BN

عبداللہ طارق سہیل



فضل الرحمن کو دور سے سلام


اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کل ہونے والی ہے۔ چند ہفتے پہلے جب اے پی سی بلانے کی کوشش ہو رہی تھی تو یہ خیال عام تھا کہ اپوزیشن متحد ہونے والی ہے۔ اب جبکہ اس کی تاریخ کا اعلان ہو گیا اور کانفرنس کل ہونے والی ہے تو فضا اتنی ’’اتحاد آفریں‘‘ نہیں ہے۔ مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کے تیور کچھ بدلے بدلے سے ہیں۔ ان کی بجٹ تقریر بھی بظاہر مخالفانہ لیکن بباطن بجٹ کے لئے موافق تھی۔ خیر‘ یہ تو ایک اندازہ ہی ہے لیکن اس دوران ایک معاصر کی اپنے ذرائع سے خبر بھی
منگل 25 جون 2019ء

ایکو کی یاد…

پیر 24 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عمر ایوب نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ سی پیک اور پاک چین دوستی کی بنیاد ان کے دادا حضور ایوب خاں نے رکھی تھی۔ بعض حلقے اس پر چیں بچیں ہوئے لیکن شک کا فائدہ دیا جانا چاہیے۔ ممکن ہے دادا حضور کے زمانے میں سی پیک کو سیٹو سنٹو کہا جاتا ہو اور امریکہ کو پیار سے لوگ چین بلاتے ہوں۔ ویسے بھی پی ٹی آئی اپنی کارکردگی کا سہرا دوسروں کے سر باندھنے میں خاصی فیاض ہے اور دوسروں کے ’’جرائم‘‘ اپنے سر لینے کے معاملے میں بھی بہت
مزید پڑھیے


مصری حکومت کا غصہ

جمعه 21 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
مصری حکومت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان پر بہت مشتعل ہوئی ہے۔ ہائی کمشنر نے اپنے بیان میں سابق و معزول مصری صدر مرسی کی اچانک وفات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ سابق صدر مرسی کا تختہ جنرل السیسی نے الٹ دیا تھا اور وہ پانچ سال سے قید تنہائی کاٹ رہے تھے۔ چند روز پہلے انہوں نے عدالت میں جان دے دی۔ مصری حکومت نے جو چاہے کہے‘ سابق صدر مرسی کی موت فطری نہیں تھی۔ انہیں قتل کیا گیا۔ غاصب جنرل نے ان کی قانونی اور اکثریتی
مزید پڑھیے


جب بکریوں کا دودھ سوکھ جائے

جمعرات 20 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
پرانے زمانے کی بات ہے‘ کسی ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بہت شان و شوکت والا بادشاہ تھا۔ ملک اگرچہ غریب تھا لیکن بادشاہ کی شان و شوکت دیکھ کر دوسرے بادشاہ رشک کرتے تھے۔ یہ بادشاہ جب کبھی کہیں جانے کو نکلتا تو اس کا لائو لشکر اور پروٹوکول دیکھ کر خلقت دنگ رہ جاتی تھی۔ وہ سارے بادشاہوں سے زیادہ پروٹوکول لیتا تھا۔ اس کا بہت بڑا شاہی محل تھا۔ محل میں یہاں سے وہاں تک جانے اور وہاں سے یہاں آنے تک بادشاہ بگھی استعمال کرتا تھا۔ خدام ادب اس کا پائوں زمین پر پڑنے
مزید پڑھیے


نیا اضافہ

بدھ 19 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے ابھی تک تحریک چلانے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں بنایا لیکن جماعت اسلامی نے اپنے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل کے تحت مظاہروں کا آغاز کر دیا ہے۔ لاہور میں اس کا مظاہرہ خاصا بڑا تھا اور طویل عرصے کے بعد جماعت نے لاہور میں اتنا بڑا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ اہم بات ہے لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جماعت کے تیور کچھ کچھ ’’اینٹی سٹیٹس کو‘‘ نظر آ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی معنے رکھتی ہے۔ جماعت اپنی بنیاد میں ’’اینٹی سٹیٹس کو‘‘ تھی۔ بانی جماعت مولانا مودودیؒ ملوکیت کے خلاف تھے انہوں
مزید پڑھیے




