عبداللہ طارق سہیل


اس کا شکر ادا کر بھائی


مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے فرمایا کہ اپوزیشن کو کمر توڑ مہنگائی کا پورا احساس ہے۔ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سوال کیا تھا کہ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔ اپوزیشن کیوں مل کر آواز نہیں اٹھا رہی۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا۔ یعنی فی الحال کرنا کرانا کیا ہے‘ یہی احساس ہو جانا ہی کافی ہے‘ ایسا ہی ایک سوال ثانوی درجے کے ایک اپوزیشن لیڈر سے ہم نے بھی انہی دنوں کیا تھا۔ پوچھا سرکار آپ مہنگائی کے خلاف جلسے جلوس کیوں نہیں کرتے۔ بولے‘ نیب کا ڈر ہے‘ پکڑ
پیر 16 مارچ 2020ء

حیا مارچ بمقابلہ عورت مارچ

منگل 10 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
عورتوں کے عالمی دن پر مذہبی جماعتوں نے بھی جلوس نکالے اور انہیں ’’حیا مارچ‘‘ کا نام دیا۔ ان حیا مارچوں میں بہت اچھے نعرے لگائے گئے لیکن عورتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ایک تاثر جھوٹا یا سچا یہ بنا کہ مقصد عورتوں کے حق میں آواز اٹھانا نہیں تھا، محض مغرب زدہ خواتین کو کائونٹر کرنا تھا۔ اچھی بات ہے، مغرب زدہ ایجنڈے کو ناکام ہونا ہی چاہئے لیکن اسلامی جماعتیں اگر عورتوں کے مسائل حل کرانے کے لیے آگے بڑھیں تو مغربی ایجنڈا خود ہی ناکام ہو جاتا۔
مزید پڑھیے


عورت مارچ کا کفر

پیر 09 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
افغان صورتحال ایک بڑا مسئلہ ہے ‘ کرونا وائرس اس سے بھی بڑا اور مہنگائی اس سے بھی زیادہ خطرناک۔لیکن ان سب سے بڑا بحران وہ ہے جو ’’عورت مارچ‘‘ کے حوالے سے پیدا ہوا۔عورتوں کی بعض تنظیمیں اپنے لئے حقوق مانگ رہی ہیں جو ملک پر برسر اقتدار جاگیردار اشرافیہ کو قبول نہیں۔ اس مارچ کو رکوانے کے لئے ایک رٹ عدالت میں دائر کی گئی لیکن عدالت نے یہ رٹا خارج کر دی اور کہا کہ ان خواتین کے مطالبات وہی حقوق ہیں جو اسلام نے انہیں دیے ہیں۔بے شک ‘ اسلام نے انہیں دیے ہیں لیکن اسلامی
مزید پڑھیے


سچے لوگوں کی حکومت

منگل 03 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومت نے تیل سستا کیا ہے یا مہنگا؟ ہم عام لوگوں کو تو معلوم نہیں لیکن حساب کتاب لگانے والے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جتنی گر چکی ہے‘ اس کے بعد تو پاکستان میں تیل فی لٹر 30روپے سستا ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت نے پانچ روپے ہی سستا کیا ہے یعنی 25روپے کی پھر واردات کر گئی ہے۔ ایک اور رپورٹ یہ ہے کہ دس سے بارہ روپے سستا ہونا چاہیے تھا یعنی حکومت نے 25نہیں6روپے فی لٹر کی واردات کی ہے۔ اب پتہ نہیں کون
مزید پڑھیے


کرونا اور اقلیم زرد فام

پیر 02 مارچ 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں خوف ہے لیکن جو کیفیت چین کی ہے‘ اس کا صحیح اندازہ ممکن نہیں۔ چین والے خبریں چھپا رہے ہیں اور مغرب کے پاس رپورٹیں ہیں کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ چین کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق محض ایک ہزار یا اس سے کچھ اوپر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ چین کا معاشی نقصان اتنا زیادہ ہے کہ صحیح حال پتہ چلے تو ہوش اڑ جائیں۔کھربوں ڈالر کا گھاٹا ہو چکا ہے‘ صنعتیں بند پڑی ہیں‘ سٹاک مارکیٹیں بیٹھ گئی ہیں‘ بے روزگاری پھیل رہی ہے اور گروتھ
مزید پڑھیے



