BN

مجاہد بریلوی



خوش آمدید چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ… (2)


17جنوری کو ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آف پاکستان محترم ثاقب نثار کو بہر حال اس بات کا کریڈٹ ضرور دینا پڑے گا کہ انہوں نے پہلی بار حقیقتاً معروف اصطلاح میں ایسے ایسے بڑے سیاسی مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جو گزشتہ تین دہائیوں سے نہ صرف ہر طرح کے عدالتی احتساب سے محفوظ رہے بلکہ معذرت کیساتھ عدالتی اور احتسابی ادارے ان کیلئے مالیاتی سہولت کاری کا کردار ادا کرتے رہے۔ سیاستدانوں کا ۔ ۔ ۔ چاہے ن لیگی ہوں یا پی پی ،تھانہ کچہری آنا جانا تو لگا رہتا ہے۔مگر انور مجید ، حسن لوائی ،ملک ریاض
اتوار 13 جنوری 2019ء

خوش آمدید جسٹس آصف سعید کھوسہ

بدھ 09 جنوری 2019ء
مجاہد بریلوی
یقینا 31دسمبر 2016ء سے پورے ایک سال 17دن کے ہنگامہ خیز دنوں کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثا ر کے بعد 18جنور ی 2019ء کو جب محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا بھاری بھرکم بوجھ سنبھالیں گے۔تو محاورے کی زبان میں چیختے چلاتے مقدمات کے اولے ان کے انتظار میں ہونگے۔یوں بھی محترم چیف جسٹس ثاقب نثار کی موجودگی میں بھی بیشتر بینچوں میں محترم جسٹس آصف سعید کھوسہ نہ صرف شامل رہے بلکہ مشہور زمانہ پانامہ کیس جس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ساری زندگی کیلئے نا اہل
مزید پڑھیے


اصغر خان کیس ۔۔۔داخل دفتر…(2)

هفته 05 جنوری 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان کے غریب ،بے بس ،مظلوم لوگوں کے بال کی کھال بلکہ بال سمیت کھال نکالنے والی پاکستان کی پرائم سویلین انٹیلی جنس ایجنسی نے 25سال بعد انتہائی ڈھٹائی سے ایپکس کورٹ میں یہ اعترافی بیان جمع کرایا ہے کہ 25سال کی تفتیش کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 1990ئکے انتخابات میں صدر غلام اسحاق خان کی ہدایت پر جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کے ’’سہولت کار‘‘ کے ذریعے جو کروڑوں روپے سیاستدانوں میں تقسیم کئے گئے ،اُس کے بارے میں وہ کسی قسم کا ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے
مزید پڑھیے


ایئر مارشل اصغر خان کیس کی فائل داخلِ دفتر

بدھ 02 جنوری 2019ء
مجاہد بریلوی
ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغرخان کا سال گزشتہ انتقال ہواتو انہی کا لموں میں لکھا تھا کہ ’ایئر مارشل اصغر خان کی زندگی کی فائل بند ہوگئی مگر انہوں نے اپنی زندگی میں 24سال پہلے پاکستانی سیاست میںکرپشن کا جو مشہور زمانہ مقدمہ دائر کیا تھا اس کی فائل اب بھی کھلی ہے‘۔چلیں پاکستان کی سویلین پرائم انوسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے کو دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجا کر خراج عقیدت پیش کیا جائے کہ انہوں نے ببانگ دہل بغیر کسی لگی لپٹی ایپکس کورٹ میں یہ درخواست جمع کرادی کہ مستند اور مضبوط شواہد نہ ملنے کے سبب
مزید پڑھیے


اور اب صنم بھٹو …2

هفته 29 دسمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
لاڑکانہ سے ابھی کچھ دیر پہلے ہی واپسی ہوئی۔گزشتہ کالم میں بھٹو خاندان کی آخری چشم و چراغ صنم بھٹو کی سیاست میں ممکنہ واپسی پر لکھتے ہوئے اس امکان کا بھی اظہار کیا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی کے ایک حلقے کے مطابق پارٹی چیئرمین محترم صدر آصف علی زرداری ،اُن کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اور پھر محترمہ فریال تالپور کی گرفتاری کی صورت میں کیا وہ پارٹی کی قیادت سنبھال سکتی ہیں؟ صنم بھٹو نے گڑھی خدا بخش کے آبائی قبرستان میں اپنی شہید بہن محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت خاندان کے دیگر بزرگوں اور بھائیوں کی قبروں
مزید پڑھیے




