عا بد قر یشی


’’ جسم اور مرضی‘‘


صحنِ مسجد نبویؐ ہے۔ حضرت دحیہ قلبی ایک نہایت خوبصورت ، وجہیہ چہرہ نیا نیا قبول اسلام اور سرورِ کائنات ؐکی مجلس میں قبول اسلام سے قبل اپنی بیٹی کو زندہ دفن کرنے کا واقع پوری تفصیل کے ساتھ سنا رہے ہیں۔ آقا ؐ کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ حضرت دحیہ قلبی کو دوبارہ واقعہ سنانے کا فرماتے ہیں۔ وہ پھر پوری تفصیل کے ساتھ کہ کس طرح اپنی بیٹی کو بہلا پھسلا کر جنگل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی قبر کھودنا شروع کرتے ہیں۔ سخت گرمی
منگل 10 مارچ 2020ء

سفرِ تشکرو عقیدت

اتوار 23 فروری 2020ء
عا بد قر یشی
یوں تو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور سرکارِ مدینہ ؐ کے وسیلئہ جلیلہ کی بدولت میں قبل ازیں بھی عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کر چکا تھا۔ مگر اپنی جوڈیشل سروس کے آخری سال دل میں شدید ترین خواہش موجزن رہی کہ باعزت ریٹائرمنٹ کے فوری بعد اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم ؐ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے عمرہ کے سفر کا اہتمام کروں گا۔ لہٰذا ریٹائرمنٹ کے تقریباً ایک ماہ بعد بارگاہ ایزدی سے عقیدتوں کے اس سفر کا اذن ملا۔ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاہور سے براہ راست مدینہ شریف کی
مزید پڑھیے


جناح کا گمشدہ پاکستان ( 2)

منگل 21 جنوری 2020ء
عا بد قر یشی
قیام پاکستان کے بعد سوائے پاک فوج کے بقیہ اداروں میں شکست، ریخت کا عمل جاری رہا۔ فوج نے اپنے اندرونی نظم و نسق اور ڈسپلن کی وجہ سے بطور ادارہ مضبوط ہونے کا ثبوت دیا۔ لہذا ہمارے سول اداروں کی کارگزاری کچھ قابل رشک نہ رہی۔ سول بیورکریسی براہ راست محلاتی سازشوں کا حصہ تھی تو عدلیہ جسٹس مینر کی سر کردگی میں نظریہ ضرورت کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔ تشکیل آئین کا کام رک رک کر چلتا رہا اور چل چل کر رکتا رہا۔ 1962ء میں فیلڈ مارشل ایوب خاں نے صدارتی طرز حکومت کو
مزید پڑھیے


جناح کا گمشدہ پاکستان (1)

پیر 20 جنوری 2020ء
عا بد قر یشی

جس طرح اس بات پر سبھی حلقوں کا اتفاق ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک اس قوم کو قائداعظم محمد علی جناح جیسا سچا، صاف ستھرا، ایماندار، بااصول نڈر اور بے باک صاحب بصیرت لیڈر میسر نہیں آیا۔ اسطرح اس بات پر اختلاف کی گنجائش کم نظر آتی ہے کہ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جسکے لئے لاکھوں لوگوں نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ ایسی قربانیاں کہ صرف انکا تصور کرنے سے ہی رونگٹے کھٹرے ہو جاتے ہیں۔ اور پھر یہ تمام قربانیاں ایک عظیم ،جدوجہد، پختہ عزم اور
مزید پڑھیے


عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت

جمعرات 16 جنوری 2020ء
عا بد قر یشی
لوگ شہادت دینے سے کیوں گریزاں اور کتراتے ہیں۔ عدم تحفظ اور خجّل خواری یہ دو باتیں ہی کافی ہیں۔ ایسے ماحول میں کون رضا کارانہ گواہ کے طور پر آگے آئے گا۔ یہی ہمارے نظام انصاف کا المیہ ہے۔ ایسے میں تو صرف استاد گلو جیسے گواہ ہی میسر آ سکتے ہیں۔ استاد گلو کا قصہ ہمارے بڑے ہی محترم استاد جناب شیخ امتیاز علی پرنسپل یونیورسٹی لا ء کالج جو ہمیں قانون شہادت پڑھایا کرتے تھے۔ یہ قصہ بڑے مزے سے سناتے تھے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ استاد گلو قیام پاکستان سے قبل لاہور کی عدالتوں کا
مزید پڑھیے