BN

قدسیہ ممتاز



ریاست مدینہ،جہادی تنظیمیں اور پاکستان کی مشکلات


پاکستان پہ جہادی تنظیموں کی پرورش وپرداخت اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور نائن الیون کے بعد پالیسی میں پیراڈائم شفٹ کے بعد (جسے کالم کے گزشتہ حصہ میں واضح کیا گیا تھا کہ وہ ایسا کوئی شفٹ بھی نہیں تھا)ان کے خلاف امریکی خواہش پہ کریک ڈاون ، جو ایک نا قابل تردید حقیقت ہے،کا الزام دھرنے سے قبل ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ان جہادی تنظیموں کو نظریاتی غذا کہاں سے اور کیونکر ملتی ہے۔آپ مغرب کے لاکھ ناقد ہوں لیکن یہ نہ ماننا زیادتی ہوگی کہ اس نے عصر ی مسائل جو
جمعرات 14 مارچ 2019ء

ریاست مدینہ،جہادی تنظیمیں اور پاکستان کی مشکلات

منگل 12 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں بھارت نے اپنے تئیں پاکستان کے خلاف وہ پتّا کھیلنے کی کوشش کی جو نائن الیون کے بعد امریکہ بالخصوص پاکستان اور مغرب بالخصوص عالم اسلام کے خلاف کھیلتا آیا ہے یعنی دہشت گردتنظیموں کی سرپرستی کا الزام ۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی جنگ کا ہراول دستہ ہونے کے باوجود امریکہ اور مغرب کے دہشت گرد تنظیموں بشمول القاعدہ ، طالبان اور اب داعش کی سرپرستی کے الزام سے کبھی بری الذمہ نہ ہوسکا اور ہم سترہ سال اس جنگ میں فرنٹ لائن
مزید پڑھیے


جال ہم رنگ زمیں سے ہوشیار

هفته 09 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
دنیا کا کوئی نظریہ جامد نہیں ہوتا۔ہر نظریے میں تحرک اور تعامل اس کی قوت نافذہ کی گنجائش او ر اثر پذیری کے اعتبار سے موجود ہوتا ہے۔جس قدر مضبوط نظریہ ہوگا اسی قدر اس کے پھیلائو کی خواہش اور نفاذ کی طاقت اس کے اپنے اندر موجود ہوگی۔نظریئے پہ یہی یقین اس کے ماننے والوں کو اس کی تبلیغ کا تحریک بھی عطا کرتا ہے۔تبلیغ جیسی مذہبی اصطلاح عین غیر مذہبی نظریات کے لئے بھی اسی طرح مستعمل ہے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ الحاد اور سیکولر ازم کے داعی، اور یہ بھی ایک مذہبی اصطلاح ہے،اسی طرح اپنے
مزید پڑھیے


پاک بھارت کشیدگی اور اسلحہ ساز کمپنیوں کی دوڑ

جمعرات 07 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
دنیابھر کو اسلحہ فروخت کرنے والے جب امن کی بات کریں تو کسے ہضم ہوگی؟گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟روسی خبر رساں ایجنسی نے کیا ایمان افروز تبصرہ کیا ہے کہ جنگیں اسلحے سے نہیں جذبے سے لڑی جاتی ہیں۔ فی الوقت تو یہ بات حالیہ پاک بھارت فضائی جھڑپ کے تناظر میں کہی گئی ہے اور بھارت کو فرانسیسی رافیل طیاروں کی خریداری پہ متنبہ بھی کردیا گیا ہے جو ستمبر میں متوقع ہوگی اور جس کے متعلق مودی دہائیاں دے چکے ہیں کہ اگر یہ سودا پٹ جاتا تو یوں ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی
مزید پڑھیے


سیکولر روایات کا غیر محسوس نفوذ

منگل 05 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
عرصہ پہلے کی بات ہے۔ تب پاکستان میں سول سوسائٹی اتنی فعال نہیں تھی۔ خدانخوستہ کوئی آزمائش درپیش ہوتی تو مساجد میں نمازیںا دا کی جاتیں ۔جان لیوا سانحہ ہوتا تو مرنے والوں کے لئے مغفرت کی دعائیں کی جاتیں۔ کوئی خوشی کا موقع آتا جو کم کم ہی آتا تو عوام اجتماعی شکرانے کے نوافل ادا کرتی۔ پرویز مشرف کا زمانہ آیاتو سول سوسائٹی بحالی جمہوریت کی تحریک میں وکلا اور میڈیا کے ساتھ سڑکوں پہ نکل آئی اور آمر کو وردی اتارنے پہ مجبور کردیا۔ اس کے بعد پاکستان کی "رجعت پسند" عوام،مٹھی بھر این جی اوز
مزید پڑھیے




