BN

عمر قاضی


بینظیر کیسی تھی؟


بینظیر کیسی تھی؟ سوال کتنا سادہ اور مختصر ہے۔ اور جواب کتنا مشکل اور طویل ہے۔ اس سوال کا حق ان انسانوں پر زیادہ ہے جنہوں نے اس کو دیکھا تھا۔ مسکراتے،ہنستے ،جذبات میں مکے لہراتے اور خاموش۔ اتنی خاموش جتنا خاموش ایک میم کا مجسمہ ہوتا ہے۔ لندن کے مادام تساد مومی گھر میں چلتے ہوئے وہ ایک مجسمے کے آگے کافی دیر تک رکی رہیں۔ ان کے ذاتی دوست اور پارٹی کے سینئر رہنما نے ان سے پوچھا کہ بی بی کیا سوچ رہی ہیں؟ بینظیر بھٹو نے بہت دھیرے سے جواب دیا ’’مجھے لگتا ہے کہ میں بھی موم
پیر 21 جون 2021ء مزید پڑھیے

سندھ کا سیاسی آسمان اور پیپلز پارٹی کا سورج

پیر 14 جون 2021ء
عمر قاضی
مجھ سے مت کہہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے غالب کے اس شعر کی مانند سندھ کا متوسط طبقہ آج کل پیپلز پارٹی کی مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار نظر آ رہا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ’’اگر پورے پاکستان نے بھی اس پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تب بھی سندھ مذکورہ پارٹی کے ساتھ جڑارہے گا‘‘ مگر اس بار تو ہمیں پیپلز پارٹی کے سلسلے میں شیخ ایاز کی یہ بات درست ہوتی نظر آ رہی ہے کہ : ’’میں
مزید پڑھیے


پانی رے پانی

پیر 07 جون 2021ء
عمر قاضی
اس وقت توسندھ کا سوشل میڈیا اس نوجوان کا سوگ منانے میں مشغول ہے جس نے گذشتہ روز دریائے سندھ سے نکلنے والے روہڑی کینال میں خودکشی کی۔ اس نوجوان کا نام انعام میمن تھا۔ وہ ڈاکٹر تھا۔ کس غم کو ڈبونے کے لیے وہ خود ڈوب گیا؟ کوئی نہیں جانتا۔اس نے اپنے موبائل میں اپنی خودکشی کا سارا منظر ریکارڈ کیا ہے۔ وہ ویڈیواب وائرل ہو چکی ہے۔ خودکشی سے قبل ڈاکٹر انعام میمن بار بار کہہ رہے تھے کہ میں خوش ہوں۔ مگر کیا کوئی شخص خوشی سے اپنے جیون کا دیا بجھاتا ہے؟اس ویڈیو کو میں نے
مزید پڑھیے


سندھ اور ڈاکو راج

پیر 31 مئی 2021ء
عمر قاضی
سندھ کے تاریخی شہر شکارپور کے قریب دریائے سندھ کے کنارے جو جنگل بچا ہے،اس وقت وہ علاقہ ڈاکوؤں کی آخری پناہ گاہ ہے۔ ہم اس دور کی بات نہیں کر رہے، جب سندھ کا نام آتے ہی ڈاکوؤں کا ڈر دل و دماغ میں دوڑ جایا کرتا تھا۔ اس دور میں سندھ کے ہر جنگل میں ڈاکو تھے اور وہ ڈاکو آسمان سے پیراشوٹ کے ذریعے نہیں اترے تھے۔ان ڈاکوؤں کی فصل سیاسی مقاصد کے لیے بوئی گئی تھی۔ ڈاکو پیدا کرکے سندھ میں زندگی کی فطری رفتار روکی گئی۔ ویسے تو سندھ میں ایسا کوئی دور
مزید پڑھیے


اجرک میں لپٹی ہوئی دس لاشیں

اتوار 23 مئی 2021ء
عمر قاضی
سخت گرمی اور دھوپ کی وجہ سے وہ قبریں تو اب تک سوکھ گئی ہوںگی، مگر ان اہل خانہ کی آنکھیں اب تک گیلی ہیں۔ جب اجرکوں میں لپٹے ہوئے دس لاش اٹھائے گئے تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں مگر کون سی جمہوریت؟ وہ جمہوریت جس نے برادری اور قبائلی نظام کو کمزور کرنے کے بجائے اور مضبوط کیا ہے۔ ہم قانون کی بات کرتے ہیں مگر کہاں ہے قانون؟ اگر قانون ہوتا تو ایک ہی گھر سے دس جنازے نکلتے؟ ہم انصاف کی بات کرتے اگر انصاف ہوتا تو ایک گھرانہ قبرستان نہ
مزید پڑھیے



