BN

عبداللہ طارق سہیل

یوں مہر لگی


25 جولائی کے عام الیکشن میں کیا ہوا تھا، سب کو پتہ ہے، گزشتہ روز کے ضمنی الیکشن نے اسی پر مہر لگائی ہے۔ سب سے خاص حلقے دو تھے اور دونوں لاہور کے تھے اگرچہ دونوں کی وجوہات الگ الگ تھیں۔ شاہد خاقان عباسی کی جیت اس لیے اہم تھی کہ نوازشریف کی تاحیات در تاحیات نااہلی کے بعد وہ مسلم لیگ کا نیا اقتداری چہرہ بن کر آئے تھے۔ انہیں دارالحکومت کی نشست سے موسمیاتی لہروں کے ذریعے ہروا دیا گیا تھا اور تحریک انصاف ان کی اسمبلی میں آمد سے خوفزدہ تھی، اب یہ خوف بڑی
منگل 16 اکتوبر 2018ء

دس ارب کدھر گئے؟

پیر 15 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
دو روز پہلے سمندر پارپاکستانیوں کا ایک وفد وزیراعظم سے ملا۔ وزیراعظم نے اس کی اطلاع ٹویٹر پر دی جس میں انہوں نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو مراعات اور سہولتیں دی جائیں گی۔ اپنے ٹویٹ میں انہوں نے آغاز یوں کیا: سمندر پار پاکستانیوں کے ایک گروہ نے ملاقات کی…الخ۔ اس پر بعض ناقد حضرات حرکت میں آئے اور گروہ کے لفظ پر گرفت کی۔ گروہ منفی لفظ نہیں ہے لیکن اسے بالعموم منفی ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کا مطالعہ اردو جیسا ہے، اس کے اعتبار سے انہوں نے گروہ کا لفظ بھی مناسب سمجھا یا وفدکا
مزید پڑھیے


سعودی عرب کو امریکی طعنہ

جمعه 12 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
چند دن پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو طعنہ دیا کہ وہ امریکی چھتری کے بنا دو ہفتے بھی نہیں چل سکتا۔ اس طعنے کے پیچھے امریکہ کے بعض مطالبات تھے جن کا تعلق تیل کی پیداوار یا قیمتوں سے تھا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ سعودی عرب نے طعنے کا مناسب جواب دیا اور کہا کہ جب امریکہ نہیں تھا‘ سعودی عرب تب بھی تھا(سعودی عرب کے نام سے جو مملکت ہے وہ تو صدی بھر کی بات ہے لیکن نجدوحجاز طویل مدت تک نامعلوم ہی ملک رہے ہیں اور اسی کا نام سعودی عرب ہے۔ (بشمول
مزید پڑھیے


خوشے انگور کے اور بھی ہیں!

جمعرات 11 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
ایک وفاقی وزیر نے نوید دی ہے کہ ڈالر 140 روپے کا ہو جائے گا۔ 140 نہیں، 150 روپے اور یہ خبر کئی مہینے پہلے آ چکی تھی کہ پیکیج ڈیل میں جس کے تحت ’’تبدیلی‘‘ کو حکومت میں لایا جائے گا، ڈالر ڈیڑھ سو روپے کرنے کی شق بھی شامل ہے اور سنا تو یہ ہے کہ اس پیکیج ڈیل میں وہ ساری برکات شامل ہیں جن کا نزول ’’باران رحمت‘‘ کی طرح ہوئے جا رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کو لوگ تاریخی کہہ رہے ہیں حالانکہ ’’تاریخ ساز‘‘ کہنا چاہیے۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو سال پہلے
مزید پڑھیے


حل کرنے کا اصل مسئلہ

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
ہر طرف معاشی بحران کا شور ہے لیکن سمجھنے کی ایک ضروری بات یہ ہے کہ یہ بحران غیر اہم ہے‘ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ معاشی امور کے ماہر اور تجزیہ نگار کئی دن سے اودھم مچائے ہوئے ہیں کہ معیشت کا دیوالیہ پٹ گیا ہے‘ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے‘ حالات سنگین ہونے والے ہیں۔ بے روزگاری میں کئی گنا اضافے سے لوگ کاٹ کھانے کو دوڑیں گے۔(کیسے؟) شرح نمو اور گرے گی‘ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ روپے کی بے قدری میں اضافہ ہو گا۔ پیداواری عمل اتنا کم سطح پر
مزید پڑھیے


اب مزہ لیتے رہیے!

