BN

عمر قاضی


اقبال کا کلام اور ملکی سیاست


موسم خزاں تو اب آیا ہے مگر ہماری ملکی سیاست پر ایک عرصے سے پت جھڑ کے سائے ہیں۔ اب تو اس ملک کے عوام نے یہ پوچھنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ بہار کب آئے گی؟ ملک سے سیاسی حالات جب بھی دگرگوں ہونے لگتے ہیں۔ اقتدار کی ہوس جب سیاستدانوں سے آنکھوں کا نور چھین لیتی ہے۔ جب ملک کو لوٹنے والے ملک کے مہربان ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ تب اس قلمکار کو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر موجودہ حالات میں علامہ اقبال ہوتے تو وہ کیا سوچتے اور کیا بولتے؟ کس قسم کے اشعار لکھتے؟
جمعه 16 اکتوبر 2020ء

سیاست،ساحل اور جزیرے

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ کی سیاست اس وقت جزیروں پر محدود ہوگئی ہے۔ وہ جزیرے جو کراچی کے ساحل سمندر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو کشتی میں پونے گھنٹے تک سفر کرنا پڑے گا۔ ان جزائر میں سب سے بڑے جزیرے کا نام ’’بھنڈار‘‘ ہے۔ بھنڈار آج نہیں بلکہ کافی وقت سے لینڈ مافیا کی آنکھوں میں تیر رہا ہے۔ وہ یہاں پر ایک مہنگا ترین شہر آباد کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ مشرف کے دور میں جب سندھ کا وزیر اعلی ارباب رحیم تھا، اس وقت بھی اس ایشو نے سر اٹھایا تھا
مزید پڑھیے


لسانی سیاست اور سچل سرمست

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک بار پھر لسانی سیاست کی ہوا چل رہی ہے۔ ہم جیسے سادہ دل لوگوں نے سمجھا تھا کہ الطاف حسین کے بعد لسانی فتنے اپنے موت آپ مرجائیں گے مگر فتنے اب بھی جاری ہیں۔ سیاست کی بنیاد اب تک نفرت ہے۔ اس لیے آج نفرت کی سیاست کے بارے میں اچھے الفاظ کی توہین کرنے کے بجائے آئیں اور سندھ کے ایک عظیم صوفی شاعر سچل سر مست کے بارے میں بات کریں۔ سندھ ایک گدڑی ہے۔ اس گدڑی میں بہت سارے لعل ہیں۔ سندھ کے سب سے بڑے لعل لطیف سائیں ہیں۔ مگر
مزید پڑھیے


متبادل کا منتظر

جمعه 25  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
اسلام آباد یا لاہور یا پشاور میں اب جو کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ ’’سیاسی طور پر سندھ کیا کر رہا ہے؟‘‘ تو میں بڑی اداس مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتا ہوں کہ ’’انتظار‘‘۔ جو دوست جلدی میں ہوتا ہے وہ مزید نہیں پوچھتا اور جن کو جلدی نہیں ہوتی وہ پوچھتے ہیں ’’کس کا انتظار‘‘ تو میں کہتا ہوں ’’متبادل کا‘‘ ۔جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے ’’کس کا متبادل‘‘ میں کہتا ہوں ’’پیپلز پارٹی کا متبادل‘‘۔ میرے اکثر غیر سندھی دوست یہ جواب سن کر ذرا حیران ہوجاتے ہیں اور کچھ پریشان ہوکر پوچھتے ہیں کہ ’’کیا
مزید پڑھیے


کراچی ہم سب کا ہے

جمعه 18  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
کراچی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ اس کمیٹی کا آفیشل نام اب صوبائی رابطہ اور عمل درآمد کمیٹی (PCIC)ہے۔ یہ کمیٹی کراچی کے زخموں کی کتنی رفوگری کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب حال کے پاس نہیں۔ اس سوال کا جواب مستقبل ہی دے سکتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کراچی کو پھر سے قابل رہائش شہر بناسکتی ہے یا نہیں؟ پیپلز پارٹی پر جب بھی سیاسی دباؤ میں آتی ہے تب وہ سندھ کارڈ اٹھا لیتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوا۔ مگر ملک چلانے والوں نے سندھ کی حکمران جماعت کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ
مزید پڑھیے



