BN

آغرندیم سحر


بنجر آنکھوں کا نوحہ


معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ اعلیٰ قدریں رخصت ہو جائیں تو سماج تباہی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کو بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے،ایک طرف انتہا پسندی اور عدم برداشت اور دوسری طرف تعلیمی اداروں میں سی جی پی اے کی دوڑ میں شامل ہمارے ملک کا مستقبل یعنی نوجوانانِ ملت۔عدم برداشت اور تعصب کی کہانی ہماری تربیت گاہوں سے شروع ہوکر سماج میں قتل و غارت پر ختم ہوتی ہے۔تعلیمی ادارے جہاں معاشرے کے خدو خال سنوارنے میں
پیر 26  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

ماحولیاتی تبدیلیاں اوراردو ادب

پیر 19  ستمبر 2022ء
آغرندیم سحر
خدانے زمین کو انتہائی خوبصورت اور سرسبز بنایا‘جنگلات،دریائوں،سمندروں اور قدرتی وسائل سے مالا مال کیا‘اسے ہمارے رہنے کے قابل بنایا مگر انسان ہمیشہ ان قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی بجائے انھیں تباہ کرنے میں مسرت محسوس کرتا رہا۔حضرت انسان نے اپنی کارستانیوں کی وجہ سے قدرت کے ماحول کو ہمیشہ آلودہ کیا ‘اسے اپنی خودغرضی کی بھینٹ چڑھایا اور خدا کے بنائے ہوئے نظام کو چیلنج کیا‘اس چیلنج سے ہم نے ارد گرد کے ماحول کو اس حد تک زہریلا کر دیا ہے کہ اب یہ رہنے کے قابل نہیں رہا۔فطرت سے جنگ نے ہمیں شدید شکست سے دوچار
مزید پڑھیے


خودکشی پر مکالمہ ناگزیر ہے

پیر 12  ستمبر 2022ء
آغرندیم سحر
دس ستمبر پوری دنیا میںانسدادِ خودکشی کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔ دنیا بھر کے نفسیات دان ‘ معالج اور ہیومن رائٹس کی علم بردار تنظیمیں اس بارے میں سوچ بچار کرتی ہیں کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں خودکشی کا رجحان بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میںروزانہ پندرہ سے پینتیس افراد خودکشی کرتے ہیں‘عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف 2012ء میں تیرہ ہزار پاکستانیوں نے خودکشی کی تھی ‘یہ تعداد 2020ء میں سالانہ چھ ہزار تک تھی۔2012ء میں دنیا بھر
مزید پڑھیے


قدرتی آفتیں‘عالمی امداد اور ہمارے رویے!

پیر 05  ستمبر 2022ء
آغرندیم سحر
پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ 2005ء میں آیا‘اس ہیبت ناک زلزلے میں ایک لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے‘تین لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے اور اربوں کی املاک کو نقصان پہنچا۔اس زلزلے نے پاکستان سمیت عالمی دنیا کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔عالمی طاقتیں پاکستان کی طرف دوڑیں اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے بیرونی این جی اوز اور سرکاری اداروں کی طرف سے مالی امدادی آنا شروع ہو گئی۔ایک اندازے کے مطابق وہ امداد اس قدر تھی کہ اگر ایمان داری سے متاثرین میں تقسیم ہوتی تو آج وہ سارے علاقے دوبارہ اپنے قدموں
مزید پڑھیے


منڈی بہاء الدین بنام پرویز الٰہی

پیر 29  اگست 2022ء
آغرندیم سحر
محترم وزیر اعلیٰ !منڈی بہاء الدین کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک ہے‘اتنے بڑے شہر میںداخلے کے لیے صرف ایک روڈ موجود ہے جو پھالیہ سے ہوتا ہوا شہر میں داخل ہوتا ہے‘اگر شہر میں داخلے کے لیے مزید ایک راستہ بنا دیا جائے تو نہ صرف ٹریفک کا بہائو تقسیم ہو جائے گا بلکہ حادثات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔اس کا بہترین حال رنگ روڈ ہے تاکہ اکلوتے داخلے پر ٹریفک کی شدت کم ہو سکے‘ورنہ صورت حال حدسے زیادہ گھمبیر ہے ‘راستہ ایک اور ہزاروں گاڑیاں اور مسلسل حادثات۔دوسرا اس شہر کا اہم ترین ایشو میڈیکل
مزید پڑھیے



منڈی بہاء الدین :مسیحا کا منتظر

پیر 22  اگست 2022ء
آغرندیم سحر
گزشتہ ہفتے گجرات کو ڈویژن بنا دیا گیا اور اس کے اضلاع میں گجرات کے علاوہ منڈی بہاء الدین اور حافظ آباد کو شامل کر دیا گیا۔گجرات کے لوگوں کے لیے یہ یقیناً بڑی پیش رفت ہے مگرکیا گجرات کو ڈویژن بنانے سے منڈی بہاء الدین کے عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں گی؟۔یہ تاریخی ضلع جو پاکستان کا چالیسواں بڑا شہر ہے‘جس کی کل آبادی 1,593,292ہے۔اس شہر کو 2001ء میں پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد میونسپل کمیٹی کا درجہ ملا اور یکم جولائی 1993ء میںوزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو کے دور میں اسے
مزید پڑھیے


پون صدی کی کہانی!

پیر 15  اگست 2022ء
آغرندیم سحر
تقسیمِ ہند وستان اور تشکیلِ پاکستان کو ۷۵ برس بیت گئے‘یہ ۷۵ برس کا سفر کٹھن بھی تھا اور حیران کن بھی۔کٹھن اس لیے کہ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے لیے ایک جنگ لڑنا پڑی‘معاشی بھی اور ثقافتی بھی۔ہم اس جنگ میں کس قدر کامیاب ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے مگر اس جنگ سے ہم نے کیا سیکھا‘یہ سوچنے کی بات ہے۔یہ سفر حیران کن اس لیے ہے کہ ۷۵ سالہ سفر میںنہ ہمارے مسائل بدلے اور نہ ہمارے دشمن۔تقسیم سے لے کر آج تک‘۷۵ برسوں پر نظر دوڑائیں تو ہم آگے بڑھنے کی
مزید پڑھیے


چارٹر آف ڈیموکریسی!

پیر 08  اگست 2022ء
آغرندیم سحر
۱۴ مئی ۲۰۰۶ء کو پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان لندن میں آٹھ صفحات پر مشتمل ایک معاہدہ ہوا ۔اس معاہدے میں مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کروائی گئی آئینی ترامیم، جمہوریت میں فوج کی حیثیت ،نیشنل سکیورٹی کونسل ، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں دونوں جماعتوں نے ایک مشترکہ نکتہ نظر پیش کیا‘اس دستاویز کو چارٹر آف ڈیموکریسی یعنی میثاقِ جمہوریت کہا گیا۔اس چارٹر پر دستخط سے قبل یہ مذاکرات ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمان ملک کی رہائش گاہ پر ہوئے تھے ۔ان مذاکرات میں
مزید پڑھیے








اہم خبریں