BN

مجاہد بریلوی


(2) The Battle for Pakistan


The Battle for Pakistanیعنی پاکستان کے لئے جنگ ،پر کالم سپرد قلم کرچکا تھا کہ ذرا تاخیر سے یہ خبر پہنچی کہ محترم شجاع نواز کی کتاب کی تقریب رونمائی جو کراچی ،لاہور اور اسلام آباد میںہونی تھی ،اُسے بحکم ِ سرکار ملتوی کردیا گیا۔ خود انگریزی کے معتبر اخبار میں ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے شجاع نواز نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ جن وجوہ کے سبب تقریب رونمائی رکوائی گئی ہے ،اِس بارے میں تو متعلقہ ادارہ ہی بتا سکتا ہے ۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ محترم شجاع نواز جب اپنی پہلی کتاب
بدھ 15 جنوری 2020ء

The Battle for Pakistan (1)

هفته 11 جنوری 2020ء
مجاہد بریلوی
واشنگٹن میں مقیم ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار شجاع نواز کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب The Battle for Pakistan and The Bitter US Friendshipکے اوراق الٹ رہا تھا۔ ۔ ۔ شجاع نواز اپنی پہلی کتاب Crossed Swordsبزبان ِ اردو’’بے نیام تلواریں‘‘ کے ذریعے ایک ایسے معتبر اسکالراور مصنف کی حیثیت سے خود کو منوا چکے ہیں کہ جن کا لکھا اور کہا اسلام آباد سے واشنگٹن تک بڑی توجہ سے پڑھا اور سنا جاتا ہے ۔کتاب ابھی مکمل نہیں کی ہے ۔ایک چوتھائی کتاب ہی تک پہنچا ہوں انکشافات اتنے سنسنی خیز اور دلچسپ ہیں کہ
مزید پڑھیے


پہ تماشا نہ ہوا

بدھ 08 جنوری 2020ء
مجاہد بریلوی
تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے سوا سال بعد پہلی بار ایسا لگا کہ پارلیمنٹ میں سرے سے کوئی اپوزیشن ہی نہیں ہے۔وزیر اعظم عمران خان انتہائی خاموشی سے آئے ۔ ۔ ۔ اور اپنی کرسی پر روایتی تمکنت کے ساتھ آکے بیٹھے۔یاد رہے کہ خاں صاحب پچھلے کئی ماہ سے پارلیمنٹ اس لئے نہیں آرہے تھے کہ ان کے کہنے مطابق اپوزیشن کے ارکان نہ صرف ان سے بدتمیزی اور بد تہذیبی سے پیش آتے ہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ نوبت ہاتھا پائی تک آجائے۔ کپتان کا یہ موقف سن کر ہنسی بھی آتی
مزید پڑھیے


الوداع 2019ء

هفته 04 جنوری 2020ء
مجاہد بریلوی
اس سے پہلے کہ پاکستان کے داخلی امور کے حوالے سے گزرے ہوئے سال کی تفصیل میں جاؤں۔ ۔ ۔ برصغیر پاک و ہند او ر پھر پاکستان کے حوالے سے سب سے اہم سیاسی تنازع کشمیر کا ذکر ذرا تفصیل سے کرلیا جائے۔1990ء کی دہائی میں جو کشمیر میں مزاحمتی تحریک چلی تھی ۔ ۔ ۔ اور جسے بزور طاقت دبا دیا گیا تھا، 5اگست کو سال گزشتہ میں اس بڑے پیمانے پر ابھر کرسامنے آئی کہ آج پانچ ماہ بعد بھی بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں مکمل کرفیو نافذ ہے۔ گو کہ عمران خان
مزید پڑھیے


الوداع 2019ء

بدھ 01 جنوری 2020ء
مجاہد بریلوی
2019ء کے آغاز پر سب سے بڑی امید تو یہی تھی کہ دہائیوں بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومت کے بعد آنے والی تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کے عوام کے لئے تبدیلی کا سال ثابت ہوگا ۔28جولائی 2018ء کو ہونے والے الیکشن کے بعد مہینہ ،تین تو حکومت سازی میں ہی لگ گئے۔ ۔ ۔ کہ ایک خیبر پختونخواہ کو چھوڑ کر نہ تو وفاق میں اورنہ ہی پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف اکثریت حاصل کرسکی۔سندھ میں قومی و صوبائی اسمبلی میں ایک موثر کامیابی کے باوجود اُسے اپوزیشن میں تو بیٹھنا ہی تھا۔ 18ستمبر
مزید پڑھیے



