BN

محمد حسین ہنزل


وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا


دنیا جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گری ہوئی تھی۔ عقل اور خِرد کے ہوتے ہوئے انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور روحانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی۔ بالخصوص دنیائے عرب تو اس تھرڈ کلاس کی سوسائٹی کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں کمزوروں کو انسان کے نام سے پکارنا عار اور طاقت سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ جب ہر حد سے تجاوز فخر ٹھہرا اور خوئے ابلیسی انسانیت کی طرف منتقل ہونے لگی۔جب اشرف المخلوقات کا حسین لقب بھی انسان کے لئے نامناسب ٹھہرا تو رب کائنات کی حکیم ذات کو اس بیمار
بدھ 06 نومبر 2019ء

ریلوے حادثات کب تک۔۔۔؟

پیر 04 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پاکستان ریلوے کو ایک مرتبہ پھرحادثہ ہوا۔یہ قابل رحم محکمہ ویسے بھی ہروقت مختلف مالی بحرانوں اور حادثات کی زد میں رہتاہے تاہم جمعرات کو پیش آنے والا حادثہ دوہزار پانچ کے بعدریلوے تاریخ کا ایک اندوہناک حادثہ تھا۔ کراچی سے راوالپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں لیاقت پور(رحیم یار خان )کے قریب ایسی آگ بھڑک اٹھی کہ پَل بھر میں چوہتر مسافر راکھ اور ساٹھ کے قریب بری طرح گھائل ہوگئے ۔جاں بحق ہونے والے زیادہ تر مسافر وں کا تعلق سندھ کے میرپورخاص اور حیدرآباد سے تھا جو لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے محو سفر
مزید پڑھیے


خُوگر شکوہ سے تھوڑی سی مدح بھی سن لے

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
کالم کے آغاز میں سب سے پہلے روح ِاقبال سے معذرت خواں ہوںکیونکہ ان کی شہرہ آفاق نظم کے جس مصرعے کو میں نے مضمون کا عنوان چنا ہے،اس میں چند الفاظ کی ترمیم کی جسارت کی ہے-بات مولانا فضل الرحمن اور ان کے آزادی مارچ کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔میں اپنے مضامین میں بسا اوقات مولانا صاحب کی سیاست کاکئی وجوہات کی بنا پر ناقد رہا ہوں۔لیکن آج ان کے حالیہ مارچ اور ان کے کچھ اوصاف کابھی اعتراف کرناچاہتاہوں۔یہ سطور لکھتے وقت مولانا صاحب کی قیادت میں کراچی سے نکلنے والا آزادی مارچ لاہور
مزید پڑھیے


حکومتی جماعت کا رویہ

پیر 28 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے رویے اور اس حکومت کی ڈانواڈول پالیسیوں پر غلام ہمدانی مصحفی کا ایک مشہور شعر یاد آتا ہے، مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا گویایہ جماعت اب مرحوم مصحفی کے دل کی طرح جگہ جگہ رفو کا تقاضا کر رہی ہے -اسی سے متعلق ایک اور شعر مرحومہ پروین شاکر کا بھی یاد آرہا ہے، ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا اقتدار میں آئے پاکستان تحریک انصاف کی
مزید پڑھیے


بلوچستان یونیورسٹی۔ ہو کیارہاہے؟

منگل 22 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
چند روز پہلے بھی میں نے اپنے ایک کالم میں ملک کے تعلیمی اداروں میں غیراخلاقی سرگرمیوں اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں لکھاتھا۔آج پھر مکررعرض کرتاہوں کہ اس ملک کے ذمہ دار لوگ آخر اِن اداروں میں پڑھنے والوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر کیوںتلے ہوئے ہیں؟ کیا تعلیمی اداروں میں ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے بچے اور بچیاں اپنے والدین کی امانت نہیںہیں؟اگر یہ امانت ہے تو پھرسوال یہ بھی ہے کہ ان امانتوں میں خیانت کرنے والوں کے خلاف ریاست مستقل بنیادوں پر اقدامات اب بھی نہیں تو کب اٹھائے
مزید پڑھیے



