BN

عبداللہ طارق سہیل



امانت کا گفٹ باکس


مولانا فضل الرحمن کا دھرنا گرجتے گونجتے سونامی کی طرح اسلام آباد داخل ہوا۔ دارا و سکندر کے لشکر کی طرح چودہ روز اپنی جگہ جما رہا اور پھر بادنسیم کے بے آواز جھونکے کی طرح پلٹ گیا ع کہ دھرنا بود رسیدہ ولے بخیر گزشت ایک طرف اتنا بڑا ہجوم حکومت کو پورے چودہ روز تک ڈراتا سہماتا رہا تو دوسری طرف باخبر ذرائع نے عوام کو دہلائے رکھا کہ خونیں تصادم اب ہوا کہ تب ہوا۔ ’’اندر‘‘ تک رسائی کا دعویٰ رکھنے والے یہ ’’ذرائع‘‘ ایمان کامل کے ساتھ یہ اطلاع دیتے رہے کہ مولانا ڈی
پیر 18 نومبر 2019ء

کرتار پور کا جشن

منگل 12 نومبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
9نومبر کو ہم نے یوم کرتار پور بھر پور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا۔ روح پرور بھنگڑوں نے ساری فضا روحانیت سے معمور کر دی ہے۔ وزیروں نے ست سری اکال کے نعرے لگا کر فضا نہال کر دی۔ بعض عناصر نے اس روز یوم اقبال منایا۔ کوئی بات نہیں۔ ع اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو حکومت نے سکھ برادری سے مواخات کے لئے فیصلہ کیا کہ کرتار پور آنے کے لئے پاسپورٹ از ضروری نہیں۔مزید مواخات کے لئے یہ فیصلہ بھی ہوا کہ سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی
مزید پڑھیے


ایران کی نئی پریشانی

منگل 05 نومبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ملکی سیاست کی طرح عالمی سٹیج پر بھی مخالفوں کو دیے گئے بعض ’’خطابات‘‘ ہٹ ہو جاتے ہیں چند عشرے پہلے ایران کے رہبر انقلاب خمینی صاحب نے امریکہ کو شیطان بزرگ کا خطاب دیا جو بہت مقبول ہوا۔ اگرچہ ہمارے ملک میں لوگ قدرے حیرت زدہ نظر آئے کہ امریکہ کو شیطان کہنا تو ٹھیک ‘ بزرگ کہنے کا کیا مطلب۔ آہستہ آہستہ پھر انہیں پتہ چلا گیا کہ بزرگ کے معنے ’’بڑا‘‘ ہونے کے ہیں یعنی بڑا شیطان۔ ایک دلچسپ خطاب اس ہفتے پھر ایران ہی کی طرف سے آیا ہے لیکن بجائے مقبول ہونے کے باعث اشتعال بن
مزید پڑھیے


جلتی کا نام گاڑی

پیر 04 نومبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
آزادی مارچ پہلے دن جلسہ تھا‘ دوسرے دن‘ تیسرے دن بھی وہیں جما رہا تو ازخود دھرنا ہو گیا۔ بنا کسی اعلان کے۔ دھرنا آنست کہ خود بگوید نہ کہ کتنے دن رہتا ہے‘ یہ پتہ نہیں دھرنے میں مولانا کی آواز الگ تھی‘ شہباز کی پرواز الگ۔ شہباز نے رہبر کمیٹی کے ایجنڈے کو ایک طرف رکھا اور صدا لگا دی‘ مجھے وزیر اعظم سلیکٹ کر لو‘ چھ ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کر دی تو میرا نام نیازی رکھ دینا۔ یعنی شہباز شریف نیازی۔ پھر نواز شریف کو بھی نام کے ساتھ وضاحتی بریکٹ لگانا پڑے گی۔ یعنی
مزید پڑھیے


آٹھ فیصد ہی سہی

جمعه 01 نومبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
گیلپ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 8فیصد پاکستانی کشمیر کو بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ حیرت انگیز۔ پورے آٹھ فیصد؟ ناقابل یقین سی بات لگتی ہے۔ برسرزمین حقائق سے تو لگتا تھا کہ کشمیر مسئلہ ہی نہیں۔ اگرچہ اخبارات میں آتا ہے اور ٹی وی پر چلتا ہے کہ پوری قوم کشمیریوں کے لئے سڑکوں پر نکل آئی لیکن گنتی کی جائے تو سر ہاتھوں میں لینا پڑ جاتا ہے۔ کسی شہر میں سوتوکسی میں پانچ سو اور پھر کسی میں درجن بھر یکجہتی دکھا رہے ہوتے ہیں۔ چند روز پہلے یوم سیاہ پر وزیر اعلیٰ پختونخواہ نے سات رکنی ملین
مزید پڑھیے




