BN

عبداللہ طارق سہیل



کشمیر پر قریشی صاحب کی حق گوئی


وزیر خارجہ کو جب بھی خطاب کرتے سنا، لکھنؤ کے داستانی نواب صاحب کی یاد آ جاتی۔ اس بار جو سنا تویہ یاد بے تحاشا اور بے ساختہ چلی آئی۔ آزاد کشمیر میں کیا ہی خوب نماز عید ادا کی اور کیا ہی خوب ارشادات ارشاد فرمائے۔ضمیر اور مافی الضمیر کھول کر رکھ دیا اور معاملہ گویا اللہ کی لاٹھی پر چھوڑ دیا جو بے آواز ہوتی ہے۔ نواب صاحب کا قصہ ایک سطر کا ہے۔ گھر میں سانپ نکلا، خادمہ چلائی، حجور، رسی حجور رسی(لکھنؤ میں نواب صاحبان سانپ کے لفظ سے ڈرتے تھے، حکم تھا کہ رسی کہو،
بدھ 14  اگست 2019ء

جو ستر سال میں نہ ہوا

جمعه 09  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
ترک وزیر اعظم کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے کے بھارتی فیصلے پر بھارت سے بات کریں گے۔ معاملات کی شکل نو کے بعد یہ پہلا حرف نیم تسلی ہے جو ہمیں سننے کو ملا ہے۔ نیم تسلی اس لئے کہ ترکی نے ابھی تک بھارتی اقدام کی مذمت نہیں کی اور ناقابل یقین حد تک یہ بھی کہ اس نے ہمارا ساتھ دینے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے ترک وزیر اعظم کو فون کیا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ معاملات کو ترکی غور سے دیکھ
مزید پڑھیے


نیا پاکستان بن رہا ہے

جمعرات 08  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
1971ء میں بنگال غائب تھا، نصف صدی بعد آج پھر کشمیر غائب ہے اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ ابھی مزید بنے گا۔ اس نئے پاکستان پر سب سے زیادہ سخت ردعمل مولانا فضل الرحمن کا آیا ہے اور سب سے نرم جماعت اسلامی کا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان نے کشمیر ٹرمپ کے ہاتھ بیچ دیا۔ حالانکہ ٹرمپ نے کشمیر نہیں خریدا، اس نے تو محض ثالثی کی ہے۔ ثالثی کرانے والے کو اجرت ملتی ہے، قیمت نہیں۔ معاملہ مودی اور عمران کے بیچ ہوا ہو گا، ٹرمپ اور عمران کے درمیان نہیں۔ مسلم لیگ
مزید پڑھیے


کھچڑی پہلے سے تیار تھی

بدھ 07  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کشمیر کی حیثیت تبدیل ہونے والے دن ایک طبقہ بہت دکھی تھا۔ ایک صاحب تو 16دسمبر کے سقوط ڈھاکہ کو یاد کر کے رو پڑے۔ انہوں نے جنرل نیازی کو ’’خراج عقیدت‘‘بھی پیش کیا۔ صرف ایک طبقے کے دکھی ہونے کی بات سچ ہے۔ بہت سے طبقات کو لاتعلق کر دیا گیا ہے۔ ایک سال سے عمران خان کی ریاست مدینہ لوگوں کے بچوں سے منہ کا نوالہ بھی چھین رہی ہے۔ دو وقت کی روٹی نا ممکن ہو گئی ہے۔ ایسے میں لوگوں کو کشمیر یا سقوط ڈھاکہ پر سوچنے کا ہوش ہی کہاں رہتا ہے۔ پنجابی محاورہ ہے کہ
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر‘ضم یا ہضم؟

منگل 06  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اس کا صوبائی وجود بھی مٹا ڈالا اور اسے وفاقی علاقہ بنا دیا جیسے ہمارے ہاں فاٹا ہوا کرتا تھا۔ یہ خبر سال بھر سے متوقع اور چند ہفتوں سے شدید متوقع تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ اس پر خاموش ہیں اور یہ خاموشی بھی متوقع تھی۔ مسلم لیگ ن کی ایک لیڈر نے اس ماجرے پر وزیر اعظم پاکستان کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیاہے۔ وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے مودی جی کی انتخابی فتح کے لئے خواہش ظاہر فرمائی تھی اور یہ توقع بھی کہ وہ پھر
مزید پڑھیے




