BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


مظلوم ہیرو


عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ محسنِ پاکستان کو قومی اعزاز کے ساتھ دفن کردیا گیا، پوری قوم پاکستان کے لیے اُن کی خدمات پر تحسین و آفریں پکار اٹھی، مگر ان منصوبوں کا ماتم کون کرے گا ،جس سے انہیں روک دیا گیاتھا، اگر وہ منصوبے اپنی تکمیل کو پہنچ جاتے تو آج پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پہلی ملاقات 1985ء میں سینیٹر منتخب ہونے کے بعد ہوئی، معروف مصنف ، کالم نویس اور ماہر تعلیم ’’ادیب جاودانی ‘‘نے اپنے
منگل 12 اکتوبر 2021ء مزید پڑھیے

سیاسی خلاء

اتوار 03 اکتوبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو پورے ملک کے ہر صوبے‘ہر ضلع ‘تحصیل اور حلقہ نیابت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔انتخاب میں جیت جائے یا ناکام رہے مگر اس کی قابل ذکر موجودگی سے انکار نہیں۔ مگر یہ موجودگی تحریک انصاف سے زیادہ عمران خان کی ذاتی مقبولیت یا اثر و نفوذ کی وجہ سے ہے‘ابھی تک عمران خاں کی طرف سے اس پارٹی کو ادارہ بنانے اور اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی گئی ہے۔اگر عمران خاں کا سیاست سے جی بھر جائے یا آئے دن کی سازشوں سے بے زار ہو
مزید پڑھیے


وہ بلیک میل نہیں ہونگے!

اتوار 26  ستمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
افغانستان میں آج طالبان حکمران ہیں‘انہوں نے یہ حق حکمرانی حامد کرزئی اور اشرف غنی کی طرح اپنی قوم سے غداری کے صلے میں نہیں پایا‘نہ ہی وہ نور محمد ترکئی اور ببرک کارمل کی طرح روس کے ٹینکوں پر بیٹھ کر آئے‘حکمرانی کا یہ حق انہوں نے دور دیس سے آئے حملہ آوروں کے خلاف طویل جنگ آزادی جیت کر حاصل کیا گروہ طالبان کا سچ پوچھو تو وہ صرف اپنے وطن اور قوم کے محسن ہی نہیں ہیں بلکہ وہ پاکستان‘ایران اور وسطی ایشیا کے بھی محسن ہیں‘جن کے سروں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی متوقع
مزید پڑھیے


کنٹونمنٹ بورڈ

اتوار 19  ستمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بلدیاتی انتخابات اور مقامی ادارے ہی اصل جمہوریت‘ یہی ادارے قوم کی تنظیم کرتے‘تعلیم‘ صحت‘ مقامی ترقی اور امن و امان کے ذمہ دار بھی ہیں۔بلدیاتی یا مقامی اداروں کا قیام آئین کا بنیادی تقاضا ہے ان اداروں سے انکار ہی دراصل جمہوریت سے انحراف ہے۔آپ پاکستان کی جمہوری تاریخ پر غور کریں تو یہ دلچسپ صورتحال نظر آتی ہے کہ سیاسی جماعتیں برسر اقتدار آنے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے گریز کرتی ہیں اور فوجی جرنیل کے ہاتھ ملک کی باگ ڈور آ جائے تو وہ عوام سے رابطہ رکھنے اور نچلی سطح تک اپنے اثرونفوذ کے
مزید پڑھیے


پاکستانی خوش کیوں ہیں؟

پیر 13  ستمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جو خوش ہیں ان کی بات بعد میں کریں گے لیکن افغانستان میں طالبان کے لوٹ آنے پر جو ناخوش ہیں انہیں تادیر رنجیدہ رہنا ہے‘امریکہ اس خطے سے رخصت ہو گیا‘کم از کم رواں صدی میں وہ پلٹ آنے کا نہیں‘طالبان نے سات سروں والی آدم خور بلا (عفریت) کے زیادہ تر سرکاٹ اور پنجے توڑ دیے ہیں‘کٹے ہوئے سروں کی بحالی اور پنجوں کے اُگ آنے میں ایک صدی درکار ہوتی ہے اور عرصہ اسے اندھیری غار میں چھپ کر گزارنا ہے‘بعد میں کئی عشرے بھی اسے بچ بچا کر رہنا ہو گا کیونکہ اس کے شکاری
مزید پڑھیے



افغانستان ۔سب دیکھیں گے!

