عبداللہ طارق سہیل


مہنگائی کی ذمہ دار بیورو کریسی


حکومت پر جہاں تنقید ہونی چاہیے وہاں اس کے اچھے کاموں بلکہ کارناموں کو سراہنا بھی ضروری ہے تو یہ چند سطریں درمدح حکومت بر تقاضائے انصاف سمجھیے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس سال سموگ بہت کم ہو گی ۔ یعنی ہو گی تو ضرور لیکن شدت نہیں ہو گی اور اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ سموگ کارخانوں کے دھوئیں سے اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ فوگ سے مل جاتا ہے۔ آدھا دھواں بھارتی کارخانوں سے آتا ہے اور وہ تو آئے گا‘ آدھا جو پاکستانی کارخانوں کی
جمعه 04 اکتوبر 2019ء

عارضی امیدیں

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اپوزیشن کے کچھ بھولے ناتھ دو خبروں سے بہت خوش ہیں۔ ایک تو یہ کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نااہل ہو گئے۔ ان کے حلقے میں سنا ہے ‘62,61ہزار ووٹ جعلی پڑے تھے(شکر ہے ‘ 62‘63ہزار نہیں پڑے تھے) دوسرے یہ کہ الیکشن کمشن میں فارن فنڈنگ کیس کھل گیا ہے۔ اس کیس میں بہت سے راز ہیں۔ ایسے کہ سامنے آئے تو بھونچال کی سی فضا بن جائے گی۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی اور منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔ چنانچہ بھولے ناتھ اپنی کشت امید ہری ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ کسی پر امید کو ناامید کرنا اچھی
مزید پڑھیے


تقریر پر چند سوالات

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حکمران جماعت کے بعض رہنما اس بات پر برہم ہیں کہ وزیر اعظم کی جنرل اسمبلی والی تقریر پر جسے وہ تاریخی اور تاریخ ساز قرار دے رہے ہیں، اپوزیشن کے کچھ لوگ تنقید کیوں کر رہے ہیں! تنقید کہاں ہے؟ ہاں کچھ قسم کے سوالات ہیں، وہ بھی چند ایک۔ اپوزیشن اور میڈیا کے بعض حلقے ان کا جواب مانگتے ہیں۔ حکمران جماعت اور دیگر محب وطن حلقے چاہیں تو جواب دے دیں چاہیں تو نہ دیں، برہمی اور پریشانی کی کچھ ایسی خاص ضرورت نہیں۔ یہی کہ وزیر اعظم نے خطاب میں اس متنازعہ اقدام کا سوال کیوں نہیں اٹھایا
مزید پڑھیے


غریب کی بھی چھپ گئی

منگل 01 اکتوبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مسلم لیگی لیڈر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر پر سخت سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ جنگ کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پورا سچ یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک آپشن ضروری ہے۔ جنگ کا آپشن ہماری حکومت کے مطابق خارج از امکان ہے۔ وہ اتنی زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں کہ خود بھارت حیران ہے۔ بھارت نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا اور عام خیال یہی ہے کہ جنگ ہوگی بھی نہیں۔ بھارت آزاد
مزید پڑھیے


طالبان کو ایک اور مایوسی

پیر 30  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
افغانستان میں صدارتی انتخابات پرامن ماحول میں مکمل ہو گیا۔ طالبان کی طرف سے کوئی خاص جہادی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آئیں۔اکا دکا واردات ہوئی لیکن سکور نہ ہونے کے برابر رہا۔ طالبان کا حتمی اعلان تھا کہ وہ کسی صورت یہ الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ ترجمان نے تو یہاں تک کہا تھا کہ ہماری ایک ایک ووٹر پر نظر ہو گی۔ نہ کوئی ووٹ ڈالے، نہ کوئی ایسی جگہ کے قریب جائے جہاں ووٹنگ ہو رہی ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ لوگوں نے ووٹ ڈالے اور قطاریں بنائیں۔ طالبان کے
مزید پڑھیے



امریکہ بھارت کا ہدف

جمعه 27  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
آٹھ دس ہفتے سے حکومتی وزیر مشیر اور حکومت نواز مبصر و تجزیہ کار یہ کہہ کہہ کر قوم کی ایمان افروزی کر رہے تھے کہ ہماری کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ساری دنیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی ایجنڈے پر سرفہرست آ گیا ہے اور بھارت کو تنہا کر دیا گیا ہے لیکن امریکہ اور یورپ سے تو کچھ اور ہی خبریں آئیں۔ حالات کی تصویر جو دکھائی گئی اصل میں کچھ دوسری ہی نکلی۔ اوروں کو توچھوڑیے‘ خود وزیر اعظم نے امریکہ میں جو خطاب فرمایا وہ یہ تھا کہ کشمیر پر عالمی
مزید پڑھیے