خوش آمدید چیف جسٹس گلزار

هفته 28 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
محترم چیف جسٹس گلزار احمدکو خوش آمدید کہتے ہوئے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اُن کی بینچ کے سامنے پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کا سب سے ہنگامہ خیز کیس آنے والے دنوں میں انکے لئے سب سے بڑا چیلنج بنے گا۔میرا اشارہ موجودہ آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی طرف ہے۔ ایک تکنیکی بلکہ حکومت کے وزیر قانون کی نا اہلی کے سبب جس طرح یہ مسئلہ الجھا یا گیا ہے،اس نے ایک طویل عرصے بعد نہ صرف اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے بلکہ خود پاکستان کا
مزید پڑھیے


خوش آمدید چیف جسٹس گلزار(1)

بدھ 25 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کی سب سے بڑی اعلیٰ عدالت کی سربراہی کا منصب سنبھالا ہے کہ جب ملک بہ زبان ِ انگریزی اپنی تاریخ کے شدید ترین horizontal and vertical بحران کاشکار ہے۔مجھے یاد ہے کہ بھٹو صاحب نے اپنی پھانسی سے پہلے اپنی کتاب ’’اگر میں قتل کردیا گیا‘‘ میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ اگر مجھے جنرلوں نے قتل کردیا تو مستقبل میں ملک ایک ایسے horizontal and vertical لغوی معنوں افقی اور عمودی بحران کی لپیٹ میں آجائے گا کہ جس سے اُس کا
مزید پڑھیے


سو بسم اللہ

هفته 21 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
خصوصی عدالت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کا جو مختصر فیصلہ آیا، اُس میں تو محض سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ وہ 2007ء میں انہوںنے ایمرجنسی نافذ کرکے سنگین غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ مختصر فیصلے پر افواج ِ پاکستان کے ترجمان اور ایک بڑے عوامی حلقے کی جانب سے جو شدید رد عمل آیا ، اُس پر ہمارے خصوصی عدالت کے چیف جسٹس مزید مشتعل ہوگئے۔اتنے مشتعل کہ اٹارنی جنرل انور منصور بھی اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں
مزید پڑھیے


16دسمبر۔ ۔ اِک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

بدھ 18 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
48سال تو گذر ہی چکے ہیں۔پوری ایک بلکہ دو نسلیں رخصت ہو ئیں۔ جنہوں نے ’’ڈھاکہ‘‘ڈوبتے دیکھا۔اس دوران بقول شخصے پُلوں کے نیچے سے خاصہ پانی ہی نہیں ۔ ۔ لہو کا ایک دریابلکہ سمندر بہہ چکا ہے۔مگر لگتا ایسا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی قیادتوں نے ماضی سے کچھ نہیںسیکھا۔اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ کہ برصغیر یعنی پاکستان ،ہندوستان اور بنگلہ دیش کے عوام کی اکثریت کا بھی Mindsetسفاکی اور درندگی کی حد تک پختہ ہوچکا ہے۔دہائی گذر گئی ۔مودی نے جو گجرات میں درندگی کی تھی ، اُس کی تاریخ آج بھارت کے
مزید پڑھیے


ناقابلِ یقین

هفته 14 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کے اوراق الٹ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اور کہیں جا کر جسٹس حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر آیا تھا ،جو پچاس سال بعد بھی شائع نہ ہوسکی۔اور اس وقت مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے نجانے کن الماریوں میںمقید ہے۔ جہاں اسے آہستہ آہستہ دیمک چاٹ رہی ہوگی۔مگر سقوط ِ ڈھاکہ کی خونی تاریخ سے وطن ِ عزیز کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سیاہ رہے گی۔ فیض ؔ صاحب نے سقوطِ ڈھاکہ کے پس منظر میں ایک غزل لکھی تھی۔جس کے ایک شعر نے بڑی شہرت پائی۔ کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی
مزید پڑھیے