ہمارے چراغوں کامستقبل ؟

پیر 14 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
نوجوان صرف اپنے والدین کی آنکھوں کے تارے نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں-اس بیدار مغزاور تواناطبقے پراقوام کے روشن مستقبل کادارومدار ہوتاہے ۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ ہماری یہ کھیپ بے راہ روی کی ایک خطرناک ڈگرپر چل نکلی ہے ۔نوجوان نسل کو اس وقت منشیات کے ناسور کی ایسی لَت پڑگئی ہے کہ ہر تیسرا اور چوتھانوجوان اس میں مبتلا نظرآتاہے۔بدقسمتی تویہ ہے کہ منشیات کی یہ شرح ان نوجوانوں میں سب سے اوپرہے جوتعلیم یافتہ ہیں اورمہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔منشیات کے ان عادی نوجوانوں میں سترفیصد وہ ہیں جن
مزید پڑھیے


تقریر فوبیا لوگوں کے نام۔۔۔

هفته 05 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
دل کی بے شمار بیماریوں میں ایک بیماری کا نام بے جا انتقام بھی ہے۔اس بیماری کے دوران مریض کونہ صرف اپنے مخالف پر بے سر و پا الزامات لگانے کی لت بھی پڑجاتی ہے بلکہ کتمانِ حق کا مرتکب بھی ہوتاہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںوزیراعظم عمران خان کی حالیہ تقریر کے بعد مجھ پربہت سے نامور سیاستدانوں، لکھاریوںاور دانشور حضرات کی حقیقت عیاں ہوگئی جو اس مہلک بیماری میں مبتلا تھے۔بلاشبہ عمران خان کی بہت سی پالیسیوں اوراُن کی ناتجربہ کار ٹیم کے اقدامات کوتنقید کاہدف بناناہرکسی کاحق ہے لیکن ناقدمیں کم ازکم اتنی جرات بھی ہونی
مزید پڑھیے


پشتون کلچر ڈے

اتوار 29  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
سماجی ماہرین اور اہل علم نے ثقافت کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ برطانوی ماہر بشریات ای بی ٹائلر کے مطابق ثقافت اُس علم ، فن ، اخلاقیات ، خصائل اور صلاحیتوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو کوئی معاشرے کے رکن ہونے کے ناطے اسے حاصل کرتا ہے ۔ جبکہ رابرٹ ایڈفیلڈر نے انسانی گروہ کے علوم اور خود ساختہ فنون کے ایک ایسے متوازن نظام کو ثقافت کہا ہے جو باقاعدگی سے کسی معاشرے میں جاری وساری رہتا ہے ۔ عربی زبان میں ثقافت کا لفظ فطانت ، زیرکی اور تجربے وہنر کے
مزید پڑھیے


خطرے میں اسلام نہیں ۔۔۔

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
جمعیت علماء اسلام (ف) ان دنوں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو ساقط کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں-اس معرکے میںدوسری اپوزیشن جماعتیں بالخصوص پی پی پی اور مسلم لیگ ن ساتھ دے یا نہ دیں لیکن مولانا فضل الرحمن کی جماعت بہرصورت میدان میں اترنے والی ہے ۔ کیونکہ مولاناکے پاس کسی بھی دوسری مذہبی جماعت کے مقابلے میں دینی مدارس کے طلباء کی صورت ایک بڑی فورس موجود ہے۔ مدارس کے تعلیمی بورڈوفاق المدارس کے پاس اس وقت ملک کے بیس ہزار چھ سوپچاس مدارس بشمول ان کی شاخیں بھی رجسٹرڈ ہیں۔لگ بھگ بیس لاکھ طلباء
مزید پڑھیے


غسان کنفانی ۔مزاحمتی ادب کاروشن ستارہ

جمعه 13  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
غسان کنفانی فلسطین کے مزاحمتی ادب کا ایک روشن ستارہ ہے۔زندگی کی کل چھتیس بہاریں دیکھنے والا یہ مشہور فلسطینی کہانی نویس، نقاد،لکھاری اورسیاستدان اسرائیلی ریاست کے قیام سے بارہ برس قبل 8اپریل 1936ء کوفلسطین کے شمالی علاقے عکامیں پیدا ہوئے۔ کنفانی محض بارہ سال کے تھے کہ ارض ِفلسطین پر اسرائیل کے نام کی ایک ناجائز ریاست وجود میں آئی اوریہیںسے فلسطینیوں کاجینا دوبھرہوناشروع ہوا۔ان کے والد فائز عبدالرزاق کنفانی اگرچہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے،تاہم وہ سیاسی طورپربھی کافی متحرک تھے۔والد کی سیاسی تربیت کانتیجہ تھاکہ غسان کنفانی بعدمیںایک مزاحمتی ادیب
مزید پڑھیے