اتوار 05  ستمبر 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
یقینا یہ وہ طالبان نہیں ہیں جو 1996ء میں افغانستان میں جاری لڑائی‘بھڑائی‘چھینا جھپٹی اور خانہ جنگی سے تنگ کر آ کر مدرسوں کے صحن اور مسجدوں کے ہجروں سے نکلے اور آپس میں دست و گریبان ہم وطنوں کو بزور قوت نہ صرف ایک دوسرے سے الگ کیا‘خون بہانے سے روکا بلکہ ان کا مکمل خاتمہ کر کے حکومت و اقتدار پر قبضہ کر لیا‘اگرچہ وہ حکومت و سلطنت کے فن آشنا نہیں تھے نہ ہی انہیں اسے سمجھنے‘سیکھنے کا زیادہ موقع مل سکا،پھر بھی انہوں نے اپنے ہم وطن شہر شاہ سوری‘کی طرح غیر معمولی لیاقت اور حسن
مزید پڑھیے


تیسری عالمی جنگ

اتوار 29  اگست 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
یہ تیسری عالمی جنگ تھی جو افغانستان میں لڑی گئی، اس کالم کو ’’تیسری عالمی جنگ ‘‘کا عنوان دینے سے پہلے حاجی اسلم صاحب سے مشورہ کیا تو انہوں نے حیرت کے ساتھ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا توان سے عرض کیا کہ کیا ساری کی ساری دنیااس جنگ میں شریک نہیں تھی؟ یہ پہلی جنگ ہے جس میں ’’اقوام متحدہ‘‘ سمیت ہر ملک نے کسی نہ کسی طرح شرکت کی۔ اقوام متحدہ جو قوموں کو جنگوں سے باز رہنے کے لیے بنایا گیا وہ بھی ایک فریق کی طرح اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ ماضی کی عالمی جنگوں
مزید پڑھیے


کمالِ ہم نشیں

اتوار 22  اگست 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
ہم تین بھائی شادی میں شرکت کیلئے رحیم یار خان میں ہیں، خالد بھائی اور ہارون الرشید کے ساتھ۔ بارات کتنے بجے آئے گی؟ہارون الرشید نے پوچھا۔ 12بجے دوپہر کیلئے کہہ رہے تھے مگر ایک بجے سے پہلے آنے کی نہیں۔ یار، بڑی گڑ بڑ ہوجائے گی، اخبار کے لیے ابھی کالم بھی نہیں بھیجا اور رات دس بجے سے پہلے ہر صورت لاہور میںدفتر پہنچنا ہوگا، ٹیلی ویژن کے پروگرام سے رخصت تو ممکن ہی نہیں، پھر اچانک میرے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو دیکھتے ہوئے پوچھا ، یہ کونسی کتاب ہے؟’’کمالِ ہم نشیں‘‘۔ کیا کہا؟’’کمالِ ہم نشیں‘‘ میں
مزید پڑھیے


افغان باقی‘کہسار باقی

اتوار 15  اگست 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
افغانستان کے جنگجو طالبان کی حکمت عملی (سٹریٹجی )منصوبہ بندی (پلاننگ) اور جنگی حربے(ٹکیکٹس) جنگ کے مانے ہوئے تینوں شعبوں میں طالبان جنگجوئوں کی قیادت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کہیں برتر معیار کی حامل ہے۔گزشتہ ایک صدی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ٹیکنالوجی میں برتری کے باوجود امریکی افواج اور اس کے خفیہ ادارے ایک اوسط درجے کی کارکردگی اور ذہانت کا ثبوت بھی نہیں دے سکے۔خفیہ اداروں کی طرف سے دی گئی معلومات ناقص اور اس پر استوار منصوبہ بندی کو کم از کم لفظوں میںبھی بدترین ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔افغانستان میں
مزید پڑھیے


کوئی ہے‘کوئی نہیں؟

اتوار 01  اگست 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
روزنامہ 92میں پہلا کالم پاکستان کی سیاست میں پیدا شدہ خلا کے بارے میں لکھا تھا، فطرت کااصول ہے‘کہیں بھی خلا باقی نہیں رہنے دیتی‘ اسے بہرصورت پر ہونا ہوتا ہے۔حالیہ برسوں میں پیپلز پارٹی سیاست کے میدان میں بتدریج پسپا ہوتے ہوئے سندھ کے دیہی علاقوں میں سمٹ کر رہ گئی‘اس خلا کو تحریک انصاف نے عمران خاں کی قیادت میں تیزی سے اور کامیابی کے ساتھ پر کر دیا‘2011ء کے بعد عوامی مقبولیت کے اعتبارسے تحریک انصاف سب سے مقبول اور پاکستان کی قومی سطح پر واحد سیاسی جماعت ہے‘جو ملک کے ہر خطے اور ہر طبقے میں
مزید پڑھیے








اہم خبریں