طاقت کی زبان یا دہشت گردی کے خلاف ایک اور جنگ

هفته 02 مارچ 2019ء
قدسیہ ممتاز
دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے ۔ بھارت نے پاکستان پہ پہلے زبانی چڑھائی کی ۔ہم سفارتی محاذ پہ حرکت میں آئے۔دنیا سے حمایت کی درخواست کرتے رہے۔کسی کے کان پہ جوں نہ رینگی۔بھارت نے بھرے میں آکر دراندازی کی۔ہم نے مار بھگایا۔پھر دنیا کی طرف دیکھا۔وہ بہت مصروف تھی۔اسے دیگر ضروری کام تھے۔اب ہم نے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا۔گھس بیٹھیوں کو گھس کے مارا ۔اچانک دنیا ہڑبڑا کے جاگ اٹھی۔عالمی امن خطرے میں نظر آنے لگا۔دونوں ملکوں سے امن کی اپیلیں ہونے لگیں۔ایسا کیوں ہوا اس کی دو وجوہات ہیں۔پہلی وہی جو میں نے پہلے فقرے میں
مزید پڑھیے


امن کا پیغام اور جارحیت کا جواب

جمعرات 28 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
ہم نے تو ہمیشہ کی طرح پیار سے سمجھایا تھا۔بھارت نہیں سمجھنا چاہتا اس کی مرضی۔ پہلے ہم پیار سے سمجھاتے ہیں۔اس کے بعد ہم کھیل کو اپنی مرضی کے میدان میں لے آتے ہیں۔یقین نہیں آتا تو امریکہ سے پوچھ لیں۔جو افغانستان سے نکلنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔جب ایک بار جنگ چھیڑ دی جائے تو اس کا کوئی اصول نہیں ہوتا۔وقت اور حالات اصول طے کرتے ہیں۔ جس پہ جنگ مسلط کی جائے اسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ اس کا جواب اپنے دستیاب وسائل میں جس
مزید پڑھیے


پلوامہ اور ممبئی حملے اور بیانات کا فرق

منگل 26 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
دشمنان پاکستان کی بوکھلاہٹیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں کسی پل چین نہیں آرہا۔ یہ سوتے سوتے کسی خوش کن خواب سے ، جس میں خاکم بدہن وہ اپنے تئیں ملک خداداد کو صفحہ ہستی سے مٹا چکتے ہیں، ہڑبڑا کر بیدار ہوتے اور کسی غیر ملکی میڈیا کو بیان داغ دیتے ہیں کہ دنیا والو کچھ پتا بھی ہے دہشت گردوں کی نرسری پاکستان میں بہاولپور میں جہادیوں کے اڈے ہیں۔ کارروائی کیوں نہیں کرتے کس بات کا انتظار ہے۔بدقسمتی سے یہ لوگ پاکستان میں حساس عہدوں پہ فائز رہے اور خوش قسمتی یہ ہے کہ ایسا ہر
مزید پڑھیے


مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو

هفته 23 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
کئی روز کے ابر آلود موسم اور دو روز کی مسلسل رم جھم کے بعد جمعہ کے دن کھلی چمکدار دھوپ نکلی ہے۔گھاس،سڑک اور گھروں کی دیواروں پہ چھائی گرم سکون آور ، حیات بخش دھوپ۔بچوں کی ہنسی جیسی بے ساختہ اور روشن۔یہ دھوپ ہی تو ہے جو زمین میں اندھیروں میں دھنسے ڈرے سہمے بیج کو پیار محبت سے پھسلا کر باہر آنے اور دنیا کا سامنا کرنے پہ مجبور کردیتی ہے۔ راز آشنا خدا جانے دھوپ اور بیج میں کیا باتیں ہوتی ہونگی ۔کیسی کیسی چکنی چپڑی باتیں ۔ مٹی اس محبت بھری سازش میں یقینا شریک ہوتی
مزید پڑھیے


سفارتی اور اخلاقی حمایت

جمعرات 21 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے مختصر لیکن دو وٹوک خطاب میں بھارت کے خوب لتے لئے۔ان کا سب سے معنی خیز فقرہ وہ ہے کہ جنگ شروع تو ہماری مرضی سے ہوگی لیکن یہ کہاں تک جائے گی یہ اللہ جانتا ہے۔دونوں ممالک جوہری طاقت ہیں۔اس پس منظر میں اس فقرے کی گہرائی کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔بات لیکن یہ ہے کہ بھارت دائیں ہاتھ کا داو دکھا کر بائیں ہاتھ پہ وار کرنے کا عادی ہے اور وہ ایسا کررہا ہے۔ پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پہ لگا کر اس نے ساری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے
مزید پڑھیے