BN

عبداللہ طارق سہیل



ہم نے کیا لیکن ہم بے خبر تھے


وزیر خزانہ اسد عمر نے بی بی سی کو انٹرویو دے کر ایک طرح سے پردہ کشائی کر ڈالی۔ فرمایا ہم نے آئی ایم ایف کے ہدایت نامے کا انتظار نہیں کیا اور خود ہی تیل گیس بجلی کے نرخ بڑھا دیے‘ روپے کی قیمت گھٹا دی اور سود کی شرح میں اضافہ کر دیا۔ اس لئے کہ یہ اقدامات ضروری تھے۔ یعنی سب کچھ ’’ہم‘‘ نے کیا کہ بشمول روپے کی بے قدری کے۔ ہدایت نامے کا انتظار اس لئے نہیں کیا کہ جانتے تھے کہ کیا ہدایات آنی ہیں ع ’’ہم جانتے ہیں
جمعه 14 دسمبر 2018ء

کرپشن کے خلاف پانچویں جنگ

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
رات ایک چینل پر خاں صاحب کے آتش بار قصیدہ خواں کو یہ کہتے سنا کہ کرپشن بڑھ گئی ہے اور اس کے نرخ بھی بالا ہو گئے ہیں۔ یہ خبر نہیں۔’’اعترافی شکوہ‘‘ کے لئے خبر اس لئے نہیں کہ عوام کو پہلے ہی پتہ چل چکا ہے۔ دوران بحث خاں صاحب کے دیرینہ صاحب اسلوب قصیدہ نگار عالم ناراضگی میں یہ کہتے پائے گئے کہ انہیں ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر نے بتایا ہے کہ خاں صاحب کی پارٹی میں آدھے… ہیں اور آدھے کرپٹ۔خالی جگہ میں استعمال کیا گیا لفظ فاضل قصیدہ نویس نے بڑی سلاست سے استعمال
مزید پڑھیے


بی جے پی۔دوڑ پیچھے کی طرف…!

بدھ 12 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی خود کو مہاتما گاندھی اور اندرا گاندھی سے بھی بڑا لیڈر سمجھتے رہے ہیں‘ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں ان کی جماعت کے ساتھ جو کچھ ہوا‘ امید ہے وہ اپنے بارے میں اپنی رائے میں کچھ ترمیم کریں گے۔ ان کے اس خواب کو بھی شکست کا سامنا ہے جو آنے والے مہینوں میں وہ نیا قومی الیکشن جیت کر ہٹلر بننے کے بارے میں دیکھ رہے تھے۔ ان کے حامیوں کو یقین تھا کہ ہندو دیو مالا کے سبھی‘ دیوی دیوتائوں کا سایہ ان کے سر پر ہے۔ اب اس سائے میں
مزید پڑھیے


کراچی کو بھی رلا دیا

منگل 11 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
عمران خان گزشتہ روز حسب پروٹوکول خصوصی طیارے پر کراچی تشریف لے گئے۔ مختلف وفود سے ملے اور کراچی کی صورتحال پر ’’تجاویز‘‘ وصول فرمانے کے بعد حسب پروٹوکول اسی خصوصی طیارے سے واپس تشریف لے آئے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سادگی اور کفایت شعاری کا شاہکار ہے۔ ان کے دورے سے ایک روز پیشتر ایک اخبار میں تین کالمی خبر نظر سے گزری۔ سرخی تھی‘ کراچی رو رہا ہے۔ نیچے کافی لمبا چوڑا مواد تھا‘ کچھ اس قسم کے فقرے تھے کہ روشنیوں کا شہر ملبے کے ڈھیر میں بدلتا جا رہا ہے۔ چند گھنٹوں کے
مزید پڑھیے


کیسا جادو چلا

پیر 10 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
صاحب نے کہا ‘ سو دن دے دو اور اتنے دن مجھے کچھ نہ کہنا‘ کچھ بھی نہ پوچھنا‘ سو دن دے دیئے۔ سب نے لب سیئے رکھے۔ دن پورے ہوئے‘ سوال پوچھنے کو لب ہلے ہی تھے کہ صاحب کا تحمل جواب دے گیا۔ چھ مہینے کا ’’سٹے آرڈر ‘‘لے آئے‘ یعنی سو دن میں اٹھارہ سو دن کی توسیع کرا لی۔ اب صاحب کا منشا ہے کہ ان اٹھارہ سو دنوں میں ہر کوئی ہر طرف ہر ا ہی ہرا لکھے۔ ٹھیک ہے‘ ہرا ہی ہرا لکھنے میں مشکل بھی کیا ہے۔ اچھی اچھی خبریں آ رہی ہیں۔ پہلی
مزید پڑھیے




