عبداللہ طارق سہیل


احساس پروگرام


رنجی ایک نہیں ‘ کئی ہوتی ہیں۔ان دنوں حکومت سے کون سی’’رنجی‘‘ چل رہی ہے‘ پوری طرح واضح نہیں۔ شکر رنجی تو بہرحال نہیں‘ بات اس سے آگے کی ہے یعنی یا تلخ رنجی ہے یا پھر ترش رنجی۔ برادر اصغر نے فرمایا‘ حکومت ہمیں سوتن نہ سمجھے۔ بھلا وہ کب سوتن سمجھ رہی ہے۔ جیسی بھی ہو‘ سوتن کا قانونی درجہ ہر صورت برابر ہوتا ہے۔ کیا حکومت اسے برابر کا درجہ دے رہی ہے۔ لگتا ہے بات ازراہ تعریض کی گئی ہے۔ شاید ان کا اصل مدعا کچھ اور ہے۔ یہ ایک طرح سے توجہ دلائو نوٹس
منگل 04 فروری 2020ء

آئیں اُن کی باتیں کریں

پیر 03 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل

کچھ دیر کے لئے باقی سارے مسائل بھول جائیے‘ اس عالم نزع کو بھی جو مہنگائی نے برپا کر رکھا ہے۔ مطلب یہ کہ۔ ع آئیں حسنِ شیخ کی باتیں کریں ہمارے شیخ جی جیسا دنیا میں کوئی نہیں۔ صاحب محترم و استقلال‘ استقامت کا کوہ گراں ہیں۔ گزرے ہفتے ان پر دو مصائب گزرے۔ لیکن مجال ہے ذرا بھی نوحہ یا گریہ کیا ہو۔ پہلے تو یوں ہوا کہ اصحاب عدل نے بلا لیا۔ اس دوران ریلوے کے بڑھتے کرایوں کے باوجود دوگنے تگنے ہوتے ہوئے خسارے کی باتیں بھی ہوئیں۔ تباہ ہوتے انجنوں‘ برباد ہوتی بوگیوں‘ خوار ہوتے
مزید پڑھیے


چھٹا میگا پراجیکٹ

منگل 28 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
چرچے تو عالمی گرمائو کے ہیں لیکن ہم نے اس بار عالمی سردائو کو بھگتا۔ایسی زوروں کی سردی پڑی کہ پچاس سال میں نہیں پڑی تھی۔ ہر شے ٹھٹھر کر رہ گئی۔ جوانوں کی تو خیر رہی لیکن سینئر سٹیزن معمول کی سرگرمیوں سے بھی گئے۔ اب سردی کچھ کم ہوئی ہے لیکن سنا ہے کہ ایک لہر ہفتے دس دن میں اور آنے والی ہے۔ یہ بھی شاید شدید سردی کا نتیجہ ہے کہ ٹرانسپیرنسی پاکستان کے چیئرمین نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی تردید تین دن بعد کی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے جتنی دھوم مچانا تھی‘ مچ چکی
مزید پڑھیے


نیچے نہیں‘ ملک اوپر جا رہا ہے

پیر 27 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
گئے روز جماعت اسلامی اور اے این پی نے مہنگائی کے خلاف مظاہرے کئے۔ ایک دن پہلے کچھ شہروں میں شہریوں نے ازخود جلوس نکالے۔ شاید آنے والے دنوں میں اور مظاہرے بھی ہوں لیکن بے اثر رہیں گے۔ حکومت کا ’’عزم‘‘ ان سے متاثر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ تو چھوٹے چھوٹے مظاہرے تھے‘ بہت بڑے بڑے ہوںتو بھی کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ اپنے عزم کی طرح حکومت بھی مضبوط ہے اس لئے کہ ’’پیج‘‘ والے اس کے ساتھ ہیں۔ سیاں بھئے کوتوال‘ ڈر کاہے کا۔ چنانچہ مہنگائی بڑھتی رہے گی اور بڑھتی ہی رہے گی۔
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی تحریک نہ چلائے۔ نیب سے ڈرے

منگل 21 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
جماعت اسلامی نے ’’منفرد‘‘ اعلان کیا ہے۔ کہا ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف تحریک چلائے گی۔ لاریب۔ اس کے پاس منظم اور مستعد کارکنوں کی کھیپ ہے۔ تحریک چلا سکتی ہے لیکن چلے گی نہیں۔ منفرد اعلان اس لئے کہ مہنگائی کے خلاف یوں تو ہر جماعت بول رہی ہے لیکن تحریک چلانے کی بات کسی نے نہیں کی‘ صرف جماعت اسلامی نے یہ تفردکیا۔ تحریک چلے گی، اس لئے نہیں کہ موجودہ حکومت نے نیب کو آگے کر دینا ہے۔ سراج الحق کو ڈرنا چاہیے اس دن سے جب نیب ان کا دبئی میں’’ٹاور‘دریافت کر لے گا اور پھر
مزید پڑھیے



