BN

عبدالرفع رسول



سری نگر میں مودی کااستقبال ہڑتال اوراحتجاج سے


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی3جنوری اتوار کو جب سری نگرپہنچے توپہلے ہی کی طرح اہل کشمیرکی طرف سے ان کااستقبال ہڑتال اور احتجاجی مظاہروںسے ہوا۔دوسری طرف کشمیری مجاہدین کی طرف مودی کے فوجی حصارپرکسی بھی امکانی حملے کے پیش نظرمودی کے دورے کے دوران سارا سرینگر مکمل طور فوجی چھائونی میں تبدیل ہو چکاتھا۔ زمین سے فضاء حتیٰ کہ جھیل ڈل کے پانیوں تک سخت ترین سیکورٹی کے پہرے بٹھادیئے گئے تھے۔ مودی کے دورہ کشمیرکامقصدکئی جھوٹے وعدوں سے اہل کشمیر کو جُل دینا تھا لیکن مودی اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہاہے وہ زمانہ گیاکہ جب قومیں دھوکہ کھا جاتی
پیر 04 فروری 2019ء

ایک بہت بڑابریک تھرو،ایک بہت بڑی خبر

پیر 28 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
1989ء کے وہ دن مجھے یادہیں کہ جب یہ اعلان ہواتھاکہ افغانستان سے روسی فوجیوں کا انخلاء ہوچکاہے۔اس طرح دسمبر 1979ء میں شروع ہونے والی روسی جارحیت کا فروری 1989ء میں یعنی نوسال کے بعداس وقت کی سپرپاورسوویت یونین کی ذلت آمیزشکست کے ساتھ خاتمہ ہوا۔ سوویت یونین کی جارحیت کے خلاف افغان جہاد شروع ہواجس میںساری دنیا کے مجاہدین اس وقت کی سپرپاور سوویت یونین کے خلاف بر سر پیکار تھے۔دنیا کے بیشتر ممالک نے سوویت یونین کی افغانستان پر دھاوا بولنے کی مخالفت کی۔جبکہ34مسلم ممالک نے باقاعدہ ایک قرارداد پاس کی اور سوویت یونین کی ایک مسلمان ملک
مزید پڑھیے


بھارت کایوم جمہوریہ کشمیریوں کا یوم سیاہ

اتوار 27 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
بھارت گزشتہ 71سال سے کشمیری عوام کے بنیادی اور جمہوری حق،حق خودارادیت کواپنی ہٹ دھرمی، توسیع پسندانہ عزائم اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دباتا چلا آرہا ہے۔اس پون صدی کے دوران دلی والے کشمیرکواپنااٹوٹ انگ توسمجھتے رہے ہیں لیکن کشمیریوں کووہ دہشت گرد ہی سمجھتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ اہل کشمیربھارتی قبضے کوجابرانہ اوراس کے تسلط کوجارحانہ مانتے ہیں۔ریاست کشمیرکابھارت سے کوئی تعلق نہیں کشمیری عوام بارباراورہرباراپنے اس موقف کودہراتے ہیں اوردنیاتک یہ پیغام پہنچاتے رہتے ہیں۔اس پس منظرمیں اہل کشمیرکایہ دوٹوک موقف ہے کہ بھارت کو ارض کشمیر پر اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد الیکشن کاراگ

منگل 22 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
اگلے ماہ فروری کے وسط میں نریندرمودی سرینگر آ رہے ہیں اس دورے کامقصدمقبوضہ کشمیرکی صورتحال کاجائزہ لینابتایاجاتاہے ۔لیکن واقفان کاکہناہے کہ اس متوقع دورے سے ایسامعلوم ہوتاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں نام نہاد صدرراج کو ختم کرکے بھارت کی طرف سے نہایت عجلت میںنام نہادکشمیراسمبلی انتخابات کرائے جارہے ہیںاوراس طرح ایک بارپھر انتخابی ڈرامہ سٹیج کیاجارہاہے۔ جموں و کشمیر میں مسلمانوں اورہندوئوں دونوں کی سوچ میں بالکل اسی طرح کا فرق ہے کہ جس طرح تقسیم برصغیر اور قیام پاکستان کے وقت واضح فرق تھا ۔ایسے میں جموں و کشمیرمیں ہرپانچ سال بعد انتخابی ڈرامہ سٹیج کیا جاتا ہے
مزید پڑھیے


بھارتی قبضہ سے قبل کا جموں و کشمیر

جمعه 18 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
بھارتی جبری قبضے سے قبل کا جموں شہر گمٹ کے دروازے سے پنج تیرتھی تک ڈھلوان پر آباد تھا جس میں اگر چہ ہندوئوں کی اکثریت غالب تھی لیکن مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی وہاں رہتی تھی۔ جموںشہر میں مسلمانوں کی چھوٹی بڑی 25مساجد تھیں۔ اس دور میں تعلیمی اور اقتصادی طور پر بھی مسلمانوں کی حالت جموی ہندئووں کے مقابلے میں کافی بہتر تھی ،اگر چہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہی روا رکھا جاتا تھا تاہم اپنی ذاتی کوششوں اور تگ و دو کے باعث اکثر جموی مسلمان خوش حال اور کھاتے پیتے تھے۔ لاہورکی
مزید پڑھیے