راکٹ اوپر جائیگا

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
دو اڑھائی ہفتے سے عراق اور لبنان طوفانی مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ لبنان میں تو وزیر اعظم سعد حریری کو استعفیٰ بھی دینا پڑا۔ دونوں ملکوں میں مظاہرے مہنگائی‘ ٹیکسوں میں اضافے اور کرپشن کے خلاف شروع ہوئے اور بعد میں رخ غیر ملکی سیاسی مداخلت کے خلاف ہو گیا۔ لبنان میں عوامی احتجاج اور غم و غصے کا نشانہ حزب اللہ بنی جس کا حریری کی حکومت پر غلبہ تھا۔ اس لئے حزب اللہ نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی اور خانہ جنگی کی دھمکی بھی دی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومت کے خلاف
مزید پڑھیے


لبرل اور طالبان راج

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مصر اسرار و آثار کی سرزمین ہے۔ دریائے نیل کے ساتھ ساتھ دونوں طرف، شمال سے جنوب تک، اسوان سے اسیوط تک، کرناک سے گیزّہ تک، اتنے آثار قدیمہ ہیں کہ ماسوائے ہندوستان کے، ساری دنیا میں کہیں نہیں ہوں گے۔ تمام آثار اسرار کے سائے ہیں۔ دارالحکومت قاہرہ مصر کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے اطراف بھی بے پناہ آثار ہیں۔ ساری دنیا سے سیاح آتے ہیں۔ مشہور ہے کہ کسی کو سیاحت کا موقع ملے اور چوائس صرف ایک ملک جانے کی ہو تو وہ مصر کا انتخاب کرے گا یا برصغیر کا (بشرطیکہ سیاحت کا
مزید پڑھیے


ان سب کو رائو انوار کے حوالے کر دیں

منگل 29 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مسلم لیگ کے غیر معتوب رہنما شہباز شریف نے پیش گوئی کی ہے یا ’’دعا‘‘ فرمائی ہے کہ ایک دن کشمیر ہماری جھولی میں ویسے ہی آگرے گا جیسے مشرقی جرمنی مغربی جرمنی سے آ ملا تھا‘ انہوں نے دیوار برلن گرا دی اور باہم مل گئے۔ میاں صاحب جذبات میں آ گئے کہ دیوار برلن بعد میں گری تھی۔سوویت یونین پہلے گرا تھا ۔ سوویت یونین نہ گرتا تو دیوار برلن آج بھی سدّ سکندری (غلط العام‘ درست سد ذوالقرنین) کی طرح کھڑی ملتی۔ آپ کے پاس بھارت کو گرانے کی کوئی حکمت عملی ہے۔ یقینا نہیں‘ ہوتی تو دعا
مزید پڑھیے


فیصلے میں ترمیم

پیر 28 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
شیخ رشید نے کہا ہے کہ آصف زرداری نواز شریف سے بھی زیادہ بیمار ہیں۔کون زیادہ بیمار ہے‘ پتہ چل ہی جائے گا لیکن شیخ صاحب نے یہ بیان زرداری کی ہمدردی سے زیادہ نواز شریف سے عدم ہمدردی میں دیا ہے۔ نواز شریف کی حالت تو فوری ہنگامی شدید خطرے کے درجے میں آ گئی ہے۔ زرداری صاحب بھی بیمار ہیں اور ان کے جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ سوال ہے کہ ان دونوں رہنمائوں کے پلیٹ لیٹس قیدی کے طور پر ہی کیوں کم ہوئے۔ اس مرحلے پر بلاول بھٹو زرداری
مزید پڑھیے


ایک اور وعدہ

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حالت بگڑ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بگڑ گئی ہے یا بگاڑی گئی ہے؟ معاملات اور واقعات سامنے ہیں۔ جیل میں برے حالات میں رکھا گیا۔ گھر کا کھانا بند کر دیا گیا اگرچہ مشیرہ اطلاعات قوم کو بتاتی رہیں کہ ان کے لئے گھر سے پائے‘ ہریسہ اور نہاری آتی ہے۔ مینوئل کے مطابق انہیں گھر سے کھانا منگوانے کا حق تھا لیکن یہ حق نہیں دیا گیا اور سرکاری کھانے پر اتنا اصرار کیا گیا کہ حیرت ہوئی۔ اب یہ حیرت دور ہو گئی ہے اور پتہ چل گیا ہے کہ
مزید پڑھیے