لیلائے روزگار اور جنگل

منگل 25 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
بھی نہیں ملے گی‘ پھر بھی جنگل کو نکل گیا اس لئے کہ اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ وحشت دل کا علاج بیابان کی دہشت سے‘ یہ علاج بالمثل نہیں‘ علاج بے مثل ہے ؎ لیلیٰ لیلیٰ پکاروں میں بن میں موری لیلیٰ بسی مورے من میں وزیر اعظم نے بھی آخری چارہ کار نوجوانوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ فرمایا ہے۔ جنگل نوجوانوں کا مستقبل ہیں۔ یعنی نوجوانوں کی تقدیر اب اب بیابان نور وی ہے۔ جنگل جائیں‘ اپنا مستقبل وہاں تلاش کریں۔ نوکری‘ روزگار‘ عزت اچھے مستقبل کی لیلیٰ کو من میں بسائیں اور دشت
مزید پڑھیے


نواز شریف بھی کبھی سلیکٹڈ تھے

پیر 24 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
بلاول بھٹو زرداری کی بات مسلم لیگ والوں کو بری لگی لیکن ہے تو سچ۔ عصر رواں کے نوجوان سیاستدان نے گرجتے برستے نواز شریف کو بھی رگید ڈالا اور کہا کہ وہ بھی ’’سلیکٹڈ‘‘ تھے۔ بالکل وہ تھے لیکن یہ ماضی مرحوم کی بات ہے۔ 1985ء میں انہیں اشرافیہ والے بے نظیر کے مقابلے میں لے کر آئے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد بے نظیر کے ساتھ تھی لیکن ان کے مخالف بھی کم نہیں تھے جو نواز شریف کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نواز شریف اس وقت کوئی لیڈر نہیں تھے، محض ’’سلیکٹڈ‘‘ تھے۔ بھٹو خاندان کے مخالف
مزید پڑھیے


قبول صورت صورتحال

منگل 18 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
صورت حال یہ ہے کہ صورت حالات کا سبھی کو پتہ ہے‘حتیٰ کہ ان کو بھی جو صورتحال کو وجود میں لائے اور صورتحال یہ ہے کہ اس صورت حال کو سبھی نے قبول بھی کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ‘دونوں جماعتوں کا طرز عمل قبول ہے‘قبول ہے والا ہے اور یہ بات اب بالکل عیاں ہو چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا بیان بھی اسی خیال کی تائید کرتا ہے۔انہوں نے فرمایا ہے کہ کسی اور کو لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ یعنی جو ’’موجودہ‘‘ ہے وہ قبول ہے‘اسی
مزید پڑھیے


بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو

پیر 17 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
بجا ارشاد ہوا کہ آٹا چینی کا بحران ہماری کوتاہی کا نتیجہ تھا۔ واردات کا حجم دیکھیے اور پھر کوتاہی کے لفظ کو داد دیجیے… ع کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری ایک سو چالیس ارب روپے کی واردات ہوئی ہے اور یہ ساری رقم غریب قوم کی جیبوں سے نکلوا کر چند پیاروں کے کھاتے بھرے گئے ہیں۔ غریب قوم کی کیا مجال جو اسے ڈکیتی قرار دے سکے۔ اس کی خیریت اسی میں ہے کہ اسے کوتاہی مان لے اور کوتاہی کا کیا‘ ہو ہی جاتی ہے۔ اس بار ہو گئی اب نہیں ہو گی‘اچھا جائو معاف کیا‘
مزید پڑھیے


پانچ پیارے

منگل 11 فروری 2020ء
عبداللہ طارق سہیل
حکومتی وزیر کبھی ظریفانہ بیانات دیتے ہیں اور کبھی ستم ظریفانہ۔ اب اس بیان کو کیا کہیے گا جو ایک ذمہ دار نے دیا ہے۔ ظریفانہ یا ستم ظریفانہ ہے۔ فرماتے ہیں ‘ اپوزیشن اپنے بچائو میں مصروف ہے جبکہ ہم لوگ یعنی حکمران عوام کو خوشحال بنانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بیان جملہ خبر یہ بھی ہے۔ یعنی موصوف یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ عوام کو خوشحال بنانے کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘ انہیں ابھی مزید خوشحال بنایا جائے گا۔ ادھر عوام ہیں کہ خوشحالی کے سیلاب کا پانی ان کے سروں سے
مزید پڑھیے