BN

قدسیہ ممتاز

محمد بن سلمان کی اڑان اور جمال خاشقجی


بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی اور مغربی اخبارات سے معلومات کشید کرنے کا شوق رکھنے والوں کے لئے جمال خاشقجی کا نام نیا نہیں ہے۔ وہ موجودہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حکومت کے انسانی حقوق کے حوالے سے شدید ناقد تھے۔وہ سعودی شہری تھے اور امریکہ کی مستقل رہائش کا ویزہ رکھتے تھے جہاں وہ گزشتہ سال سے خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے جب صحافیوں اور خود شاہی خاندان کے افراد کے خلاف مملکت میں کریک ڈاون ہورہا تھا۔ اپنے قابل رشک حد تک کامیاب صحافیانہ کیریئر کے دوران وہ شاہی خاندان کے
منگل 16 اکتوبر 2018ء

یہ سچ اور جھوٹ کا فرق ہے

جمعه 12 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
گزشتہ دس سال سے غالبا تحریک انصاف کی مطلق العنان حکمرانی تھی لیکن ہمیں پتا نہیں تھا۔عمران خان وزیر اعظم تھے اور اسد عمر وزیر خارجہ ۔ڈالر کی اڑان کو قابو میں دکھانے کے لئے روپے کی قیمت مصنوعی طور پہ اسی تحریک انصاف کی حکومت نے بڑھا رکھی تھی۔اسی حکومت کے ایک سابق وزیر خزانہ پہ منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں اور وہ تاحال مفرور ہیں۔پہلے وہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کرچکے پھر مکر گئے پھر فرار ہوگئے۔اب ان کی بھی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔ان ہی کے زیر وزارت ملک میں زر مبادلہ
مزید پڑھیے


نظریے کی موت ۔ آزاد معیشت کے مزے اور ڈو مور

منگل 09 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
جمہوریہ چین اپنے قیام کے اعلان یعنی 1949 ء کے ساتھ ہی بھارت کے لئے خطرے کا نشان بن گیا تھا جو خطے میں اپنی بالادستی چاہتا تھا ۔ یہ امر دل چسپی کا باعث ہے کہ پاکستان تو امریکہ کی چھتری تلے سیٹو اور سینٹو کا رکن رہا جو سوویت روس کی نظریاتی اور عسکری نفوذ پزیری کے خلاف تشکیل کردہ ٹرومین ڈاکٹرائن کا تسلسل تھا اور پاکستان کے واحد فیلڈ مارشل ایوب خان اس کا برملا اور فخریہ اظہار کرتے تھے کہ پاکستان سینٹو کا واحد جنوبی ایشیائی ممبر ملک ہے لیکن
مزید پڑھیے


مختصر پر اثر

هفته 06 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
دنیا کی موثر ترین بات مختصر ترین فقرے میں کہی جاسکتی ہے اگر اس میں وزن ہو۔ بے معنی باتیں اکثر طویل ہوتی ہیں اور خوبصورت الفاظ سے ان کا تانا بانا بنا جاتا ہے تاکہ ان کا جھول محسوس نہ ہو۔کانوں کو بھلا لگے اور سننے والا محظوظ ہو۔ صرف ایک فقرے میں بات سمیٹی جاسکتی ہے لیکن اس سے نہ کہنے والے کو تسلی ہوتی ہے نہ سننے والے کو مزا آتا ہے۔اسے لگتا ہے خوامخواہ وقت برباد کیا۔ حالانکہ وقت تو وہ برباد کرتا ہے جو طویل اور پیچیدہ بات کرتا ہے لیکن آپ کے دل
مزید پڑھیے


سعودی عرب کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور آزاد معیشت

جمعرات 04 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
اصولا ًلبرل معیشت کو ہر قسم کی حدود و قیود سے آزاد ہونا چاہئے اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ دھن کا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ اس کا دھرم مسلسل بڑھوتری ہے ۔ اخلاقی اقدار اگر اس راہ میں رکاوٹ ہوں تو انہیں ایک طرف ڈال دینا اس کی شریعت میں بالکل مباح بلکہ عین مستحب ہے۔ مذہب اسی لئے لبرل معیشت کی آنکھ میںکھٹکتا ہے کہ اس میں موجود اخلاقی معیارات سرمائے پہ کہیں نہ کہیں قدغن لگا دیتے ہیں۔جب مذہب اسلام جیسا متحرک دین ہو جس میں ضرورت از زائد ہر شے صدقہ کرنے ، مال جمع نہ کرنے
مزید پڑھیے


