں‘ موبائل وین چل رہی ہیں‘ کنٹز کلینکس چل رہے ہیں‘ یہ پہلا کیش لیس‘ ہسپتال ہے‘ کیبل
مزید پڑھیے


قوم زندہ ہے

اتوار 04  ستمبر 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر عبدالباری کی کہانی ‘ ان کی اپنی زبانی‘ اس کا عنوان بھی‘ انہی کی گفتگو سے لیا گیا ہے میں ایک واقعہ آپ کو ضرور سناتا ہوں، جو مجھے تحریک دیتا ہے‘ مجھے بے چین رکھتا ہے میرا ایک مریض تھا جس کے دل کا ’’والو‘‘ میں نے تبدیل کیا تھا۔یہ افغانی نان بائی ناظم آباد کے کسی علاقے میں کام کرتا تھا، سال دو سال تک تو معمولی کے چیک اپ کے لئے آتا رہا پھر غائب ہو گیا‘دو تین سال کے بعد میں ایک دن ’’او پی ڈی ‘‘ تھا مجھے وہاں سے
مزید پڑھیے


پرویز الٰہی اہم ہو گئے

اتوار 21  اگست 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
سنا تھا کہ وہ آئیں گے انجمن میں سنا تھا کہ ان سے ملاقات ہو گی۔ ہمیں کیا پتہ تھا‘ ہمیں کیا خبر تھی‘ نہ یہ بات ہو گی نہ وہ بات ہو گی۔کرائے کے دانشور‘ بھاڑے کے تجزیہ کار‘ بہت دنوں سے بلکہ جب سے الیکشن کمیشن نے ممنوعہ رقوم کا فیصلہ سنایا‘ تب سے خود کو سہارا‘ نواز شریف کو تسلی‘ جعلی حکومت کو خوشخبری دے رہے تھے کہ اس مزاحیہ فیصلے کے نتیجے میں عنقریب عمران خاں نااہل ہو کر نواز شریف کے برابر کھڑے ہونے والے ہیں‘ مگر نواز شریف اس بات سے خوش کیسے ہو
مزید پڑھیے



شہید ضیاء الحق

بدھ 17  اگست 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
آج اگست کی سترہ تاریخ ہے‘ ضیاء الحق شہید کی چونتیسویں برسی ۔اتنے برس بیت گئے لیکن یہ ابھی کل کی بات ہے‘ دل اور یاد میں بالکل تازہ‘ اس دن کا پورا منظر آنکھوں میں ہے‘ یوں کہ ابھی سامنے لگی سکرین پر دیکھ رہا ہوں۔ ضیاء الحق کی شہادت کے دن سے پہلے فوج کے سپہ سالار‘ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر‘ صدر پاکستان ضیاء الحق سے پہلی ملاقات کا دن اور اس دن بلکہ رات کو ہونے والی گفتگو ایسی ہے کہ کبھی بھلائے نہیں بھولے گی۔ وہ ایسے تاریخی لمحات اور صدیوں پر اثر انداز ہونے والے فیصلے
مزید پڑھیے


منصوبے میں منصوبہ

پیر 15  اگست 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بگلا پکڑنے والی کہانی تو آپ نے سن رکھی ہو گی؟ ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا‘ آئوبگلا پکڑتے ہیں وہ کیسے پکڑیں گے؟ جھاڑیوں کے پاس بگلا ایک ٹانگ پر کھڑا مچھلی پکڑنے کے لئے متوجہ ہے‘میں آپ کو تھوڑی سی موم دیتا ہوں‘ موم پکڑو جھاڑی کی اوٹ میں بگلے کی نظر سے بچ کے قریب چلے جائو‘ موم کی ڈلی بگلے کے سر پر چپکا کر واپس آ جائو‘ ہم یہاں انتظار کریں گے۔بگلا مچھلی پکڑنے کے بعد جونہی اڑے گا دھوپ اور گرمی سے موم پگھل کر اس کی آنکھوں میں پڑے گی وہ موم
مزید پڑھیے


عاقبت نااندیش (2)

اتوار 31 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
منحصر مرنے پر ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے آپ بھی یہ خبریں پڑھتے رہے ہونگے کہ پستول دکھا کر راہ گیروں کو لوٹ لیا۔پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ڈاکوئوں کو دھر لیا‘ ڈاکوئوں کے پاس ’’مال مسروقہ‘‘ کے علاوہ ایک عدد ’’نقلی پستول‘‘ برآمد ہوا۔ ’’الیکشن کمشنر‘‘ کے ہاتھ میں ’’فارن فنڈنگ‘‘ کا ایک نقلی پستول ہے‘ جس سے وہ عمران خاں کو ڈراتے اور اپنے محسن سیاست دانوں کو بہلایا کرتے ہیں‘ یہ سیاست دان اپنے اتحادی پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ گولی چلائو‘ وہ بے چارا جانتا ہے کہ اس پستول کی گولی صرف پٹاخہ
مزید پڑھیے


عاقبت نااندیش

جمعه 29 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
17جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج اور پنجاب میں پرویز الٰہی کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد ملک کی سیاسی صورت حال بڑی دلچسپ ہو گئی ہے‘ مرکزی حکومت کی مدت پوری کرنے کے دعوے دار یا خواہش مندوں کی حالت یہ ہے کہ سوئے تھے گلوں کی چھائوں میں جاگے ہیں قفس کے گوشے میں کب صحن چمن میں خاک اڑی کب آئی خزاں معلوم نہیں پنجاب کی حکومت ’’اتحادیوں‘‘ کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد فریقین کے پاس کیا کچھ آپشن یاترجیحات ہو سکتی
مزید پڑھیے


بائیکاٹ سے بائیکاٹ تک!

بدھ 27 جولائی 2022ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
خالد بھائی سے عرض کیا: میرا خیال ہے یہ آنے والے الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے‘ کون کرے گا؟ ان کا سوال تھا ۔مولانا فضل الرحمن حکمران اتحاد کو مجبور کریں گے کیونکہ جس صوبے میں امید ہے وہاں ان کے لیے کچھ باقی بچا ہی نہیں۔ بولے بائیکاٹ ان کے لیے بہتر ہے الیکشن میں وہ جیت نہیں سکتے۔ ہوسکتا ہے بائیکاٹ میں کوئی دو ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشستیں انہیں مل ہی جائیں‘ بائیکاٹ میں کیسے مل جائیں؟ حیرت کے ساتھ سوال کیا‘ بھائی ’’معجزہ‘‘۔ چھوٹے موٹے معجزے سے ان کا کام نہیں چل سکتا‘ الیکشن
مزید پڑھیے








اہم خبریں