BN

عبداللہ طارق سہیل


قبول صورت صورتحال


صورت حال یہ ہے کہ صورت حالات کا سبھی کو پتہ ہے‘حتیٰ کہ ان کو بھی جو صورتحال کو وجود میں لائے اور صورتحال یہ ہے کہ اس صورت حال کو سبھی نے قبول بھی کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ‘دونوں جماعتوں کا طرز عمل قبول ہے‘قبول ہے والا ہے اور یہ بات اب بالکل عیاں ہو چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا بیان بھی اسی خیال کی تائید کرتا ہے۔انہوں نے فرمایا ہے کہ کسی اور کو لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ یعنی جو ’’موجودہ‘‘ ہے وہ قبول ہے‘اسی
منگل 18 فروری 2020ء

بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو

پیر 17 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
بجا ارشاد ہوا کہ آٹا چینی کا بحران ہماری کوتاہی کا نتیجہ تھا۔ واردات کا حجم دیکھیے اور پھر کوتاہی کے لفظ کو داد دیجیے… ع کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری ایک سو چالیس ارب روپے کی واردات ہوئی ہے اور یہ ساری رقم غریب قوم کی جیبوں سے نکلوا کر چند پیاروں کے کھاتے بھرے گئے ہیں۔ غریب قوم کی کیا مجال جو اسے ڈکیتی قرار دے سکے۔ اس کی خیریت اسی میں ہے کہ اسے کوتاہی مان لے اور کوتاہی کا کیا‘ ہو ہی جاتی ہے۔ اس بار ہو گئی اب نہیں ہو گی‘اچھا جائو معاف کیا‘
مزید پڑھیے


پانچ پیارے

منگل 11 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومتی وزیر کبھی ظریفانہ بیانات دیتے ہیں اور کبھی ستم ظریفانہ۔ اب اس بیان کو کیا کہیے گا جو ایک ذمہ دار نے دیا ہے۔ ظریفانہ یا ستم ظریفانہ ہے۔ فرماتے ہیں ‘ اپوزیشن اپنے بچائو میں مصروف ہے جبکہ ہم لوگ یعنی حکمران عوام کو خوشحال بنانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بیان جملہ خبر یہ بھی ہے۔ یعنی موصوف یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ عوام کو خوشحال بنانے کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘ انہیں ابھی مزید خوشحال بنایا جائے گا۔ ادھر عوام ہیں کہ خوشحالی کے سیلاب کا پانی ان کے سروں سے
مزید پڑھیے


نقش فریادی ہیں…!

پیر 10 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
مولا وزیر اعظم کو خوش رکھے، انہوں نے دکھی غریبوں کی فریاد سن لی اور اپنی معاشی ٹیم کو یہ حکم دیا کہ مہنگائی فوراً کم کر دی اور یہ اعلان کر کے تو انہوں نے عوام کے دل ہی جیت لیے کہ وہ مہنگائی کم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ اس سے پہلے وہ ایسا ہی اعلان کشمیر کے بارے میں کر کے کشمیریوں کے دل بھی جیت چکے ہیں۔ انہوں نے فرمایا تھا کشمیر آزاد کرانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جائیں گے اور وہ گئے۔ بس کوالالمپور جاتے جاتے البتہ رہ
مزید پڑھیے


احساس پروگرام

منگل 04 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
رنجی ایک نہیں ‘ کئی ہوتی ہیں۔ان دنوں حکومت سے کون سی’’رنجی‘‘ چل رہی ہے‘ پوری طرح واضح نہیں۔ شکر رنجی تو بہرحال نہیں‘ بات اس سے آگے کی ہے یعنی یا تلخ رنجی ہے یا پھر ترش رنجی۔ برادر اصغر نے فرمایا‘ حکومت ہمیں سوتن نہ سمجھے۔ بھلا وہ کب سوتن سمجھ رہی ہے۔ جیسی بھی ہو‘ سوتن کا قانونی درجہ ہر صورت برابر ہوتا ہے۔ کیا حکومت اسے برابر کا درجہ دے رہی ہے۔ لگتا ہے بات ازراہ تعریض کی گئی ہے۔ شاید ان کا اصل مدعا کچھ اور ہے۔ یہ ایک طرح سے توجہ دلائو نوٹس
مزید پڑھیے



