BN

عبداللہ طارق سہیل



بے ذمہ داری


چلیے ایک مسئلہ تو حل ہوا‘ منی لانڈرنگ ختم کرنے سے جان چھوٹی۔ وزیر اعظم نے وجہ بتا دی۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس کا فیصلہ میرٹ پر کیا ہوتا تو منی لانڈرنگ ختم ہو جاتی۔ آپ پانچ سال تک اس خیال میں رہے اور اسی کی بنیاد پر یہ دعوے کرتے رہے کہ حکومت میں آتے ہی منی لانڈرنگ ختم کر دوں گا۔ آپ کا فرمانا تھا کہ روزانہ کئی ہزار ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ حکومت میں آنے کے آٹھ نو ماہ بعد آپ کو پتہ چلا کہ حدیبیہ کا فیصلہ چونکہ میرٹ پر نہیں ہوا
منگل 09 اپریل 2019ء

شاہنامے میں ترمیم

پیر 08 اپریل 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
شاہنامے لکھنے والے حضرات اب تک تو یہی بتاتے تھے کہ والا حضور کوہ نور ہیں۔ اور ساتھی ان کے سب درخشاں لال اور نگینے ہیں۔ لیکن لگتا ہے برآمد شدہ نتائج کے بعد قصیدوں کے مضمون میں ذرا سی ترمیم کرنا پڑی ہے۔ کچھ دنوں سے وہ یہ بتا رہے ہیں کہ والا حضور خود توبدستور کوہ نور ہیں لیکن ان کے سارے ساتھی نکمے اور نالائق ہیں۔ بعض نے تو انہیں کرپٹ بھی قرار دے دیا ہے اور والا حضور سے کہا ہے کہ انہیں خود سے دور کریں۔ ایک شاہنامہ نویس نے تو اب تک کے قصائد
مزید پڑھیے


ہمالیہ سر ک گیا؟۔ابھی نہیں

جمعه 05 اپریل 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
گزشتہ روز ذی وقار شخصیت ٹورزم کے حوالے سے خطاب کر رہی تھی۔ دوران خطاب ایک اطلاع ایسی دی کہ دل دہل گیا۔ اطلاع یہ تھی کہ ہمالیہ پہاڑ نے جگہ بدل دی ہے اور وہ دریائے سندھ کے مغرب میں چلا گیا ہے۔ یہ تو قیامت کی شروعات ہو گئی۔ یہ بھی خیال آیا کہ ہمالیہ مغرب میں چلا گیا ہے تو پھر قراقرم کا کیا بنا ہو گا‘ اسے ہٹا کر بھی وہ مغرب میں گیا ہو گا۔ مغرب میں ہندو کش کا پہاڑ تھا‘ وہ سرک کر کہاں چلا گیا؟ نیپال ؟ کیا پتہ بنگلہ دیش پہنچ
مزید پڑھیے


چھ نکات کی واپسی

جمعرات 04 اپریل 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
منظر نامہ کیا ہے۔؟ پوری تصویر تو کوئی کہاں دیکھ سکتا ہے۔ دوبیانات کو دوجھلکیاں سمجھ لیں اور منظر نامے کا اندازہ کر لیں۔ پہلا بیان چودھری نثار کا ہے۔ ’’مرکز قومی تجلیات‘‘ سے گہری وابستگی اور ربط و ضبط کی وجہ سے بہت اہم ہیں۔ فرماتے ہیں‘ حکومت ‘ اپوزیشن اور مقتدر ادارے‘ سب بند گلی میں پہنچ گئے ہیں۔ غور فرمائیے ‘ اور پکاریے کہ اے سبحان اللہ‘ کیا نکتہ بیان فرمایا۔ یعنی کم از کم ’’بندگلی‘‘ میں جانے کی حد تک سب ایک ہی پیج پر ہیں۔ بندگلی کے متفقہ منزل ہونے پر تینوں میں قوی اتفاق
مزید پڑھیے


اپریل فولز ڈے

بدھ 03 اپریل 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
اپریل فول کچھ اچھی رسم نہیں، جس نے ایجاد کی ستم ہی ڈھایا۔ مغربی ملکوں میں پھر بھی حدود کا خیال رکھتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تو ہر شے ہی حد سے نکل جاتی ہے۔ ایسے ایسے بے رحم مذاق کئے جاتے ہیں کہ بس اوپر والے ہی کی پناہ۔ گزشتہ روز کا ماجرا دیکھئے، اپریل فول کی سہ پہر وزیر خزانہ اسد عمر اخبار نویسوں کے سامنے نمودار ہوئے اور فرمایا مہنگائی 2008 ء اور 2013ء کے مقابلے میں کم ہے۔ بظاہر وہ سنجیدہ تھے لیکن نفس مضمون بتا رہا تھا کہ وزیر موصوف نے اپریل فول منانے کا
مزید پڑھیے




