BN

عبداللہ طارق سہیل



سبک سر ہو کے پھر پوچھو…!


یوم تکبیر پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ عوام کے آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یعنی موصوف کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اچھا ہے تو پھر یونہی سڑتے رہیے جیل میں، اطلاع ہے کہ چند روز پہلے حضرت ناصح نے ایک اہم ایلچی جیل بھیجا جو مبلغ 45منٹ تک نواز شریف کو اپنے پندونصائح کا نشانہ بناتا رہا کہ میاں اب بھی وقت ہے، سدھر جائو، دوچار سال برطانیہ کے ٹھنڈے موسم کے مزے لو، کیوں جون جولائی کی گرمیوں میں بے حال ہونے
بدھ 29 مئی 2019ء

وڈیوراما

منگل 28 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
یہ ہفتہ تو چیئرمین نیب کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں گزرا۔ شروعات ان آڈیو اور ویڈیو کلپس سے ہوئی جو ایک انصاف پسند ٹی وی چینل نے چلائیں۔ کلپس تحیّرخیز تھے اور ہوشربا بھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد انصاف پسند چینل پر جانے کیا آفت نازل ہوئی کہ اپنی ہی چلائی ہوئی خصوصی نشریات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا۔ میڈیا کی تاریخ کا یہ بھی ایک انوکھا باب تھا۔ ہو شربا تو نہیں البتہ تحیر خیز ضرور۔ مسلم لیگ نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ ابھی یہ مطالبہ پوری طرح نشر بھی نہیں
مزید پڑھیے


امن کی امید

پیر 27 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
نریندر مودی کو اپنی مرضی کا بھارت بنانے کے لئے مطلوبہ اکثریت مل گئی۔ زیادہ تر اندازے تو یہی تھے کہ الیکشن بی جے پی ہی جیتے گی لیکن اکثر کا خیال تھا کہ پہلی جیسی اکثریت نہیں ملے گی اور مودی ایک کمزور مخلوط حکومت بنائیں گے لیکن انہیں تو شاید اپنی توقع سے بھی زیادہ سیٹیں مل گئیں اور کانگریس مزید پیچھے چلی گئی۔ اکیلی بی جے پی نے 543 کے ایوان میں تین سو سے زیادہ سیٹیں لے لی ہیں۔ اتحادیوں کو ملا کر 350سے بھی زیادہ۔ عام خیال یہی ہے کہ وہ آئینی ترمیم کر کے
مزید پڑھیے


سچ تو یہی ہے

جمعه 24 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
چیئرمین نیب پریشانیوں کے بھنور میں ہیں۔ ان کے ضعیف الاندام کندھوں پر بقول خود انہی کے حکومت کو گرنے سے بچانے کی بھاری ذمہ داری ہی کیا کم تھی کہ متنازعہ انٹرویو پر تردیدی وضاحتوں اور وضاحتی تردیدوں کے چکر میں پھنس گئے۔ یگانہ نے کہا تھا، کہ خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا۔ زندگیوں اور موت کے فیصلے بھی کرنے نکلے تھے کہ ہاتھ پاؤں مارنے کی نوبت آ گئی۔ اِدھر اُدھر سے یہ خبریں بھی ان تک پہنچ رہی ہیں کہ نیب کے کارندے یہاں وہاں کے شہروں میں الیکٹرانک کی دکانوں پر بھی
مزید پڑھیے


ٹرمپ کا دعویٰ

جمعرات 23 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کیکڑا ون کے معاملے میں ایک معمہ کئی دن سے لاینحل پڑا ہے۔ یہاں اس بات پر کوئی بحث نہیں کہ کھدائی سے کچھ کیوں نہیں نکلا۔ وہ تو تقدیری امر ہے ملک کا ستارہ اس کی کرنسی کی طرح گردش میں ہے۔ گھاٹے کا ایک لامتناہی سفر ہے جو 2014ء میں لانچ کئے جانے والے ایڈوانچر کے منطقی تقاضوں کو پورا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ یہاں اور سوال ہے اور وہی سوال معمہ بنا ہوا ہے۔ جس روز کھدائی کا عمل بند کیا گیا اسی سہ پہر وزیر اعظم کو رپورٹ دے دی گئی تھی کہ کچھ نہیں ملا۔
مزید پڑھیے