آئیں اُن کی باتیں کریں

پیر 03 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل

کچھ دیر کے لئے باقی سارے مسائل بھول جائیے‘ اس عالم نزع کو بھی جو مہنگائی نے برپا کر رکھا ہے۔ مطلب یہ کہ۔ ع آئیں حسنِ شیخ کی باتیں کریں ہمارے شیخ جی جیسا دنیا میں کوئی نہیں۔ صاحب محترم و استقلال‘ استقامت کا کوہ گراں ہیں۔ گزرے ہفتے ان پر دو مصائب گزرے۔ لیکن مجال ہے ذرا بھی نوحہ یا گریہ کیا ہو۔ پہلے تو یوں ہوا کہ اصحاب عدل نے بلا لیا۔ اس دوران ریلوے کے بڑھتے کرایوں کے باوجود دوگنے تگنے ہوتے ہوئے خسارے کی باتیں بھی ہوئیں۔ تباہ ہوتے انجنوں‘ برباد ہوتی بوگیوں‘ خوار ہوتے
مزید پڑھیے


چھٹا میگا پراجیکٹ

منگل 28 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
چرچے تو عالمی گرمائو کے ہیں لیکن ہم نے اس بار عالمی سردائو کو بھگتا۔ایسی زوروں کی سردی پڑی کہ پچاس سال میں نہیں پڑی تھی۔ ہر شے ٹھٹھر کر رہ گئی۔ جوانوں کی تو خیر رہی لیکن سینئر سٹیزن معمول کی سرگرمیوں سے بھی گئے۔ اب سردی کچھ کم ہوئی ہے لیکن سنا ہے کہ ایک لہر ہفتے دس دن میں اور آنے والی ہے۔ یہ بھی شاید شدید سردی کا نتیجہ ہے کہ ٹرانسپیرنسی پاکستان کے چیئرمین نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی تردید تین دن بعد کی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے جتنی دھوم مچانا تھی‘ مچ چکی
مزید پڑھیے


نیچے نہیں‘ ملک اوپر جا رہا ہے

پیر 27 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
گئے روز جماعت اسلامی اور اے این پی نے مہنگائی کے خلاف مظاہرے کئے۔ ایک دن پہلے کچھ شہروں میں شہریوں نے ازخود جلوس نکالے۔ شاید آنے والے دنوں میں اور مظاہرے بھی ہوں لیکن بے اثر رہیں گے۔ حکومت کا ’’عزم‘‘ ان سے متاثر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ تو چھوٹے چھوٹے مظاہرے تھے‘ بہت بڑے بڑے ہوںتو بھی کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ اپنے عزم کی طرح حکومت بھی مضبوط ہے اس لئے کہ ’’پیج‘‘ والے اس کے ساتھ ہیں۔ سیاں بھئے کوتوال‘ ڈر کاہے کا۔ چنانچہ مہنگائی بڑھتی رہے گی اور بڑھتی ہی رہے گی۔
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی تحریک نہ چلائے۔ نیب سے ڈرے

منگل 21 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
جماعت اسلامی نے ’’منفرد‘‘ اعلان کیا ہے۔ کہا ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف تحریک چلائے گی۔ لاریب۔ اس کے پاس منظم اور مستعد کارکنوں کی کھیپ ہے۔ تحریک چلا سکتی ہے لیکن چلے گی نہیں۔ منفرد اعلان اس لئے کہ مہنگائی کے خلاف یوں تو ہر جماعت بول رہی ہے لیکن تحریک چلانے کی بات کسی نے نہیں کی‘ صرف جماعت اسلامی نے یہ تفردکیا۔ تحریک چلے گی، اس لئے نہیں کہ موجودہ حکومت نے نیب کو آگے کر دینا ہے۔ سراج الحق کو ڈرنا چاہیے اس دن سے جب نیب ان کا دبئی میں’’ٹاور‘دریافت کر لے گا اور پھر
مزید پڑھیے


کپتان کے گُن نادان کیا جانیں

پیر 20 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران جلد ختم ہو جائے گا۔ آپریشن کا حکم دے دیا گیاہے۔ ٹھیک ہے۔ بحران پیدا کرنے کا مقصد تو حاصل ہو گیا جیسا کہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ’’دوستوں‘‘ کو نوازنے کے لئے بحران خود پیدا کیا۔ سنا ہے‘ بعض مقدس ’’اے ٹی ایم‘‘ کے ذخائر وفور زر سے چھلک اٹھے ہیں اور کیوں نہ چھلک اٹھتے ۔گندم کی حالیہ فصل پر خریداری کا سرکاری ریٹ 11سو روپے من تھا۔ یہی گندم حکومت نے 28سو روپے من بیچی۔1700روپے فی من کا جائز منافع آخر کہیں تو پہنچا
مزید پڑھیے