BN

محمد حسین ہنزل


افغان سویلین ہلاکتیں: کیا حکومتی فورسز بری الذمہ ہیں ؟


افغان قضیے کے بارے میں پچھلے چند برسوں سے میں مسلسل لکھتا آ رہاہوں۔اس قابل ِ رحم ملک میں امن میرا دیرینہ خواب اور وہاں پرخوشحالی ہروقت میری تمنا رہی ہے۔ یوں اس بارے میں لکھنامیںاپنا دینی ،انسانی اور اخلاقی فریضہ سمجھتاہوں۔میرے مضامین گواہ ہیں کہ اس موضوع پرمیں نے جب بھی قلم اٹھایاہے تو امریکہ اور عسکریت پسندوں کو زیادہ ذمہ دارٹھہرایاہے۔ میرا ہر وقت یہ اصرار رہاہے کہ افغان طالبان اس جنگ میں بے گناہ افغانوں کومزید قربانی کے بکرے بنانے کے بجائے خود اَناکی قربانی دے کر بین الافغان مذاکرات میں حصہ لیں اور اس جنگ کے
هفته 07  ستمبر 2019ء

رشوت کو حق کیوں سمجھتے ہیں؟

هفته 31  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پہلی دلیل : یہ ملک چونکہ مکمل طور پر اسلامی فلاحی ریاست نہیں ہے لہذا یہاں ہر ناجائز طریقے سے مال بنانا اور بدعنوانی کرنا حرام کے زمرے میں نہیں آتا ۔ دوسری دلیل : یار،قومی خزانے کے بارے میں اتنامحتاط رہنے کی ضرورت نہیںہے ، ویسے بھی کوئی دوسرا طاقتور بندہ اس پر ہاتھ صاف کرے گا،سواس سے بہتر یہ ہے کہ آپ خود یہ کام کرلیں ۔ تیسری دلیل: اس ملک میں قانون صرف کاغذات تک ہے،پوچھنے والا کوئی نہیں ہے بلکہ قانون بنانے والے خود بھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے ہیں، لہذا قانون کی دھجیاں
مزید پڑھیے


نیم حکیم اور نیم ملا

جمعرات 29  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
ذات انسان ابتدائے آفرینش سے دوحیثیتوں کی حامل رہی ہے ۔ایک جسمانی حیثیت اور دوسرا روحانی ۔جسم کو بھی مرض لاحق ہوسکتاہے اور روح بھی مختلف امراض میں گھر سکتی ہے ۔جسمانی امراض کی مسیحائی ماضی میں حکیم اور آج کل ڈاکٹر حضرات کراتے ہیں جبکہ روحانی امراض کا علاج ان لوگوں کاکام ہوتاہے جو الٰہامی والٰہی علوم کے ماہر ہوتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے میں ان دو مسیحاوں کا کردار ہر دورمیں انتہائی اہم اور ناگزیر رہاہے ۔ اول الذکر مسیحا یعنی حکیم اگر نااہل ہو اور علاج کرانے میں غلطی وکوتاہی
مزید پڑھیے


کشمیریت،انسانیت اور جمہوریت کی نفی

جمعرات 08  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
نسلی اعتبار سے ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بھی ہندو تھے اوران کا سیاسی رشتہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی ) سے تھا۔وہ بہت کم عرصے کیلئے دومرتبہ ہندوستان کے وزیراعظم رہے لیکن تیسری مرتبہ انہوں نے پانچ سال کی مدت پوری کردی ۔واجپائی شاعربھی تھے اورسچ یہ ہے کہ ان کاشمارہندوستان کے قد آور رہنماوں میں ہوتاتھا۔کشمیرکا مسئلہ اگرچہ انہوں نے اپنی زندگی میں حل نہیں کیا لیکن ان کے دل میں اس قابل رحم قوم کیلئے درد ضرور تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ کشمیری کے لوگ انسان بھی ہیں ، کشمیری بھی ہیں
مزید پڑھیے


فتنہ

جمعرات 01  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
"لکھنے کو تو بے شمار موضوعات ہیں لیکن میراجی چاہتاہے کہ آج آپ سے چند مفید اور دل میں اتر جانے والی باتیں شیئر کروں۔ یہ باتیں دراصل پیش گوئیاں ہیں جو ہمارے دور کے سیاستدانوں اور دانشور وں کی نہیں بلکہ سرورِ کونین ؐکی مبارک زبان سے نکلے ہوئے بیش بہا موتی ہیں۔ ان پیش گوئیوں کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ شک اور اشتباہ سے مبرا اور حرف بہ حرف صادق ہونے والی ہیں۔ پیارے آقاؐ نے اپنی امت کو جن کڑی آزمائشوں سے خبردار کیاتھا انہی آزمائشوں کو فتنے کہتے ہیں۔ فتنہ
مزید پڑھیے



