عبدالرفع رسول



یہ سناٹااور مجرمانہ خاموشی آخرکب تک؟


دنیا میں مسلمانوں کی مظلومیت کی ایک دلدوزمثال کشمیرہے جہاں 80لاکھ کشمیری مسلمان کڑے محاصرے میں ہیںاوراس محاصرے کے 115دن بیت چکے ہیں لیکن بھارت کی اس جارحیت کے باوجودمظلومین کشمیربھارت کے سامنے سپراندازنہیں ہورہے اورلگاتار جہد پیمائی کررہے ہیں۔مظلومیت کی دوسری المناک مثال فلسطین ہے جہاں نوجوانان فلسطین بیت المقدس اورمقدس سرزمین کی بازیابی اور اپنی آزادی کے لئے پوری حمیت کے ساتھ سینہ سپر رہتے ہیں ۔دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان بدترین مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ، جنہیںخصوصی کیمپوں میں جانوروں کی طرح بندکرکے تمام انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے لیکن میڈیائی
جمعرات 28 نومبر 2019ء

کشمیر۔۔۔احوال تازہ

منگل 26 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
113دن بیت گئے کہ مقبوضہ کشمیر خطرناک انسانی بحران کاشکارہے اورخزاں رسیدہ خاک افتادہ پتوں کی مانندمثلے جارہے ہیں۔وہ مسلسل اوربدستوردست ِ ستم کیش اوردست تظلم کے شکارہیں ۔80 لاکھ سے زائد انسانوں کے انفرادی، اجتماعی، معاشرتی، مذہبی اور سیاسی حقوق سلب کئے جاچکے ہیں۔کڑے محاصرے کے باعث پوری وادی کشمیر ایک پنجرے کے مانند ہے جہاں جانورنہیں بلکہ انسان بندہیں ۔دنیا میں ایسا کوئی شیردل سامنے نہیں آرہا جو کشمیریوں کے دردکادرماں ثابت ہو سکے۔ ایسا کوئی ہاتھ بلندنہیںہورہا جو اس ظلم کو روک سکے۔ لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیریوں کی نفرت
مزید پڑھیے


مسلمانوں کا ہیروعمرالیاس

پیر 25 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں جمعرات 21نومبرکو قرآن مجید کی توہین کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اسلام مخالف تنظیم ’’سیان‘‘کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن مجید کی شدید بے حرمتی کی گئی اور اس ساری شرمناک کارروائی کے دوران ناروے کی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور تنظیم کے ملعون لیڈرلارس تھورسن کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔قرآن مجید کی توہین کو وہاں موجود مسلمان نوجوان برداشت نہ کرسکے اور سبق سکھانے کے لیے ناپاک جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ کردیا۔ ایک نوجوان عمرالیاس تمام رکاوٹیں اورپولیس حصار توڑتا ہوا آگے بڑھا
مزید پڑھیے


کشمیری یخ بستہ قید میں

اتوار 24 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
جمعہ22نومبر کوبھارت کے سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں سول سوسائٹی کا ایک وفد کشمیر پہنچا ۔اس سے قبل کئی مرتبہ سول سوسائٹی اور سیاسی نمائندوں کو کشمیر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔کشمیر کی تازہ کشیدگی کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے کئی مرتبہ بھارتی سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کشمیر آنے کی کوشش کی تاہم انہیں ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔ان میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔بعد میں بھارتی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور غلام نبی
مزید پڑھیے


درندہ صفت بھارتی جنرل کے شرمناک خیالات

جمعرات 21 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
بھارتی فوج کاایک درندہ صفت اورخونخواربھیڑیا جنرل ایس پی سنہاخم ٹھونک کرنہایت بے شرمی کے ساتھ کشمیریوں کی عزت وعصمت پرہاتھ ڈالنے کی شرمناک ابلیسیت ، اور درندگی کی حمایت کرتے ہوئے اپنے ،بھارتی فوج اوربھارتی حکمرانوں کے چہرے پررسوائی مل کرپوری دنیاکواپنی روسیاہی سے متعارف کروا دیا ہے آہ !وہ بھی کیا زمانہ تھااوروہ بھی مسلمان حکمران ہی تھے کہ جنہوں نے ایک مسلمان خاتون کی پکارپرراجہ داہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔یہ توہمارے ہی اسلاف تھے کہ جواپنے مسلمان بھائیوں کی مددکے لئے بالفعل سمندروں کے سینے چیرتے رہے، فلک بوس پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا،باد صرصراورآندھیوں
مزید پڑھیے




