BN

عمر قاضی


پیپلز پارٹی کی آخری سانسیں


ایک وقت ایسا تھا جب چانڈکا سے لیکر چترال تک صرف پیپلز پارٹی کے پرچم ہوا میں لہراتے نظر آتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاسی جماعتیں جھنڈے لگوانے کے لیے مزدوروں کو معاوضہ نہیں دیا کرتی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے جیالے ببول کے درختوں پر پارٹی کے پرچم لگاتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے کارکنان ننگے پیروں کے ساتھ موٹر سائکلوں کے سائلنسروں پر کھڑے ہوکر نعرے لگاتے تھے۔ وہ نعرے سننے میں بہت اچھے لگتے تھے۔ ہر صوبے میں الگ الگ نعرے گونجتے تھے۔ سندھ میں ’’جیئے بھٹو
جمعه 17 مئی 2019ء

مزار قلندر سے داتا دربار تک

جمعه 10 مئی 2019ء
عمر قاضی
دہشتگردوں نے ایک بار پھر داتا دربار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ نو برس قبل 2010ء کے گرم موسم میں داتا دربار کے اندر داخل ہو خودکش حملہ کیا گیا تھا۔ اس میں 40 سے زیادہ افراد زندگی سے بچھڑ کر موت کی وادی میں اتر گئے تھے ۔ جب کہ گذشتہ روز دہشت گردوں نے داتا دربار کے باہر کھڑی قانون نافذ کرنے والے الیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 9 افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ جب کہ دو خواتین سمیت 25 افراد سمیت زخمی ہیں۔ پاکستان کے ایک عرصے سے
مزید پڑھیے


بلاول ہاؤس خاموش ہے

جمعه 03 مئی 2019ء
عمر قاضی
پانچ برس پاکستان اور گیارہ برس سندھ میں حکومت کرنے کے بعد پیپلز پارٹی نے عوام کی کتنی خدمت کی؟ اس کا اصل جواب آپ کو لاڑکانہ کے وہ راستے دینگے جن پر گٹروں کا پانی ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ لاڑکانہ شہر سے جو راستے نکلتے ہیں ان راستوں میں ایک راستہ ذوالفقار علی بھٹو کے گاؤںنوڈیرو کی طرف بھی جاتا ہے۔ اس نوڈیرو کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بچوں میں جو خاندانی ملکیت بانٹی تھی؛ اس میں نوڈیرو کا بنگلہ بینظیر کے حصہ میں آیا تھا۔ اب آصف زرداری یا ان کا
مزید پڑھیے


سندھڑی دا شہباز قلندر

هفته 27 اپریل 2019ء
عمر قاضی
اپریل کا مہینہ اس بار سندھ پر کچھ مہربان ہوا ہے ورنہ یہ وہ دن ہوتے ہیں جب دھرتی آگ اگلتی ہے اور آسمان سے آگ برستی ہے۔ یہ وہ دن ہوتے ہیں جب گرمی کا گراف اوپر اٹھنے لگتا ہے۔ مگر یہ ہی تو موسم ہے جس میں لوگ مست ہوکر سیہون کی اس دھرتی پر دھمال ڈالنے کے لیے آتے ہیں؛ جو دھرتی انگاروں سے دہکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کی عقیدت اور محبت ہے جوانہیں نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک سے کھینچ لاتی ہے۔ وہ لوگ سیہون تک سفر اور قلندر شہباز کی نگری
مزید پڑھیے


حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

منگل 23 اپریل 2019ء
عمر قاضی
کوئی نام آنکھوں میں اس طرح روشنی پیدا کرتا ہے جیسے رات کی طویل تاریکی کے بعد مشرق میں نور نکھرنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا نام ایک ایسا نام ہے۔ وہ شخص اب ہم سے بچھڑ چکا ہے ۔ اس کے بچھڑنے پر کوئی شور برپا نہیں ہوا۔ میڈیا نے اس طرح بریکنگ نیوز پیش نہیں کی جس طرح کسی نیب کے ڈر سے خودکشی کرنے والے شخص کی خبر پیش کی جاتی ہے۔ جس خبر کے حوالے ماہرین سے معلوم کیا جاتا ہے کہ ان کی وفات سے ملک کے سیاسی حالات پر کس طرح کے اثرات مرتب
مزید پڑھیے



