قدسیہ ممتاز



وہ عمران خان کو جانتے ہیں


وزیر اعظم عمران خان کی قسمت ایسی رہی ہے کہ انہیں پے درپے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔منیر نیازی کا ایک دریا سے پاراتر کر دوسرے دریا کا سامنا کرنا ممکن ہے شاعرانہ تعلی ہو لیکن مذکورہ شعر جواب حقیقتاًمحاورہ بن گیا ہے، عمران خان پہ صادق آتا ہے۔ وہ جب کرکٹ کے میدان کے شہسوار تھے تب بھی صورتحال مختلف نہ تھی۔ جنوبی ایشیا کی کرکٹ پہ بھارت اپنی اسی طرح اجارہ داری سمجھتا تھا جس طرح آج وہ خطے میں اپنی قوت کا اظہار وقتا ًفوقتاً کرتا رہتا ہے۔اس کی اخلاقیات کا عالم یہ تھا کہ
هفته 14  ستمبر 2019ء

وائٹ ہاؤس کا اندرونی خلفشار اور طالبان

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
صدر ٹرمپ کا اپنا ہی مزاج ہے۔ وہ کیا کریں گے اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو ان کے ہم مزاج ہوں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو انہوں نے کس دباو ٔپہ اچانک ختم کیا یہ میں نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا اور یہ بھی کہ ضروری نہیں کہ اب انہوں نے یہ باب بند ہی کردیا ہو چاہے وہ کہتے رہیں کہ بات ختم ہوچکی۔اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں متوقع طالبان رہنماوں کے ساتھ مذاکرات کو پینٹا گون کے دبا ؤپہ اچانک ختم تو کردیا لیکن اس کے ساتھ
مزید پڑھیے


ہر حال میں فاتح

منگل 10  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اس بار مذاکرات کی میز طالبان نے نہیں صدر ٹرمپ نے الٹ دی ہے اور طالبان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ دوسروں کی الٹی ہوئی میز سیدھی کیسے کی جاتی ہے۔ وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ وہ تو آئے ہی اس لئے تھے کہ کابل پہ قبضے کے خواہشمندوں کو جنہوں نے افغانستان کو اپنی ہوس ملک گیری میں جہنم بنا رکھا تھا ، باہر کا راستہ دکھا سکیں۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کوئی واشنگٹن جا بیٹھا اور کوئی ایران میں نظربندی کے دوران ریڈیو تہران پہ درس
مزید پڑھیے


آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

هفته 07  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
کیا اب بھی ہمیں سمجھ نہیں آئے گی۔دنیا سفارت کی زبان سمجھتی ہے نہ اصول کی۔ اس دہربے مہر کو اگر کوئی زبان سمجھ آتی ہے تو وہ طاقت کی زبان ہے۔معلوم تاریخ اس پہ گواہ ہے۔نامعلوم بھی خاک بہ سر یہی پکارتی پھرتی ہے۔مائٹ از رائٹ کا محاورہ انہوں نے ہی ایجاد کیا جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پہ ساری دنیا میں آگ لگائے رکھی۔جب قوت ماند پڑنے لگی اور زمام زمانہ پہ گرفت کمزور ہوئی تو بڑی چابکدستی سے زیر نگین مملکتوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا اور خود معیشت پہ قبضہ کرکے بیٹھ
مزید پڑھیے


مذاکرات کا نواں دور

جمعه 06  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
ایک نہیں دو نہیں پورے نو ۔نو مذاکرات کے ادوار وہ بھی وہ جو ریکارڈپہ ہیں، میڈیا پہ نظر آرہے ہیں اور جن پہ تجزیہ نگار حسب توفیق اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ بجا اور گا رہے ہیں۔ طالبان حسب معمول مزے میں ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور چند دیگر تقریبا ہر روز ہی کسی نہ کسی اہم علاقے یا چوکیوں پہ طالبان کے قبضے کی نوید سناتے ہیں۔ دو دن قبل ہی پل خمری ضلع میں کارروائیوں کے نتیجے میںمختلف چوکیوں اور اہم اڈوں پہ طالبان کے قبضے کے نتیجے میں بڑی
مزید پڑھیے