عوام دوست اضافہ

منگل 02 اپریل 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کبھی کبھی ذرائع بھی تیزی دکھا جاتے ہیں۔ جس روز یہ خبر ٹی وی پر چلی کہ اوگرا نے تیل کی قیمت گیارہ روپے لٹر بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ اسی روز‘ چند ہی گھنٹوں کے بعد یعنی پیچھے پیچھے ذرائع کی یہ خبر بھی ٹویٹر پر چلی کہ حکومت نے نرخ چھ روپے فی لٹر بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اوگرا سے کہا ہے کہ تم گیارہ روپے کی سفارش کرنا۔ ہم یہ عوام دشمن سفارش مسترد کر دیں گے اور حدف عوام دوست اضافہ منظور کریں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ عوام کو نرخوں میں عوام دوست
مزید پڑھیے


منصور کے پردے میں…!

پیر 01 اپریل 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
خاں صاحب بہت کچھ بھول جاتے ہیں بلکہ اکثر تو سب کچھ لیکن آموختہ نہیں بھولتے۔ گھوٹکی میں بھی نہیں بھولے۔ للکار کر پڑھا‘ نہیں چھوڑوں گا۔ نواز زرداری کو بالکل نہیں چھوڑوں گا۔ زور نواز کے نام پر تھا‘ مطلب یہ کہ زرداری کو چھوڑنے کا کڑوا گھونٹ تو شاید بھر لوں لیکن نواز ؟ اسے تو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ آموختے میں اس بار ایک نئی بات تھی۔ ترمیمی نوٹ کہہ لیجیے۔ فرمایا لوٹا ہوا پیسہ واپس کر دیں تو چھوڑوں گا۔ یعنی وہ معاملہ کر لوں گا جسے عرف عام میں یا تکنیکی طور پر پلی بارگین کہتے
مزید پڑھیے


بکریاں بھی دیں گے

جمعه 29 مارچ 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ایک دن کے وقفے کے بعد قوم سے پھر خطاب فرمایا۔ برسبیل تذکرہ ‘ ریاست کا ہر خطاب نماز ہی کے وقت کیوں ہوتا ہے؟مطلب نماز سے آدھ گھنٹہ پہلے شروع ہوتا ہے اور اتنے ہی وقت کے بعد ختم ہوتا ہے۔ بیچ میں سننے والوں کی نماز بھی لاپتہ ہو جاتی ہے۔ شاید کوئی باطن حکمت ہو۔ اس بار غربت کے خاتمے کا پروگرام عنوان تھا۔ پروگرام کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈے دیں گے‘ بچے دیں گے‘ مرغیاں دیں گے‘ بکریاں دیں گے۔ باقی کا اعلان تو وہ کئی ماہ پہلے بھی کر چکے۔ اس بار بکریوں کا اضافہ
مزید پڑھیے


’’زیرو ‘‘کا ٹرین مارچ

جمعرات 28 مارچ 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
سٹیٹ بنک کی تازہ رپورٹ کا ایک فقرہ ملاحظہ فرمائیے‘ کہا ہے کہ مہنگائی ہدف سے زیادہ ہو گئی۔ ہدف تو اپنا اپنا ہے بھائی۔ ممکن ہے سٹیٹ بنک نے کسی اور ہدف کا سوچا ہو جس سے مہنگائی بڑھ گئی ہو لیکن اصل بات تو اس ہدف کی ہے جو خاں صاحب نے طے کیا ہے اور حالات سے لگتا ہے کہ ابھی کہاں‘ ابھی تو ہدف کا پندرہ بیس فیصد ہی حاصل ہوا ہے۔ ساڑھے چار سال کے حساب سے ستر اسی فیصد ہدف تو ابھی باقی ہے۔ ریاست مدینہ کا ایک حامی گزشتہ روز بتا رہا تھا کہ
مزید پڑھیے


پھر درست فرمایا

بدھ 27 مارچ 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وزیر اعظم نے یہ بہت اچھی روایت قائم کی ہے کہ وہ تقریباً ہر دوسرے روز قوم سے خطاب کر ڈالتے ہیں۔ پہلے کی طرح اب قوم سے خطاب کے لئے خصوصی انتظامات اور پی ٹی وی آنے کی ضرورت نہیں۔ تقریب کچھ تو بہر ’’خطابات‘‘ چاہئے، کے طور پر کسی بھی موقع کو کیمروں کے سامنے آنے کے لئے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ یوں قوم سے خطاب ہو جاتا ہے‘ قوم اداس نہیں ہوتی کہ دیکھو تین روز ہو گئے‘ وزیر اعظم نے خطاب نہیں کیا۔ گزشتہ روز تین دنوں میں وزیر اعظم نے ایڈیٹروں، سینئر صحافیوں سے دوسری
مزید پڑھیے