BN

عبدالرفع رسول



ہندو راشٹر کیسا ہوگا؟


سوال یہ ہے کہ مودی کاہندو راشٹر کیسا ہوگا۔اس حوالے سے مودی اینڈکمپنی کامائنڈسیٹ پڑھنے اورکئی خوفناک واقعات اورٹھوس شواہدسامنے آنے کے بعد یہ واضح ہورہاہے کہ مودی کاہندو راشٹر اس طرح ہو گاکہ جہاں مسلمان کیڑے مکوڑوں سے بدتر مخلوق تصورہونگے اوربدترین زندگی گذارنے پرمجبورہونگے،انہیں اپنی اسلامی شناخت ختم کرناہوگی۔ انہیں داڑھی ،ٹوپی اورقمیض شلوار کے بجائے ماتھے پرٹیکہ لگاکرزعفرانی طرزکاہندوانہ لباس پہنناہوگا،جہاں گائے کاٹنے والے کاٹ دیئے جائیں گے، مساجد مندروں میں تبدیل ہونگی، مدارس اسلامیہ گائو خانوں میں بدل دیئے جائیں گے اورجہاں آگرہ سے دہلی تک مغلوں کی تمام اسلامی طرزفن تعمیرات کوایک ایک کرگرایاجائے گا۔ دوسرا
منگل 04 فروری 2020ء

کشمیرپرٹرمپ کی ثالثی فلسطین فارمولہ کے تناظر میں

اتوار 02 فروری 2020ء
عبدالرفع رسول
ٹرمپ جو باربارکشمیرپر ثالثی کی پیشکش کررہے ہیں توان کے سامنے کشمیرپرثالثی کاجومنصوبہ ہے ہمارے خیال کے مطابق وہ فلسطین ٹائپ کا فارمولہ ہے یعنی’ ’ارض فلسطین کی طرح کشمیرکی بندربانٹ کا‘‘ ٹرمپ کے پیش کردہ فلسطینی فارمولہ سے انکی کشمیرپرثالثی کی شکل وصورت اگرچہ ہمارے سامنے واضح ہوچکی ہے لیکن اسکی کئی جہتیں ابھی درپردہ ہیں۔لیکن ارض فلسطین کی طرح کشمیرپریہ اقدام عالمی سطح کے فورموں خصوصاًاقوام متحدہ کے منہ پرایک ایسا زوردار تمانچہ ہو گا کہ اس تمانچے سے اسے اس کی اوقات یاددلائی جائے گی کہ یہ ’’نیوورلڈآرڈر‘‘ ہے جس کے سامنے کسی اقوام متحدہ یاکسی مظلوم
مزید پڑھیے


روہنگیامسلمانوںکی نسل کشی پرعالمی عدالت کانوٹس

بدھ 29 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے عالمی عدالت کے ابتدائی ریمارکس سے قبل 28دسمبر 2019ء کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے میانمار میں روہنگیا کی نسل کشی کے خلاف قرارداد منظورکرلیا۔یہ قرارداد 193رکن ممالک والی اسمبلی میں 134ممالک کی حمایت کے ساتھ منظور کی گئی ہے۔ نو ممالک نے اس کی مخالفت کی جبکہ 28ممالک نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔قرارداد میں میانمار سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہونے والے مسلمانوںکے تحفظ اور ان کو انصاف دیئے جانے کی بات کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں میانمار سے کہا گیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر
مزید پڑھیے


مودی انسانی تہذیب کے لئے خطرہ

منگل 28 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
چندیوم قبل عالمی ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے جریدے’’دی اکانومسٹ‘‘ جولندن سے شائع ہوتاہے نے اپنے تازہ شمارے کے سرورق پرشہہ سرخی میں لکھاکہ خاردارتاروں پرپھول نہیں کھلتے‘‘ مودی کس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس سٹوری میں وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔حکومت کی پالیسیاں نریندر مودی کو انتخابات جیتنے میں مدد کر سکتی ہیں لیکن وہی پالیسیاں بھارت کے لیے سیاسی زہر ثابت ہو سکتی ہیں۔اسے قبل نریندر مودی کی 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران بھی’’ دی اکانومسٹ‘‘ نے
مزید پڑھیے


روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پرعالمی عدالت کانوٹس

اتوار 26 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
عدل،انصاف اور مساوات کوبنیادی اصولوں تسلیم کئے بغیر انسانیت کی تعمیرممکن نہیں۔سرمائے، مذہب،رنگ، نسل اور جنسی تفریق کی بنیاد پر کھڑی دنیا میں جس طرح اقلیتوں کودبایاجارہاہے،مختلف بہانے تراش کرانہیں موت کے گھاٹ اتاراجارہاہے ،بچ جانے والوں کا استحصال کیاجارہا،ان کے ساتھ ظلم ، ناانصافی اور تشدد کیاجارہاہے ۔انسانی حقوق کے لئے آواز غداری قرار پا رہی ہے۔ مذہب،رنگ و نسل اور جنس کی بنیاد پر تفریق کی دیوار قائم ہے۔یہ اکیسویں صدی کے ماتھے پربہت بڑے دھبے ہیں جس کے باعث انسانی تاریخ کاہرورق اورہرباب آلودہ ہے۔کرہ ارض کے شرق وغرب میں جوجنگل راج نافذہے اس سے صاف دکھائی
مزید پڑھیے




