BN

قدسیہ ممتاز



مقام مسرت و ملال


انسان کا کردار اس بات سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ کس واقعہ پہ خوش ہے اور کیا شے اسے ملول کرتی ہے۔ اس کسوٹی پہ پرکھیں تو تین بار وزیراعظم اور دو بار ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی کو اعلی عدلیہ سے علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملنے پہ ان کے حامیوں اور مخالفوں کی بالترتیب خوشی اور ملال و تاسف ان کے کرداروں کو عیاں کرتا ہے۔بات یہ نہیں کہ ایسا ہونا قانون اور آئین کے تقاضوں کے عین مطابق تھا، بات تو یہ ہے کہ خوشی کس
منگل 19 نومبر 2019ء

اجتماعی شعور اور ریاست کی ذمہ داری

هفته 16 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
ـوہ جس اعتماد سے بول رہی تھی مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔اعتماد اور اعلی تعلیم میری کمزوری رہی ہے، بالخصوص اگر کوئی خاتون ان اوصاف سے متصف ہو تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔یہ تو پھر ایک ننھی سی بچی تھی،بمشکل پندرہ سال کی بچی۔ وہ کہہ رہی تھی۔میرے ماں باپ پچھلے سال میری شادی کرنا چاہتے تھے کیونکہ میں ان کے کسی کام کی نہیں تھی۔میں نے انکار کردیا۔شادی ذمہ داری کا نام ہے۔ آخر اسلام بھی تو یہی کہتا ہے کہ شادی اٹھارہ سال کی عمر میں کرنی چاہئے۔مجھے علم نہیں پنجاب کے اس دورافتادہ دیہات کی معصوم
مزید پڑھیے


لبر ل بھی خفا مجھ سے ہے ملا بھی ہے ناخوش

جمعرات 14 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے بڑی اہم اور قابل غور گفتگو کی جبکہ ان کے خلاف ایک مذہبی جماعت تن تنہا دھرنا دیے بیٹھی ہے اور اس کے دوسرے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ برسبیل تذکرہ باوثوق ذرائع کے مطابق عائشہ گلالئی پشاور موڑ پہ ہی دھرنا دینے کا ارادہ باندھے بیٹھی ہیں جو مبینہ طور پہ اس ماہ کے آخری عشرے میں شروع ہوگا۔یہ یاد رہنا چاہیے کہ عائشہ گلالئی نے وزیر اعظم پہ اخلاقی حوالے سے الزامات عائد کئے تھے اور ان کی کردار کشی میں قابل ذکر حصہ ڈالا
مزید پڑھیے


لبر ل بھی خفا مجھ سے ہے ملا بھی ہے ناخوش

منگل 12 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے بڑی اہم اور قابل غور گفتگو کی جبکہ ان کے خلاف ایک مذہبی جماعت تن تنہا دھرنا دیے بیٹھی ہے اور اس کے دوسرے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ برسبیل تذکرہ باوثوق ذرائع کے مطابق عائشہ گلالئی پشاور موڑ پہ ہی دھرنا دینے کا ارادہ باندھے بیٹھی ہیں جو مبینہ طور پہ اس ماہ کے آخری عشرے میں شروع ہوگا۔یہ یاد رہنا چاہیے کہ عائشہ گلالئی نے وزیر اعظم پہ اخلاقی حوالے سے الزامات عائد کئے تھے اور ان کی کردار کشی میں قابل ذکر حصہ ڈالا
مزید پڑھیے


کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے

هفته 09 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
بقول مرشدی یوسفی بشارت فاروقی کے سسر الحذر ہجرت کرکے کرانچی وارد ہوئے ۔ فرمایا کرتے تھے جب دیکھو یہاں کوئی نہ کوئی پھڈا اور لفڑا ہوتا رہتا ہے۔پوچھو کہ کیا اردو میں اس صورتحال کے لئے کوئی معقول لفظ نہیں ہے؟تو جواب ملتا ہے کہ بھائی میرے اردو میں یہ صورتحال بھی تو نہیں ہے۔بکھری ہوئی بظاہر متحدہ اپوزیشن کی موجودہ صورتحال کے لئے بھی کوئی معقول لفظ نہیں ہے۔مقننہ کا ایوان ہو یا ایوان بالا اس کا کام حلق اور کاپیاں پھاڑنا رہ گیا ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن نے بظاہر یہ آئینی نکتہ اٹھا کر صدارتی
مزید پڑھیے




گھرپیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

جمعرات 07 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
کئی روز سے ایک تصویر نے نیندیں اڑا رکھی ہیں۔یہ مولانا فضل الرحمن کے جلسے میں شریک ، اسی مملکت خدادا د کے کسی دورافتادہ اور پسماندہ ترین علاقے سے تعلق رکھنے والے کسی درماندہ ، دریدہ تن اور بے سروسامان کارکن کی کٹی پھٹی ایڑیوں والے گرد آلود پیر کی تصویر ہے جس نے ایک ایسی ٹوٹی ہوئی چپل میں پناہ لے رکھی ہے جسے پہننے والے نے اس جتن کے ساتھ کتنے ہی ٹانکے لگا کر جوڑ رکھا ہے کہ وہ اس بے سمت سفر میںا س کاساتھ نہ چھوڑ دے جس کا اسے بھی علم نہیں کہ
مزید پڑھیے


جس کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو

منگل 05 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
مولانا فضل الرحمن کا دھرنا وہ اونٹ بن گیا ہے جسے خود بھی علم نہیں کہ اسے کس کروٹ بیٹھنا ہے۔کینہ شتر معروف ہے۔ اونٹ کبھی نہیں بھولتا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اور موقع ملتے ہی حساب چکتا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کوئی کچھ کہتا رہے مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ان کے تئیں کامیاب ہی ہے۔ وہ اس وقت میڈیا اور حکومت کی توجہ کا مرکز ہیں۔ہم جیسے بیسیوں لال بھجکڑوں سمیت کسی کو معلوم نہیں وہ کیا کرنے والے ہیں اور غالبا انہیں بھی معلوم نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ان کی طاقت
مزید پڑھیے


ابھی وقت لگے گا

هفته 02 نومبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
فرض کریں آپ کسی کمرے میں بڑی سکرین پہ پچاس ساٹھ افراد کے ساتھ بیٹھے کسی سنسنی خیز میچ سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ان میں سے چند اتنے پرجوش ہیں کہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور داد جوش دینے لگتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی چند اور لوگ اس عمل میں شریک ہوجاتے ہیں۔آپ کو لطف اندوزی کے اس بے سرو پا انداز سے کوفت ہوتی ہے کیونکہ آپ کے اور ٹی وی اسکرین کے درمیان کچھ ناہنجار حائل ہوگئے ہیں اور آپ کی تفریح کھٹائی میں پڑ رہی ہے۔ کمرے میں نئے آنے والے جب
مزید پڑھیے


خود کلامی

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
ٹیکس دینا کسے اچھا لگتا ہے۔ جی چاہتا ہے آمدن ہوتی رہے اور بے حساب ہوتی رہے ۔ میری کمائی میں سرکار کا حصہ کیوں ہو؟سرکار مجھے دیتی ہی کیا ہے۔ نہ صحت ، نہ میرے بچوں کی تعلیم ، نہ میری جان و مال کی حفاظت کا ذمہ،نہ تفریح کے معیاری مواقع نہ بنیادی سہولیات اور نہ ہی ترقی کے امکانات۔ ایسے میں سرکار ٹیکس کی حقدار ہے تو نہیں لیکن پھر بھی ، براہ راست ٹیکس کی مد میں وہ مجھ سے اچھا خاصہ اینٹھ ہی لیتی ہے۔ سرکار جو ہوئی۔ اب ٹی وی لائسنس فیس ہی کو
مزید پڑھیے


جمہوری مفادات و تضادات

منگل 29 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
مروجہ جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ عوامی حمایت کے دعوے دار ہر لیڈر کو عوام کی ایک بڑی تعداد کی صورت میں اتنا خام مال میسر آجاتا ہے کہ وہ جب چاہے اپنے مخالف عوامی لیڈر کا ناطقہ بند کرسکے۔ ادھر مخالف عوامی لیڈر کو بھی یہی سہولت اسی نیٹ ورک پہ میسر ہوتی ہے۔ملک کی مقتدرہ اس امر کا خاص خیال رکھتی ہے کہ یہ توازن بگڑنے نہ پائے اور عوامی جتھوں کی حمایت کے ذریعے ایک کے ذریعے دوسرے کو نکیل ڈالی جاسکے۔پاکستان جیسے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اس ضمن میں خاص کردار ادا کرتی ہے
مزید پڑھیے