BN

عبداللہ طارق سہیل



ٹائیگر نہیں بطخ


وزیر اعظم نے نیا اور چشم کشا انکشاف یہ فرمایا ہے کہ پاکستان کا مقصد اسے ایشیئن ٹائیگر بنانا نہیں تھا بلکہ ریاست مدینہ کا قیام تھا۔ لازم ہے کہ وزیر اعظم کے فرمائے ہوئے ہر فرمودے کو مستند مانا جائے۔ اس کے برعکس ماننے، اختلاف کرنے یا تنقید کا اشارہ دینے کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس لیے انہیں یہ بھی یاد نہیں دلایا جا سکتا کہ وہ مسلسل کئی برسوں تک جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا کی ترقی اور پاکستان کی پسماندگی کے حوالے دیتے رہے ہیں اور مرحوم ایوب خان اور پرویز مشرف کی ان مساعی جمیلہ
منگل 20  اگست 2019ء

خالصتان نہیں راجستھان

پیر 19  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
بھارت کا یوم آزادی پاکستانیوں اور کشمیریوں کے علاوہ خالصتان کے حامیوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو کچھ کیا ہے‘ اس اعتبار سے تو بھارت کا ہر دن ہی یوم سیاہ ہونا چاہیے لیکن بہرحال علامتی طور پر ایک یوم سیاہ ہی کافی ہے۔ اس روز خالصتان کی حامی ایک تنظیم نے خالصتان کا نقشہ جاری کیا جسے دیکھ کر حیرت ناک قسم کا لطف آیا۔ یا تو یہ نقشہ جاری کرنے والی تنظیم فیک ہے اور اگر فیک ہے تو ضرور یہ نقشہ جاری کرنے کا آئیڈیا ان حضرات کو روایتی بارہ
مزید پڑھیے


وہ اینٹ چلا کر تو دیکھے…

جمعه 16  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے آزاد کشمیر میں خطاب فرمایا کہ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ سننے والے سوچ میں ہیں کہ بھارت نے تو کشمیر ضم کر کے اینٹوں کی پوری دیوار ہم پر پھینک ماری۔ اس کا جواب کہاں ہے؟ دراصل بات شاید ایک اینٹ کی ہے۔ بھارت نے ایک اینٹ ماری تو پتھر ماریں گے۔ اینٹوں کی دیوار کا معاملہ اس اصولی جواب میں الگ ہے۔ یا شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت نے جو اقدام کیا‘ وزیر اعظم اسے ’’اینٹ‘‘ سمجھتے ہی نہیں۔ ایسا ہے تو یہ عالی جناب وزیر اعظم کی
مزید پڑھیے


بج رہا ہے اور بآواز ہے

جمعرات 15  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
جماعت اسلامی نے دلچسپ اعلان کیا ہے جسے ’’بازگشت‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔کہا ہے کہ وہ کشمیر بچائو مہم چلائے گی اور اس کے بعد ایک عالمی کانفرنس بھی بلائے گی۔ باز گشت سے مراد یہ ہے کہ یہ گویا اسی قسم کی تحریک ہو گی جو اس نے نصف صدی پہلے بنگلہ دیش نامنظور تحریک کے نام سے چلائی تھی۔ تب جماعت کا خیال تھا کہ اس تحریک کے نتیجے میں بنگلہ دیش پھر سے مشرقی پاکستان بن جائے گا اور اب اس کا خیال یہ لگتا ہے کہ کشمیر بچائو تحریک کے نتیجے میں بھارتی آئین
مزید پڑھیے


کشمیر پر قریشی صاحب کی حق گوئی

بدھ 14  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر خارجہ کو جب بھی خطاب کرتے سنا، لکھنؤ کے داستانی نواب صاحب کی یاد آ جاتی۔ اس بار جو سنا تویہ یاد بے تحاشا اور بے ساختہ چلی آئی۔ آزاد کشمیر میں کیا ہی خوب نماز عید ادا کی اور کیا ہی خوب ارشادات ارشاد فرمائے۔ضمیر اور مافی الضمیر کھول کر رکھ دیا اور معاملہ گویا اللہ کی لاٹھی پر چھوڑ دیا جو بے آواز ہوتی ہے۔ نواب صاحب کا قصہ ایک سطر کا ہے۔ گھر میں سانپ نکلا، خادمہ چلائی، حجور، رسی حجور رسی(لکھنؤ میں نواب صاحبان سانپ کے لفظ سے ڈرتے تھے، حکم تھا کہ رسی کہو،
مزید پڑھیے




