BN

عارف نظامی



نئے حالات میں ٹوٹ پھوٹ؟


سپریم کورٹ سے میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے اور برادر خورد میاں شہباز شریف کے عملی طور پر’’ عبوری جلاوطنی‘‘ میں جانے کے بعد سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے لیے بڑا سیاسی بحران کھڑا ہو گیا ہے۔اگرچہ شاہد خاقان عباسی صاحب کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر 10 روز میں وطن واپس لوٹ آئیں گے لیکن اس کی بہت کم امید ہے اور فی الحال ڈیل اور ڈھیل کی تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے پھر واضح کر دیا ہے کہ کسی کو این آراو
پیر 06 مئی 2019ء

بد گمانیاں۔۔۔

هفته 04 مئی 2019ء
عا رف نظا می
افغانستان ایسا ملک ہے جو مسلسل چالیس برس سے عملی طور پر حالت جنگ میں ہے اور گزشتہ سترہ برس سے تو امریکہ وہاں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑ رہا ہے۔ گزشتہ چار برس میں افغانستان کے معاملات کے حوالے سے پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ دسمبر 1979 ء میں جب سوویت یونین کی فوج نے افغانستان پر یلغار کی تو پاکستان راتوں رات فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا۔ اس وقت فوجی آمر جنرل ضیاء الحق بلا شرکت غیرے پاکستان کے حکمران تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اس جنگ سے
مزید پڑھیے


بالآخر بیل آؤٹ پیکیج؟

بدھ 01 مئی 2019ء
عا رف نظا می
بالآخر پاکستان کو اقتصادی گرداب سے نکالنے کیلئے آئی ایم ایف کے مجوزہ تین سالہ بیل آؤٹ پیکیج پر اسلام آباد میں باقاعدہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں،عالمی مالیاتی ادارے کا سٹاف مشن پاکستانی اقتصادیات کی گھمبیر صورتحال کے حوالے سے مختلف اصلاحات پر بات چیت کرے گا۔مذاکرات سے قبل اسی ماہ آئی ایم ایف کے سامنے پاکستان کی اکانومی کی تشویشناک صورتحال رکھی گئی جس کے مطابق بجٹ کا خسارہ رواں مالی سال میں تقریباً8 فیصد ہو گا اور جی ڈی پی کے حوالے سے قرضوں کا تناسب آئندہ پانچ برس میں 86 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔اس
مزید پڑھیے


آگے بڑھنے کا وقت

پیر 29 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی محض ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ بدیہی حقیقت ہے جس کا عملی مظاہرہ آج کل ون بیلٹ ون روڈ کے چین میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی ون بیلٹ ون روڈ فورم کے اجلاس جس میں 37 سربراہان مملکت اور حکومت شریک تھے سے اپنے خطاب میں تسلیم کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شرکت کی اور پاکستان کو فخر ہے کہ ہم ملک کی تقدیر
مزید پڑھیے


اور زبان پھسل گئی؟

هفته 27 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
حالیہ ہفتوں میں وزیراعظم عمران خان کی زبان اس تواتر سے پھسلی جیسے بارش میں گیلی سڑک پر پرانے ٹائروں والی گاڑی پھسلتی ہے یا توخان صاحب دانستہ طور پر انہونی باتیں کر جاتے ہیں یا واقعی انھیں اپنے رشحات فکر کے اظہار پر پورا کنٹرول نہیں ہے۔ایک ایٹمی طاقت اور آبادی کے لحاظ سے چھٹے بڑے ملک کے وزیراعظم کو خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے یعنی پہلے’ تولو پھر بولو ‘بنیادی سکیورٹی، خارجہ پالیسی اور دیگر قومی معاملات پر غلط بات کرنے سے بڑے دوررس اور پیچیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بالخصوص غیر ملکی سرزمین پر زبان
مزید پڑھیے