شاہین باغ دہلی میں خواتین کا احتجاجی دھرنا

هفته 25 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
آج جب یہ کاکالم ہمارے قارئین کی نظروں سے گذررہاہے تو شاہین باغ میں خواتین کے اس احتجاج کو43روز ہورہے ہیں۔14دسمبر 2019ء کی دوپہر کو 10تا 15علاقائی خواتین نے دریائے جمنا کے کنارے واقع شاہین باغ جس کا محل وقوع کالندی کنج شاہین باغ نامی شاہراہ عام ہے جو دھرنے کے باعث 15دسمبر سے بند ہے ۔دھرنے میں خواتین جوق درجوق اس دھرنامیںشامل ہوتی چلی گئیں۔ اس طرح یہ 24/7احتجاج بن گیا ہے۔ دہلی میں ریکارڈ کی جانے والی سوسالوں میں پہلی بارپڑنے والی شدید سردی اوربارش بھی ان کا حوصلہ پست نہیں کرسکی ۔اب روزانہ کی بنیادپریہاں لاکھوں کا
مزید پڑھیے


کشمیری پنڈتوں کابھیانک کردار …(2)

جمعرات 23 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
کل کے کالم میں ہم نے کوشش کی کہ اپنے قارئین کوکشمیری پنڈتوں’’کشمیری ہندئووں‘‘کی تحریک آزادی کشمیرکے خلاف صف آراء ہونے کے حوالے سے باخبرکریں ۔سچ یہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ تحریک آزادی کشمیرمیں ساتھ نہ دے کرجس بھیانک کردارکامظاہرہ کیاتاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔یہ دوسراموقع ہے کہ جب کشمیری پنڈتوں نے کشمیری مسلمانوں کو دھوکہ دیابلکہ یوں کہاجائے توبہترہوگاکہ یہ دوسراموقع ہے کہ جب کشمیری پنڈت کشمیری مسلمانوں کے خلاف صف آراہوئے۔ اس سے قبل1931ء میں جب ڈوگرہ کی مطلق العنان حکومت کے خلاف اسلامیان کشمیراٹھ کھڑے ہوئے لیکن کشمیری پنڈت اس
مزید پڑھیے


کشمیری پنڈتوں کا بھیانک کردار

بدھ 22 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
کشمیری پنڈت وادی کشمیر کے ہندو باشندے ہیں یہ کشمیری زبان بولتے ہیں اوریہ اپنے آپ کوہندئوں کی اعلیٰ ذات برہمن کہتے ہیں۔مقبوضہ وادی کشمیرمیںکشمیری پنڈتوں کی آبادی 2لاکھ نفوس پرمشتمل ہے اوراس طرح یہ وادی کشمیرکی کل آبادی کا2فیصدہیں۔98فیصد کشمیری مسلمانوں نے ہمیشہ کشمیری پنڈت اقلیت کے ساتھ بہت ہی اچھاسلوک روارکھا اورانہیں کبھی بھی اقلیت میں ہونے کے احساس کمتری کاشکار ہونے نہیںدیا ۔کشمیری مسلمان ہمیشہ انکی غمی اورخوشی میں ان کے ساتھ شریک رہے حتیٰ کہ ان کے مردوں کوجلانے کے لئے بھی پیش پیش رہے۔ اندازہ کیجئے گاکہ اگربھارت کی کسی ریاست میں اٹھانوے فیصد ہندوآبادی
مزید پڑھیے


کشمیری بچوں کے تعذیب خانوں کاروح فرساانکشاف

پیر 20 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کا کشمیری کمسن بچوں کے لیے قائم’’ ڈی ریڈکلائزیشن ‘‘کیمپوں روح فرسا اوررونگٹے کھڑے کرنے والے انکشاف سے کئی سوالات پیداہوئے ہیں۔ بپن راوت نے دلی میں منعقدہ ’’رائے سینا ڈائیلاگ‘‘میں جمعرات16جنوری 2020 ء کو ایک مذاکرے میں یہ انکشاف کیاکہ دس سے بارہ برس کے کشمیری بچوں کو آزادی پسند نظریات سے نکالنے کے لیے حکومت کے ذریعے ’’ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپس‘‘چلائے جا رہے ہیںجن میں ان کے بقول شدت پسند کشمیری بچوں اور نوجوانوں کو تنہائی میں رکھا جارہا ہے تاکہ نظریات بدلنے کے لئے ان کی ذہن سازی کی جا
مزید پڑھیے


جینوسائڈ واچ کی تحقیق اورآج کاہندوستان (آخری قسط)

اتوار 19 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
کل کے شمارے میں ہم نے جینوسائڈ واچ کی تحقیقی اورآج کاہندوستان پربات کرتے ہوئے اس امرکاجائزہ لینے کی کوشش کی تھی کہ کیسے ظالم حکمران اپنے ہی ملک کی اقلیتوں کے خلاف پہلے سازشیں رچاکران کاقتل عام کرتے ہیں اورکسی طرح زندہ بچ جانے والوں کو بالآخرملک بدرکرتے ہیں۔آج کے ہندوستان کی صورت حال جینوسائڈ واچ کی تحقیق کے پس منظرمیں ایک بہت بڑے خوفناک انسانی المیے کی طرف بڑھ رہی ہے۔جس دس ادوارکاجینوسائڈ واچ کی تحقیق میں تذکرہ کیاجاچکاہے اسے سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں جس طرح فاشسٹ طاقتوں کے لیے یہ صورت حال’’
مزید پڑھیے