کپتان کے گُن نادان کیا جانیں

پیر 20 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران جلد ختم ہو جائے گا۔ آپریشن کا حکم دے دیا گیاہے۔ ٹھیک ہے۔ بحران پیدا کرنے کا مقصد تو حاصل ہو گیا جیسا کہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ’’دوستوں‘‘ کو نوازنے کے لئے بحران خود پیدا کیا۔ سنا ہے‘ بعض مقدس ’’اے ٹی ایم‘‘ کے ذخائر وفور زر سے چھلک اٹھے ہیں اور کیوں نہ چھلک اٹھتے ۔گندم کی حالیہ فصل پر خریداری کا سرکاری ریٹ 11سو روپے من تھا۔ یہی گندم حکومت نے 28سو روپے من بیچی۔1700روپے فی من کا جائز منافع آخر کہیں تو پہنچا
مزید پڑھیے


میدان جنگ عراق میں

منگل 14 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ چکانے کے لئے ایران نے امریکی اڈوں کی طرف اپنے میزائل بھیجے۔ ایک میزائل نے یوکرائن ایئر لائنز کا جہاز اڑا دیا۔ پونے دو سو مسافر مارے گئے جن کی اکثریت ایرانی تھی۔ کچھ ایران کے شہری اور کچھ ایرانی تارکین وطن۔ اس جہاز کی تباہی اب ایران کے لئے حادثہ بن گئی ہے۔ ملک کے اندر باہر اس کے لئے مسئلے پیدا ہو گئے ہیں۔ ایران میں بڑے بڑے جلوس حکومت کے خلاف نکل رہے ہیں جن میں رہبر خامنائی کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ مظاہرین خامنائی اور صدر روحانی
مزید پڑھیے


تاریخی ڈیل اور احتساب

پیر 13 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کچھ لوگ بہت دور کی جوڑتے ہیں جیسے کسی نے جرمنی جاپان کے بارڈر جوڑ دیئے۔ کل سابق افغان صدر حامد کرزئی لندن میں نواز شریف سے ملے تو کسی نے یہ دور کی ہانکی کہ کرزئی چونکہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہیں لہٰذا ملاقات اسی ’’ڈیل‘‘ کے ضمن میں ہوئی جو حال ہی میں ہوئی ہے اور اسی کے تحت پاکستان کے ’’ایوان خوفزدگان‘‘ نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی قانون سازی کی۔ دیکھیے کہاں کا ناتا کہاں سے جوڑ دیا۔ خیر، یہ جوڑ اپنی جگہ، تاریخ کی سب سے بڑی قانون سازی اپنی جگہ۔ یار لوگوں نے
مزید پڑھیے


مستوں کا دور

منگل 07 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
ایسے میں جب ہر گھرانے کو داخلی معاشی بحران کا سامنا ہے‘ مثبت اشاریوں پر توجہ دینے کا دماغ ہی کہاں رہا۔ چنانچہ ایسا ہی ایک مثبت اشاریہ خبر کی صورت شائع ہوا لیکن محروم توجہ رہا۔ خبر یہ تھی کہ ملک میں نشئیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو وزیر نے بتایا کہ یہ تعداد بڑھ کر اب ستر لاکھ ہو گئی ہے جو دنیا کے 42(چھوٹے) ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے، یہ بات اگرچہ سمجھ میں نہیں آئی کہ نشیئوں کی تعداد بڑھنے کی یہ رپورٹ سائنس اور
مزید پڑھیے


ایران کے محدود ہوتے آپشن

پیر 06 جنوری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
خلیج میں نئی جنگ کے خدوخال بڑی حد تک ابھر چکے۔ اگرچہ بہت بڑی لڑائی کا ہونا یقینی نہیں۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد واقعات کی رفتاربڑھ گئی ہے۔ امریکی سفارت خانے اور شمالی عراق میں امریکی اڈے پر راکٹ حملوں کے بعد امریکہ نے حشب الشجی کے دو قاتلوں کو نشانہ بنایا جن میں دس بارہ جنگجو مارے گئے۔ تین ہزار مزید امریکی فوجیوں کی خلیج تعیناتی کے اعلان کے اگلے ہی روز کئی ہزار میرنیز مشرق وسطیٰ کے لئے روانہ کر دیے گئے۔ خلیج میں امریکی موجودگی پہلے ہی غیر معمولی
مزید پڑھیے