اب کیا کریں گے علی گیلانی صاحب؟

پیر 05  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد جس طور مسترد ہوئی اسے اس کے علاوہ کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ ھذا شیٌ عجاب۔ کئی اخبارات نے شہ سرخی اسی مضمون کی بنائی اور لکھا کہ اپوزیشن کو حیرت ناک شکست۔ اپوزیشن کی شکست حیرت ناک ہے تو حکومت کی فتح کو کیا عنوان دیا جائے؟ عبرت ناک فتح؟ کئی تجزیہ نگاروں نے اس فتح کو غیبی مدد کا مرہون منت قرار دیا۔ غیبی مدد‘ غیبی ہاتھ یا غیب کی کاریگری۔اب ان کا زمانہ رہا ہی کہاں۔ اب تو بس عالم شہود سامنے ہے۔ شہود و مشہود دونوں ایک پیج پر
مزید پڑھیے


پھر کیا بنے گا؟

جمعه 02  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کسی معاملے پر سب کی رائے ایک نہیں ہو سکتی۔ اس کو نقطہ نظر کا اختلاف کہتے ہیں۔ اب اس نقطے ہی کو لے لیجیے اور تین دن پہلے کی بات ہے‘ ایک ٹی وی پر کسی صاحب کے بیان کا ٹکر ان الفاظ میں چلا کہ فلاں ایشو پر ہمارا نکتہ نظر یہ ہے۔ یعنی دیکھ لیجیے‘ اس پر بھی اختلاف ہو گیا کسی کا ’’نقطہ نظر ‘‘ہے تو کسی کا ’’نکتہ نظر‘‘۔ انگریزی میں لکھئے تو یوں کہیں گے کہ فلاں کا ’’پوائنٹ آف ویو‘‘ یہ ہے اور فلاں کا’’ ڈاٹ آف ویو‘‘ اس طرح ہے۔ خیر‘ کہنے
مزید پڑھیے


خطرے کی گھنٹیاں

جمعرات 01  اگست 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
رواں ہفتے بھارت نے مزید دس ہزار فوج مقبوضہ کشمیر بھیج دی۔پچاس ہزار پہلے ہی وہاں ہے۔ برطانوی ریڈیو نے لکھا ہے کہ مقبوضہ وادی میں دو طرح کی قیاس آرائی ہے۔ ایک یہ کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے والی ہے جس پر احتجاج کا ڈر ہے۔ دوسری یہ کہ بھارت کو خطرہ ہے کہ پاکستانی علاقے سے جہادی عناصر وادی میں کوئی دہشت گردی کرنے والے ہیں۔ دوسری قیاس آرائی تو یکسر مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان اب تبدیل ہو چکا ہے۔ جہادی رہے نہ عناصر‘ کوئی کارروائی کہاں سے ہوگی۔ ہاں‘ بھارت خود ڈرامہ
مزید پڑھیے


خاں صاحب سنئے تو……

بدھ 31 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
پی ٹی آئی کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ کم بیش ہر ایک کا خطاب پہلے ہی سے لوگوں کو پتہ ہوتا ہے۔ خاں صاحب ہوں یا مراد سعید، فردوس عاشق ہوں، ایک ہی آموختہ ہے جو برسہا برس سے پڑھ رہے ہیں۔ ہاں، فواد چودھری کا ایک استنثنیٰ ہیں۔ گاہے گاہے آموختے میں کسی نہ کسی نئے پیراگراف کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً حال ہی میں فرمایا کہ پاکستان اگلے ایک دو برسوںمیں ایک شہری کو خلا پر بھیجے گا۔ ہر ’’انکشاف‘‘ کی طرح اس پر بھی لوگوں نے حیرت ظاہر کی حالانکہ کوئی اتنا بڑا دعویٰ بھی
مزید پڑھیے


بھنور کی آنکھ کھلنے کو ہے

منگل 30 جولائی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
خود احتسابی ہو تو ایسی اور بھی اتنی جلدی کہ بس تیسرے ہی دن خود اپنا ہی نوٹس لے لیا۔ اور خیر سے یہ تو ایک اعزاز ہے‘ دوسرا یہ کہ کابینہ کا ’’فل کورس‘‘ اجلاس ہوا‘ اس یک نکاتی ایجنڈے پر کہ قلمکار جو استاد بھی ہے کس کیس میں پکڑنا ہے۔ بھانت بھانت کی تجویز بھی زیر غور آئی کہ نہیں کہ جس ’’مال‘‘ کی برآمدگی پر فیصل آباد والی مشہور زمانہ گرفتاری کی گئی تھی‘ وہی مال قلمکار کی لائبریری سے بھی پکڑ لیا جائے۔ بہرحال اتنی اطلاع مصدقہ ہے کہ جس وزیر نے حلف اٹھاتے یہ
مزید پڑھیے