قدسیہ ممتاز

ایسٹ انڈیا کمپنی سے قیام پاکستان تک

منگل 14  اگست 2018ء
اس کہانی کے آغاز کا بھی ایک آغاز ہے، آخر رات دیا جلانے کے لئے سرشام ہی چراغ تیار کئے جاتے ہیں۔یہ بے مثال فقرہ شہرہ آفاق ادیب رابندرناتھ ٹیگور نے اپنے ناول سنجوگ میں تحریر کیا جو دل پہ رقم ہوگیا۔سچ تو یہی ہے کہ ہر کہانی کا آغاز وہی تو نہیں ہوتا جہاں سے وہ شروع ہوتی ہے۔ کہانی کی جڑیں تو اس کے پس منظر میں ہوتی ہیں ۔جب پس منظر ، کہانی کا بوجھ سہارنے سے انکار کردیتا ہے تو وہ اسے اگل دیتا ہے۔کہانی کا جنم ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہانی شروع
مزید پڑھیے


چل میرے خامے بسم اللہ

هفته 11  اگست 2018ء
بعض لکھنے والے اس لئے لکھتے ہیں کہ وہ لکھنا جانتے ہیں۔بعض اس لئے لکھتے ہیں کہ وہ لکھنا چاہتے ہیں۔بعض ان دونوںکی دیکھا دیکھی لکھتے ہیں،لکھتے رہتے ہیں اور عموما ان دونوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ جینوئن لوگ ہو تے ہیں۔ انہیں جو فطری صلاحیت قدرت نے ودیعت کی ہوتی ہے ، وہ اس کا مناسب استعمال کرتے ہیں۔انہیںاس بات کا پورا احساس ہوتا ہے کہ اگر کوئی صلاحیت استعمال نہ کی جائے تو وہ رفتہ رفتہ روٹھ جاتی ہے۔ جیسے ڈارون کے مقلدین کا خیال ہے کہ حضرت انسان نے
مزید پڑھیے


سعودی عرب اور امریکی خواہشات

جمعرات 09  اگست 2018ء
حال ہی میںسعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان اچانک تعلقات میں گرما گرمی پیدا ہوگئی جب کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ اپنی ٹوئٹ میں شدید تنقید کی ۔ انہوں نے بالخصوص عرب امریکی نیشنل اور خاتون سماجی رہنما ثمر بداوی کی ایک بار پھر گرفتاری پہ احتجاج کیا اور انہیں فوری طور پہ رہا کرنے کا مطالبہ کیا ساتھ ہی اعلان کیا کہ کینیڈا کی حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ سعودی حکومت نے اس پہ فوری ردعمل کا اظہار کیا جو بالکل درست اور جائز ہے۔
مزید پڑھیے


ایران، شمالی کوریا اور امریکہ۔ بساط بچھی ہوئی ہے

منگل 07  اگست 2018ء
جس وقت اہل وطن الیکشن کے ہنگام سے گزر رہے تھے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ اپنے عروج پہ تھا۔صدر ٹرمپ نے منصب صدارت سنبھالتے ہی وعدے کے مطابق جو چند کھڑکی توڑ اقدامات کئے تھے ان میں سے ایک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کا نکلنا بھی شامل تھا۔ اس معاہدے سے نکلنے کے مضمرات اچھی طرح ان کے علم میں تھے اس لئے ایران کے ساتھ یکسوئی کے ساتھ نبٹنے کے لئے شمالی کوریا کو مذاکرات کی لگام ڈالی گئی تھی۔ اب نقشہ یہ ہے کہ دونوں ہی قابو میں نہیں آرہے۔ چین کے
مزید پڑھیے


چھانگا مانگا اور جمہوریت کا حسن

هفته 04  اگست 2018ء
زندگی کا حسن یہ ہے کہ وہ چلتی رہتی ہے ۔لفظ حسن سے کسی کو غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا جمالیاتی ذوق سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ شرط محض و مطلق ہے جس کا بس ہونا ہی کافی ہے۔ جیسے مردوں کو عشق کے لئے عورت کافی ہے بس سانس لیتی ہو، خوبصورت ہو یا بدصورت یہ بعد کی بات ہے۔بعضے ناہنجار تو مردہ عورت پہ بھی عاشق ہوجاتے ہیں بلکہ اسے عین ثواب سمجھتے ہیں کیونکہ مردہ عورت گلے نہیں پڑتی، فرمائشیں نہیں کرتی اور شادی کا تقاضہ بھی نہیں کرتی۔ ایک مرد
مزید پڑھیے