اور اب صنم بھٹو

بدھ 26 دسمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
بھٹو خاندان کی آخری چشم و چراغ محترمہ صنم بھٹوکی گاہے بہ گاہے آمد ہوتی رہی مگر یہ ہمیشہ ان کی ذاتی مصروفیات تک محدود ہوتی ہے۔ مگر ایک ایسے وقت میں جب ان کی بڑی بہن وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر محترم آصف علی زرداری کی خبریں زوروں پر ہیں۔ اس بار ان کی لندن سے آمد کو پارٹی کی قیادت سیاسی اہمیت کی حامل بتا رہی ہے۔غالباً بلکہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جو تصاویر اخباروں کی زینت بنیں اس میں وہ بھانجے، پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، پنجاب کے صدر
مزید پڑھیے


16دسمبر… حقائق یہ بھی ہیں…(آخری قسط)

اتوار 23 دسمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
سقوط ڈھاکہ کے تین مرکزی کرداروں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی‘ پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور پھر صدر شیخ مجیب الرحمان کا جو انجام ہوا‘ وہ بہرحال برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا المیہ ہی ہے۔ بہر حال اس پائے کے سیاستداں برسوں نہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس انجام تک پہنچنے کے ذمہ دار وہ خود بھی تھے۔بھارتی وزیر اعظم محض جواہر لال نہرو جیسے statesman سیاستدان کی بیٹی ہی نہیں تھی بلکہ آزادی کی جنگ میں بھی انہوں نے بے پناہ قربانیاں دیں۔پھر کانگریس جیسی جماعت
مزید پڑھیے


16دسمبر۔۔۔ حقائق یہ بھی ہیں …(2)

بدھ 19 دسمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
سقوط ِ ڈھاکہ پر لکھتے ہوئے میں نے تین فریق کا ذکر کیا تھا۔یحییٰ خان کا قومی ٹولہ، پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو جو 1970ء کے الیکشن میں دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھرے تھے۔مگر نہ تو مشرقی پاکستان میں ایک نشست ملی تھی اور نہ ہی بلوچستان میں۔اُس وقت کے صوبہ میں بھی پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست ملی تھی ۔۔۔ہمارے بیوروکریٹ روئیداد خان کے بھائی مرحوم عبدالخالق خان کو ۔ہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ بھٹو صاحب کو سندھ کے مقابلے میں پنجاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی
مزید پڑھیے


16دسمبر……حقائق یہ بھی ہیں

هفته 15 دسمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
پہلے تو اس بات کا اعتراف کرنے دیں کہ ہم بھی بائیں بازو کے اُن پر جوش لکھاریوں اور ایکٹوسٹوں میں رہے جو برسہا برس ’’سقوط ِ ڈھاکہ‘‘ کا ذمہ دار افواج ِ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کو ہی قرار دیتے رہے۔دائیں بازو یعنی جماعت اسلامی ،اس کی ذیلی تنظیموں اور ان سے وابستہ دانشوروں کا معاملہ دوسرا ہے۔وہ تو 1970ء کی شوکت اسلام کی صراطِ مستقیم پر اب تک چل رہے ہیں۔جن کے نزدیک 1970ء کے انتخابات اور اس کے نتائج کے بعد جو محاذ آرائی ہوئی اس میں وہ تو راہِ حق اور
مزید پڑھیے


Sorry Cheif - 2

بدھ 12 دسمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
Sorry Chiefسپرد کالم کرتے ہی خیال آیا کہ ایک ذرا سی ملاقات کو فسانہ بنا دیا۔آبادی کے پھلتے پھولتے جن کو قابو میں لانے کے لئے اگر ہمارے محترم چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وزیر اعظم عمران خان کو مدعو کرلیا تو ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ۔اور یہ جو میں نے چھ دہائی قبل پاکستان کے پہلے چیف جسٹس سر عبد الرشید کے پاکستان کے پہلے شہید وزیر اعظم لیاقت علی خان کی دعوت قبول نہ کرنے کی ’’ جرأ ت رندانہ ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے اس وقت ساری قوم کے واحد نجات
مزید پڑھیے