کرپشن نہیں‘ احباب دوستی

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
منگل کو جو زلزلہ آیا ‘ اس نے آدھے ملک کی زمین ہلا دی لیکن اصل ہدف میر پور کا علاقہ تھا جہاں بہت تباہی ہوئی۔ کتنی ہی قیمتی جانیں اس کی نذر ہوئیں اور انگنت مکانات تباہ ہو گئے۔ سڑکوں کی تباہی نے امدادی راستے بھی مسدود کر دیے۔ اللہ رحم کرے۔ اس زلزلے نے 2005ء کے زیادہ بڑے اور بہت ہی برباد کن زلزلے کی درد ناک یادیں تازہ کر دیں۔ اتفاق سے اس وقت بھی یہی بارات حکومت کر رہی تھی جو اب مسند پر براجمان ہے۔ دولہا میاں البتہ بدل گئے۔ تب کے دولہے میاں ستر سال
مزید پڑھیے


السیسی کیخلاف تحریک

بدھ 25  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
’’میں مصریوں کو ایک ستم گر حاکم کے قابو میں کروں گا……دریا کا پانی سوکھ جائے گا۔ نالے بدبو ہو جائیں گے۔ نہریں خالی اور سوکھ جائیں گی۔ ببد اور نے مرجھا جائیں گے۔ نیل کی چراگاہیں مرجھا جائیں گی۔ تب ماہی گیر ماتم کریں گے، دریا میں شست ڈالنے والے غمگین، پانی میں جال ڈالنے والے بے چین ہو جائیں گے۔(لیسمیاہ 4-19 تا9 ISAIAH)۔ بائبل میں حضرت مسیح کی کتاب کی ان آیات کی تصویر آج کا مصر پیش کر رہا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال مصر اتنا مالدار تو پہلے بھی نہیں تھا لیکن اتنا غریب بھی
مزید پڑھیے


ذکر کراچی کے ایک لاڈلے کا

منگل 24  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کسی ملک کا بادشاہ بنا کپڑوں کے گھومتا تھا۔ مصاحب اور مداح ساتھ پھرتے تھے اور مسلسل صدا لگاتے تھے کہ اے لوگو‘ دیکھو بادشاہ نے کتنا پیارا پیرہن پہن رکھا ہے۔ کتنا خوبصورت ہے۔ عوام صدا دہرائے،دیکھو بادشاہ نے کتنا پیارا پیرہن پہن رکھا ہے‘ کتنا خوبصورت ہے۔ مصاحب کہتے ایسا لگتا ہے‘ پرستان سے آیا ہے۔ پریوں نے سیاہے۔ لوگ دہراتے ایسا لگتا ہے‘ پرستان سے آیا ہے‘ پریوں نے سیاہے ۔ مصاحب کے لئے دیکھو۔ اجلے نورانی پیرہن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ لوگ کہتے دیکھو‘ اجلے نورانی پیرہن ‘ کرپشن کا کوئی داغ نہیں‘
مزید پڑھیے


’’ضد معاملہ خراب کر رہی ہے‘‘

پیر 23  ستمبر 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
رمل وجفر کے وفاقی وزیر عرف شاہی نجومی نے ایک بار پھر ’’غیب‘‘ کی خبر دی ہے مگر ادھوری۔ فرمایا ہے کہ نواز شریف کی ضد معاملات طے نہیں ہونے دے رہی۔ ضد کیا ہے یہ نہیں بتایا‘ معاملات طے پانے سے کیا مراد ہے‘ یہ بھی نہیں بتایا۔ ویسے بہت سے لوگ اسے ڈٹ جانے کا نام بھی دیتے ہیں جسے شاہی نجومی ضد کہہ رہے ہیں۔ سنا ہے کہ ’’ضد‘‘ اس بات پر ہے کہ 25جولائی کی شب جو ’’واردات‘‘ کی گئی تھی اس پر معذرت کی جائے۔ بظاہر ضد بے جاہے کہ معذرت کرنے سے کیا ہو گا؟
مزید پڑھیے