BN

عبدالرفع رسول



کشمیرمیں معمولات زندگی معطل


آج پورے78دن ہوئے کہ کشمیرمیںمعمولات زندگی پوری طرح منجمدہیں۔کشمیریوں کی آزادانہ نقل وحمل بند،سکول بند،کالجزبند،یونیورسٹیزبند،ووکیشنل تعلیمی ادارے بند،بازاربند،کاروباری اورتجارتی اداے بند،پبلک ٹرانسپورٹ بند،الغرض سب کچھ بندپڑاہے ۔ یہ ایک اذیت ناک حقیقت ہے کہ اخلاقی اور جمہوری آزادی کے یہ نام نہادعلمبردارصرف مکاری اورفنکاری سے کام چلارہے ہیں انسیانیت کے تئیں ان میں ہمدردی کاعنصرکافورہے بلکہ یہ سب ایک سے بڑھ کرایک درندے بنے ہوئے ہیں۔جبری طورپرغلام بنائی گئی قوموں کی لاچارزندگی کی تفہیم اور اس کے رموز و اسرار کی تعبیر کے باب میں یہ سب اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھے بیٹھے ہیں۔ان کی اپنی نظر تجارت ،کاروبار، مفادات پرجمی
پیر 21 اکتوبر 2019ء

اقوام متحدہ میں کشمیرکی آزادی کی پکار

پیر 30  ستمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
وزیراعظم عمران خان کے فی البدیہہ خطاب سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی وہ اسلام اور کشمیر پرایسابولے کہ ہرایک دنگ رہ گیا۔ عمران خان نے جب اپنے خطاب میں کہاکہ ا نتہا پسند اسلام یا معتدل اسلام جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور اسلام صرف ایک ہے جو ہمارے نبی محمدرسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تویواین سے لیکربھارت تک لاالہ الا اللہ کی اس للکارسے کھلبلی مچ گئی۔انہوں نے مسئلہ کشمیرکوانتہائی موثراوراحسن اندازمیں دنیاکے سامنے پیش کیا۔ پورے دلائل کے ساتھ اقوامِ عالم کے ضمیر کوجھنجھوڑا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنم لیتے غیر معمولی
مزید پڑھیے


کشمیر۔۔۔۔۔لاک ڈائون کے پچاس یوم

پیر 23  ستمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
جب ہم کشمیرکی روح فرسا صورتحال قرطاس پربکھیرتے ہیں تو بڑی دیانت داری سے یہ بات کہنے کے بغیرکوئی چارہ کارنہیں بچتاکہ کشمیرسے متعلق عالمی طاقتوں’’سازشی ٹولے‘‘ کی کورچشمی اورانکے فہم ناقص اورزعم باطل سے کشمیری رنج کاشکاربنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کبھی دوٹوک، شفاف ،واضح،غیر مبہم ،ذوق اور ضمیر سے کشمیرسے متعلق بھارت سے مکالمہ نہیں کیا۔کشمیریوں کے اِتنے زخم اور دکھ اٹھانے کے بعدبھی سازشی ٹولے کاطرزعمل نہیں بدلا۔ بھارت سے ان کاوالہانہ محبت اور لگا ئوایسا قائم ہے کہ دیکھ کرجگرپرآراچل جاتاہے اور آنکھوں سے خون رواںہوجاتاہے۔ اخلاقی اور جمہوری آزادی کے علمبردار یہ نام نہادعلمبردارصرف
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیرمیں خبررسانی کاواحدذریعہ ریڈیوہے

پیر 16  ستمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
غلامی کی ظلمات، اسکی قعرمذلت سے نجات حاصل کرنے اوربھارت سے آزادی کی منزل پانے کے عہد پروعدہ بندملت اسلامیہ کشمیرکامحاصرہ جاری ہے اور5اگست 2019ء سے تادم تحریر مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈائون کے4ہفتے بیت چکے ہیں اوردہشت ناک مناظراورہنگامہ داروگیرجاری ہے ۔ہندورام راج نے مقبوضہ کشمیرمیں تمام مواصلاتی رابطے منقطع کردیے ،ہرگلی کوچے حتیٰ کہ ہرگھرکے دروازے پرقابض اورسفاک بھارتی فوجی درندے کھڑے ہیں۔صورتحال اس قدرخوفناک بنی رہی کہ ایک محلے سے دوسرے محلے ،ایک بستی سے دوسری بستی دورکی بات کیا ہمسایہ کوہمسائے کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہے ،تاہم اس دوران حالات سے آگاہی
مزید پڑھیے


کشمیرمیں کم عمربچوں پر مظالم

پیر 09  ستمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
بھارت چاہتاہے کہ ا سلامیان کشمیرکوصفحہ ہستی سے مٹادے ۔یہی وجہ ہے کہ قابض بھارتی فوج اپنے جبری کنٹرول کوقائم رکھنے کے لئے کشمیرمیں بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کررہی ہے اوراس آپریشن میںکم عمربچوں کوبھی نہیں بخشاجاتا۔کالے قوانین کے تحت بڑے پیمانے پربچوں،بزرگوں جوانوں کوگرفتارکیا جارہا ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت سرچڑھ کربول رہی ہے کہ کشمیری مسلمانوں میں بھارت کے سامنے کوئی بانکپن نہیں اورکشمیربھارت کے لئے قہروغضب کاآتش فشاں بناہواہے۔بھارت سے آزادی اورپاکستان سے الحاق کے حوالے سے ملت اسلامیہ کے ہرمتنفس کے جذبات اوراحساسات کے مدوجزریکساں ہیں۔مقبوضہ کشمیرکابچہ بچہ بھارت سے نجات ’’آزادی‘‘ مانگتاہے اورانکی جبیں
مزید پڑھیے




