قدسیہ ممتاز



پاکستان نے کبھی دوستوں سے دغا نہیں کی


ہمارے محبوب مہمان گھر آنگن پدھارے۔ہم نے دیدہ و دل فرش راہ کئے اور راہ گزاروں میں سرخ قالین کے علاوہ پلکیں بچھا دیں۔محبوبوں، محسنوں اور دوستوں کا استقبال ہمیشہ اوقات سے بڑھ کر ہی ہوتا ہے۔ کھلے دل اور کھلی چادر کے ساتھ۔اس پہ جسے تکلیف ہے اسے ہوا کرے اورآپ نے دیکھ ہی لیا کس کس کو تکلیف ہے۔سب سے زیادہ ان لبرل دانشوروں کو جو سعودی عرب کی مخالفت میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ فارسی بولنے لگے۔کوئی ان مذہب بیزاروں کو بتائے کہ ایران کا پورا نام اسلامی جمہوریہ ایران ہے اور اسی ماہ اس نے
منگل 19 فروری 2019ء

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

هفته 16 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان کسی بھی ملک کو کیا جانے والا وفود کے عددی اعتبار سے سب سے بڑا دورہ ہوگا جس میں تاریخی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے جائیں گے۔کچھ لوگوں کو مودت ومحبت کا یہ مظاہرہ ہضم نہیں ہورہا۔ان کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی پاکستان پہ مہربانیاں بلاوجہ نہیں۔انہیں غالباً بدلتی دنیا کے تقاضوں کا علم ہی نہیں ۔پرانے بلاک ٹوٹ چکے ہیں اور دنیا کا ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق امکانات کو لپک لپک کر پکڑ رہا ہے۔ سرمایہ آج پہلے سے زیادہ کھل کر کھیل رہا ہے ۔ امریکہ
مزید پڑھیے


گھاس کے پھول

جمعرات 14 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
کافی عرصے سے ایک موضوع نے دل میں پھندا ڈا ل رکھا تھا۔ ہر بار جب کالم لکھنے کے لئے کسی اہم تر موضوع کا انتخاب کیا،اس پھندے نے ایک جھٹکا سا دے کر گویا یاد دہانی کی ہلکی سی کوشش کی۔ کبھی واقعتا اہم تر معاملات توجہ اپنی طرف مبذول کروالیتے ہیںاور آپ کو ان کی سننی ہی پڑتی ہے۔ایسے میں توجہ طلب لیکن نسبتا غیر اہم موضوعات ذہن کے کسی بند گوشے میں محفوظ رہ جاتے ہیں اور ٹہوکے دے کر اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔یہ موضوع بھی ایک ایسا ہی بھولا بسرا موضوع ہے۔ میری رہائش الحمدللہ
مزید پڑھیے


پاکستان میں سیاحت اور دانشوروں کے رنگین تحفظات

منگل 12 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
پاکستان میں ایسے عظیم دانشور بھی موجود ہیں جن کا خیال ہے کہ جس دن اس ملک میں ان کے محبوب مشروب سے نام نہاد ہی سہی،سرکاری پابندی اٹھ گئی، مملکت خداداد میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی جن میں گردن گردن غرق راوی چین ہی چین لکھے گا اور جس دن جابجا مے خانے کھل گئے وہاں ساقی سمیت ہر دو ٹکے کا مے خوار دانش کے موتی رولتا پھرے گا۔جس دن عیش و نشاط کے مخصوص اڈے معاف کیجیے گا میں اپنی دقیانوسی تربیت کے ہاتھوں یہ لفظ استعمال کرنے پہ مجبور ہوں ورنہ مجھے
مزید پڑھیے


عمران خان اور سیکولر ایجنڈا

هفته 09 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
سینئر کالم نگاروں سے بجا طور پہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ متانت،دیانت داری اور حقائق کو مد نظر رکھیں گے بالخصوص اس وقت جب انہوں نے حق گوئی کا علم بلند کررکھا ہو۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مذہبی کارڈ کھیلنا، لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانا اور انہیں اپنے مطلوبہ رخ پہ ڈال دینا غالبا آسان ترین کام ہے۔ایک قلم کار کو خوب خبر ہوتی ہے کہ اس کے الفاظ حساس معاملا ت پہ کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں بالخصوص اگر اس کی عوام میں خاصی پذیرائی بھی ہو۔سیاسی معاملات میں ہم بھٹو کے خلاف نظام
مزید پڑھیے