سندھ کی روکھی سوکھی عید

اتوار 16 مئی 2021ء
عمر قاضی
’’لاک ڈاؤن کے دوراں ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے سندھ نے عید کس طرح منائی؟‘‘ سندھ کے پاس اس سوال کا جواب ایک اداس مسکراہٹ ہے۔ جب ہم سندھ کی بات کرتے ہیں تب ہم ان پیروں؛ میروں؛ وڈیروں اور وزیروں کی بات نہیں کرتے جن کے جیبوں میں ہر دن اور وقت نئے اور کڑک نوٹ ہوتے ہیں۔ سندھ تو ان غریبوں اور کسانوں کا نام ہے جو روزے تو پورے رکھتے ہیں مگر عید کی خوشیاں نہیں منا سکتے۔ وہ لوگ عید پر ربڑ کی چپل خریدتے ہیں اور کپڑوں کا سادہ سا جوڑا سلواتے ہیں اور
مزید پڑھیے


وبا کے دن اور عید کا سیزن

اتوار 09 مئی 2021ء
عمر قاضی
دلی کے لیے یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ بھارت کی راجدھانی یعنی دارالحکومت ہے۔ دلی کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں اور اردو ادب کی جو یادیں وابستہ ہیں۔وہ کسی طور پر بھلائی نہیں جا سکتیں۔ دلی کے لیے سکھ صحافی خشونت سنگھ نے اپنے مشہور ناول ’’دلی‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’دلی شہر اس عورت جیسا ہے جس کے ساتھ رہنا بھی مشکل ہے اور جس کو چھوڑ جانا بھی آسان نہیں‘‘ اگر بات مغل سلطنت سے شروع ہوگی تو بات بہت لمبی ہو جائے گی، ہم دلی کو اگر میر تقی میر کے دل اور مرزا غالب
مزید پڑھیے


سیاست اور تجارت

پیر 03 مئی 2021ء
عمر قاضی
وہ دن اہلیان کراچی کے لیے کافی پریشان کن تھا۔ جس دن فیصل واوڈا کی خالی ہونے والی سیٹ این اے 249پر ضمنی انتخابات تھے۔ اس دن رمضان المبارک کا16واںروزہ تھا۔ چند دنوں سے کراچی ویسے بھی سورج کے نزدیک آگیا تھا۔ کورونا کی تیسری لہر کے دوران اب کووڈ ویکسین سینٹرز پر رش زیادہ ہے اس لیے این اے 249کے پولنگ بوتھ سنسان پڑے تھے۔ مسلم لیگ ن کراچی میں نہ تو منظم ہے اور نہ متحرک ہے۔ اس لیے ان کی ہار پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئیے تھی ۔ پچھلی با ر اگر مسلم لیگ ن
مزید پڑھیے


کوئٹہ کے آنسو کب تھمیں گے؟

اتوار 25 اپریل 2021ء
عمر قاضی
ہم اس عمر کو آ پہنچے ہیں کہ ہر شہر میں چند دوست ہیں، جب بھی کسی شہر کے حوالے سے کوئی بری خبر ٹی وی اسکرین پر لہراتی ہے، تو اس شہر میں ان دوستوں کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ جب میں نے کوئٹہ کے مشہور ہوٹل سیرینا کے بارے میں سنا ،کہ وہاں دہشت گردی کی واردات ہوئی ہے ،تو مجھے فوری طور پر ہوٹل کے مینیجر اور اپنے دوستوںکی فکر لاحق ہوگئی۔ دوستوں کی خیریت معلوم کرنے کے بعد دل اچانک کسی انجانے احساس کے وزن تلے دب گیا اور میں سوچنے لگا کہ جو لوگ
مزید پڑھیے


یہ آگ کب بجھے گی؟

اتوار 18 اپریل 2021ء
عمر قاضی
پاکستان کے صوفی ادیب اور ڈرامہ نگار اشفاق احمد سے ان کے لکھنے کے بارے میں بہت پوچھا گیا، مگران کا کوئی ایسا اخباری یا ٹی وی انٹرویو نہیں ہوا، جس میں ان کے مطالعے کے حوالے سے ان سے پوچھا جاتا کہ کون کون سے ملکی اور غیر ملکی ادیب ان کو اچھے لگے اور کیوں؟ مجھے یاد آ رہا ہے کہ انہوں نے امریکی ادیب ہیمنگوے کے ایک ناول Farewell to Arms کا اردو ترجمہ ’’وداع جنگ‘‘ کے عنوان سے کیا تھا۔ وہ خوبصورت اور روانی سے بھرپور ناول آج مجھے اس وقت شدت سے یاد آ رہا
مزید پڑھیے








اہم خبریں