فطرت سے فاصلے

منگل 30 جولائی 2019ء
محمد حسین ہنز ل
انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے آنے سے پہلے ہماری دنیا ایک مستورالحال دنیا تھی ۔ ایک علاقے کے لوگوںکے رسم ورواج اور طرز معاشرت دوسرے علاقے کے لوگوں پر آشکار نہیںتھی ۔ہم نے نام تو بے شمار مذاہب کا سناتھا لیکن اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے نظریات سے ہم نابلد ہوتے تھے۔ہمارے بیچ بس وہی زیادہ باخبر لوگ ہوتے تھے جو کتابوں ، اخبارات یا ریڈیو کے ذریعے دوسری دنیا کے لوگوں کے مذہب اور طرز معاشرت کے بارے میں کچھ پڑھتے یاسنتے تھے ۔ کیمرے کی آنکھ ہر جگہ موجودنہیں
مزید پڑھیے


کاروان کی دھرتی کا مستقبل

اتوار 21 جولائی 2019ء
محمد حسین ہنز ل
افغانستان کے خوست صوبے سے تعلق رکھنے والے پیرمحمدکاروان پشتو زبان کے مشہور شاعر اور لکھاری ہیں۔تباہ حال افغانستان اورقابلِ رحم افغانوں کا ذکر جب بھی چھڑجاتاہے تو مجھے کاروان صاحب کے بہت سے اشعاراور نظمیں یادآتی ہے۔بالخصوص اس شاعر کی ایک غزل کایہ شعرتوپڑھتے وقت مجھے رُلادیتاہے جس میں انہوں نے اپنی جنگ زدہ دھرتی کی کچھ یوں منظر کشی کی ہے۔ ترجمہ:’’میرا دیس آگ کے دریا میں ڈبکیاں لے رہاہے اور حال یہ ہے کہ نہ صرف اس کے نوخیزجوان جنگ کے شعلوں کی نذرہوگئے ہیں بلکہ اس کی دوشیزائوں کی میتیں بھی مگرمچھ کھاچکاہے‘‘۔پیر محمد کاروان
مزید پڑھیے


ریاست کی رٹ؟

جمعه 19 جولائی 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پہلا واقعہ : کلی عمر کوئٹہ کا رہائشی عبدالخالق محکمہ زراعت بلوچستان میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھا۔یہ اچانک جولائی کے پہلے ہفتے اپنے دفترسے لاپتہ ہوگیا اور سات جولائی کو ایک ویرانے سے ان کی لاش ملی ۔پولیس کی طویل تحقیق کے بعد عبدالخالق کے قاتل کاسراغ لگا کر اسے گرفتار کیاگیا جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ کلی عمر کی مسجد کا پیش امام ہیں۔ قاتل کے اعترافی بیان کے مطابق، اس نے مقتول کو سونے کی اینٹوں کی تصاویر دکھاکر یہ کہا تھاکہ قیمتی اینٹوں کا یہ خزانہ کوئٹہ کے کسی قبرستان میں ہے جس کومل
مزید پڑھیے


دہشتگردی اور علماء کی ذمہ داری

بدھ 10 جولائی 2019ء
محمد حسین ہنز ل
"دہشتگردی اور انتہا پسندی چونکہ مذہب کی غلط تعبیر کے نتیجے میں معاشرے میں جڑ پکڑتی ہے یوں اس ناسور کی بیخ کنی کیلئے سب سے اہم فریضہ علماء کرام ہی کابنتاہے۔ نائن الیون کے بعدیہ ناسور پوری آب وتاب کے ساتھ نہ صرف افغانستان میں پھیل گیا بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات ، خیبرپختونخوا اور جزوی طور پرملک کے دوسرے حصے بھی اس کی زد میں آئے۔ لاکھوں کلمہ گومسلمان اس خونخوار بیانیے پریقین رکھنے والوں کے ہاتھوں شہید اور اس سے زیادہ تعداد میں لوگ زخمی اور دربدر ہوگئے۔ اور حال یہ ہے کہ مذہب کے نام
مزید پڑھیے


پشتو کا عظیم شاعررحمان بابا

بدھ 03 جولائی 2019ء
محمد حسین ہنز ل
شعرگوئی بھی ایک خداوندی عطیہ ہوتاہے ۔خوش نصیب ہیں وہ شعراء جو اس بیش بہا عطیے کو روئے زمیں پراللہ و رسولؐ کی اطاعت، امن ومحبت کے پرچاراور خلق خدا کی فلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔ سلیم الفطرت اور لائق شعراء میں عبدالرحمان مومند کاشماربھی ہوتاہے جسے لوگ عقیدت سے بابا پکارتے ہیں ۔یوں توپشتوزبان کے کلاسیکل دورکے ہرشاعرنے اپنے اپنے دور میں دنیا کو مثبت پیغام دیاہے لیکن رحمان بابا کی شاعری پڑھنے کے بعد ایک قاری پہلی فرصت میں ان کے عشق الٰہی اور انسان دوستی کو بھانپ
مزید پڑھیے