BN

عارف نظامی


تھا جو ناخوب بتدریج وہی’ خوب‘ ہوا


مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد کی طرف رواں دواں آزادی مارچ اور سروسزسپتال میں داخل شدید علیل میاںنوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت ہونے پر حکومتی حلقوں میں گھبراہٹ کے آثارنمایاں ہیں۔سوشل میڈیا پر تو ہاہاکا ر مچی ہوئی ہے جس کا بلاواسطہ نشانہ عدلیہ ہے کہ وہ میاں نوازشریف کو ملنے والا ریلیف عام آدمی کوکیوں نہیں دیتے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان نے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجازشا ہ(ر)کے علاقے ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں گلہ کیا کہ یہاں امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب
بدھ 30 اکتوبر 2019ء

آفرین،آ فرین

پیر 28 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
حکومت کے مقرر کردہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹس جولاہور اور اسلام آبادکی عدالت عالیہ میں پیش کی گئیں ان کے مطابق میاںنواز شریف کی حالت مخدوش ہے اور اس لحاظ سے خطرناک کہ اگر ان کا درست اور فوری طور پر منا سب علاج نہ ہوا تو صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔ اب بال میاں صا حب کے اہل خانہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان کا علاج کیسے اور کہاں سے کراتے ہیں۔ موجودہ نازک صورتحال میںنواز شریف کی جان کو خطرے کے پیش نظر ماہرین کے مطابق جب تک ان کے پلیٹ لیٹس ایک خاص حد
مزید پڑھیے


آزادی مارچ حکومتی بوکھلاہٹ

هفته 26 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
نوازشریف کوصحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بنا پر بعداز خرابی بسیار سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ڈاکٹروں کو ان کے پلیٹ لیٹس بار بار تشویشناک حد تک کم ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی اور ان کے تفصیلی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نوازشریف کی صحت کی صورتحال پر پہلے تو تحریک انصاف کے وزرا نے حسب عادت مذاق اڑایا ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان بات اس حد تک لے گئیں کہ میاں صاحب تو ہشاش بشاش ہیں اور بیماری محض ڈرامہ ہے ،لیکن بدھ کی شام حکومت کوخود
مزید پڑھیے


جامد اقتصادی سرگرمیاں

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
صنعتی پہیہ بدستور تقریباً جام رہنے اور رواں مالی سال ترقیاتی منصوبوں میں بڑی کٹوتیوں کے سبب ملک میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ تازہ اعدادوشمارکے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.9فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کے اپنے ادارے، ادارہ شماریات کے مطابق 2016میں یہ شرح چار فیصد تھی۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ برس پانچ لاکھ گریجوایٹ بے روزگار ہوئے۔ ظاہر ہے نوکریاں درختوں پر نہیں لگتیں، غربت اور پسماندگی میں پسے ہوئے عوام کساد بازاری اورانحطاط کے اس دور میںپبلک سیکٹر میں ہی ملازمتوں کے خواہشمند ہوتے ہیں، اسی لیے ارکان اسمبلی پر بھی دباؤ
مزید پڑھیے


حکومتی ٹامک ٹوئیاں بمقابلہ گرینڈ اپوزیشن

پیر 21 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
جمعیت علما ئے اسلام (ف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن اپنے مارچ اور دھرنے کے حوالے سے اب’میں نہ مانوں‘ کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ حکومت ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بالآخر مذاکرات پر آمادہ ہو گئی ہے۔ پہلے پہل وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کرنے کی تجویز دی گئی توانہوں نے اس پر صاد کیا اور حامی بھی بھری کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ، وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ اور غالباً جہانگیر ترین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی لیکن خان صاحب نے سعودی عرب جانے سے پہلے اپنا ارادہ بدل لیا اور اس
مزید پڑھیے