خاک ارجمند

پیر 02  ستمبر 2019ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیر کے تئیں ارون دتی رائے کے ذاتی مشاہدات بتاتے ہیں کہ بڑے پیمانے پرفوج کشی کے باوجود کشمیرمیں کیسے کرفیوکی بندشوں،قدغنوں اور بندوقوں اورتیغوں کے سائے میں کشمیریوں کامورال بلندیوں کو چھو رہا ہے۔یہ ا سلامیان کشمیرکے اسی بلندمورال کی کرشمہ سازی ہے کہ بھارت سے کامل آزادی اورپاکستان سے الحاق یعنی ’’کشمیربنے گاپاکستان‘‘ کشمیرکے مردوزن کا بیانیہ بن چکا ہے۔(MSD)یعنی مودی ،امیت شاہ ،اجیت ڈول ڈاکٹرائن کے تحت بھارتی آرمی چیف جتنی مرضی مقبوضہ کشمیر میں فوج جھونک دے لیکن اب ان کے لئے کشمیر رستا ہوا ناسور بن چکا ہے۔ ہرموسم خزاں میں مقبوضہ کشمیرکے
مزید پڑھیے


لاک ڈائون اورکرفیوبدستورنافذ، ڈھیل جھوٹ ہے

جمعه 23  اگست 2019ء
عبدالرفع رسول
مقبوضہ کشمیر میں سسکتی زندگی دم توڑنے لگی ہے۔ مسلسل کرفیو سے گھروں میں خوراک کی بھی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں کشمیریوں کے جذبات ڈر اور خوف کے بجائے غصے میں تبدیل ہو رہے ہیں اور اس میں صرف اضافہ ہو رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی بدترین صورتحال دنیا سے چھپانے کے لیے بھارت کی ناکام کوششیں جاری ہیں۔ سری نگر میں مظاہرین اور قابض فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد وادی اور دیگر علاقوں میں جنگ جیسی صورتحال ہے۔مقبوضہ کشمیر میں5اگست سے جولاک ڈائون شروع ہواتھاآج انیسویں دن میں داخل ہوچکاہے ۔شدیدترین کرفیو
مزید پڑھیے


اے اقوام متحدہ محصورین کشمیرکے احوال کی ذرا خبرلیجئے

جمعه 09  اگست 2019ء
عبدالرفع رسول
سوموار5اگست کوبھارتی آئین میںمقبوضہ کشمیرکی امتیازی حیثیت اور خصوصی درجے کے خاتمے کے اعلان کے بعدمقبوضہ وادی کشمیراورجموں کے پیرپنچال اورچناب کے مسلم اکثریتی علاقے تادم تحریر مسلسل چاردنوں سے ایک دوسرے اور باقی پوری دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔اتوار4اگست کی شب مقبوضہ کشمیر میں ٹیلیفون، موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند ہوئے تھے وہ تاحال بند ہیں اور پوری وادی اورجموں کے مسلم علاقے بھارت کی سفاک فوج کے زبردست حصاراورنرغے میں ہیں۔ کسی کو نہیں پتا کہ کیا چل رہا ہے۔ ہر جگہ خار دار تاریں لگی ہیں اور ہرطرف فوج ہی فوج موجود ہے۔
مزید پڑھیے


کشمیری مسلمان پاکستان کے عملی اقدام کے منتظر

بدھ 07  اگست 2019ء
عبدالرفع رسول
پاکستان کاپرچم لہرانے پربھارتی قابض اورسفاک فوج سے گولی کھانے والے اورسبزہلالی پرچم کواپناکفن بنانے والے کشمیری مسلمانوں ’’کشمیری پاکستانیوں‘‘ کی عملی مدد کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے قبل نہیں تھی۔آج کشمیری مسلمانوںکی عظیم قربانیوں کادفاع کرنے اوران کاخون رائیگاں نہ ہونے اوراس کی سودابازی نہ کرنے کاوقت آن پہنچاہے ۔آج افواج پاکستان کے ترجمان جنرل آصف غفورکے اس وعدے پرعمل کرنے کاوقت آچکاہے کہ جس میں انہوں نے صاف صاف کہہ دیاکہ کشمیرہمارے خون میں دوڑ رہاہے ۔گرآج پاکستان نے کشمیری مسلمانوں کوبھارتی رحم وکرم پرچھوڑ دیاتوکشمیریوں کے ساتھ بدترین غداری ہوگی۔ 5اگست سوموارکوبھارت کے وزیرداخلہ امت شاہ
مزید پڑھیے


سری نگرمیں افراتفری

پیر 05  اگست 2019ء
عبدالرفع رسول
1990ء کے بعدیہ دوسراموقع ہے کہ جب مقبوضہ کشمیرسے لوگوںکاانخلاء عمل میں لایاجارہاہے۔ 1990ء میں گورنر جگموہن نے یہ کہتے ہوئے کہ کشمیری مسلمانوں کے خلاف خونین فوجی آپریشن شروع ہونے والے ہیںتواس دوران کشمیری ہندئووںکوکوئی گزندنہ پہنچ پائے، کشمیری ہندئووں کو وادی کشمیرسے نکال کرجموں اوردہلی منتقل کر دیاگیاتھااورکشمیری ہندئووں کے انخلا ء کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں بڑے بڑے فوجی آپریشن ہوئے جن میں ہزاروں کشمیری مسلمان شہیدکردیئے گئے جبکہ آج 2019ء کے انخلاء کے وقت بھی مقبوضہ کشمیرمیںگورنرراج نافذہے فرق صرف یہ ہے کہ آج غیرریاستی سیاحوں اورہندویاتریوں کاانخلاء عمل میں لایاگیااورحفظ ماتقدم کے پیش نظریہی لگ رہاہے
مزید پڑھیے