عبدالرفع رسول



مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی خون آشامیاں


مقبوضہ کشمیر میں امسال قابض بھارتی فوج کے ظلم وستم اوراسکی کھلی سفاکیت کے نتیجے میں اعدادوشمارکے مطابق نومبر2018ئتک زائد از347 کشمیری نوجوان شہیدہوئے ہیں اس طرح سال2017ء کے برعکس2018ء میں کشمیریوں کی شہادتوںمیں اضافہ ہوا۔اس دوران مختلف معرکوں کے دوران کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں 81 بھارتی فوجی بھی واصل جہنم ہوئے جبکہ اس دوران 56باراہل کشمیرنے بھارتی بربریت کے خلاف فقیدالمثال ہڑتالیں کیں ان ہڑتالوں کامقصدبین الاقوامی رائے عامہ کی توجہ کشمیریوں کی مظلومیت کی طرف کراناتھا۔جو کشمیری نوجوان رواں سال جنوری سے نومبرتک شہیدہوئے اسکی کچھ تفصیل یوں ہے۔ 9جنوری کو لارنو کوکر ناگ ضلع اسلام آباد میں خالد
پیر 31 دسمبر 2018ء

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء پربھارت کا واویلا

جمعرات 27 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء پربھارت کی چیخیں نکل رہی ہیں جس کی تازہ مثال مقبوضہ کشمیرکی پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے راجندرا کمارکی ہے۔ راجندراکمارکا افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا ء پر کہناہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء سے ریاست جموں وکشمیر کے حالات پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کے علاوہ اس سے کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند ہوں گے۔ان کاکہناتھا کہ وادی میں سرگرم مسلح نوجوانوں کو مائل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن بھارتی فورسزکے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی میکانزم موجود نہیں ہے۔ کے راجندرا
مزید پڑھیے


ہندوبنیئے کا کشمیریوں کی ثقافت پروار

پیر 24 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
بھارت کشمیری مسلمانوں سے ہروہ چیز چھیننے کی کوشش کررہاہے جوبھارتیوں کے رنگ وبوسے یکسرمختلف ہواورجس سے ان کی مسلمانیت جھلکتی ہو۔کشمیریوں کالباس بھارتی شہریوں سے کوئی میل نہیں کھاتابلکہ ان کاعام لباس قمیص وشلوارہے جسے کشمیری ’’خان ڈریس ‘‘کے نام سے پکارتے ہیں اورجوپاکستانی شہریوں کے لباس سے مکمل طورپرہم آہنگ ہے ۔قمیص وشلوارکے اوپراہل کشمیر جھاڑے اورسردیوں کے موسم میں ایک اورلباس پہنتے ہیں جسے کشمیری زبان میں ’’پھیرن ‘‘کہتے ہیں جوگلے سے لیکرقدموں سے سردی سے انہیں بچاتا ہے۔ کشمیریوں کاپھیرن عربیوں کے ’’ثوب ‘‘کے مماثل ہے اورشرعی سترکے لئے کافی موافی ہوتا ہے۔ کشمیریوں کے
مزید پڑھیے


بھارتی آرمی چیف کی سفاکانہ دھمکی

بدھ 19 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
کھارپورہ سرنوگائوں کے اس سانحہ عظیم کے بعدبھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویومیں کہاکہ ہم پتھراوربندوق کوایک ہی چیزسمجھتے ہیں اور ہم نے فوج کوہدایات دیں کہ جوان پرپتھرمارے اسے وہ گولی ماردیں۔بھارتی آرمی چیف کے اس جارحانہ بیان اورکھارپورہ سرنومیں پیش آئے سانحے اور اس ننگی بربریت پر سپریم کورٹ آف انڈیاکے سابق چیف جسٹس اورمعروف قانون دان ودانشورریٹائرڈجسٹس مارکانڈے کاٹجونے اس سانحے کو جلیانوالا باغ قتل عام سے تعبیرکرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کاموازنہ بدنام زمانہ انگریز’’جنرل ڈائر‘‘اورویتنام میں خون کی ہولی کھیلنے والے ’’لیفٹیننٹ کیلی‘‘سے کیا۔ سپریم کورٹ کے
مزید پڑھیے


کشمیریوں پرقیامت صغریٰ

پیر 17 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
اندھا دھند بلٹ اور پیلٹ کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو بے دردی سے شہیدکرنے کی کارروائیوںسے کشمیریوں کو اس عظیم نصب العین سے دورنہیں کیاجاسکتا جس بلند نصب العین کے حصول کیلئے وہ پون صدی سے بالعموم اورگزشتہ تین دہائیوں سے بالخصوص جان و مال اورہرطرح کی قربانیاں دے رہے ہیںاوران عظیم قربانیوں کو کسی بھی قیمت پر نہ تو فراموش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان قربانیوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ قربانیاں ملت اسلامیہ کشمیرکی تحریک آزادی کیلئے انمول اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔قابض بھارتی فوجی درندے
مزید پڑھیے




