مجاہد بریلوی


الوداع 2019ء


2019ء کے آغاز پر سب سے بڑی امید تو یہی تھی کہ دہائیوں بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومت کے بعد آنے والی تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کے عوام کے لئے تبدیلی کا سال ثابت ہوگا ۔28جولائی 2018ء کو ہونے والے الیکشن کے بعد مہینہ ،تین تو حکومت سازی میں ہی لگ گئے۔ ۔ ۔ کہ ایک خیبر پختونخواہ کو چھوڑ کر نہ تو وفاق میں اورنہ ہی پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف اکثریت حاصل کرسکی۔سندھ میں قومی و صوبائی اسمبلی میں ایک موثر کامیابی کے باوجود اُسے اپوزیشن میں تو بیٹھنا ہی تھا۔ 18ستمبر
بدھ 01 جنوری 2020ء

خوش آمدید چیف جسٹس گلزار

هفته 28 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
محترم چیف جسٹس گلزار احمدکو خوش آمدید کہتے ہوئے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اُن کی بینچ کے سامنے پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کا سب سے ہنگامہ خیز کیس آنے والے دنوں میں انکے لئے سب سے بڑا چیلنج بنے گا۔میرا اشارہ موجودہ آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی طرف ہے۔ ایک تکنیکی بلکہ حکومت کے وزیر قانون کی نا اہلی کے سبب جس طرح یہ مسئلہ الجھا یا گیا ہے،اس نے ایک طویل عرصے بعد نہ صرف اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے بلکہ خود پاکستان کا
مزید پڑھیے


خوش آمدید چیف جسٹس گلزار(1)

بدھ 25 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کی سب سے بڑی اعلیٰ عدالت کی سربراہی کا منصب سنبھالا ہے کہ جب ملک بہ زبان ِ انگریزی اپنی تاریخ کے شدید ترین horizontal and vertical بحران کاشکار ہے۔مجھے یاد ہے کہ بھٹو صاحب نے اپنی پھانسی سے پہلے اپنی کتاب ’’اگر میں قتل کردیا گیا‘‘ میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ اگر مجھے جنرلوں نے قتل کردیا تو مستقبل میں ملک ایک ایسے horizontal and vertical لغوی معنوں افقی اور عمودی بحران کی لپیٹ میں آجائے گا کہ جس سے اُس کا
مزید پڑھیے


سو بسم اللہ

هفته 21 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
خصوصی عدالت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کا جو مختصر فیصلہ آیا، اُس میں تو محض سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ وہ 2007ء میں انہوںنے ایمرجنسی نافذ کرکے سنگین غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ مختصر فیصلے پر افواج ِ پاکستان کے ترجمان اور ایک بڑے عوامی حلقے کی جانب سے جو شدید رد عمل آیا ، اُس پر ہمارے خصوصی عدالت کے چیف جسٹس مزید مشتعل ہوگئے۔اتنے مشتعل کہ اٹارنی جنرل انور منصور بھی اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں
مزید پڑھیے


16دسمبر۔ ۔ اِک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

بدھ 18 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
48سال تو گذر ہی چکے ہیں۔پوری ایک بلکہ دو نسلیں رخصت ہو ئیں۔ جنہوں نے ’’ڈھاکہ‘‘ڈوبتے دیکھا۔اس دوران بقول شخصے پُلوں کے نیچے سے خاصہ پانی ہی نہیں ۔ ۔ لہو کا ایک دریابلکہ سمندر بہہ چکا ہے۔مگر لگتا ایسا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی قیادتوں نے ماضی سے کچھ نہیںسیکھا۔اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ کہ برصغیر یعنی پاکستان ،ہندوستان اور بنگلہ دیش کے عوام کی اکثریت کا بھی Mindsetسفاکی اور درندگی کی حد تک پختہ ہوچکا ہے۔دہائی گذر گئی ۔مودی نے جو گجرات میں درندگی کی تھی ، اُس کی تاریخ آج بھارت کے
مزید پڑھیے