ارض کشمیرسے سرزمین فلسطین تک

منگل 19 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
کشمیرسے فلسطین تک کشتگان ستم کے فگار دلوں پر بھارت اوراسرائیل مونگ دل رہے ہیںلیکن بین الاقوامی افق پرکوئی طوفان نہیں اٹھ رہا۔ایسالگ رہاہے کہ جیسے چاردانگ عالم ایک سکوت مرگ طاری ہے ۔ 13نومبر2019بدھ سے اسرائیل کی تازہ بربریت کے دوران کم ازکم40 فلسطینی نوجوان شہیدجبکہ 100سے زائدزخمی ہوئے جس پرکوئی نہیں بولا۔واضح رہے کہ چپ رہنا بھی ظلم کی تائید میں شامل ہے اوراسے تائیدسکوتی کہاجاتاہے ۔ اغیارتواغیار تھے ہی لیکن اپنے بھی اپنوں کواب بھول رہے ہیں۔اسلام کایہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے رنگ ونسل اورقوم ووطن عربی اورعجمی کے خودتراشیدہ تمام بتان کو بیک قلم
مزید پڑھیے


بھارت سانپ ہے اپنے ہی بچے نگل رہاہے

اتوار 17 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
29 اکتوبر 2019ء کوجنوبی کشمیرکے ضلع کولگام کے کاترس گائوںمیں پانچ بہاری مسلمان مزدوروںکوقابض بھارتی فوج نے ہلاک کردیا، اس سے چندیوم قبل شوپیان میں دوٹرک ڈرائیورہلاک کردیئے گئے ۔ جس سے ثابت ہورہاہے کہ بھارت سانپ ہے اپنے ہی بچے نگل رہاہے۔ان مزدوروں کوایسے موقع پرگولیوں سے بھون ڈالاگیا جب ایک نام نہاد یورپی پارلیمانی وفد سری نگرمیں موجودتھا۔کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اگست میں کشمیرکی ظالم پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی کے غیر کشمیری مزدور اور سیاح کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں۔لیکن اب یہ ایڈوائزری ہٹا لی گئی ہے۔چونکہ
مزید پڑھیے


کشمیر۔۔۔محاصرے کے 100دن

بدھ 13 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
زمانے کوپھرسے ظلمت کدوں اورظالم خو حکمرانوںکاسامناہے۔ پھر وہی دورجہالت کی داستانیں دہرائی جارہی ہیں ، انسانیت دم توڑرہی ہے اور عالم انسانی کی فضائیںمسموم ومکدرہیں۔ظلم، ضمیرانسانی کی اجتماعی بیخ کنی کا نام ہے۔ بھارت عشروں سے وادی کشمیر میں ریاستی استبداد کے جوابواب لکھ رہا ہے۔انہیںپڑھ کربھی عالمی سطح پرکشمیریوں کی طرف کوئی توجہ نہیں۔عالمی چوہدری مسئلہ کشمیرکوخالصتاََمسلمانوں کامسئلہ سمجھتے ہوئے ایساعقدہ لایخل قراردے رہے ہیں کہ جس کی انکی لغت فہم کے مطابق گرہ کشائی ممکن نہیں۔کشمیرکی سسکتی بلکتی انسانیت پرکوئی توجہ نہیں کیونکہ دنیاکادل پتھراوراس کی فکریں بالیدگی کی شکارہیں ۔ جب انسانیت کی کتاب دستور بے توقیر
مزید پڑھیے


کشمیری نوجوان کا بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع

بدھ 06 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
5اگست سے آج تک کشمیرسخت محاصرے میں ہے کشمیریوں کوباہرجانے اورنہ ہی کسی کشمیری کو کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت ہے ۔جنوبی کشمیرکے ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے علیم سیداپنے گھرسے باہربھارت میں بسلسلہ تعلیم وروزگارمقیم ہیں۔تمام کشمیریوں کی طرح ان کی بھی اپنے گھر والوں سے کوئی بات نہیں ہوپارہی ۔ایک ایسا شخص جو ہر روز اپنے خاندان والوں سے فون پر باتیں کرتا تھا اب کئی ماہ سے ان سے رابطے میں نہیں۔علیم سید کشمیر جانے کے خواہشمند ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان والوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جان سکیں مگر پابندیوں
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیریا آئن سٹائن اور نیوٹن کا فلسفہ

منگل 05 نومبر 2019ء
عبدالرفع رسول
مسئلہ کشمیرکی حیثیت آئنسٹائن اور نیوٹن کے فلسفے کے جیسی ہے کہ ایک نقطہ تلاش کر لیاگیا تو سارا مسئلہ حل ہوجائے گا، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اورظالم دنیاکے بڑے بڑے چوہدیوں اورمسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی نے اس مسئلے کی پرت اور اس کی تہہ اس قدر دبیز بنادی کہ اجمالی نظرڈالنے سے عام ذہن اس مسئلے کوپیچیدہ ترسمجھ رہاہے۔ کشمیرسے فلسطین اورافغانستان تک پوری ملت اسلامیہ کے ارد گرد اغیار کا ایک محاصرہ ہے، جواپنی پائیداری پرنازاں ہیں اوراسے ہمیشگی سمجھتے ہیں۔منشا و مرضی کے وہی مالک بنے بیٹھے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ انہی کے پاس
مزید پڑھیے