BN

مجاہد بریلوی


پاکستان کا المیہ ۔ ۔ ۔ 2


جی ہاں۔ ۔ ۔ 73سال ہوگئے ۔ ۔ ۔ لاکھوں مہاجرین کی ہجرت اور پھر تقسیم کے وقت ہولناک خون ریزی کے بعد ۔ ۔ ۔ اگر انسانی کوششوں کے حوالے سے تعلق ہے تو یہ صرف ایک فرد کی علمیت ،ذہانت اور جرأت کی کامیابی تھی ۔ ۔ ۔ قائد اعظم محمد علی جناح ۔ ۔ ۔ جالب یاد آگئے؛ دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب اور ہم نے تو بات بھی کی ہے مطمئن ہے ضمیر تو اپنا بات ساری ضمیر ہی کی ہے اپنی تو داستاں
هفته 08  اگست 2020ء

نیب ۔ ۔ ۔ اپنے بھی خفا مجھ سے،بیگانے بھی ناخوش

هفته 01  اگست 2020ء
مجاہد بریلوی
ساری دنیا میں اپنی شاعری سے شہرت رکھنے والے ۔ ۔ ۔ ہمارے فیض احمد فیضؔ جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں پکڑے گئے تو شاہی قلعے میں جاسوسی، روسی ایمنسٹی کے علاوہ اور بھی بہت سارے سوال ہوئے۔ یہ تفتیش فیض صاحب کے ذہن میں ایک عرصہ محفوظ رہی اور پھر ان چار سطروں کی صورت میں اتری: ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو جو عمر سے ہم نے بھر پایا وہ سامنے لائے دیتے ہیں دامن میں ہے مشتِ خاک جگر ہونٹوں پہ ہے خون ِ حسرتِ مے لو ہم نے دامن جھاڑ
مزید پڑھیے


60ء کی دہائی

هفته 25 جولائی 2020ء
مجاہد بریلوی
وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے مہاتیر محمد کو سیاسی میدان میں اپنا گُرو کہا کرتے تھے۔مہاتیر محمد ملائیشیا کے سربراہ مملکت ہوتے ہوئے خان صاحب کے اقتدار میں آنے سے پہلے اُن کے مہمان بھی بنے اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد جن چند ملکوں کا وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے دورہ کیا ۔ ۔ ۔ اُن میں ملائیشیا بھی شامل تھا۔مگر 90سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد جو اقتدار میں آکر انہوں نے ریکارڈ بنایا ۔ ۔ ۔ وہ انہیں راس نہ آیا۔اور سال سے پہلے ہی اقتدار
مزید پڑھیے


5جولائی 1977(آخری قسط)

هفته 18 جولائی 2020ء
مجاہد بریلوی
ہفتہ ہوگیا۔ ۔ ۔ میرا تلاش کرنا مشکل ہورہا ہے۔ہاں مگر یادداشت پر زور ڈال کر یاد آیا کہ ’’ضیاء نے 30جون کو یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ ہر صورت میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینی ہے تو یکم سے چار جولائی تک کے سارے مذاکرات جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہورہے تھے۔ اور جس پر چار اور پانچ جولائی کی شب دستخط بھی ہوئے تھے ۔سارا ڈھونگ تھا،جس میں بھٹو کے قریبی ساتھی مولانا کو ثر نیازی تو شامل تھے ہی مگر۔ ۔ ۔ اپوزیشن یعنی پاکستان قومی اتحاد کے نو ستاروں میں
مزید پڑھیے


5جولائی1977ئ……(2)

هفته 11 جولائی 2020ء
مجاہد بریلوی
وقفہ آگیا…خدا کا شکر ہے اس کا سبب کورونانہیں بنا… مگر اپنے ارد گرد عزیز اور احباب اتنے متاثر ہوئے کہ قلم پکڑ ا نہیں جارہا تھا… دعویٰ تو کیا جارہا ہے کہ ایکٹو کیسز کی تعداد میں43فیصد کمی ہوئی ہے۔مگر کورونا کے خوف اور خطرے نے ہر گھر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ہفتہ گزشتہ میں 5جولائی 1977میںجنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں بھٹو حکومت کے خاتمے ،اور پھر بھٹو کے پھانسی لگنے کی تمہید باندھتے ہوئے ،سندھ اور پنجاب کے سابق آئی جی حاجی حبیب الرحمان کی خود نوشت ’’کیا کیا نہ دیکھا تھا ‘‘کا سِرا ہی پکڑا تھا
مزید پڑھیے