زود پشیماں کی پشیمانی

منگل 03  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ بعد از خرابی بسیار محبوبہ مفتی کو دو قومی نظریہ یاد آیا تو اس پہ کیا گزری۔کچھ اس قدرگراں،کہ مجھے ان کے بیان کے اس حصے سے قانونی اور اصولی اختلاف بھی بھول گیا،جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ تقسیم کے وقت پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ الحاق کشمیر کی غلطی تھی۔اس پہ بحث ہوتی رہے گی کہ کیا واقعی کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کرلیا تھا؟کب اور کیسے یہ واقعہ رونما ہوا ؟ تاریخ اس پہ خاموش کیوں ہے؟آزادانہ استصواب رائے کب منعقد ہوا اور پاکستان نے کشمیر سے اپنا
مزید پڑھیے


عمران خان نے ابھی بس شروع ہی کیا ہے

اتوار 01  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
اصل بات وہی ہے جو وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں کہہ گئے ہیں۔یعنی یہی کہ کشمیریوں پہ ٹوٹ پڑنے والی قیامت پہ اگر عالمی ضمیر خاموش ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔یہ بات کہنے کے لئے جو ہمت اور حوصلہ درکار ہے اس سے عمران خان پوری طرح متصف ہیں۔وہ حوصلہ جو ایک مسجد کے خطیب کے پاس وافر ہوتاہے ، ایک اسلامی جماعت کے امیر کے قلب میں ہمہ وقت موجزن رہتا ہے اور ایک اپوزیشن لیڈر کے پاس بھی اس کی کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن اسلامی جمہوریہ
مزید پڑھیے


دو اہم کامیابیاں

جمعرات 29  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
بات دو ٹوک اور سیدھی ہے۔بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں فیصلہ کن لشکر کشی درحقیقت پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ کشمیر پہ یکطرفہ بھارتی قبضہ ہے۔ اسے کچھ اور سمجھنا نرم ترین الفاظ میں حماقت ہے۔بھارت اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزری کرکے دو اہداف حاصل کررہا ہے۔ ایک اصل کارروائی یعنی مقبوضہ کشمیر پہ بھارتکے آئینی قبضے سے دنیا کی توجہ ہٹانا۔دوم۔ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی ایسی نسل کشی جس سے علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل ہو سکے
مزید پڑھیے


کشمیر میں امریکی مداخلت کی تاریخ

منگل 27  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
اسی پس منظر میں ،جب بقول مصنف امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پوری طرح مسئلہ کشمیر میں ملوث ہوچکا تھا ، سلامتی کونسل نے ازخود اجلاس طلب کرلیا تھا اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اہلکار فرینک کولنز دہلی میں موجود تھا،ہارورڈ مئیرز نے اقوام متحدہ میں پولیٹیکل اینڈسکیورٹی افئیرز کے ڈائیریکٹرکو 3 جنوری 1951 ء کو ایک خفیہ مکتوب لکھا۔جس کا عنوان تھا مسئلہ کشمیر: ممکنہ امریکی اور برطانوی لائحہ عمل۔جس میں اس نے لکھا کہ میں نے فرینک کولنز کے ساتھ مسئلہ کشمیر پہ بات کی کہ اگر پاکستا ن کے وزیر اعظم لیاقت علی خان دولت مشترکہ کے
مزید پڑھیے


کشمیر میں امریکی مداخلت کی تاریخ

هفته 24  اگست 2019ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کی کشمیر پہ ثالثی کی پیشکش غیر متوقع نہیں تھی۔افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے پس منظر میںیہ ثالثی بالکل فطری نظر آتی تھی۔بعد میں امریکی وزارت خارجہ اور صدر ٹرمپ کی حمایت نے اس تاثر کو مضبوط بھی کیا کہ امریکہ طالبا ن کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی تک پاکستان کو اپنی حمایت سے مایوس نہیں کرنا چاہتا۔امر واقع لیکن یہ ہے کہ اپنی ابتدا سے ہی جموں اور کشمیر میں امریکی مداخلت ایک تلخ حقیقت رہی ہے۔پاکستان اور بھارت چونکہ
مزید پڑھیے