BN

محمد صغیر قمر


شقاوت‘ حقارت‘ ہلاکت


برداشت‘ وضع داری اور در گزر اس قدر ارزاں کیوں ہے؟ہم اپنا ماضی دور ،بہت دور چھوڑآئے؟ اضطراب کے عالم میں سو چ رہا ہوں۔ انتقام انتقام پکارتی خلق خداکا انجام کیا ہوگا۔کیسے وہ لمحے تھے، وحشت کی آگ میں تپتی سر زمین مکہ کے سر پر جس روز رحمت للعالمین ؐ دس ہزار کا لشکر لے کر کھڑے تھے۔ ابو سفیان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا وہ فراز کوہ سے اس لشکر کو دیکھ کر آنے والے دور کو چشم تصور سے دیکھ رہے تھے۔ یہی مکہ المکرمہ جس میں ابو سفیان اور کفر و شرک کے پشتیبانوں
منگل 27  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

یہ خون خاک نشیناں تھا ؟

پیر 19  ستمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
پھر ستمبرآیا،میں نے ۶۵ء کے شہیدوں کو جھک کر سلام کیا ،کشمیر اورکارگل کے شہیدوں کو شدت غم سے یاد کیا۔ کئی روز گزرے ایک عجیب سوال ہے جو ہر صبح مشرق سے طلوع ہونے والے آفتاب کے ساتھ ابھرتا ہے۔ راستے کے درو دیوار اور درختوں پر دن بھر سورج کی روشنی کے ساتھ چمکتا ہے اور شام پڑتی ہے تو دھوپ کے ساتھ تحلیل نہیں ہوتا۔مغربی افق پر شفق پھوٹتی ہے تو یہ سوال کچھ اور اجاگر ہوجاتا ہے، جیسے کوئی دلدوز نغمہ جو ہوا میں ہر طرف سے امنڈتا اور قلب و روح کی گہرائیوں سے پھوٹتا
مزید پڑھیے


اعتبار انقلاب!!

منگل 13  ستمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
بات قائد اعظم ؒ کے کردار کی ہے ا وران کے پاکستان کے رہنمائوں کی زبان پر تذکرہ عام ہے۔صاحب کردار، جہد مسلسل،دیانت دار،حوصلہ مند،صاحب حمیت،دوربیں اور راست با زقائد۔ ان کی ایمانداری‘ جرأت‘ کردار اور فراست اور پائے استقلال کی گرد کو پانے والا دور دور تک نہیں ہے۔حسن اے شیخ بتاتے ہیں’’یہ 1946کا ذکر ہے‘ میں ان دنوں مسلم لیگ مزنگ شاخ (لاہور) کے شعبہ نشرو اشاعت سے منسلک تھا۔ قائد اعظم ؒ لاہور تشریف لائے‘ تو میںاپنے دوستوں کو ساتھ لیے اسمبلی ہال پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ بے ضابطگی تھی ،تاہم مجھے قائد اعظم کی اس
مزید پڑھیے


ہنوز دلی دور است

جمعرات 08  ستمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
ریاست جموں کشمیر کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس کی قیادت کے دعوے دار ہمیشہ عین وقت پر فروخت ہو جاتے رہے اوربظاہرووٹ کی طاقت سے آنے ولے حریت کیش مجاہدین کی جدجہد کو دائو پر لگاتے رہے ۔ ان میں شیخ عبداللہ سرفہرست تھے۔ وہ کشمیریوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتے’’پاکستان سے رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ۔‘‘پھر اپنی شیر وانی کی جیب سے سبز رومال نکال کر لہراتے اور پوچھتے‘ ’’یہ سبز رومال تمہیں نظر آ تا ہے؟‘‘’’ہاں …‘‘ میں جواب سن کر کہتے…’’میں اور میرا سب اس رومال پر قربان۔‘‘ لوگ
مزید پڑھیے








اہم خبریں