وقت کو مات دو تو ہم جانیں

جمعه 07 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت ون یونٹ لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے وقت میں نئے الیکشن ہوں گے یا قومی حکومت، میں نہیں جانتا۔ یعنی بے خبری ظاہر کی لیکن بے خبری کے پردے میں خبر دے گئے، یہ کہ شاہی مطبخ میں کوئی نیا کھچڑا کھد بد کر رہا ہے۔ دوسرے اصحاب اس خبر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ممکن ہے زرداری صاحب کی قوت شامہ ذکاوت حس کا شکار ہو گئی ہو، انہیں اس ڈش کی مہک آ رہی ہو جو کہیں بھی نہیں پک رہی۔ ہاں، ون یونٹ یعنی وحدانی نظام والی
مزید پڑھیے


چھومنتر

جمعرات 06 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیراعظم کے اجتماعی انٹرویوکے قہقہہ بار آفٹر شاکس دوسرے اور اب تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ وزیر خزانہ کا یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد کہ انہوں نے ڈالر کی قیمت بڑھانے کے فیصلے کی اطلاع انہیں دے دی تھی۔ ان کے آفٹر شاکس میں ایک ضمنی اضافہ ہو گیا ہے۔ جس انٹرویو میں وزیراعظم نے فرمایا تھا کہ مجھے ڈالر کی قیمت بڑھنے کی اطلاع ٹی وی سے ملی‘اس میں اینکر موجود تھے۔ بہرحال لوگ مخمصے میں ہیں کہ ڈالر کی اطلاع کے حوالے سے کس کے بیان پر اعتبار کیا جائے۔ وزیراعظم کے یا وزیر موصوف کے، تو
مزید پڑھیے


’’آخرِ شب کے ہم سفر عطارکے پرندے‘‘

بدھ 05 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
کراچی کا بیچ لگژری ہوٹل ان زمانوں میں لے جاتا ہے جب یہ ایک فراخ دل اور کھلے بازوئوں سے تمام مذاہب کو قبول کرتا تھا اور اس میں تو کچھ شک نہیں کہ یہ پارسی تھے جنہوں نے اس شہر کو اپنایا‘ اسے خوبصورت کیا اور مالا مال کیا۔ کسی زمانے میں وہاں ایرانی ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے۔ ایک قدیم قبرستان میں اب بھی کراچی کے باسی یہودیوں کی سینکڑوں قبریں زبوں حالی کا شکار ہیں اور ایک بلوچ خاندان پچھلی چھ نسلوں سے اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ بے شک بیچ لگژری ہوٹل کی شبوںمیں اس
مزید پڑھیے


قبل از وقت الیکشن ہو گئے تو…!

بدھ 05 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
خاں صاحب ہفتے میں ایک دو بار قوم سے خطاب کی تقریب سجا ہی لیتے ہیں۔ اچھی بات ہے‘ ورنہ ماضی میں تو یہی دیکھا کہ وزیر اعظم سال میں ایک بار یا سال میں دو بار یا دو سال میں ایک بار ہی قوم سے خطاب کیا کرتے تھے۔ خیر سے تبدیلی کم از کم اس معاملے میں تو خوب سر چڑھ کر آ گئی ہے۔ تین ماہی اقتدار میں کوئی تیس قومی خطاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے محب وطن صحافیوں اور اینکر پرسنز کو اجتماعی انٹرویو کی شکل میں قوم سے خطاب کی تقریب بہم
مزید پڑھیے


زرداری کی پیش گوئی اور دیگر پیش گوئیاں

منگل 04 دسمبر 2018ء
عبداللہ طارق سہیل
صاحب کے بیانات لوگوں کے لیے ’’چسکا‘‘ بن گئے ہیں۔ سنتے اور سردھنتے ہیں اور نوبت بایں جارسید کہ جس روز صاحب غزل سرا نہیں ہوتے، لوگوں کو لگتا ہے، آج ’’ناغہ‘‘ ہو گیا ہے۔ فضا میں شگفتگی جیسے ہوا ہو جاتی ہے۔ صرف غزل سرائی ہی نہیں، صاحب کی کرم فرمائی بھی معرکہ آرائی سے کم نہیں۔ دو روز پہلے خبر آئی، صاحب لاہور کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں اور بہت اہم فیصلے صادر فرمائیں گے۔ صاحب آئے اور اہم فیصلہ یہ سامنے آیا کہ گورنر ہائوس کی دیوار گرا کر اس کی جگہ جنگلا بنایا جائے۔
مزید پڑھیے