BN

عمر قاضی


’’ می ٹو‘‘ کی چیخیں اور سماج کی نفسیاتی تشکیل


کیا روشن خیالی کا مطلب یہی ہے کہ معاشرے کو ایک جنسی ہیجان سے دوچار کر دیا جائے اور پھر آرٹ ، کلچر اور سافٹ امیج کی چکا چوند سے ’’ می ٹو‘‘ کی صدائیں دی جائیں؟ کیا کوئی معاشرہ بنیادی قدروں سے لاتعلق رہ کر ترقی کر سکتا ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ ان قباحتوں سے پاک ہوتا ہے اور یہ خرابیاں صرف مغربی تہذیب اور اس کے متاثرین معاشروں میں پائی جاتی ہیں۔جب زینب جیسی بیٹیوں پر قیامت بیت جائے تو کوئی تقدیس مشرق کی ثنا خوانی کیسے کر سکتا ہے؟لیکن اس حقیقت کے اعتراف
هفته 20 اکتوبر 2018ء

آج پھر دل نے اک تمنا کی!

هفته 13 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
انسان مر جاتے ہیں مگر آوازیں نہیں مرتیں۔ انسان دفن ہوجاتے ہیں مگر صدائیں دفن نہیں ہوتیں۔ انسان جل جاتے ہیں مگر سر سلامت رہتے ہیں۔ یہ سچائی ہم پر اس وقت آشکار ہوتی ہے جب ماضی کے جھروکوں سے کوئی ساحر آواز ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ وہ آواز ہمیں بہت دور لے جاتی ہے۔ عمر کے اس حصے میں جس پر مسلسل فراموشی کی بارش برستی رہتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوا۔ دس اکتوبر کے دن میڈیا کی معرفت اس فنکار کی یاد آئی جس نے راجستھان میں جنم لیا تھا۔ سکھ خاندان میں پیدا ہونے والے
مزید پڑھیے


سندھ اور پنجاب کے سیاستدان

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
سندھ سیاسی طور پر اس وقت بھی خاموش تھا جب میاں نواز شریف اسلام آباد سے لیکر لاہور تک اس سوال کا چیختا ہوا پرچم لہراتے ہوئے مارچ کر رہے تھے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ سندھ اس وقت بھی خاموش تھا جب میاں نواز شریف کو کرپشن کیس میں حوالات کے حوالے کیا گیا۔ سندھ اس وقت بھی خاموش تھا جب وہ غم کی تصویر بن کر پیرول پر رہا ہوئے۔ سندھ اس وقت بھی خاموش تھا جب وہ آزاد ہوئے۔ سندھ اس وقت بھی چپ ہے جب میاں شہباز شریف جیل میں ہیں اور میاں نواز شریف نے سخت ترین احتجاج
مزید پڑھیے


تبت یاترا: بدھ مت کی باتیں

بدھ 03 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
لاسا کی وہ سرد رات اپنے سارے ستاروں کے ساتھ صوفیہ کی بہت خوبصورت باتوں میں ناقابل فراموش بنتی جا رہی تھی۔ ہم اس وقت جدید دور میں بدھ مت کی افادیت کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ میرا خیال تھا کہ بدھ مت قدیم کلچر کی طرح بہت پیچھے رہ جائے گا اور زندگی سائنس کے سہارے بہت آگے نکل جائے گی ۔ صوفیہ کا خیال تھا کہ لوگ بھلے دور نکل جائیں مگر وہ لوٹ آتے ہیں۔ میں نے صوفیہ سے کہا کہ’’ اس کارپوریٹ کلچر میں تو سیاست بھی بے معنی بنتی جا رہی ہے‘‘
مزید پڑھیے


تبت یاترا : صوفیہ کے ساتھ

بدھ 26  ستمبر 2018ء
عمر قاضی
تبت کے دارالحکومت لاسا کے ایئرپورٹ پر گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ہمارے گلے میں سفید اسکارف ڈالا گیا۔ جس کا مطلب تھا’’تبت میں خوش آمدید۔ امن کی سرزمین پر خوش آمدید۔ اجلے احساسات کی وادیوں میں خوش آمدید‘‘ اپنے گلے میں مخصوص خوشبو والا اسکارف اچھا لگا۔اس کے بعدگاڑی میں بیٹھتے انٹرپریٹر لڑکی نے ہمیں بتایا کہ ایئرپورٹ سے لیکر ہوٹل تک ہمیں نوے منٹ کی ڈرائیو کرنی ہے۔ سفر کے دوران دن کا تھکا ماندا سورج تبت کے بلند و بالا پہاڑوں کی آغوش میں سوجانے کے لیے مغرب کی طرف سرک رہا تھا۔ وہ واقعی ایک ناقابل فراموش
مزید پڑھیے