وسیم اکر م پلس کو بدلنے کا رسک؟

بدھ 24 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
کیاوفاقی کابینہ میں تطہیر کے بعد اب پنجاب کی باری ہے؟۔میڈیا پر مسلسل قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بز دار کو گھر بھیجنے کا فیصلہ ہو گیا ہے لیکن ایسی درفنطنیاں اڑانے والے حقائق کابنظر غائر ادراک نہیں کر پا رہے۔ کابینہ میں ردوبدل اور وفاق اور صوبے کے چیف ایگزیکٹوز کو تبدیل کرنا موجودہ سیٹ اپ میں خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومتیں چند حواریوں کی معمولی عددی اکثریت کی بیساکھیوں پر قائم ہیں۔ ادھر سب سے بڑے صوبے میں چودھری برادران کی جماعت مسلم لیگ(ق) اگر
مزید پڑھیے


کھلا ڑیوں کا انتخاب؟

پیر 22 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے اپنے 8ما ہ کے دورحکومت کا سب سے بڑا دھماکہ کر ڈالا۔ علی الصبح انھوں نے اپنے اوپننگ بیٹسمین اسدعمر کو بلا کروزارت خزانہ کا قلمدان اچانک واپس لے لیا اور انھیں وزیر توانائی بننے کی پیشکش کی ۔حیران وششدر متنا زعہ وزیر خزانہ کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے ۔ قدرے توقف کے بعد جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہو ئے انھوں نے وفاقی کابینہ سے ہی سبکدوش ہونے کی اجازت مانگ لی اوریوں لوٹ کر بدھو گھر کوآگئے ۔اقتدار کی طاقت بے رحم ہوتی ہے
مزید پڑھیے


نئے نظام کی لاحاصل بحث!

هفته 20 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری میڈیا پر صدارتی نظام پر ہونے والی بحث کو وقت کا ضیاع قرار دیتے رہے لیکن یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے کہ اس بحث کا اس مرحلے پر آغاز کیونکر اور کیسے ہوا؟۔کیایہ محض اتفاق ہے کہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے شدید ذہنی تحفظات کے بعد حکومتی حلقوں کا بھی اصرار ہے کہ متذکرہ ترمیم میں صوبوں کو امیر اور وفاق کو غریب کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت جیسے کلیدی شعبے قریباً صوبوں کی ذمہ داری بن چکے ہیں
مزید پڑھیے


حکومت اپنا گھر ٹھیک کرے۔۔۔

بدھ 17 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
موجودہ حکومت کو بنے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں، اس دوران وزیر اعظم عمران خان سے لے کر نیچے تک حکومتی عہدیداروں کا بس یہی ایک بیانیہ ہے کہ پچھلی حکومت لوٹ کر کھا گئی، بیڑہ غرق کر گئی، لہٰذا عوام پر جو افتاد گزررہی ہے اس کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کا کڑا احتسا ب کر نے جسے وہ بدترین انتقامی کارروائیاں قرار دیتے ہیں ،کے علاوہ حکومت کا کوئی ویژن نظرنہیں آ رہا ۔ ڈنگ ٹپاؤ باتیں، یوٹرن،لیپا پوتی اور سٹنٹ بازی سے کام چلانے کی کوشش کی جا رہی
مزید پڑھیے


تجھ کو پرائی کیا پڑی!

پیر 15 اپریل 2019ء
عا رف نظا می
بھارت میںعام انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ نریندرمودی نے پہلے روز ہی بہار میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈینگ ماری کہ لوک سبھا کے انتخابی نتائج (تقریباًجو ایک ماہ بعد آئیں گے) سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کا اتحاد ختم ہو جائے گا۔ مودی کا کہنا تھا کہ شکست کے خوف سے اپوزیشن جھوٹے الزامات لگا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مودی اقتدار میں واپس آئے گا تو کرپشن،موروثی سیاست اور غریب کے نام پر لوٹ مار ختم ہو جائے گی اور مذہب اورذات پات کی بنیاد پر مزید سیاست نہیں
مزید پڑھیے