ناقابلِ یقین

هفته 14 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کے اوراق الٹ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اور کہیں جا کر جسٹس حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر آیا تھا ،جو پچاس سال بعد بھی شائع نہ ہوسکی۔اور اس وقت مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے نجانے کن الماریوں میںمقید ہے۔ جہاں اسے آہستہ آہستہ دیمک چاٹ رہی ہوگی۔مگر سقوط ِ ڈھاکہ کی خونی تاریخ سے وطن ِ عزیز کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سیاہ رہے گی۔ فیض ؔ صاحب نے سقوطِ ڈھاکہ کے پس منظر میں ایک غزل لکھی تھی۔جس کے ایک شعر نے بڑی شہرت پائی۔ کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی
مزید پڑھیے


ذرا انتظارکریں۔۔۔(2)

بدھ 11 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان میں جمہوری ادارے پنپ نہ سکے ۔پارلیمانی جمہوریت میں تسلسل قائم نہیں رہ سکا اور سیاست پر سات دہائی تک فوج کی بالادستی جو نظر آتی ہے،اُس کا صرف اور صرف ذمہ دار ہمارا ایک خاص Pseudo-intellectualطبقہ صرف فوج کو ہی ٹھہراتا ہے۔لیکن اگر ماضی کی تاریخ کے اوراق ادھیڑے جائیں ،تو اس میں جہاں ہماری سیاسی قیادت کا کردار انتہائی موقع پرستانہ بلکہ معذرت کے ساتھ،گھناؤنا نظر آتا ہے، تو دوسری طرف عدلیہ نے جو مصلحت کشی اختیار کی ،وہ بھی کم نہیں۔ ۔ ۔ عام طور پر بانی ِپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح
مزید پڑھیے


ذراانتظار کریں

هفته 07 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا تو نہیں ، مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہنگامہ خیز مقدمہ اس وقت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بینچ پر لگا ہوا ہے۔ہمارے محترم چیف جسٹس اگلے دو ہفتے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد رخصت ہونے والے ہیں۔ اس لئے ان کے بعد چیف جسٹس ،جسٹس گلزار احمد ہی اس کی سماعت کریں گے۔ساری لعن طعن تحریک انصاف کی حکومت ،اُن کے وزیر اعظم اور وزیر ِ قانون پر ہو رہی ہے۔ کہ اپنی نا اہلی کے سبب انہوں نے ایک سیدھی صاف آئینی کارروائی
مزید پڑھیے


فہمیدہ ریاض ۔ ۔ ۔ 2

هفته 30 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
اب یہ وقت نہیں کہ نیپ اور بھٹو صاحب کی لڑائی کی تفصیل میں جایا جائے۔ قصور دونوں طرف کے مہم جو انقلابیوں کا بھی تو تھا۔جس کے نتیجے میںجنرل ضیاء الحق کا چیختا چنگھاڑتا مارشل لاء تو آنا ہی تھا۔فہمیدہ ان شاعروں ،ادیبوں میں تو تھیں نہیں کہ جو بھٹو مخالفت پر ضیاء الحق کے دور میں اکیڈمی آف لیٹر سے خود کو کیش کرا رہے تھے ۔اب وہ ضیاء آمریت کے خلاف کھڑی پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔جو جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر ننگے پیٹوں پر کوڑے کھا رہے تھے ۔فہمیدہ نے اس
مزید پڑھیے


فہمیدہ ریاض ۔ ۔ ۔ 1

بدھ 27 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
(اردو کے منفرد لہجے کی شاعرہ فہمیدہ ریاض کو رخصت ہوئے ایک سال ہوگیا۔فہمیدہ سے رفاقت اور دوستی کا ایک طویل تعلق اور رشتہ تھا ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ وہ مجھ سے دور ہوگئی ہیں۔اس تاثراتی تحریر میں فہمیدہ کی چار دہائی کی شاعری اور شخصیت کو سمیٹنے کی ناتمام کوشش کی ہے۔) کاغذ ترا رنگ فق کیوں ہوگیا شاعر ترے تیور دیکھ کر کاغذ ترے رخسار پہ داغ کیسے ہیں شاعر میں ترے آنسو پی نہ سکا کاغذ میں تجھ سے سچ کہوں شاعر مرا دل پھٹ جائے گا فہمیدہ سے ہماری دوستی کا تعلق شیریں سے رشتہ بننے سے پہلے کئی برسوں سے
مزید پڑھیے