تبت یاترا

جمعه 21  ستمبر 2018ء
عمر قاضی
روسی ناولوں کے ابتدائی الفاظ کی طرح :یہ ایک خوشگوار دوپہر تھی۔ رقم الحروف پی آئی اے کے جس طیارے پر سوار ہو رہا تھا اس کی ہر سیڑھی ابن انشاء کے یہ الفاظ دہرا رہی تھی ’’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘‘گو اس طیارے کی منزل بیجنگ کا وہ ایئرپورٹ تھا جس کا طویل منظر آنکھیں تھکا دیتا ہے ۔ مگر اس مسافر کو معلوم تھا کہ وہ چین نہیں بلکہ اس وادی کی طرف جا رہا ہے جو چین کا حصہ تو ہے مگر چین کے ساتھ ساتھ اس کی الگ پہچان ہے۔ سر سبز اور بلند بالا
مزید پڑھیے


سول ملٹری توازن

جمعه 07  ستمبر 2018ء
عمر قاضی
پاکستان کی سیاسی تاریخ عسکری اور سول قیادت کے درمیاں کشمکش کی داستان ہے۔ جس وقت فوج اقتدار میں ہوتی ہے اس وقت بھی یہ کشمکش جاری رہتی ہے جس وقت فوج اقتدار میں نہیں ہوتی تب بھی اس تنائو کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ اکثر حکمرانوں کی طرح ایوب خان کی ابتدا اچھی اور انتہابری تھی۔ مگر جب تک پاکستان کی سڑکوں پر ایوب خان کے خلاف نعرے بلند نہیں ہوئے تب تک انہوں نے ڈٹ کر حکومت کی۔ سابق صدر ایوب خان ایک بااعتماد انسان تھے۔ وہ بیرونی طاقتوں کے رعب میں آنے والے نہیں تھے۔ انہوں
مزید پڑھیے


آصف زرداری کو غصہ کیوں آیا؟

پیر 03  ستمبر 2018ء
عمر قاضی
پاکستان میں جوڈیشل ایکٹوازم نیا نہیں ہے مگر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں جتنے سوموٹو ایکشن سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے لیے اتنے کسی اور چیف جسٹس نے نہیں لیے۔ تاریخ نے ابھی تک سابق چیف جسٹس کے بارے میں فیصلہ نہیں سنایا مگر افتخار چودھری صاحب کے لیے اس وقت یہ ریمارکس ریکارڈ پر موجود ہیں کہ انہیں میڈیا سے کھیلنے میں بڑا مزا آتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر اخبار میں ان کی لیڈ ہو اور ہر چینل پر ان کا چرچہ ہو۔ مگر موجودہ چیف
مزید پڑھیے


محبت کے دریا

جمعرات 30  اگست 2018ء
عمر قاضی
پنجاب سے صرف دریائے سندھ نہیں نکلتا۔ اس دھرتی سے ایک دریا اور بھی نکلتا ہے۔ وہ محبت کا دریا ہے۔ محبت کے اس دریا کے لیے موسم کی کوئی قید نہیں۔ وہ دریا ساون کے مہینے میں بہنے کے لیے مجبور نہیں۔ وہ دریا گرمیوں کی بارشوں کی وجہ سے نہیں بہتا۔ وہ دریا اس وقت سرد موسموں میں مچلتا رہتا ہے جب ساری ندیا ںاور سارے نالے سوکھ جاتے ہیں۔ محبت کا وہ دریا جو اپنے آپ کو عشق کے سمندر میں سمانے کے لیے سفر کرتا ہے۔ اس دریا کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب ٹی
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی پریشان ہے!!

هفته 25  اگست 2018ء
عمر قاضی
پیپلز پارٹی سندھ میں تیسری مرتبہ اقتدار کی مسند پر براجمان تو ہے مگر سندھ کی حکمران پارٹی کے حلقوں میں خوشی کی وہ لہر اٹھتی نظر نہیں آ رہی جو گذشتہ دو بار دکھائی دی تھی۔ اس بار پیپلز پارٹی کی پریشانی کی ایک وجہ تو آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کا وہ مقدمہ ہے جس میں انور مجید اپنے بیٹے کے ساتھ گرفتار ہو چکے ہیں۔ اس سچائی کا پتہ صرف سندھ کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہے کہ انور مجید آصف زرداری کے لیے ڈاکٹر عاصم سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ جب
مزید پڑھیے