ایک اورکمشن

منگل 18 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ورلڈ کپ میں ’’سلیکٹڈ لاڈلوں‘‘ کی شاندار پرفارمنس پر ساری قوم نیک ’’خواہشات‘‘ ارسال کر رہی ہے۔ آپ بھی کم از کم اتنی سی فراخدلی تو دکھائیے کہ بھارت سے صرف 89رنز کی شکست پر شاباش دے دیں‘ وہ سنچری سے بھی تو ہار سکتے تھے۔ بہرحال کہنے کی بات یہ ہے کہ دونوں کپتان معرکے پر معرکہ مار رہے ہیں اور ابھی تو سامنے معرکتہ الآرائیوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ دو کپتانوں سے مراد ایک تو کپتان خان ہیں اور دوسرے کپتان مانی۔ کپتان مانی کے کیا کہنے اور کپتان خان کے تو کیا ۔ہی۔ کہنے۔ دونوں کی سلیکشن
مزید پڑھیے


کفایت شعاری

پیر 17 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ہر بات پہلی بار ہونے کی رت ملک میں پہلی بار آئی ہے بجٹ ہی کو لے لیجیے‘ دو باتیں اکٹھی پہلی بار ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ پہلی بار پاکستان کا بجٹ پاکستان نے نہیں بنایا جنہوں نے بجٹ بنانا تھا‘ انہوں نے تو ہاتھ اٹھا دیے کہ ہمارے بس کی بات نہیں ع لٹ الجھی سلجھا جا رہے بالم میں نہ لگائونگی ہاتھ رے اور آئی ایم ایف نے پھر ایک چھوڑ دو دو بالم بھیج دیے اور ان بالموں نے بجٹ کے بجائے سکائی لیب۔ بنا کر قوم کے اوپر گرا دیا۔
مزید پڑھیے


لیلیٰ اور کدّو

جمعه 14 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم کا خطاب نیم شبی رات کے اندھیرے میں ایک نئی تاریخ رقم کر گیا۔ ایک تاریخ 25جولائی کو بھی رقم ہوئی تھی۔ لیکن وہ نیم شب کا مرحلہ آنے سے پہلے پہلے ہی رقم ہو گئی تھی اور اسے خاں صاحب نے رقم نہیں کیا تھا۔ خیر یہ خطاب بشبی ایسا تاریخی تھا کہ مخالفوں نے تو خیر کرنا ہی تھا۔ ان کے اپنے چاہنے والے بھی عش عش کر اٹھے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نے یہ نادر روزگار خطاب محض گیارہ عدد اطلاعات مشیروں کی مدد سے کیا۔ عبقریت کی حد ہو گئی۔ خطاب نے لوگوں
مزید پڑھیے


بکرا فرینڈلی چھرا

جمعرات 13 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومتی وزیروں کا یہ دعویٰ تو بالکل درست نکلا کہ بجٹ’’غریب فرینڈلی‘‘ ہو گا قصائی سے بکرے نے پوچھا یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اس نے کہا ’’بکرا فرینڈلی چھری‘‘ ہے۔ بکرا خوشی خوشی اس فرینڈلی چھری سے ذبح ہونے کو تیار ہو گیا۔ یہ سچ بات ہے کہ لیکن المیہ یہ ہے کہ سچ کا اعتراف کرنے والے زیادہ نہیں ہیں۔ ایک نامعقول پڑوسی نے کہا لوگو دیکھو ہتھوڑا گروپ کی حکومت آ گئی۔ کوئی پوچھے کیا ہتھوڑا گروپ ’’فرینڈلی ‘‘ نہیں ہو سکتا۔ ضیاء الحق کے دورمیں یہ ’’غریب فرینڈلی‘‘ گروپ سرگرم ہوا تھا۔ فٹ پاتھوں
مزید پڑھیے


غداروں کا گھیرا تنگ

بدھ 12 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
لگتا ہے غدار آخری محاصرے میں آ چکے اور اب ان کے بچنے یا بھاگ نکلنے کے راستے بند ہو چکے۔ بلوچ رہنما اختر مینگل کی ’’ریسرچ‘‘ کے مطابق، جس کا حوالہ گزشتہ روز جناب عارف نظامی نے بھی اپنے کالم میں دیا۔ ملک کی 80فیصد آبادی غدار ہے۔ بیس فیصد بقایا میں محب وطن بھی ہیں اور گرے لسٹ والے بھی۔ حیرت ہے، ملک کی اتنی زیادہ آبادی، کم و بیش تمام کی تمام غدار ہے اور پھر بھی کسی طرف سے ملک کا نام بدلنے کی تجویز سامنے نہیں آ رہی۔خیر، یہ تو جملہ معترضہ زبردستی بیچ میں
مزید پڑھیے