منگل 09 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
مزہ آتا ہے تو خوشی ملتی ہے اور خوشی ہوتی تو مزہ ملتا ہے۔ یعنی مزے میں خوشی اور خوشی میں مزہ، اور مزے کی بات یہ ہے کہ مزہ ایسی باتوں پر بھی آتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہیں اور عقل ان میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ الجھن میں مزہ آئے تو ہے نا مزے کی بات۔ آپ یقین نہیں کر رہے؟ حیرت ہے۔ آپ نے کبھی بازی گر کا تماشا نہیں دیکھا؟ وہ خالی ٹوپی سے تین تین خرگوش نکال کر دکھاتا ہے تو کیا آپ کو مزا نہیں آتا؟حالانکہ آپ کی عقل الجھ کر رہ
مزید پڑھیے


شہباز کی گرفتاری۔ کہانی در کہانی

پیر 08 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی گرفتار کر لیے گئے۔ مبصرین کا عمومی خیال یہی رہا ہے کہ وہ گرفتار نہیں ہوں گے لیکن یہ عمومی خیال غلط نکلا۔ کرامات کی بات یہ ہے کہ ان پر اس منصوبے میں حکومت کے خزانے کو کروڑوں یا اربوں کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے جو ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔ نہ تو حکومت اس کے لیے کوئی اراضی دی نہ فنڈ کے نام پر ایک روپیہ مختص ہوا‘ پھر بھی کرپشن ہو گئی۔ کرامات کی حد لگتی ہے۔ جس روز انہیں پکڑا گیا‘ اس سے ایک دن چھوڑ
مزید پڑھیے


مٹاتے ہو کس لیے

جمعه 05 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
مہنگائی کی میگا سپیڈ اور ترقیاتی کاموں پر ’’القط‘‘ لگانے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے‘ ان پر ایک چینل کے پروگرام میں سرسری سا تبصرہ ہو رہا تھا کہ اب پتھر کے دور میں جانے کی تیاری کریں۔حرف تسلی بھی تھا کہ آخر اس دور میں بھی تو لوگ خیر خیریت سے زندگی بسر کرتے تھے‘ اب کیوں نہیں ہو سکتا۔ لیکن کاش ایسا ہو سکتا۔ وہ دور آج کے دور سے اچھا تھا لیکن واپس نہیں آ سکتا۔ وہ کیا‘ جو دور بیتے ابھی محض چند عشرے ہوئے ہیں‘ اسے بھی واپس نہیں لایا جا سکتا۔ یہ تو ابھی
مزید پڑھیے


تبدیلی ڈاکٹرائن کے خدوخال

جمعرات 04 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
پچھلے دنوں حکومت نے شرح سود بڑھا دی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ماہر اقتصادیات اور سٹیٹ بنک کے سابق عہدیدار ظفر شیخ کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی معیشت پر سکتہ طاری ہو گا اور یہ فیصلہ معیشت کے لیے زہر قاتل ہو گا۔ حضور زہر قاتل ہی تو ہمیں درکار ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ زہر بھی کرتا ہے کارتریاقی، تو ہم اسی تریاق کی جستجو میں ہیں۔ برسبیل تذکرہ‘ تبدیلی میں سود ختم ہوتا ہے نہ گھٹتا ہے، بلکہ بڑھتا ہے۔ ایک فائدہ تو اس کا یہ ہو گا بلکہ فائدے کی شروعات بھی ہو
مزید پڑھیے


جہاتِ شعور حیوانی

بدھ 03 اکتوبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
اگلے دن بھی وہ قبر پر موجود تھا۔ لوگوں نے اسے ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ اٹھا۔ تھک ہار کر گائوں والوں نے فیصلہ کیا کہ اسے قبر پر ہی کھانے پینے کا سامان دیا جایا کرے۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ وہ ہر رات بارہ بجے سے کچھ منٹ پہلے قبر سے اٹھتا اور زمیندار کے گھر میں داخل ہو جاتا۔ ٹھیک بارہ بجے وہ اس مقام پر ہوتا جہاں اس کا مالک اور زمیندار چائے پیا کرتے۔ کچھ دیر بعد وہ وہاں سے اٹھتا اور واپس قبر پر پہنچ جاتا۔ کتنی ہی سردیاں اور
مزید پڑھیے