5جولائی1977

هفته 04 جولائی 2020ء
مجاہد بریلوی
قیام پاکستان کے بعد بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کوصرف 11ماہ ملے۔اُس میں بیشتر وقت بیماری اور زیارت جیسے دور افتادہ مقام پر تقریباً یک و تنہا ،ایک ڈاکٹر ،دوسر ی بہن اور تیسرا ایک اے ڈی سی ۔ 15 اگست کے بعد جب اور جہاں جتنی بھی تقاریر قائد نے کیں ،اُس میں چندا ایسی اصولی باتوں کی ضرور نشاندہی کرتے کہ جو مستقبل کے خوشحال ،ترقی پسند پاکستان کی اساس نہیں۔مگر بانی ٔ پاکستان کی آنکھیںموندتے ہی اُن کے کھوٹے سکّوں نے محلاتی سازشوں کا آغاز کردیا۔مسلم لیگ حکومت میں تھی اور قائد اعظم کے نامزد
مزید پڑھیے


سید منور حسن

بدھ 01 جولائی 2020ء
مجاہد بریلوی
یہ لیجئے، ہمارے شہر کے سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی بھی شنوائی آگئی ۔ ۔ ۔ ادھر مہینے دو سے اُن کی علالت کی خبریں مل رہی تھیں۔ سید صاحب کے نائب اور قریبی ساتھی اسامہ بن رضی سے اکثر رابطہ بھی ہوتا کہ اُن سے ملاجائے ۔ میراخیال تھا کہ تحریک ِ آزادی ٔ کشمیر اور افغان جہاد کے حوالے سے اُن سے تفصیلی مکالمہ ہو۔مگر اس شہرِ ناپرساں میں کورونا تو خیر اب آیا ہے،اسکرین سے لگے پیٹ کے سبب قریبی ،عزیزوں سے بھی برسوں ملاقات کی نوبت نہیں آتی۔ حسب ِ روایت پہلے پہر
مزید پڑھیے


شیخ صاحب ، یہ آپ نہیں کر سکتے ؟ …(2)

هفته 27 جون 2020ء
مجاہد بریلوی
وفاقی وزیر ریلوے محترم شیخ رشید کے نام پاکستان کے سب سے بڑے پبلک سیکٹر کے ادارے کے سُدھارکے لئے ایک محبت نامہ لکھا تھا۔ اور اس میں ممتاز بیورو کریٹ نے اپنی کتاب ’’دو مینار‘‘ میں ریلوے کے سنہری دور کے بارے میں جو ارشادات لکھے تھے ،وہ بھی شیخ صاحب کی خدمت میں پیش کردئیے تھے۔ایک زمانہ تھا کہ وزیر ،مشیر ،سرکاری افسروں کی میز پر اخباروں کامینار اُن کے سامنے ناشتے کی میز پر ہوتا ۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اخبارات اگر آتے بھی ہیں تو سیدھے ردّی کی ٹوکری یا میز پر دھرے رہتے
مزید پڑھیے


شیخ صاحب ،یہ آپ کرسکتے ہیں

بدھ 24 جون 2020ء
مجاہد بریلوی
سب سے پہلے تو خدا ئے بابرکت سے یہ دعا کہ۔ ۔ ۔ ہماری سیاست کے سب سے colourful۔ ۔ ۔ انگریزی لفظ اس لئے استعمال کیا کہ رنگین مزاج کا لفظ استعمال کرتا تو بات دوسری طرف نکل جاتی۔شیخ صاحب ماشاء اللہ کنوارے ہیں۔ ادھر ادھر سے چھینٹے بھی اڑتے رہے ،خاص طور پر جب ایک دور میں اُن کی منسٹری میں فلم انڈسٹری بھی آگئی ۔ ۔ ۔ اگر میری یادداشت درست ہے ،جس پر اب اس عمر میں کبھی کبھی شک ہونے لگا ہے۔ ۔ ۔ کہ سوائے ایک الیکشن کے 1985ء کے
مزید پڑھیے


اب صاحب ِ انصاف ہے خود طالبِ انصاف……(2)

هفته 20 جون 2020ء
مجاہد بریلوی
اب صاحب ِ انصاف ہے خود طالب ِ انصاف مہر اُس کی ہے میزاں بدستِ دگراں ہے شاعر ِ بے مثال فیض احمد فیض ؔ نے یقینا یہ شعر اپنی اسیری کے دوران لکھا ہوگا۔ ۔ ۔ کہ جب وہ اپنے اوپر عائد مقدمے کی سماعت کے دوران فیصلے کے منتظر ہوں گے۔ آفاقی شاعر زماں و مکاں سے آگے ،مستقبل میں برسوں نہیں ،صدیوں بعد کی پیشن گوئی کررہے ہوتے ہیں۔ ۔۔ گزشتہ کالم میں جب فیضؔ صاحب کے اس مصرعے کو محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے موضوع بنا رہا تھا تو اس بات کی قطعی امید اور
مزید پڑھیے