ظہور دھریجہ



دو دن رحیم یارخان میں


اپنے عزیزوں نعیم خان دھریجہ اور احسن خان دھریجہ کی شادیوں کے سلسلہ میں دو دن سے خان پور اور رحیم یارخان میں ہوں ،اس دوران ادبی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ،دھریجہ نگر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں ہر شادی کی تقریب ثقافتی تقریب بن جاتی ہے ،شادی کی تقریب کے موقع پر خان پور کے صحافی دوست کثیر تعداد میں موجود تھے،صحافیوں نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے میڈیا کو مافیا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ سال میڈیا
اتوار 29 دسمبر 2019ء

قائداعظم اور وسیب

جمعه 27 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
محمد علی جناح کو قوم نے قائد اعظم کا خطاب دیا جو 1938ء سے ان کے اصل نام سے بھی زیادہ مشہور ہو گیا ۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں اتفاق رائے سے اس عوامی خطاب کو سرکاری طور پر منظورکیا گیا ۔ قائد اعظم 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں کھارادر کی بستی میں وزیر مینشن میں پیداہوئے ۔اصل وطن راج کوٹ تھا۔ ان کے والد جناح پونجا چمڑے اور کھالوں کا کاروبار کرتے تھے اور آپ کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل ہی کاروبار کی وسعت کیلئے راج کوٹ سے کراچی
مزید پڑھیے


چولستان تاریخ و تحقیق کے آئینے میں

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
چولستان پاکستان کا وسیع اور خوبصورت صحرا ہے ۔ اس میں بہت سے اضلاع آتے ہیں ، لیکن صحرا کا سب سے بڑا حصہ سابق ریاست بہاولپور کے تین اضلاع بہاولنگر ،بہاولپور اور رحیم یارخان پر مشتمل ہے ۔ یہ صحرا قدیم وادی ہاکڑہ کا اہم حصہ ہے ، جس پر مزید تحقیق اور ریسرچ کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ صحرا کے آثار کو بچانے اور اس پر تحقیق اور ریسرچ کرنے کی بجائے شکاریوں نے اس کے حسن کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے ۔پاکستانی شکاریوں کے علاوہ چولستان پر سب سے بڑا ظلم عرب شکاریوں نے کیا
مزید پڑھیے


ملکہ ترنم نور جہاں کی برسی

منگل 24 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
گزشتہ روز ملکہ ترنم نور جہاں کی برسی منائی گئی۔دکھ اس بات کا ہے کہ برسی کے موقع پر قابل ذکر تقریبات کا انعقاد نہیں ہوا۔ فن کی دنیا میں ملکہ ترنم نور جہان ایک بہت بڑا نام ہیں۔ اُن کی فن کے علاوہ ایک لحاظ سے عسکری خدمات بھی ہیں کہ 1965ئ، 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے ملی ترانے گا کر پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کا مورال بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ صوفی تبسم کا لکھا ہوا پنجابی ملی نغمہ ’’اے پتر ہٹاں تے نیں وکدے، توں لبھنی پھریں بزار کُڑے‘‘ آج
مزید پڑھیے


پی ٹی وی ملتان سنٹر کی حالت زار

اتوار 22 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
پی ٹی وی ملتان جو کہ سرائیکی وسیب کے لوگوں نے طویل جدوجہد کے ذریعے بنوایا ، کی حالت روز بروز ناگفتہ بہ ہوتی جا رہی ہے ۔ پی ٹی وی ملتان کے فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ڈرامہ و دیگر پروگراموں کی ریکارڈنگ عرصہ سے معطل ہے ۔ وسیب کے شاعر ، ادیب ، دانشور اور آرٹسٹوں کو اپنے فن کے اظہار کے مواقع نہیں مل رہے ۔ پی ٹی وی کی حالت دیکھ کر ہر طرف تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ وسیب کے آرٹسٹوں نے 31 دسمبر 2019ء کو ساؤنڈایکٹ اور پی ٹی
مزید پڑھیے




بحرانی حالات اور شاکر شجاع آبادی

هفته 21 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
ملک کے موجودہ بحران بارے مجھے شاکر شجاع آبادی کی کچھ شعر یاد آ رہے ہیں ۔ ملک میں عدالتی فیصلے اور نظریہ ضرورت کی بھی بات ہو رہی ہے ۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ذکر ہو رہا ہے۔انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے بلا شبہ افواج پاکستان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ یہاں یہ بھی ہوا ہے کہ جہاد کے نام پر عالمی قوتوں نے پاکستان میں کھیل کھیلا اور دولت کے ذریعے پاکستان میں امن و عامہ کی صورتحال خراب کی ۔ اس صورتحال کے ذمہ دار وہ سب ہیں جو دولت کی لالچ میں آ
مزید پڑھیے


تہذیب و ثقافت کا گہوارا جھنگ

جمعه 20 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
’’ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ‘‘ کے مصداق شہر اور قصبے اجڑتے اور بستے رہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ صدیوں کے عمل سے نئی تہذیبوں کا جنم اور قدیم تہذیبوں کا خاتمہ بھی تاریخ کا عمل ہے ۔ مگر کچھ شہر اور کچھ تہذیبیں سزا کے طور پر مٹا دی جاتی ہیں ۔ اس کی زندہ مثال جھنگ ہے ، جھنگ ایک شہر نہیں ایک بہت بڑی تہذیب کا نام ہے۔ لائل پور جھنگ کی تحصیل تھی ، آج جھنگ کہاں اور لائل پور ( فیصل آباد) کہاں ہے ؟ ایسے مواقع پر کہا جاتا ہے
مزید پڑھیے


مارشل لاء کا تحفظ نظریہ ضرورت

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
خصوصی عدالت نے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا جرم ثابت ہونے پر سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی ۔ 3 ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غاری کیس کی سماعت کی ۔ وفاقی حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ایک شخص کے خلاف ٹارگٹڈ ایکشن تھا ۔ آئین کی جس دفعہ کے تحت
مزید پڑھیے


اختر مینگل کے خلاف مظاہرے

بدھ 18 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اختر خان مینگل نے گزشتہ روز تونسہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈی جی خان ، راجن پور ، کشمور اور جیکب آباد بلوچستان کا حصہ ہیں ۔ جب تک ان اضلاع کو بلوچستان میں شامل نہیں کیا جائے گا ، ان اضلاع کی پسماندگی و محرومی ختم نہیں ہوگی ۔ عین اسی دن جب اختر مینگل کا تونسہ میں جلسہ تھا تو ڈی جی خان میں پاکستان عوامی سرائیکی پارٹی کے سربراہ سردار اکبر خان ملکانی کی قیادت میں اختر مینگل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا اور ان کا
مزید پڑھیے


16 دسمبر کے دکھ

منگل 17 دسمبر 2019ء
ظہور دھریجہ
سقوط ڈھاکہ کے بعد سانحہ پشاور کی وجہ سے16 دسمبر کا صدمہ دوہرا ہو گیا ۔ یہ اتنا بڑا سانحہ ہے کہپاکستانی قوم اسے کبھی نہیں بھول پائے گی ۔ دہشت گردوں نے جس درندگی اور بربریت کا مظاہرہ کیا اور پھول جیسے بچوں کو شہید کیا تو دوسرے دن جنازے کے موقع پر پوری دنیا بول اُٹھی کہ جنازوں پر پھول سب نے دیکھے تھے ، پھولوں کے جنازے پہلی مرتب دیکھے ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد ہماری پاک افواج اور دیگر اداروں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ کیا اور اس
مزید پڑھیے