BN

عبداللہ طارق سہیل


بندہ نواز حکومت


ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا ہے‘جو اچھا شگون نہیں ہے‘مطلب حکومت کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔اس لئے کہ پھر جو ہونے کا خطرہ ہے‘اس میں اپوزیشن کے ہاتھ سے تو کچھ جائے گا نہیں۔ اس لئے کہ اس کے ہاتھ میں کچھ ہے ہی نہیں…باقی فقرہ آپ خود مکمل کر لیں بلکہ شاید مکمل کر ہی چکے ہوں، اس لئے مزید لکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن یہ الفاظ دہرانے میں بھی کوئی خرابی نہیں ہے کہ شگون اچھا نہیں ہے۔ عوام اس میں کو کچھ اور
منگل 14  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

فیک نیوز

پیر 13  ستمبر 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
ان دنوں ’’فیک نیوز‘‘ کے خلاف حکومتی اقدامات کا غل ہے۔ سچے اور امانت دار لوگوں کی حکومت ہے، فیک نیوز کے خلاف یہ جہاد نہیں کرے گی تو کون کرے گا۔ایک بل حکومت نے اپنی زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا ہے جس کے تحت فیک نیوز چلانے والے کو دس کروڑ روپے جرمانہ‘قید اور جائیداد ضبطی کی سزا ملے گی۔یعنی فیک نیوز کو جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ رہا یہ سوال کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون سی نیوز فیک ہے‘کون سی نہیں تو اس کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے۔جس خبر کو حکومت
مزید پڑھیے


روڈ ٹو چائنا

منگل 07  ستمبر 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
لیجئے حضرات‘بھادوں کے دو مہینے ختم ہوئے اور اب ساون شروع ہے۔ماہرین موسمیات کا بتانا ہے کہ ساون ابھی چند دن اور رہے گا۔کیا؟۔نہیں آپ نے ٹھیک ہی پڑھا۔اس بار ساون بعد میں آیا‘بھادوں پہلے جو یکم سے ساٹھ (60) تاریخ تک رہا۔میں اپنے علاقے‘وسطی پنجاب کی بات کر رہا ہوں۔بھادوں کے دونوں مہینے اوسطاً اس دن میں ایک بارش ہوتی رہی۔ باقی دنوں میں شکست خوردہ بادلوں کے ٹوٹے پھوٹے لشکر ادھر ادھر بھٹکتے رہے‘برسے کم ہی۔ادھر بھادوں کے ساٹھ دن پورے ہوئے‘ادھر ساون شروع ہوا اور ہر روز کے حساب سے برکھا ہونے لگی۔دو روز تو ایسے جھالے پڑے
مزید پڑھیے


روداد قفس‘اور عزیمت

پیر 06  ستمبر 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
سید علی گیلانی کی خودنوشت کا نام’’روداد قفس‘‘ ہے۔اگر کوئی اور ان کی سوانح عمری لکھتا تو نام ’’روداد عزیمت‘‘ رکھتا اور یہ دونوں ہی درست نام ہیں۔ان کی تمام عمر قفس میں گزری اور انہوں نے سارے سفر اور سہولت کو ایک طرف رکھ کر عزیمت کے خارزار راستے کا چنائو کیا۔بطور قائد بھی وہ عظیم تھے اور بطور فرد بھی اللہ کے ولی۔موت ان کے قریب ترین پہنچ گئی تھی لیکن انہوں نے عزیمت اور استقامت کا راستہ نہیں چھوڑا۔حالانکہ پوری گنجائش موجود تھی کہ وہ آخری چند دن سکون اور آرام سے گزار لیتے۔ جہاد کشمیر کا نام
مزید پڑھیے


سلیمانی ٹوپی کا مزید سفر

منگل 31  اگست 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
سلیمانی ٹوپی کا سفر ابھی جاری ہے۔نواز دور میں 5سال کے دوران 10ہزار‘اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور میں 8ہزار‘کل 18ہزار ارب روپے قرضے لئے گئے۔عمران خاں نے اپنی سینکڑوں تقریروں میں ان قرضوں کی مذمت کی‘انہیں لوٹ مار قرار دیا اور ایک قسم کا حلف اٹھایا کہ میں حکومت میں آ کر بھیک نہیں مانگوں گا‘مر جائوں گا لیکن غیر ملکی قرضے نہیں لوں گا۔انہوں نے بے شمار بار کہا کہ یہ قرضے خوردبرد ہوئے ہیں۔برسر اقتدار آ کر انہوں نے کمشن بنایا اور کہا کہ یہ کمشن پتہ چلائے کہ کہاںکہاں خورد برد ہوئی‘پھر لوٹ مار کا
مزید پڑھیے