یوم حقوق انسانی اورکشمیر

منگل 11 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
اگر اقوام متحدہ کاعالمی فورم انسانی حقوق کی پامالیوں کا سچ مچ میں خاتمہ چاہتا ہوتاتو وہ فلسطین اور کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل کرکے دکھاتا ۔اقوام متحدہ کے نام سے موسوم سب سے بڑایہ عالمی فورم پوری چھان پٹھک کے ساتھ تسلیم کرچکا ہے کہ بھارتی قابض افواج کی طرف مسلسل مقبوضہ کشمیرمیں بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں، اقوام متحدہ اس امرکوگزشتہ 30برسوں سے لگاتاردیکھ رہاہے کہ کس طرح وحشیانہ طریقے سے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں پر فائرنگ کر کے خون بہایا جا تا ہے، کس بہیمانہ انداز سے حراستی قتل ، جبری
مزید پڑھیے


بابری مسجدکی شہات کازخم بدستورہراہے

جمعرات 06 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
6 دسمبر1992ء کے روزبھارت کے سنگھ پریوارٹولے ’’بی جے پی اوراسکی تمام ذیلی تنظیموں شیوسینا، وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل‘‘کے غنڈوںنے گانگریس کی حکومت سے سازبازکرتے ہوئے مسلمانوںکے ساتھ شرمناک کھلواڑ کھیلا تھاگرچہ اس سانحے کی منصوبہ بندی اورپھریہ سانحہ انجام دینے والے کئی کرداریعنی اس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا رائو، اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ شنکر رائو چوہان او ربابری مسجد کو شہید کرنے کے لیے اپنی سینا بھیجنے وا لے بال ٹھاکرے تو واصل جہنم ہوچکے ہیں ۔ مگر کئی کردار آج بھی دندناتے پھررہے ہیںجن میں سے تین کردار لال کرشن اڈوانی، مرلی
مزید پڑھیے


کشمیریوں کوزیرکرنے کیلئے ڈرون حملوں کی دھمکی

پیر 03 دسمبر 2018ء
عبدالرفع رسول
بھارت کے فوجی چیف جنرل بپن راوت نے جبیں ہمت کشمیریوں کوجھکانے کے لئے ڈرون حملوں کی دھمکی دی ہے ۔ اس دھمکی کوملت اسلامیہ کشمیراپنے خلاف کھلی اور ننگی جارحیت کا اعلان سمجھتے ہوئے کہتے ہیںکہ بھارتی فوجی چیف نے جان بوجھ کرایک خاص منصوبے کوعملائے جانے کے لئے کشمیرمیں ڈرون حملوں کی دھمکی دی اوروہ ناپاک منصوبہ یہ ہے کہ ڈرون حملوں کی مدد سے پوری آبادی کو نیست نابود کرکے ارض کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ ڈرون حملوں کی دھمکی سے یہ امرمترشح ہوجاتاہے کہ کشمیری مسلمانوں کاقتل عام کرنے سے ابھی تک بھارت کا
مزید پڑھیے


کرتار پور کاریڈور کاسنگ بنیاد۔ ایک تاریخ ساز اقدام

جمعرات 29 نومبر 2018ء
عبدالرفع رسول
سیالکوٹ کی تحصیل شکرگڑھ کے ایک چھوٹے سے گائوں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب ہرے بھرے کھیتوں کے بیچوں بیچ واقع سکھوں کا کرتارپور گرودوارہ دربارصاحب پاکستان اور بھارت کے درمیان آج کل خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔دویوم قبل بھارت کے نائب صدر نے نیم دلی کے ساتھ سکھوں کے اس گرودوارے تک سکھ یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کاریڈور تعمیر کرنے کاسنگ بنیادرکھاجبکہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے نہایت ہی کشادہ قلبی کے ساتھ پاکستانی علاقے میںاس کاریڈورکی تعمیر کی بنیاد رکھی جس کے تحت کرتار پور میں بارڈر ٹرمینل کی
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم و ستم کی انتہا

منگل 27 نومبر 2018ء
عبدالرفع رسول
قابض بھارتی فورسز کشمیری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں اور اس مقصد کیلئے نوجوانوں کو چن چن کر ابدی نیند سلانے کا عمل جاری ہے۔ اس صورتحال نے کشمیر کے حالات کو دھماکہ خیز اورخوفناک بنایا ہے اور لوگوں کے غم و غصے میں اضافہ ہورہا ہے جن کی آواز کہیں پر بھی سنی نہیں جارہی ہے۔ کشمیریوں کا قتل عام فورسز کا مشغلہ بن چکا ہے بلکہ بھارت کی کشمیر پالیسی کا جزو بن چکا ہے اور دلی کو کشمیریوں کی نسل کشی کے سوا اس سیاسی مسئلہ کا اور کوئی حل نظر نہیں
مزید پڑھیے