BN

بیرسٹرعلی ظفر


انسدادعصمت دری کا قانون


اپنے ایک کالم ’نظام کی اصلاح کریں‘ میں میں نے کہا تھا کہ صرف سزاوں میں سختی مجرموں کو جنسی جرائم سے نہیں روک سکتے؛ اس سلسلے میں ہمیں مجرموں کو پکڑنے ، ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور انہیں سزا دینے کے عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہمارے نظام عدل میں بہت پیچیدہ سقم پائے جاتے ہیں،جس کی وجہ سے بعض اوقات عدم رپورٹنگ کی بنا پرمجرم کی یا تو گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکتی یا اگر اسے پکڑ بھی لیا جائے تو سز ا نہیں دی جاتی ۔ اس صورت حال میں جرائم پیشہ
بدھ 23 دسمبر 2020ء

قانون کی بالادستی اور وزیر اعظم کا عزم

هفته 10 اکتوبر 2020ء
بیرسٹر علی ظفر
پاکستان کی جمہوری تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو سوائے مایوسی اور کوتاہ نظری کے کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے اقتدار کے لیے سیاست میں ایسے خلا پیدا کیے جن میں آمریت باآسانی سما گئی ۔دوسری طرف اشرافیہ ہے جس نے سیاست دانوں کے ساتھ مل کر ایسی ملک دشمن پالسیاں بنوائیں کہ ملک کے پہلے تو دوٹکڑ ے ہوئے، پھر اس کی معیشت امریکی قرض دینے والی ایجنسیوں کے ماتحت آگئی۔ ساٹھ کی دہائی گو کہ ایک آمر کی حکمرانی کی داستان ہے لیکن جس ترقی سے پاکستان اس دور میں
مزید پڑھیے


ثقافتی صنعت

هفته 03 اکتوبر 2020ء
بیرسٹر علی ظفر
سینما کی طلسماتی دنیا انسان کی حقیقت پسندی کی جبلت پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ارطغرل ڈرامے کے کرداروں کومغربی لبا س میں دیکھا تو پاکستانی عوام تلملا اٹھی ۔کیونکہ وہ ان کرداروں کو سر تا پا کپڑوں میں ملبوس دیکھنے کے عادی تھے اور مانوس بھی۔اسی طرح ہالی ووڈ نے امریکہ سے مطلق ایک خیالی دنیا بنا رکھی ہے جس کے مطابق امریکہ کا ہر شہری نہ صرف برائی کے خاتمے کے لیے ہر وقت مستعد نظر آتا ہے بلکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرداروں سے بھی با آسانی نبرد آزما ہونے
مزید پڑھیے


متوازی ثقافت

هفته 26  ستمبر 2020ء
بیرسٹر علی ظفر
امریکہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ ہنری کسینجر نے اپنی کتاب "World Order" میں کہا تھاکہ اشیاء میں باہم اتحاد مبہم ہو تا ہے جس کا اظہار متضاد قوتوں کے درمیان توازن ہی سے ممکن ہے۔ ہمارے عہد کا ہدف بھی اسی توازن کا حصول ہونا چاہیے ۔ اور ہمیںیہ ہدف تاریخ کے تیزی سے بہتے دھارے میںکرنا ہو گا۔ ہنری کسینجر کا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں تقسیم ہونے کے بجائے ایک نئی ثقافت کی طرف اکٹھا ہونا ہوگا تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر امن حاصل کیا جا سکے۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں ایک بحث
مزید پڑھیے


او افتخار

هفته 12  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں نسلی ، مذہبی اور فرقہ واریت کی تفریق سے پیدا ہونے والی ممکنہ باہمی چپقلیش کو بھانپتے ہوئے قائد اعظم نے اتحاد ، ایمان اور تنظیم جیسے ااصولوں کو وضع کیا ۔منقسم معاشرے کا تصور قائد کے یہاں تھا ہی نہیں۔ ضیاء الحق کے زمانے میں ہم نے دیکھا کہ کیسے بیرونی اور اندرونی موقع پرست طاقتوں نے ملک میں جاری افراتفری کو ہوا دی۔ دہشت گردی نے تو ہمیں حالات کی پست ترین سطح پر پہنچادیا جب ملک بھر میں قتل و غارت سے بڑے پیمانے پر خون بہایا گیا۔ ہمیں اندازہ ہو ا کہ دشمن
مزید پڑھیے



تنازع کشمیر کا قانونی پس منظر …(حصہ دوم)

منگل 01  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بھارت کا کشمیر پر غیرقانونی قبضہ الحاق سے مشروط ہے،جو بذات خود قابل اعتراض مسودے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ حقِ خودارادیت کی بات کی ہے۔ پاکستانی موقف کی تائید نہرو نے خود بھارتی پارلیمنٹ اور سلامتی کونسل میں کی ۔بھارت کا مقدمہ کشمیر زمین کے ٹکڑے کی ملکیت پر منحصر ہے جبکہ پاکستان قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں پر اس مقدمے کا حل چاہتا ہے۔ یہ جنگ انسانی حقوق اور زمینی قبضے کے درمیان ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ آخر کار جیت اصول ہی کی ہوتی ہے۔ جبر سے لوگوں کو طویل عرصے
مزید پڑھیے