ظہور دھریجہ



صدام خان کی موت کا ذمہ دار کون؟


پچھلے دنوں دبئی میںچوٹی زیریں ڈیرہ غازی خان کے ایک محنت کش نوجوان نے خود کشی کی اور خود کشی سے پہلے ایک ویڈیو پیغام وائرل کیا ۔قریباً دس منٹ کے ویڈیو پیغام میں نوجوان نے اپنا نام ، پتہ ، خود کشی اور اس کی وجوہات کے بارے میں بتایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ خود کشی کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے مگر میں کیاکروں کہ میری زندگی جہنم سے پہلے جہنم بنا دی گئی ہے ۔نوجوان نے خود کشی کیوں کی؟ تفصیل بتانے کی بجائے میں اس کا اپنا مکمل بیان من و عن پیش
جمعه 03 اپریل 2020ء

کرونا وائرس، وزیر اعظم کا خطاب

بدھ 01 اپریل 2020ء
ظہور دھریجہ
کرونا وائرس کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کرونا ریلیف فنڈ قائم کر دیا ہے اور ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ ملازمین کو فارغ نہ کرنے والے اداروں کو اسٹیٹ بینک سستے قرضے فراہم کرے گا۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو ریاست سخت سزا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے۔ کرفیو نافذ نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم نے ہمسایہ ملک بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں لاک ڈائون کی سختی کی گئی تو
مزید پڑھیے


پیدل چلنے والوں کے قافلے

اتوار 29 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
گزشتہ روز ڈیرہ غازیخان جانے کا اتفاق ہوا۔ کوٹلہ دیوان میں اپنے بزرگ دوست پروفیسر عبدالغفور غوثوی کی وفات پر پہنچنا تھا مزید یہ کہ ڈی جی خان میں قرنطینہ کیمپ جانا مقصود تھا کہ بحیثیت صحافی وہاں کے حالات کا جائزہ لیں اس کے علاوہ یہ کہ بزرگ سرائیکی رہنما اکبر خان ملکانی نے دعوت بھی دی تھی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کرونا مہم کے بارے میں ہم وسیب میں آگاہی مہم شروع کریں کہ وسیب کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ روانہ ہونے سے پہلے ہم نے ٹرانسپورٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا اور وہ نوٹیفکیشن حاصل کیا
مزید پڑھیے


کرونا کیا کر رہا ہے؟

هفته 28 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پوری دنیا کرونا وائرس کی تباہ کاری سے پریشان ہے ۔ امریکہ ، روس، چین بھارت اور دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں کو کرونا وائرس نے ہلاکر رکھ دیا ہے ۔ ہم اپنے ملک پاکستان کو دیکھتے ہیں تو 22کروڑ انسانوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک کی طرف سے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے اعلان ہو رہے ہیں۔ جنگ ہمیشہ دشمن کے خلاف کی جاتی ہے ۔ دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں جو کرونا وائرس کو اچھا جان رہا ہو ۔ سب کرونا وائرس کو بد دُعائیں
مزید پڑھیے


عالم دین کی وفات

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
وسیب کی سرزمین زرخیز ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیز بھی ہے ۔ اس خطے میں اولیاء ، علماء اور بڑے بڑے اسکالر پیدا ہوئے ۔ ان میں ایک نام مولانا پروفیسر محمد عبدالغفور غوثوی کا ہے ، جن کا گزشتہ روز انتقال ہوا ۔ موصوف کا تعلق راجن پور کے علاقے کوٹلہ دیوان سے ہے ۔ سیال برادری سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے بزرگ بہت عرصہ پہلے جھنگ سے کوٹلہ دیوان اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے ، مرحوم اپنی والدہ کے بطن میں تھے کہ والد مہر اللہ بخش سیال کا انتقال ہو گیا
مزید پڑھیے




کرونا وائرس اور شاکر شجاع آبادی کے اشعار

بدھ 25 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
’’ کرونا وائرس اور شاکر شجاع آبادی کے اشعار ‘‘ کے عنوان کا مطلب یہ نہیں کہ میں خدا نخواستہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شاکر شجاع آبادی کے اشعار پڑھیں ، کرونا وائرس ختم ہو جائے گا ، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بزرگوں کا کلام پڑھنے سے دل کو حوصلہ ملتا ہے اور ٹوٹے دل جُڑ جاتے ہیں ۔ شاکر شجاع آبادی کے اشعار سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ روزنامہ 92 کی خبر کے مطابق دو ارب سے زائد انسان گندا اور مضر صحت پانی پینے کے باعث طرح طرح کے عوارض کا شکار
مزید پڑھیے


خواجہ فرید چیئر کی ضرورت

منگل 24 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
اقبالیات کی طرح سرائیکی وسیب میں فریدیات کو بھی علمی درجہ حاصل ہے، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سرائیکی شعبہ جات میں خواجہ فرید کو پڑھایا جا رہا ہے اور ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی سرائیکی میں فریدیات کا الگ پیپر موجود ہے ۔ ہر دو یونیورسٹیوں میں عرصہ تقریباً 15 سال سے خواجہ فرید چیئرز منظور ہیں مگر آج تک وہ فنکشنل نہیں ہو سکیں ۔ پہلی مرتبہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں خواجہ فرید چیئر کے لئے اکیسویں گریڈ کی ایک پوسٹ اخبارات میں مشتہر کی گئی ہے ، مگر
مزید پڑھیے


کرونا کا خوف سب کچھ کھا گیا

اتوار 22 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ، جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو اس وقت تک کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق سندھ میں 238 ، پنجاب 81، بلوچستان98 ، کے پی کے 23 ، گلگت بلتستان 21 ، آزاد کشمیر 7 ، اور اسلام آباد میں ایک متاثرہ مریض شامل ہے ۔ کرونا کی مریض سندھ میں سب سے زیادہ ہیں ، وزیراعلیٰ نے لوگوں سے کہا کہ وہ تین روز تک گھروں میں رہیں ، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا
مزید پڑھیے


ایک ادیب اور استاد کی وفات

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
سرائیکی زبان وادب کے عظیم ناول نگاراور معروف افسانہ نویس اور ماہر تعلیم صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب ظفر محمود لاشاری گزشتہ روز 16 مارچ 2019ء کو وفات پا گئے ۔ مرحوم ظفر لشاری صاحب 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہونے والے ظفر محمود لاشاری کے والد محمد ابراہیم خان ویٹرنری ڈاکٹر تھے، ظفر محمود لاشاری نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی اور پڑھائی کے دوران ان کا شمار بہترین طالب علموں میں ہوتا تھا ۔ 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس
مزید پڑھیے


کُہنیاں ملانے کا موسم

بدھ 18 مارچ 2020ء
ظہور دھریجہ
’’ کُہنیاں ملانے کا موسم ‘‘ میرے کالم کا یہ عنوان شاید عجیب لگے مگر حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز اور سابق سپیکر رانا اقبال خان کی مصافحہ کرنے کی بجائے کُہنیاں ملانے کی تصویر منظر پر آئی ہے ۔ جس پر چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ اخبارات میں وزیراعظم عمران خان اور مولانا طارق جمیل کی تصویر شائع ہوئی ہے جو کہ کرونا سے بچاؤ کیلئے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر مصافحہ کرنے کی بجائے دونوں صاحبانوں نے قدرے فاصلے پر کھڑے ہو کر اپنے
مزید پڑھیے