BN

عبدالرفع رسول



جالبؔ اورفیضؔ کی گونج نے مودی کے بام ودرہلادیئے


بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہروں میں فیض احمد فیض اور حبیب جالب کا کلام چھایا ہوا ہے۔فیض اور حبیب جالب کے انقلابی ترانے ہندوستان میں گلی گلی گونج رہے ہیں۔ طلبہ اور نوجوان فیض اور جالب کی نظمیں گا گاکرمودی کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمہاراظلم اورتمہارایہ سیاسی جبرمساوات اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے جوہمارے لئے ناقابل برداشت ہے ۔ فیض اور حبیب جالب کی نظموں کے اشعار نعروں کی صورت مودی سرکار کو للکار رہے ہیں اورمودی کے بام ودرکوہلارہے ہیں۔ بھارتی شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج
بدھ 08 جنوری 2020ء

کشمیر قراردادوں کا کیا ہوا

منگل 07 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
اکیسویں صدی کوبعض لوگ انصاف کی صدی قراردے کربڑی امیدیں باندھ چکے تھے ۔ اس صدی کابیسواں بر س جو2020کہلاتاہے بھی شروع ہوچکاہے مگرکشمیرسے فلسطین کے افق پرظلم کے سائے بدستورگہرارنگ جمائے بیٹھے ہیں۔کون ساانصاف، کہاں کاانصاف ،کون کرے گا انصاف۔کیاامریکہ انصاف کرے گاکہ جس نے کرہ ارض پر اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی افغانستان اورعراق پر اتناظلم ڈھایاکہ چنگیزاورہلاکوبھی شرمسارہیں۔ 5 جنوری اہل کشمیر کے حافظے کی لوح پر ایک بھیانک یاد کے طور پر سوالیہ نشان بن کر محفوظ ہے جب بھی یہ دن آتا ہے تو کشمیریوں کو اپنے مقدر کی وابستگی کی وہ تاریخی داستانیں
مزید پڑھیے


کیاہندوستان اندلس بننے جارہاہے

اتوار 05 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
جب مودی سرکار اور آر ایس ایس ببانگ دہل یہ اعلان کر رہی ہے کہ ہم نے ہندوستان کو پوری اور کامل ہندو راشٹر بنانا ہے تو پھر ہندوستانی مسلمانوں کا اس ہندو راشٹر میں حشر کیا ہو گا محتاج وضاحت نہیں۔ کیونکہ یہ کوئی اسلامی مملکت نہیں بننے جا ری کہ جہاں باقی مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق کا بھرپور تحفظ ہو۔ اس ہندو سٹیٹ میں ہندوئوں کے علاوہ کسی اور بالخصوص مسلمانوں کو رہنے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ 2020 ء کے آغاز پہ امن کی امیدوں اور خوشحالی کی تمنائوں کے ساتھ دنیا بھر میں جشن
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر!2019ء

جمعرات 02 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
پلوامہ ضلع میں14فروری 2019ء کو عادل احمد ڈار کے قابض بھارتی فوج پر فدائی حملے کے بعد انڈیا کے جنگی طیاروں نے26فروری 2019ء منگل کی شب سہ پہر کو منقسم کشمیرکی جنگ بندی لائن عبورکرکے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ۔ انڈین فضائیہ کے طیارے کشمیرکی جنگ بندی لائن عبور کر کے مظفرآباد سیکٹر میں کئی میل اندر آئے اوربالاکوٹ کے جنگلات میں بم گراکرواپس چلے گئے۔تاہم یہ بم نہ تو کسی عمارت پر گرے اور نہ ہی اس سے کوئی جانی نقصان ہوا ہے۔خیال رہے کہ یہ71کے بعد پہلا موقع تھا کہ انڈین جنگی طیارے آزادکشمیرسے
مزید پڑھیے


ہندوستان کی مسلم قیادت خاموش کیوں؟

بدھ 01 جنوری 2020ء
عبدالرفع رسول
شہریت ترمیمی ایکٹ کم ازکم ہندوستانی مسلمانوں کے لئے کوئی حیرت واستعجاب کامعاملہ تھا اورنہ ہی وہ اسے کوئی انہونی سمجھ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کسی کے چہرے پہ خوف کے آثار نظرنہیں آرہے۔ انہیں اس امرکابخوبی علم تھاکہ مودی ان کے لئے ہٹلربن کرآچکاہے ۔شہریت ترمیمی ایکٹ لائے جانے کے بعد سے ایک طرف باشندگان ہند میں روز بروز بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ، مزاحمت میں ہر دن شدت آ رہی ہے، جو ایک خوش آئند اشارہ ہے اورممکن ہے کہ ہندوستان کے ٹوٹ جانے کایہ نقطہ آغاز ثابت ہو۔شہریت ترمیمی بل
مزید پڑھیے