شاہی جوڑا،ڈیانا اور پاکستان

هفته 19 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
برطانوی شاہی جوڑے ڈیوک آف کیمبرج شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ میڈلٹن کو اپنے دورہ پاکستان کے دوران خاصی پذیرائی ملی،دورے سے برطانوی اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی خاصی تشہیر ہوئی اور مجموعی طور پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا ۔پاکستان ایک خوبصورت ملک جس میں دلکش قدرتی مناظر،برف پوش پہاڑ،کہساروں کا سینہ چیرتے اور میدانی علاقوں میں پرسکون دریا،بلند آبشاریں،نیلگوں جھیلیں، میدان ، ریگستان اور نخلستان سب کچھ موجود ہیں ۔یہاں کے عوام مختلف قسم کی ثقافت اور روایات میںعمومی طور پر اسلام کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ۔اس کے باوجود
مزید پڑھیے


کچھ تاریخ کے تلخ دریچے سے۔۔۔

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
12اکتوبرکو جنرل پرویز مشرف کے بطور آرمی چیف اقتدار پر شب خون مارنے کو بیس برس گزر گئے۔ جنرل صاحب کا ’کو‘ (coup)پاکستان میں فو ج کے اقتدار پر قبضے کا پہلا واقعہ نہیں تھا۔ سب سے پہلے سازشی جرنیل ایوب خان نے جو بطور کمانڈر انچیف کئی برسوں سے ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے، قیا م پاکستان کے گیا رہ برس بعد ہی 7اکتوبر 1958ء کواقتدار پرقبضہ کر لیا تھا ۔ اس وقت ملک میں واقعی سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کادور دورہ تھا، سیاسی حکومتیں بنتی تھیں اور سیاستدانوں کی باہمی رسہ کشی کی وجہ سے ٹوٹ
مزید پڑھیے


باندھ کر کیسے مذاکرات؟

پیر 14 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
طویل عرصے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے’ سب کچھ ‘میاں نوازشریف کو میڈیا سے مختصر انٹرایکشن کرنے کا موقع ملا جو حکومتی بزر جمہروں نے بلا واسطہ طور پر خود فراہم کیا ۔مسلم لیگ (ن) کے رہبر میڈیا اور اپنے سیاسی حواریوں سے دور کوٹ لکھپت جیل کی ایک کوٹھڑی میں بند ’پاناماگیٹ ‘ کے ہاتھوں نااہل ہو کر اقامہ کیس میں طویل قید کاٹ رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ انتقامی ذہنیت کے حامل حکومتی اہلکار اس پر بھی راضی نہیں ، اس وقت تو ان کے اعصاب پر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور اسلام آباد
مزید پڑھیے


حسن کارکردگی ، ہنوز فقدان

هفته 12 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
حکمرانوں بالخصوص وزیراعظم عمران خان اور ان کی اکنامک ٹیم کی یقین دہاینوں کے باوجود اقتصادی معاملات بدستور دگرگوں ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر جوآئی ایم ایف سے درآمد شدہ ٹیم کا حصہ ہیں نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے حاضرین کو یقین دلایا کہ اکانومی کو جن چیلنجز کا سامنا تھا موجودہ حکومت کی طرف سے کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں معاملات بہتر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اللہ کرے، ایسا ہی ہو اور جلد ہی تاجر اور عوام محسوس کرنے لگیں کہ واقعی اقتصادیات سنبھل گئی ہیں اور ان
مزید پڑھیے


کو ئی بتلا ؤ کہ ؟

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے اپنی حالیہ دھواںدار پریس کانفرنس میں آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ کے سامنے تاجروں کے تحفظات کو بلاجوازقرار دیا ہے، گویا کہ نیب تو اپناکام کر رہی ہے نہ جانے شو ر کیوں مچ رہا ہے۔ سپریم کو رٹ کے ریٹا ئر جج کے متذکرہ ریمارکس سے یہ واضح ہے کہ وہ اپنے پیروں پر پانی پڑنے نہیں دے رہے اور جو کچھ نیب کر رہا ہے ، وہ ایک آزاد ادارے کے طور پروطن عز یز کو کرپشن سے پاک کر نے کے لیے جہاد ہے۔ سا تھ ہی چیئرمین نے تاجروں کو
مزید پڑھیے