وجود سندھ کا سوال

جمعه 19 اپریل 2019ء
عمر قاضی
سندھ میں جب بھی سیاسی حالات پرامن ڈگر پر پاؤں رکھتے ہیں تب اس جماعت کی جانب سے سندھ میں دو صوبوں کاشوشہ چھوڑا جاتا ہے جو کل پیپلز پارٹی کے اور آج تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔وہ جماعت اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان میں تاریخ سے زیادہ لوگ جغرافیہ کے بارے میں جذباتی ہیں۔ ملک کی ساری بڑی جماعتیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات پر اصولی طورپر اتفاق کرنے کے باوجود ابھی تک عملی طور پر ایک قدم نہیں اٹھا سکیں تو اس سندھ کو دوصوبوں میں تقسیم کس طرح کیا جاسکتا ہے جس سندھ کے
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی کی سیاست اور فاطمہ فیکٹر

جمعه 12 اپریل 2019ء
عمر قاضی
اس بار لاڑکانہ کی راہوں اور میڈیا کی معرفت سارے ملک کی نگاہوں نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی نے4 اپریل کی تیاری 27 دسمبر سے بھی بڑھ چڑھ کر کی تھی۔ جس کا سبب صرف یہ تھا کہ آصف علی زرداری بہت بڑا پاور شو کرکے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ آصف زرداری اچھی طرح جانتے ہیں کہ احتساب کے شکنجے سے اب ان کا بچنا محال ہے۔ اگر وہ نہ سمجھتے تو لاڑکانہ سے لوٹ کر اپنے حلقے میں یہ نہ کہتے کہ ’’اگر میں گرفتار کیا جاؤں تو میرے بچوں کا خیال رکھنا‘‘ اس
مزید پڑھیے


’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘

جمعرات 04 اپریل 2019ء
عمر قاضی
آج ذوالفقار علی بھٹو کی چالیسویںبرسی ہے۔ چالیس برس بہت ہوتے ہیں۔ چالیس برسوں کے دوراں بہت کچھ بھول کی دھول بن کر اڑ جاتا ہے مگر پورے پاکستان کے نہیں تو کم از کم سندھ کے سارے راستے سسکیاں بھر کر اس شخص کو یاد کر رہے تھے جس نے کہا تھا کہ ’’میں سندھ کا رانو ہوں۔ سندھ کی دھرتی میرا انتظار مومل کی طرح کرے گی‘‘ ہم اپنے پرانے دور کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہمارا تعلق اپنی تہذیب سے کٹ چکا ہے۔ آج پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جن کو ’’مومل رانو‘‘ کا پس منظر معلوم
مزید پڑھیے


قانون کی توہین کرنے والی قوم

جمعه 29 مارچ 2019ء
عمر قاضی
وہ ویڈیو نہ صرف وائرل ہوئی مگر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے اپنا کام بھی کردکھایا۔ وہ ویڈیو جس میں کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم الزماں نے صرف ایک غریب پولیس اہلکار کی ماں بہن اس لیے ایک کرکے رکھ دی کہ وہ غلط ٹرن کرنے والے ڈرائیور سے قومی شناختی کارڈ کے بارے میں پوچھنے کا جرم کر رہا تھا۔ وہ غریب پولیس اہلکار گالیاں بکتے ہوئے شخص سے بولے جا رہا تھا کہ ’’ہم تو آپ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ ریڈ زون ہے۔ اس میں ہم قومی شناختی کارڈ کے
مزید پڑھیے


کیا سندھ کو ہنسنے کا حق نہیں؟

جمعه 22 مارچ 2019ء
عمر قاضی
سوشل میڈیا میں سنجیدگی سے زیادہ غیر سنجیدگی کا راج ہے۔ سوشل میڈیا بہت بڑا میڈیا ہونے کے باوجود اپنی اس کمی کی وجہ وہ کردار ادا نہیں کرسکتا جس کردار کی موجودہ دور میں ہم سب کو بہت ضرورت ہے۔ اس بات کی اہمیت کو صرف ایک سینئر صحافی سمجھ سکتا ہے کہ کسی خبر کا فوری طور پر منظرعام پر آنا کیا ہوتا ہے؟ کسی قلمکار سے زیادہ اس حقیقت سے اور کون آشنا ہوسکتا ہے کہ اس کو ایسا میڈیا میسر ہو جس پر پابندی کا بھوت نہ لہراتا ہو۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے اور
مزید پڑھیے