جو ستر سال میں نہ ہوا

جمعه 09  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ترک وزیر اعظم کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے کے بھارتی فیصلے پر بھارت سے بات کریں گے۔ معاملات کی شکل نو کے بعد یہ پہلا حرف نیم تسلی ہے جو ہمیں سننے کو ملا ہے۔ نیم تسلی اس لئے کہ ترکی نے ابھی تک بھارتی اقدام کی مذمت نہیں کی اور ناقابل یقین حد تک یہ بھی کہ اس نے ہمارا ساتھ دینے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے ترک وزیر اعظم کو فون کیا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ معاملات کو ترکی غور سے دیکھ
مزید پڑھیے


نیا پاکستان بن رہا ہے

جمعرات 08  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
1971ء میں بنگال غائب تھا، نصف صدی بعد آج پھر کشمیر غائب ہے اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ ابھی مزید بنے گا۔ اس نئے پاکستان پر سب سے زیادہ سخت ردعمل مولانا فضل الرحمن کا آیا ہے اور سب سے نرم جماعت اسلامی کا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان نے کشمیر ٹرمپ کے ہاتھ بیچ دیا۔ حالانکہ ٹرمپ نے کشمیر نہیں خریدا، اس نے تو محض ثالثی کی ہے۔ ثالثی کرانے والے کو اجرت ملتی ہے، قیمت نہیں۔ معاملہ مودی اور عمران کے بیچ ہوا ہو گا، ٹرمپ اور عمران کے درمیان نہیں۔ مسلم لیگ
مزید پڑھیے


کھچڑی پہلے سے تیار تھی

بدھ 07  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کشمیر کی حیثیت تبدیل ہونے والے دن ایک طبقہ بہت دکھی تھا۔ ایک صاحب تو 16دسمبر کے سقوط ڈھاکہ کو یاد کر کے رو پڑے۔ انہوں نے جنرل نیازی کو ’’خراج عقیدت‘‘بھی پیش کیا۔ صرف ایک طبقے کے دکھی ہونے کی بات سچ ہے۔ بہت سے طبقات کو لاتعلق کر دیا گیا ہے۔ ایک سال سے عمران خان کی ریاست مدینہ لوگوں کے بچوں سے منہ کا نوالہ بھی چھین رہی ہے۔ دو وقت کی روٹی نا ممکن ہو گئی ہے۔ ایسے میں لوگوں کو کشمیر یا سقوط ڈھاکہ پر سوچنے کا ہوش ہی کہاں رہتا ہے۔ پنجابی محاورہ ہے کہ
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر‘ضم یا ہضم؟

منگل 06  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اس کا صوبائی وجود بھی مٹا ڈالا اور اسے وفاقی علاقہ بنا دیا جیسے ہمارے ہاں فاٹا ہوا کرتا تھا۔ یہ خبر سال بھر سے متوقع اور چند ہفتوں سے شدید متوقع تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ اس پر خاموش ہیں اور یہ خاموشی بھی متوقع تھی۔ مسلم لیگ ن کی ایک لیڈر نے اس ماجرے پر وزیر اعظم پاکستان کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیاہے۔ وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے مودی جی کی انتخابی فتح کے لئے خواہش ظاہر فرمائی تھی اور یہ توقع بھی کہ وہ پھر
مزید پڑھیے


اب کیا کریں گے علی گیلانی صاحب؟

پیر 05  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد جس طور مسترد ہوئی اسے اس کے علاوہ کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ ھذا شیٌ عجاب۔ کئی اخبارات نے شہ سرخی اسی مضمون کی بنائی اور لکھا کہ اپوزیشن کو حیرت ناک شکست۔ اپوزیشن کی شکست حیرت ناک ہے تو حکومت کی فتح کو کیا عنوان دیا جائے؟ عبرت ناک فتح؟ کئی تجزیہ نگاروں نے اس فتح کو غیبی مدد کا مرہون منت قرار دیا۔ غیبی مدد‘ غیبی ہاتھ یا غیب کی کاریگری۔اب ان کا زمانہ رہا ہی کہاں۔ اب تو بس عالم شہود سامنے ہے۔ شہود و مشہود دونوں ایک پیج پر
مزید پڑھیے