لبرل معیشت ، عسکری جارحیت اور تیسری دنیا

منگل 02 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
دنیا کی معلوم تاریخ میں کبھی بھی بین الاقوامی تجارت و باہمی معیشت دفاع اور عسکری سرگرمیوں سے علیحدہ نہیں رہی۔چاہے وہ ولندیزی ہوں یا پرتگالی یا پھر انگریز ، سامراجی اقوام نے ہمیشہ ہی پہلے تجارت اور پھر اپنے تجارتی مفادات کو تحفظ و توسیع دینے کے لئے بالآخر عسکریت پسندی کا سہارا لیا۔ کالونیاں بنائیں اور مقامی وسائل پہ قبضہ کرکے انسانیت کی توہین و تذلیل کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ آج بھی انہیں تحریر کرتے قلم کانپتا ہے۔جب سامراج کے مظالم حد سے بڑھے اور انسان اپنی ہی زمینوں پہ اجنبی ہوگئے تو ستائے ،کچلے
مزید پڑھیے


طریقہ واردات

هفته 29  ستمبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
محبت کے طریقہ ہائے واردات بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی یہ کسی گھاک شکاری کی طرح شست باندھے بالکل تیار بیٹھی ہوتی ہے۔ آپ کتنے بھی محتاط ہوں یہ آپکو شکار کرلیتی ہے کیونکہ اس کا تجربہ آپ سے زیادہ ہوتا ہے۔کبھی آپ کسی خوش دل لڑ کے کی طرح اپنی دھن میں مست چلے جارہے ہیں کہ اچانک کسی منحوس کالی بلی کی طرح یہ آپ کا راستہ کاٹ لیتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہری بھری سڑک کانٹوں بھری پگڈنڈی میں بدل جاتی ہے۔کبھی آپ کسی آسیب کی طرح اس کے جھپیٹے میں آجاتے ہیں کیونکہ آپ غلطی سے
مزید پڑھیے


بدلتی دنیا میں پاکستان کے لئے روشن امکانات

جمعرات 27  ستمبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
صدر ٹرمپ جنرل اسمبلی میں حسب توقع خوب گرجے برسے۔ان کے خطاب کا ایک تہائی حصہ ایران سے براہ راست دھمکی آمیز تخاطب پہ مبنی تھا لیکن سچی بات ہے مزا نہیں آیا۔یہ وہی الزامات تھے جن کا تذکرہ ان ہی سطور میں گذشتہ کئی سال سے ایک تسلسل کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔ ایران کے امریکہ اور یورپ کے ساتھ جوہری معاہدے کی حقیقت جس پہ اس وقت بھی ری پبلکن کانگریس ممبران کو شدید تحفظات تھے ان ہی کالموں میں بیان کی جاچکی ہے۔ اس وقت بھی راقم کا خیا ل تھا کہ ایران کو
مزید پڑھیے


ہمیں کیا حاصل ہوگا؟

منگل 25  ستمبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعظم پاکستان کادورہ سعودی عرب کئی اعتبار سے کامیاب کہا جاسکتا ہے۔دوست ممالک کے دورے سفارتی اعتبار سے ناکام کبھی نہیں ہوتے البتہ آپ اپنے تعلقات کے بل بوتے پہ ایک دوسرے سے کیا حاصل کرتے ہیں یہ ہمیشہ اہم ہوتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات عشروں پہ محیط ہیں۔ ممالک کے درمیان تعلقات کی گہرائی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ حکومتوںکی تبدیلی سے ان پہ فرق نہ پڑے۔اگر یہ معیار سامنے رکھا جائے تو سعودی عرب اور چین ہی وہ دوممالک ہیں جن کے ساتھ تعلقات میں حکومتوں کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں
مزید پڑھیے


قرضوں کا جال اور نئی حکومت

جمعرات 20  ستمبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ گو آئی ایم ایف جن شرائط پہ قرضہ دیتا ہے وہ بظاہر نہایت مخلصانہ نظر آتی ہیں لیکن جب کوئی ملک ان شرائط کو پورا نہیں کرتا تب بھی وہ کبھی اسے قرضہ دینے سے انکار نہیںکرتا۔ایسا نہ ہوتا تو پاکستان بارہا آئی ایم ایف سے بیل آوٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتا جبکہ معیشت کی صورتحال ہر بار پہلے سے زیادہ خراب رہی ہو۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ پاکستان کا تجارتی توازن یا کرنٹ اکاونٹ توازن دل خوش کن حد تک کم ہی رہا ہو؟ برآمدات میں
مزید پڑھیے