وینزویلا :ادھورا اشتراکی انقلاب اور عالمی سامراج

هفته 02 فروری 2019ء
قدسیہ ممتاز
ونیزویلا، جس کے متعلق گزشتہ کالم محدود لفظی کوٹے کے باعث تشنہ رہ گیا تھا، اس وقت مکمل طور پہ عالمی سامراج، امریکہ اور روس کی سرد جنگ کا اکھاڑا بنا ہوا ہے جو کسی بھی وقت کھلی جنگ میں بدل سکتا ہے۔صدر مادورو جو اپنی ضد پہ اڑے ہوئے ہیں ، اپوزیشن لیڈر جوان ڈائگو اور پوری اپوزیشن کو امریکی گماشتہ قرار دے چکے ہیں جو ان کا تختہ الٹنے کر امریکی سامراجی عزائم پورے کرنے پہ تلے ہوئے ہیں جو کسی حد تک درست بھی ہے۔اگست 2018 میں صدر ٹرمپ نے چار لاطینی ممالک
مزید پڑھیے


وینزویلا میں آئینی بحران اور اشرافیہ کی بے حسی

جمعرات 31 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
جنوبی امریکہ کا سوشلسٹ اور ہیوگو شاویز کا ملک ونیزویلا آج کل جس سیاسی کشمکش کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے اس میں اہل بصیرت کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔اوپیک اور تیل کا برامدی ملک ہونے کے باوجود وینزویلا کے عوام کی حالت زار کا دن بدن قابل رحم ہونا،کساد بازاری،افراط زر اور مہنگائی کی شرح میں مضحکہ خیز حد تک ناقابل یقین اضافہ اور اشیائے ضروریات کی عدم فراہمی اپنی جگہ ایک قابل غور تضاد ہے۔ اس کے علاوہ ان بدترین حالات میں عوام کو سنبھالا دینے کی بجائے برسراقتدار اشتراکی اشرافیہ آپس میں آئینی چپقلش میں مصروف ہے
مزید پڑھیے


طالبان ۔ امریکہ اورزمینی حقائق

منگل 29 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات سے ان لوگوں کو اپنی تاریخی اور سیاسی تصحیح کرلینی چاہئے جو طالبان کو محض ایک جنگجو گروہ سمجھ کر حقارت سے ان کا تذکرہ کیا کرتے اور طعنے دیا کرتے تھے کہ یہ ٹوٹی چپلیں پہننے والے کیا سپر پاور کا مقابلہ کریں گے۔دل میں تلخی تو بہت ہے اور محفلوں میں سوٹ بوٹ پہنے ، فرانسیسی مشروب کی چسکیاں لیتے خوش رو اور خوشحال دانشوروں کے دل دکھانے والے تمام تبصرے بھی روح پہ نقش ہیں لیکن مجھے اس وقت تلخ نہیں ہونا اور ان تمام لوگوں کو تاریخ
مزید پڑھیے


فوز العظیم

هفته 26 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
وہ دو اشخاص تھے جن کا قصہ کتاب صادق میں رب ذوالجلال نے بیان کیا۔ اس میں سے ایک کو اس نے انگور کے دو باغ عطا کئے تھے۔گہرے سبز،گھنے اور پھلوں سے لدے ہوئے۔یہی نہیں انہیں سیراب کرنے کے لئے نہر بھی جاری کردی وہ بھی آس پاس یا دائیں بائیں نہیں دونوں باغوں کے عین درمیان،تاکہ دونوں کو یکساں سیرابی حاصل ہو اور پانی کی دستیابی میں مشکل پیش نہ آئے۔موسم بھی موافق تھا اور تمام اسباب پورے تھے۔اس بار فصل شاید توقع سے بھی اچھی ہوئی ہو تبھی باغ کا مالک اس میں داخل ہوتے ہی
مزید پڑھیے


مگرمچھ کے آنسو

جمعرات 24 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
سچ پوچھیںتو سانحہ ساہیوال پہ آواز اٹھانے کا حق صرف اس کو ہے جس نے اس سے قبل رینجرز کے ہاتھوں نہتے سرفراز کے دل چیر دینے والے قتل پہ آواز اٹھائی۔ایم کیو ایم کی نشاۃ ثانیہ پہ برپابارہ مئی کی بے گوروکفن لاشوں کا نوحہ لکھا۔بلدیہ فیکٹری کی سوختہ لاشوں پہ چیخ اٹھا۔نقیب اللہ پہ ہی نہیں راو انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہونے والے ہر نوجوان پہ رویا۔سانحہ ماڈل ٹاون پہ چلا اٹھا۔خروٹ آباد میں چوکی کے سامنے آسمان کی سمت انگلی اٹھائے دم توڑتی حاملہ چیچن عورت پہ آنسو بہائے۔لال مسجد سانحے پہ اشکبار ہوا۔اے پی
مزید پڑھیے