BN

محمد حسین ہنزل


بادارہ !دغہ جنگ دی دوطن


امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان انتیس فروری کو قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے والاامن معاہدہ نہ صرف زخم خوردہ افغانوں کے لئے امید کی ایک کرن تھی بلکہ افغانوں کے لاکھوں کے دیگربہی خواہ بھی اس معاہدے کو نیک شگون سمجھ بیٹھے تھے۔گو کہ بزباں حال سبھی کی زبانوں پراُستاد درویش درانی کے اس شعر کاوِرد تھا، چی بیا نہ تورہ پورتہ شی نہ سَر پہ وینو رنگ شی بادارہ! دغہ جنگ دی د وطن آخری جنگ شی ’’اس دعاکے ساتھ کہ پھر نہ کوئی تلوار اٹھ جائے اور نہ کسی کا سَر خون آلود ہوجائے، اے میرے مولا! اس جنگ کو
پیر 09 مارچ 2020ء

بین الافغان ڈائیلاگ میں خلل ڈالنے کی کوشش

جمعرات 05 مارچ 2020ء
محمد حسین ہنز ل
امریکہ اور افغان طالبان کے بیچ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کو اگرچہ میں نیک شگون سمجھتا تھا لیکن ساتھ ساتھ میرے خدشات بھی بڑھتے جارہے تھے- مجھے ڈر تھا کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد افغان وطن کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز کے مابین شروع ہونے والی حقیقی ڈائیلاگ( بین الافغانی مذاکرات) میں کہیں طالبان پھر سے ٹانگ اڑانے پر اصرار نہ کریں۔میںاپنے بے شمار مضامین میں یہاںتک میںلکھ چکاہوں کہ شایدطالبان امریکی انخلا کو اپنی جیت قرار دے کر ایک مرتبہ پھر افغانستان میں اپنی اَنانیت کا لوہا منوانے پر بضد رہیں گے۔لیکن دوحہ مذاکرات کے
مزید پڑھیے


علامہ عبدالشکور رَشاد

بدھ 04 مارچ 2020ء
محمد حسین ہنز ل
گزشتہ مضمون میںہم نے ادبی ستاروں کے نام سے شہرت پانے والی جن چھ نامورافغان ادبی شخصیات کاذکرکیا تھا ،ان میں استاد علامہ عبدالشکور رَشاد بھی شامل تھے ۔علامہ عبدالشکور رَشاد چودہ نومبر 1921ء کو تاریخی کندہار کے بربڑ کوچہ میں ایک علمی گھرانے میں پیداہوئے۔ رَشادکے والدعبدالغفور بابر خود ایک عالم اور فاضل انسان تھے یوں انہوں نے اپنے بیٹے کی علمی اور فکری نشوونما میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔اپنے باپ کی اس تربیت کااعتراف خود علامہ رشاد بھی ایک انٹرویومیں کرچکے ہیں کہ’’ میرا اولین استاد اور مُربی میرا باپ ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔لیکن مجھے
مزید پڑھیے


اسرائیلی بلڈوزرسے نعیم کی لٹکتی لاش

جمعرات 27 فروری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
رَمزے بارعُود ایک مشہور مشرق وسطیٰ کے امور پر لکھنے والے ایک مشہور لکھاری اور فلسطین کرونیکل نامی فلاحی تنظیم کے بانی ہیں۔ پیر کی رات سوشل میڈیا پر ان کے اکائونٹ پر مظلوم فلسطین سے متعلق پھر سے ایک رونگھٹے کھڑی کرنے والی خبر پڑھنے کو ملی۔مبینہ خبر کے لنک کو کلک کرتے ہی بیچ میں ایک ویڈیو بھی نظرآئی ۔تین چار منٹ پر مشتمل اس ویڈیو میں اسرائیلی افواج کے مظالم کی انتہا دیکھ کر میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ان سوالات کی طرف بعد میں آتے ہیں پہلے بربریت کی اس داستان پر بات کرتے ہیں
مزید پڑھیے


افغان امن اوراَنا کی قربانی

پیر 24 فروری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
افغان امن ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن چکاہے ۔ افغان طالبان کے ساتھ طویل مذاکرات کے نتیجے میں امریکی وزیرخارخہ مائیک پومپیو نے خوشخبری دی ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر29 فروری کو دستخط کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف طالبان اور افغان حکومت بھی بائیس فروری سے ایک ہفتے کیلئے تشدد میں کمی پر رضامند ہوچکے ہیں۔تشدد میں کمی لانے کے اعلان کے بعدجگہ جگہ افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور طالبان جنگجو وں کو آپس میں گلے ملتے اور سیلفیاں لیتے دیکھ مجھے انتہائی خوشی ہوئی اورمیرا یقین ہے کہ
مزید پڑھیے