سلیمانی ٹوپی کا سفر

پیر 30  اگست 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
خیال تھا کہ عمران حکومت کی تین سالہ کامرانیوں کا جشن کئی روز جاری رہے گا لیکن یہ پھول تو بس ایک میوزیکل شو کی بہار دکھانے کے بعد مرجھا گیا۔میوزیکل شو بہت اچھا تھا لیکن زیادہ تر ہائوس ہولڈرز نے شاید کسی فنی خرابی یا ضروری مصروفیات کی بنا پر ٹی وی سوچ آف کر دیے۔نہیں کرنے چاہئیں تھے۔جشن کا نام نکھرنا ابھرنا سنورنا پاکستان رکھا گیا، جس پر کسی حاسد نے گرہ یوں لگائی کہ اجڑتا سسکتا اور تڑپتا پاکستان۔گرہ بدذوقی کا مظاہرہ تھی‘اصل بات وہی تھی جو سرکاری اشتہاروں میں بیان کی گئی یعنی نکھرتا سنورتا پاکستان۔یقین
مزید پڑھیے


دکاں سب سے الگ‘سب سے نئی

منگل 24  اگست 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
دالیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔تین سال سے یہ مزید کا لفظ اتنی بار استعمال ہوا ہے کہ ماضی بعید کے سارے مزید مل کر بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ میڈیا کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ’’مزید‘‘ کے ساتھ نمبر بھی لگایا کرے۔ مثال کے طور پر اسی ہفتے بجلی کے نرخ مزید ڈیڑھ روپیہ مہنگے ہو گئے ہیں ،چنانچہ اس خبر کی سرخی یوں ہونا چاہیے کہ بجلی مزید نمبر 40مہنگی۔یعنی اس سے پہلے‘ان تین برسوں میں 39بار مہنگی ہوئی اب یہ چالیسواں مزید ہے۔خدا جانے اس مزید کا چالیسواں کب ہو گا۔ ہاں تو بات دال
مزید پڑھیے


تسلسل سے سچ بولتی ہے

پیر 23  اگست 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
ہماری طرف سے یہ بہت اچھی بات کہی جاتی رہی کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں نکل سکتا‘مذاکرات ہی سے مسئلہ حل کرنا ہو گا لیکن اسے شومئی قسمت کے لئے یا ہماری سچ بات کی ناقدردانی کہ طالبان نے مسئلے کا فوجی حل نکال لیا اور پورے افغانستان پر‘سوائے وادی پنج شیر کے قبضہ کر لیا۔ہم نے کہا تھا کہ طالبان کا ملٹری ٹیک اوور قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارا یہ انتباہ بھی نظرانداز کر دیا گیا اور طالبان نے وہی ٹیک اوور کر لیا جو ہمارے خیال میں انہیں نہیں کرنا تھا یا نہیں کرنا چاہیے
مزید پڑھیے


آئیے سب محب وطن بن جائیں

منگل 17  اگست 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت کی اس کاوش کو داد نہ دینا زیادتی کے زمرے میں آئے گا،جو اس نے حب الوطنی کو فروغ دینے کے لئے ایک طویل فہرست جاری کر کے کی ہے۔اس فہرست میں غیر محب وطن عناصر کے ٹویٹس کا ڈیٹا ہے۔بڑے جید قسم کے غیر محب وطن افراد کے نام اس میں شامل ہیں۔سیاستدان بھی‘صحافی بھی‘ایرے بھی غیرے بھی اور نتھو قسم کے خیرے بھی۔افسوس کی بات ہے کہ بعض عوامی حلقوں اور میڈیا کے کچھ حصوں میں اس کاوش کا مذاق اڑایا جا رہا تھا اور اس بات کو خصوصی طور سے تنقید کا ہدف بنایا جا رہا
مزید پڑھیے


ملک اوپر اٹھے چلا جارہا ہے

پیر 16  اگست 2021ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیراعظم نے بجا ارشاد فرمایا کہ شفاف الیکشن کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم ضروری ہے لیکن وہ جزوی اختلاف کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو عرض کریں کہ ان کا یہ کہنا درست نہیں کہ یہ واحد طریقہ ہے۔ شفاف الیکشن اس کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں اور ہم یہ 2018ء کے انتخابات میں اس کا ملک گیر تجربہ کامیابی سے کر چکے ہیں۔ ایسے شفاف انتخابات کہ دنیا بھر میں دھوم مچ گئی اور گاہے گاہے اب بھی مچتی رہتی ہے۔ بعدازاں آزادکشمیر اور مزید بعدازاں سیالکوٹ کی صوبائی انتخابات میں بھی شفافیت اس مشین کے بغیر کامیابی
مزید پڑھیے








اہم خبریں