BN

عمر قاضی


وطن میں جلاوطن


بھارت بہت تیزی سے ہندوریاست میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بھارتی مسلمان شدت کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس محسوس کر رہے ہیں۔ نریندر مودی نئے دور کا ہٹلر بننے کے طرف بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا نہیں بلکہ تیسرے درجے کا شہری بنا کر دم لے گی۔ بی جے پی کے ارادوں کے سامنے بھارت کا حزب اختلاف کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ کانگریس ایک برائے نام پارٹی بن چکی ہے۔ اگر کانگریس میں دم خم ہوتا تو وہ بی جے پی کی
جمعه 03 جنوری 2020ء

بینظیر بھٹو کو کارڈ مت بناؤ

جمعه 27 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
پھر وہی سرد دسمبر اور پر درد دسمبر۔ کھوئی ہوئی محبت کی یادیں۔ کچھ باتیں جن کو بھولنا ممکن نہیں۔سال کے اس آخری ماہ میں ہم سے بہت سارے پیارے پیارے لوگ بچھڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو ہم بھول جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن لوگوں کے بارے میں فیض صاحب نے لکھا ہے: ’’بہار آئی تو جیسے یکبار /لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے/وہ خواب سارے شباب سارے/جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے/جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے/نکھر گئے ہیں گلاب سارے/جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں/جو تیرے عشاق کا لہو ہیں/ابل پڑے
مزید پڑھیے


چھٹے اسیر تو۔۔۔۔۔۔!!

جمعه 20 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
اصولی طور اب پیپلز پارٹی کو یہ بات کبھی نہیں کہنی چاہئیے کہ انصاف کے ایوان میں سندھ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کے قانون کو پنجاب سے زیادہ پیار ہوتا صرف نواز شریف اور مریم نواز ہی نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی اور سعد رفیق کے ساتھ رانا ثناء اﷲ بھی رہا کیے جاتے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی کے صرف آصف زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ساتھ آزاد نہیں ہوئے بلکہ سید خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو بھی ضمانت مل چکی ہے۔ جب کہ ملکی میڈیا کو معاشی بحران میں
مزید پڑھیے


کراچی کی دعا

پیر 16 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
وہ سات دن صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے شہر کے لیے انتہائی اذیت ناک تھے۔ وہ ہر گھر بہت پریشان تھا جس میں بیٹی تھی۔ وہ سب لوگ اپنی بیٹیوں کی صورت میں اس دعا منگی کو دیکھ رہے تھے جس کو کراچی کے انتہائی پوش علاقے ڈیفنس سے اغوا کیا گیا۔ اس وقت دعا منگی کے ساتھ اس کا دوست حارث سومرو بھی تھا۔ وہ حارث سومرو جو ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کیوں کہ اغواکاروں نے دعا کو اغوا سے بچانے کے لیے مزاحمت کرنے والے حارث سومرو کے گلے میں گولی اتار
مزید پڑھیے


بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔!!

جمعه 13 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
یہ حقیقت ہے کہ آصف زرداری میاں نواز شریف سے زیادہ علیل ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاق پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما کی لاش کو سندھ بھیجنا افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ صحت کی بنیاد پر میاں نواز شریف کی ضمانت کے بعد حکومت نے آصف زرداری کی رہائی کا اشارہ دے دیا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ آصف زرداری کا نام ای سی ایل سے ہٹایا جائے گا یا نہیں؟ اگر نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی سہولت میسر ہو سکتی ہے تو آصف زرداری کو کیوں نہیں؟ مگر اس سے اہم سوال یہ ہے
مزید پڑھیے



کوئٹہ کیا سوچتا ہوگا؟

جمعه 29 نومبر 2019ء
عمر قاضی
وقت کے ساتھ دنیا کے شہر خوبصورت ہوتے جاتے ہیں اور ہمارے شہر اپنا حسن گنواتے نظر آتے ہیں۔ یہ احساس مجھے اس وقت بھی ہوتا ہے جب میں اسلام آباد آتا ہوں اور اس کھوئے ہوئے شہر کو یاد کرتا ہوں جو دن کے وقت بھی کسی معصوم بچے کی طرح فطرت کی آغوش میں سویا نظر آتا تھا ۔ اب تو اس شہر کو رات کو بھی نیند نہیں آتی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور افسران اعلیٰ کی سوچ بھی اس بلڈر مافیا جیسی ہے جو سیمنٹ اور سریے کو ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیے


کھوکھلے لوگ

جمعه 22 نومبر 2019ء
عمر قاضی
مولانا فضل الرحمان نے اپنے دھرنوں سے کیا کھویا؟ کیا پایا؟اب نواز شریف واپس لوٹیں گے یا نہیں؟وہ رعایت جو میاں کوملی؛ کیا وہ رعایت زرداری کو مل پائے گی؟تحریک انصاف کی حکومت کی نئی حکمت عملی کیا ہوگی؟کیا مریم نواز اپنی خاموشی کو ختم کریں گی؟کیا بلاول بھٹو زرداری حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے؟کیا وہ مشکلات پیدا کرنے کے ہنر سے آگاہ ہیں؟کیا عوامی نیشنل پارٹی دوسرا جنم لے سکے گی؟کیا بلوچستان کے بطن میں ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے؟کیا کشمیر پر کڑک پالیسی منظر عام پر آئے گی؟کیا الطاف حسین اپنی تباہ شدہ کشتی
مزید پڑھیے


عمران خان! تھر کے موروں کی پکار سنیں!

جمعه 15 نومبر 2019ء
عمر قاضی
وہ کوئی بہت بڑا پہاڑ نہیں جس کی چوٹی کو سر کرنے کے لیے کوہ پیما زندگی داؤ پر لگادیں۔ وہ کوئی ایسا پہاڑ بھی نہیں جس میں سونے اور چاندی کے ذخائر ہوں۔ اس پہاڑ سے تیل تو کیا پانی بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ کوئی ایسا بلند پہاڑ نہیں جس کی چوٹی آسمان کو چھوتی ہو۔ جس پر موسم سرما میں برف گرے اور موسم گرما میں وہ برف پگھلے اور پانی کی صورت بہے۔ وہ تو صحرائے تھر کی پیاسی دھرتی کا ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے مگر یہ الگ بات ہے کہ وہ پہاڑ
مزید پڑھیے


کشمیر کو مت بھولیں

جمعه 01 نومبر 2019ء
عمر قاضی
وہ سرد جنگ کا سیاسی دور تھا جب ہر عمل اور ہر سوچ میں سازش تلاش کی جاتی تھی ۔ وہ دور گذر چکا ہے۔ مگر ہم اب تک اس دور کے اثرات سے آزاد نہیں ہو پائے۔ ہم اب تک مختلف سیاسی اعمال کے پیچھے سیاسی سازشوں کو تلاش کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ کچھ تجزیہ نگار مولانا فضل الرحمان کی آزادی مارچ میں علاقائی سازش کی پرچھائیاں دیکھ رہے ہیں اور کچھ سیاسی حلقے مذکورہ مارچ کو ایک ایسی اسموک وال قرار دے رہے ہیں جس کے پیچھے ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ ہو
مزید پڑھیے


سندھ میں تعلیمی اداروں کی تباہی

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
عمر قاضی
وہ دھان پان سی ہندو لڑکی اب تو اپنی چتا پر جل کر راکھ ہوگئی ہے مگر اس کے ناگہانی موت کا دکھ اب تک سندھ کے سوشل میڈیا میں موجود ہے۔ اس ہندو لڑکی کا نام نمرتا تھا۔ وہ لاڑکانہ کے ’’آصفہ ڈینٹل کالج‘‘ کے آخری سال کی طالبہ تھی۔ گذشتہ ماہ اس کی لاش ہاسٹل کے کمرے سے ملی۔ اس کے پراسرار موت کو خودکشی قرار دیا گیا مگر سندھ کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اس بات سے انکار کرتے رہے کہ ڈاکٹر نمرتا نے خودکشی کی ہے۔ وہ سب یہ تلخ حقیقت قبول کرنے کے
مزید پڑھیے