دامن تو بے داغ ہے

بدھ 22 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
لیجئے جناب رمضان کا آدھا مہینہ گزر گیا۔ خوش خوراک، دیسی مرغیوں کے شوقین حکمرانوں نے مڈل کلاس روزہ داروں سے افطار چھین لی۔ انہیں فروٹ چاٹ بنانے سے روک دیا، ان سے لیموں پانی بھی چھین لیا۔ روزہ نمک سے کھولنا بھی سنت ہے، ہرن کی مسلم بھنی ہوئی رانیں کھانے کے رسیا حکمرانوں نے کھجوریں اتنی مہنگی کر دی ہیں کہ بہت سے لوگوں کو بھولی بسری سنت زندہ کرتے ہی بنی۔ چلئے، سنت کو زندہ کرنا ازحد ثواب کا کام ہے اور بلا شبہ اس کا ثواب حکمرانوں ہی کو جائے گا۔ ان گنت لوگ تو خود
مزید پڑھیے


میثاق جمہوریت کی تجدید

منگل 21 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
بلاول بھٹو کی افطار پارٹی ایک غیر رسمی ’’اے پی سی‘‘ تھی، رسمی عید کے بعد ہو گی جس کا میدان تیار کیا گیا۔ ’’اینٹی سٹیٹس کو‘‘ کی سبھی جماعتیں اس میں موجود تھیں۔ دو جماعتوں کی متوقع احتجاجی تحریک میں شرکت ابھی غیر واضح ہے اگرچہ ان کی نمائندگی اس غیر رسمی اے پی سی میں تھی۔ ایک اختر مینگل کی بی این پی جس کی کچھ مجبوریاں اسے اتحاد میں فعال ہونے سے روک سکتی ہیں، دوسری جماعت اسلامی جس کا مزاج اس کے امیر سے مختلف نظر آتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں سراج الحق آخر تک
مزید پڑھیے


وزیروں کو کارکردگی بڑھانے کی ہدایت

پیر 20 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
پیپلز پارٹی کے وضعدار رہنما قمر زماں کائرہ صاحب کو سخت آزمائش آ گئی۔ ان کا نوعمر بچہ اسامہ اپنے دوست حمزہ بٹ کے ساتھ کار کے حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ ایسے صدموں پر والدین کی کیا حالت ہوتی ہے۔ اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ صدمہ تو عمر بھر ساتھ رہے گا ۔اِلایہ کہ اللہ تعالیٰ سہارا بن جائیں۔ حادثے میں موت ایک قسم کی شہادت ہوتی ہے۔ مرحوم بچوں کو یہ اجر انشاء اللہ ملے گا اور اس غم کا اجر والدین کو بھی۔ دل دہل جاتا ہے جب اخبار میں ایسے حادثے پڑھنے کو
مزید پڑھیے


عقیدہ درست کیجیے صاحب!

جمعه 17 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کالے دھن کو سفید کرنے کی جو سکیم عمران خاں کی حکومت لائی ہے(اپنے ماضی کے ’’عقائد‘‘ کے برعکس) اس پر ایک ماہر نے شہ سرخی کے اوپر والی بڑی ضمنی سرخی میں لکھاہے کہ اس سکیم سے خزانہ بھرنے کا امکان معدوم ہے۔ معدوم یعنی ہے ہی نہیں‘ بعض مبصرین نے کہا ہے کہ بہت کم پیسہ آئے گا۔ یعنی معدوم سے کچھ کم پر بات ٹال دی۔ تو کیا یہ سکیم بے فائدہ ہے؟ نہیں کچھ تو فائد ہو گا۔ یونہی تو اتنی بڑی سکیم نہیں لائی گئی۔ شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اس
مزید پڑھیے


کھٹکن

جمعرات 16 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
پختونخواہ کے وزیر صحت نے ہسپتال جا کر ایک سینئر ڈاکٹر کی دھلائی فرما دی۔ اس پر ڈاکٹر احتجاج کر رہے ہیں۔ کچھ مظاہرے وغیرہ بھی ہوئے ہیں۔ مطالبہ ہے کہ وزیر صحت کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے۔ بے سود ہے۔ کچھ نہیں ہو گا۔ ایک تو موصوف وزیر ہیں‘ دوسرے پتہ چلاہے کہ شاہی خاندان کے رکن بھی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات سمجھدار ہوں تو برکی کو برقی سمجھیں۔ ٹھکائی شدہ ڈاکٹر صاحب کو چاہیے کہ صحت یاب ہوتے ہی برقی حضور کے حضور حاضر ہوں اور دست بستہ معافی مانگیں اور کہیں کہ غلطی میری تھی کہ
مزید پڑھیے