بھارتی طلباء و طالبات نے مودی سرکار کوہلاکررکھ دیا

پیر 30 دسمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ مسلمانان ہندوستان کے خلاف مودی سرکار کی دشمنی کے خلاف بھارتی جامعات کے طلباء و طالبات کی یکسوئی اورہمہ جہت احتجاجی تحریک نے مودی اینڈکمپنی کوہلاکررکھ دیاہے ۔شہریت قانون کے خلاف بھارت کی بڑی بڑی دانش گاہوں میں احتجاج تیسرے نسل کے راہنمائوں کا پیش خیمہ ہے۔بلاشبہ بھارتی طلبا ء آج جو کردار ادا کررہے ہیں، وہ قابل تعریف ہے۔ ایک طرف وہ پوری قوت کے ساتھ احتجاجی تحریک چلارہے ہیں دوسری طرف وہ اپنی ذہانت ،فطانت ،صلاحیت اورقابلیت کی بنیاد پراعزازات اورگولڈمیڈلزکے مستحق ٹھرانے کے باوجودبھارتی مسلمانوں کے خلاف ہورہی
مزید پڑھیے


’’استنبول یاکوالالمپور ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا‘‘

اتوار 29 دسمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
9/11کے بعد مسلم امہ کے خلاف ترتیب دیئے گئے ناپاک منصوبوں کے تحت عرب دنیاپرمسلط حکمرانوں کواس طرح زیرکرلیاگیا کہ وہ سیدھے امریکہ کی جھولی میں آگرے اوراسرائیل کے ساتھ انہوںنے ایک جائزمخاصمت کوختم کرکے مشرقِ وسطی کوامریکہ اوراسرائیل کے رحم وکرم پررکھ دیا ہے۔اب پورے عربستان میں اخوان المسلمین کاپیش کردہ نظریہ اورفلسطینی مجاہدین کافلسفہ متروک ہوگیا۔جس کامطلب یہ ہے کہ بیت المقدس کی بازیابی اورانبیاء کی مقدس سرزمین کی یہودسے آزادی اورنجات کے لئے بالواسطہ کوئی کوشش کرنابھی اب عرب حکمرانوں کے ایمان کاحصہ نہیں رہاہے بلکہ ان تمام باتوں کو وہ ازکارِرفتہ اور معدوم نظریات سمجھتے ہیں۔اس
مزید پڑھیے


چاہ کن راچاہ در پیش

هفته 28 دسمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
یہ اہل بصیرت کا مشاہدہ ہے اور یہی تاریخ کا سبق بھی ہے کہ’’چاہ کن راچاہ درپیش‘‘یعنی دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والا خود بھی اسی میں گرتاہے ۔برسوں قبل اسلامیان کشمیر کوبھسم کرنے کے لیے بھارت نے کشمیرمیں جوآگ لگائی تھی آج وہی آگ دہلی کے دروبام جلارہی ہے ۔ پورے ہندوستان میں اس آگ کے بھڑکتے شعلے بلندہورہے ہیں۔ آج 20کروڑسے زائدبھارتی مسلمان اوردلت کے بشمول بیسیوں کروڑ بھارتی شہری ہٹلرمودی کے بنائے جانے والے مسلم کش قانون کے خلاف سراپااحتجاج ہیں اور یہ احتجاج باضابطہ طورپرایک تحریک کی شکل اختیارکرچکا ہے۔ کروڑہامسلمانوں اوردیگراقلیتوں کے ہاتھ مودی
مزید پڑھیے


کیابھارت کوئی مس ایڈونچرکرے گا

جمعه 20 دسمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
ہندوستان جل رہاہے مودی حالت کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکاہے اسے اس کے سوا کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔کہیں وہ ایل اوسی پرکوئی مس ایڈوانچر نہ کربیٹھے۔جس کی صدائے باز گشت بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی اس تازہ دھمکی میں سنائی دے رہی ہے کہ جس میں وہ کہتے ہیںکہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کسی وقت بھی سنگین ہو سکتی ہے۔ادھرافواج پاکستان کے ترجمان کاکہناہے کہ کسی فالز فلیگ آپریشن یا حملے کی کوشش کی گئی تو پاکستانی افواج تیار ہیں اور حملہ آور ہونے کی کوشش پر مناسب جواب دیا جائے گا۔ سٹیزن شپ امینڈمنٹ
مزید پڑھیے


جامعہ ملیہ اسلامیہ: آتش زیرپا

منگل 17 دسمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
آج ایک بارپھرشیخ الہندکاموقف سرچڑھ کربول رہاہے اوربھارت کے پاس کردہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف جامعہ ملیہ کے طلبہ برسراحتجاج ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ بھارت کے دار الحکومت نئی دہلی میں واقع ایک مرکزی یونیورسٹی ہے۔بنیادی طورپر 1920 ء میں برطانوی راج میں موجودہ دور کے اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں قائم کی گئی تھی۔ 1988 ء میں بھارتی پارلیمان کے ایک ایکٹ کے تحت جامعہ ملیہ اسلامیہ کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ اس کے بانیوں میں شیخ الہند مولانا محمودالحسن،مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان تھے ،ان حضرات کا خواب ایک ایسا تعلیمی ادارہ کا
مزید پڑھیے