طالبان، طالبان خان اور مذاکرات

جمعرات 02  اگست 2018ء
عمران خان کی بطور متوقع وزیراعظم ،تقریر ایسی تقریر تھی جس میں گھسے پٹے الفاظ میں لپٹے بیزار کن دعووں اور بے روح وعدوں، جن کے بارے میں کہنے والے کو بھی پتا ہوتا ہے کہ وہ کبھی وفا نہیں ہونگے،کا کوئی گورکھ دھندہ نہیں تھا۔ یہ سادہ دلی کے ساتھ کی گئی دو ٹوک باتیں تھیں جو دل سے کہی گئیں اور دل میں اتر گئیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ عمران خان سے بہت زیادہ گفتگو کی توقع نہیں رکھی جاتی۔چھل دار اور بل کھائی ہوئی گفتگو کی تو بالکل نہیں۔ایسی بات وہی شخص کرسکتا ہے جس
مزید پڑھیے


ابھی کچھ موڑ باقی ہیں

منگل 31 جولائی 2018ء
کسی کو برا لگے یا بھلا، ملک میںانتخابات ہوچکے۔کسی کو برا لگے یا بھلا عمران خان کی تحریک انصاف بازی لے گئی۔ کسی کو برا لگے یا بھلا ، کوئی دن جاتا ہے کہ عمران خان وزارت عظمی کا حلف اٹھا لیں گے۔ حکومت سازی کے لئے جوڑ توڑ جاری ہے۔یہ جوڑ توڑ جمہوریت کا حسن ہے۔اب یا تو الیکشن سے پہلے امیدواروں کے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے پہ پابندی لگا دی جائے یا ان سے حلف لے لیا جائے کہ وہ جیتنے کی صورت میں کسی پارٹی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ آزاد امیدواری کا فلسفہ ہی
مزید پڑھیے


لندن سے اڈیالہ تک ایک ہی کہانی ہے

جمعرات 26 جولائی 2018ء
آج پاکستانی قوم اپنے اس حق کا استعمال کررہی ہے جس کے لئے کشمیر کے عوام ستر سال سے ترس رہے ہیں۔ یعنی آزادانہ حق رائے دہی۔ جس وقت یہ کالم شائع ہوگا آج کے دن کا کیا دھرا سامنے آچکا ہوگا۔ انتخابی نتائج آرہے ہونگے اور کون کہاں سبقت لے جارہا ہے یہ بھی صورتحال بھی واضح ہورہی ہوگی۔گو نون لیگ اور اس کی حواری پارٹیاں جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا راگ الاپ رہی ہیں، پہلے ہی ذہنی شکست تسلیم کرچکی ہیں پھر بھی رسمی کارروائی تو جاری ہے۔رسمی کارروائی پہ مجھے لندن میں بیٹھا ایک ہرزہ گو
مزید پڑھیے


شاید یہ آخری موقع ہو

منگل 24 جولائی 2018ء
جس وقت آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہونگے ، وطن عزیزمیں عام انتخابات کے انعقاد میں بس ایک ہی دن درمیان ہوگا۔ پھر وہ دن بھی آئے گا جس کے بارے میں پیشن گوئی کی جاتی رہی کہ وہ نہیں آئے گا ۔ یہ پیشن گوئیاں کرنے والے وہ تھے جنہیں پاکستان کا مستقبل اپنے بغیر تاریک نظر آتا ہے۔ ایسے بزرجمہروں کو ایمان کی حد تک یقین ہوتا ہے کہ ایک دن آئے گا جب پاکستان میں ہر شے اپنا مقام اور سمت بدل لے گی، قطب نما کی سوئی شمال کی بجائے تھرتھراتی ہوئی، جنوب
مزید پڑھیے


روٹی کپڑا اور مکان سے تعلیم صحت اور انصاف تک

هفته 21 جولائی 2018ء
پاکستان میں انتخابات کی تاریخ قیام پاکستان سے قبل شروع ہوتی ہے جب 1945ء میں مسلمانوں کو مخصوص نشستوں پہ جداگانہ انتخابات کی آزادی حاصل ہوئی ۔بعد ازاں 1946 ء میں صوبائی انتخابات کے نتائج نے قیام پاکستان کی بنیاد رکھ دی۔ دیکھا جائے تو مسلمانان ہند نے اپنے اس خالص جمہوری حق کا استعمال خالص مذہبی بنیاد پہ کیا ۔مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ،اس وقت کا مقبول بیانیہ تھا ۔تبھی مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لئے مخصوص تمام تیس نشستیں اور صوبائی 495 نشستوں میں سے 434 نشستیں جیت کر گویا کلین
مزید پڑھیے