پھر وہی دہشتگردی ، پھروہی لہولہان کوئٹہ

بدھ 19 فروری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
انسانیت ،امن اور سلامتی کے دشمنوں نے ایک مرتبہ پھرکوئٹہ کو خون میں نہلادیا،اناللہ وانا الیہ راجعون۔امن وعافیت کے حوالے سے اس قابل رحم شہرمیںایک بار پھر بے گناہ پختونوں اور بلوچوں کی دو درجن سے زیادہ لاشیں گرادی گئیں اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ماضی کی طرح اس دھماکے کے نتیجے میں اس مرتبہ بھی درجنوں گھرانے اجڑ گئے، بے شماربچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں ۔حسب معمول اس مرتبہ پھرملک کے وزیراعظم، صدر، وزرائے اعلی اور گورنرزصاحباں کی طرف سے ان کے ترجمانوں نے مذمتی بیانات جاری کردیئے ۔ کسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’’ دہشتگرد کسی
مزید پڑھیے


پارلیمینٹ اورسیاسی مغلظات۔۔۔۔

اتوار 16 فروری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
قومی اسمبلی یا ایوان زیریں ایک قانون سازجمہوری ادارہ ہے ۔یعنی قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اس ایوان کے منتخب ارکان اس کشادہ ایوان میں بیٹھ کر قانون سازی جیسے غیر معمولی امور کو سرانجام دیتے ہیں۔بائیس کروڑ کی آبادی میں سے صرف تین سو بیالیس افرادکا اہمیت کے حامل اس ہاوس کا رکن بننا کوئی غیر معمولی سعادت نہیں کہ اسے نظر انداز کردیا جائے ۔لیکن بدقسمتی ہمارے ہاں یہ روش در آئی ہے کہ اس ادارے کی ساکھ کو بھی وقتاًفوقتاً مجروح کیاجارہاہے ۔ پچھلے روز منگل کو اس ایوان کی کارروائی ٹی وی پر
مزید پڑھیے


اسپیشل اسکول سے ہندومندر تک۔۔۔

پیر 10 فروری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
کہاجاتاہے کہ ظالم بادشاہ بخت نصرکی طوفانی فوج بنی اسرائیل کی پوری سلطنت کو تہس نہس کرنے کیلئے پہنچنے والی تھی۔ قریب تھا کہ لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ اوران کے شہروں کو مسمار کیاجائے لیکن اس غافل قوم کے حکام اس وقت بھی عیش کوشی میں محو تھے جبکہ علما اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ ''ایک سوئی کے ناکے پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں''؟ ہم بیشک اسرائیل تو نہیں لیکن لایعنی باتوں اور فروعی مسائل میں ٹانگ اڑانے کی عادتیں بنی اسرائیل کی طرح ہماری بھی گھٹی میں پڑی ہیں۔ گوکہ ترقی کی دوڑ میں
مزید پڑھیے


فلسطین، ٹرمپ اور عرب ممالک

منگل 04 فروری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
اس بات پر تو پوری دنیا کا اجماع ہے کہ اسرائیل امریکہ کا وہ لاڈلا بچہ ہے جس کی ہر جائز اور ناجائز مانگ پوری کرنا امریکہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر ثابت ہوئے جنہوں نے اپنے دور صدارت میںاس لاڈلے بچے کو حد سے زیادہ پیار بھی کیااور اس پر مہربان بھی ہوئے۔لازمی بات ہے کہ امریکہ باالخصوص ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ عنایات کی سب سے پہلی قیمت اُن فلسطینیوں کو چکانی پڑی ہے جو ستر سال سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔جبکہ اس بے جا
مزید پڑھیے


یہ سیب میرا نہیں ہے

جمعرات 30 جنوری 2020ء
محمد حسین ہنز ل
خان عبدالغفار خان (باچاخان )نے اپنی سوانح عمری میں ایک جگہ اپنے بیٹے خان عبدالولی خان کی زبانی ایک واقعہ لکھاہے کہ’’ لندن میں قیام کے دوران ایک صبح جب میں اپنے قیام گاہ سے باہر نکلا تو سامنے درخت سے ایک سیب گراہواتھااور کچھ فاصلے پرایک چھوٹا بچہ بھی کھڑاتھا۔ میں نے بچے کوسیب اٹھانے کا اشارہ کیا مگربچے نے نہایت بے پروائی سے جواب دیا کہ’’ یہ سیب میرا نہیں ہے‘‘۔غور کیاجائے تولندن کے معاشرے میں پَلے پُوسے اس معصوم بچے کے ان چار پانچ لفظوں میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے ۔ کیا ہم نے کبھی سوچاہے
مزید پڑھیے