من چلے کا سودا

جمعه 11  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
اشفاق احمد کی برسی کتنی خاموشی سے گزرر گئی؟ بالکل دبے پاؤں۔ ایسی چال سے کہ کسی کو پتہ تک نہ چلے۔ بے آواز۔ وہ خود چاہتے بھی یہی تھے۔ ان کو خوامخواہ کا شو رشرابا پسند بھی نہیں تھا۔ انہوں نے تو زندگی بھی خاموشی سے گزاری۔ ان کی یہ تمنا تھی کہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں تو انہیں چالیس توپوں کی سلامی دی جائے۔ وہ انتہائی سادہ اور پروقار انسان تھے۔ وہ صحیح معنی میں مہذب شخص تھے۔ مہذب انسان کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کو زیادہ شور پسند نہیں ہوتا۔ان
مزید پڑھیے


کراچی کے وائٹ کالر کرمنلز

جمعه 04  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
یہ مون سون اہلیان کراچی کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بھیانک خواب حقیقت بن سکتے ہیں۔ کراچی والوں نے شہری سیلاب کا صرف نام سنا تھا۔ اس بار انہوں نے نہ صرف شہری سیلاب کو دیکھا بلکہ اسے بڑی تکلیف سے بھگتا۔ اس کالم میں راقم الحروف اس کراچی کی بات نہیں کر رہا جو تھوڑی سی بارش میں بھی ڈوب جاتا ہے۔ ہم کراچی کے ان نشیبی علاقوں کی بات نہیں کر رہے جو سطح سمندر سے نیچے ہیں۔ جہاں بجلی جانے کے بہانے تلاش کرتی ہے۔ وہ کراچی تو بارش کے بغیر
مزید پڑھیے


ہم کہ ٹھہرے اجنبی

جمعه 28  اگست 2020ء
عمر قاضی
کل ایک شخص کی 15ویں برسی تھی،ایک طرف وہ اپنے قبیلے کا سخت سردار تھا۔ دوسری طرف اس کی پارٹی کا نام ’’جمہوری وطن پارٹی‘‘ تھا۔ اب کوئی بتا سکتا ہے کہ جمہوریت اور سرداری کے درمیان کون سی چیز مشترک ہے؟ جمہوریت توسرداری اور جاگیرداری کی جڑ کو کاٹنا چاہتی ہے۔سردار اور جاگیردار جمہوریت سے فطری طور پر نہ صرف خائف ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے عمل سے اس نظام کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ مگر اس شخص کو اپنی پارٹی کا یہ نام اچھا لگا۔ وہ شخص جس کی پارٹی بلوچستان تک محدود تھی۔وہ شخص جس کی
مزید پڑھیے


کراچی اور پیپلز پارٹی

جمعه 21  اگست 2020ء
عمر قاضی
ایک طرف اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کی طرف مظاہرے ہو رہے تھے۔ ان مظاہروں میں شامل لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ ’’کراچی پر قبضہ نامنظور‘‘ اور ’’وفاق والو کراچی سندھکاہے‘‘ اور دوسری طرف سوٹ اور ٹائی میں ملبوس سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کر رہے تھے۔ حالانکہ انہیں یہ موقع بھی حاصل تھا کہ مذکورہ ملاقات کے لیے وہ شانوں پر اجرک اور سر پر سندھی ٹوپی سجا کر جاتے مگر وہ جانتے تھے کہ اب اسلام آبادمیںسندھ کارڈنہیںچلتا۔ اس لیے انہوں نے نہ
مزید پڑھیے


قومی آزادی کا دن اور کاچھو کے کسان

جمعه 14  اگست 2020ء
عمر قاضی
آج 14 اگست کا دن ہے۔ پوری قوم آزادی کی خوشیاں منا رہی ہے۔ اس قومی مسرت کے دن پر ہماری قوم کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جو بہت اداس اور بیحد غمگین ہیں۔ وہ لوگ بھی اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر قومی عید منانا چاہتے ہیں مگر وہ مجبور ہیں۔ اس قومی دن کی خوشیوں میں ہمیں اپنے اداس اور مایوس ہم وطنوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی قوم کے غمگین لوگوں میں وادی مہران کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ہمارے میڈیا نے ہمیں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
مزید پڑھیے