جبری تقسیم کی لکیرایک بارپھرشعلہ بار

پیر 14 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
ایک بارپھرکشمیرکوجبری تقسیم کرنے والی منحوس لکیرگولہ بار ی سے شعلہ بارہے ۔یہ المیہ ہے کہ گذشتہ تین عشروں کی مسلسل گن گرج سے دامن کشمیرتارتارہے ۔اس بندہ ناچیزنے تاریخ کے پشتارے کھولے، فلسفے کے دفاتر کھنگالے، سیاسی لغات اور شاہان ِ ہند وپاک کے دائر المعارف کے لفظ ٹٹولے مگر ریاست جموںوکشمیرکوجبری طورپرمنقسم کرنے والی لکیرپرہونے والی گولہ باری کامطلب سمجھ سکااورنہ کچھ سبق پلے پڑا۔ دیکھایہ گیاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیںبلٹ، پیلٹ، بندوق ، توڑ پھوڑ، بندشوں اوربھارت کی قابض اورسفاک فوج کے نہتے کشمیریوں کے من دانم کے جواب کے زیرو بم میں کچھ ٹھہرائوآجاتاہے توریاست جموںوکشمیرکوجبری طورپرمنقسم
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر:سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی معافی

جمعرات 10 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
جس طرح ہرقوم میں غدارپائے جاتے ہیں توکشمیرمیں بھی غداروں کاایک ٹولہ موجودہے جواپنی گردن میں ہمیشہ کے لئے بھارت کاطوق غلامی رکھناچاہتا ہے۔انہی غداروں میں سے ایک غدارمحبوبہ مفتی ہے۔ اقتدارکے مزے چھن جانے کے رنج سے نڈھال مقبوضہ کشمیرکی سابق خاتون کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 7دسمبر سوموارکو اپنے والد کی تیسری برسی کے موقع پر بہانہ تراشتے ہوئے رو روکر ماتمی اجلاس بلایا، محفل جمائی، اپنے والدکا نوحہ پڑھا اور کشمیرکی صورتحال پرخوب ٹسوے بہائے، خوب سینہ سینہ کوبی کی، ماتھا پیٹا، اوروالدکی لوحِ مزار پکڑ کراپنے دل کے چھالے دکھائے۔ابھی یہ ڈرامہ جاری ہی
مزید پڑھیے


5جنوری : کشمیریوں کایوم حق خودارادیت

پیر 07 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
اکیسویں صدی کوبعض لوگ انصاف کی صدی قراردے کربڑی امیدیں باندھ چکے تھے ۔ اس صدی کاسترواں برس بھی داخل ہوچکاہے مگرظلمات کے سائے بدستورگہرارنگ جمائے بیٹھے ہیں۔کون ساانصاف، کہاں کاانصاف ،کون کرے انصاف۔کیاامریکہ انصاف کرے گاکہ جس نے کرہ ارض پر اکیسویں صدی کے آغاز پرہی اتناظلم ڈھایاکہ چنگیزاورہلاکوبھی شرمسارہیں۔کیاعالمی فورم اقوام متحدہ انصاف کرے گاکہ جومظلومین عالم کے لئے ناتواںمگرظالموں کے شانہ بشانہ کھڑاہوکران کے کارہائے ظلم پرتالیاں بجارہاہے۔ کشمیرکی رداخون سے تربترہوئی لیکن یہ فورم خاموش تماشائی بنارہا۔حالانکہ اسی عالمی فورم نے انکاپیدائشی حق’’ حق خود ارادیت‘‘ دلانے کاوعدہ کیاتھا۔ ایک طویل وقت سے کشمیری اپنے
مزید پڑھیے


2018ء بھی کشمیرکے لئے خونریزہی ثابت ہوا

جمعه 04 جنوری 2019ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیم جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی نے سری نگرمیںاپنی سالانہ رپورٹ کو شائع کیا۔ اپنی رپورٹ میں کولیشن نے سال2018ء کو گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونی سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی کھلی سفاکیت سے 160عام شہری،267مجاہدین شہیدجبکہ اس دوران قابض بھارتی فوج کے 159اہلکار واصل جہنم ہوگئے۔سری نگرمیںجموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی نے 31دسمبر2018ء کواپنی سالانہ رپورٹ شائع کردی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال رفتہ میں فورسز اور پولیس کے ساتھ خونین معرکہ
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی خون آشامیاں

پیر 31 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیر میں امسال قابض بھارتی فوج کے ظلم وستم اوراسکی کھلی سفاکیت کے نتیجے میں اعدادوشمارکے مطابق نومبر2018ئتک زائد از347 کشمیری نوجوان شہیدہوئے ہیں اس طرح سال2017ء کے برعکس2018ء میں کشمیریوں کی شہادتوںمیں اضافہ ہوا۔اس دوران مختلف معرکوں کے دوران کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں 81 بھارتی فوجی بھی واصل جہنم ہوئے جبکہ اس دوران 56باراہل کشمیرنے بھارتی بربریت کے خلاف فقیدالمثال ہڑتالیں کیں ان ہڑتالوں کامقصدبین الاقوامی رائے عامہ کی توجہ کشمیریوں کی مظلومیت کی طرف کراناتھا۔جو کشمیری نوجوان رواں سال جنوری سے نومبرتک شہیدہوئے اسکی کچھ تفصیل یوں ہے۔ 9جنوری کو لارنو کوکر ناگ ضلع اسلام آباد میں خالد
مزید پڑھیے