Common frontend top

محمد صغیر قمر


ازدحام یا قوم


انقلاب کی ہاہاکار ہے اور انقلاب ہے کہ آ ہی نہیں رہا۔ اتنے انقلابی‘ اتنے لیڈر لیکن انقلاب کا دور دور تک نشان نہیں۔ ان کو کون سمجھائے کہ انقلاب قوموں میں آتے ہیں‘ایک ہجوم میں انقلاب کیسے آ سکتا ہے۔فرقوں‘ قبیلوں گروہوں اور خیالات میں بٹا ہوا ہجوم ملک میں انقلاب چاہتا ہے۔حیرت ہے! خدا کے بندو!یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسا ازدحام جسے قوم ہونے کا گمان ہے‘اسے کوئی خبر کیوں نہیں کرتا کہ قوم بنو گے تو انقلاب آئے گا۔ یہ مداری جو اس قوم کو موم کی ناک سمجھ کر گھماتے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے
جمعرات 06 اپریل 2023ء مزید پڑھیے

کہاں گئے وہ لوگ؟

جمعرات 30 مارچ 2023ء
محمد صغیر قمر
جی نہیں چاہتا کہ اپنے ڈوبتے،تعفن پھیلاتے،اور ہر لمحے فشار خون بلند کرتے سسٹم کی بات کروں۔وہ سسٹم جسے اب ابدی نیند سُلا دینا چاہیے،اس کی بساط لپیٹ دینی چاہیے۔دعوے،نعرے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور جھوٹ اور مکاری کے نشانات باقی رہے۔ہمار ے باغ کے پیڑوں کی ہر شاخ پر بیٹھے اُلّوکیا گل کھلائیں ؟کوئی پشین گوئی کرنا ممکن نہیں رہا ،جانے کب کیاسانحہ ہماری راہ میں آجائے۔کوئی رجل رشید دور دور تک نہیں ہے۔کوئی ہوتا جو اٹھتا اور تجدیدکا عزم کرتا۔ اِسلام کے سب سے پہلے مجدد عمر بن عبدالعزیز جنہوں نے شاہی خاندان میں آنکھ کھولی۔
مزید پڑھیے


علماء پھسل گئے تو…؟

بدھ 22 مارچ 2023ء
محمد صغیر قمر
انسان دکھ کے ساتھ سوچتا ہے ۔امت رسول ہاشمی ﷺ کا یہ حال تو کبھی نہ تھا ۔ہر کہیں ہر محا ذپر ذلت کا شکار امتی آخر کس پاتال تک جائیں گے۔ علمائے کرام کا کردار ‘ جو آخر بروئے کار آنا تھا۔ ابھی تک نہیں آیا اور اب تو لوگ ان کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ۔ کیا ہی اچھا ہوتاکہ ہمارے علمائے کرام کا کردار نکھر کر سامنے آتا ۔ اقتدار کے حصول کی جنگ کا تو کوئی فقہی جواز تلاش کیاجا سکتا لیکن علماء کے بروئے کار نہ آنے کا کوئی بھی عقلی ‘ منطقی
مزید پڑھیے


بوسیدہ نظام

بدھ 08 مارچ 2023ء
محمد صغیر قمر
مدتوں سے نام نہاد راتب خور دانشور اس قوم نما ہجوم کو ڈرارہے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر یہ نظام لپیٹ دیاگیا تو کچھ نہیں بچے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس نظام کی موجودگی میں عوام کے پاس کیا بچا ہے؟ وہی چہرے ، نعرے ، دعوے، وعدے، وہی سرکش بیورو کریسی‘ وہی با اختیار پٹواری‘ وہی ڈاکے‘ چوری اور راہزنی۔ اس سسٹم نے کچھ بھی بدلنے نہیں دیا تو پھر اس نظام کو بچا کر اچار ڈالنا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جو ڈراتے ہیں۔ اس بدبو دار اور بوسیدہ سسٹم کے ساتھ ان کی امیدیں کیوں
مزید پڑھیے


اپنی انا سے نکلو!!

جمعرات 02 مارچ 2023ء
محمد صغیر قمر
کشمیر اور اہل کشمیر برسوں سے ایک امید لگائے بیٹھے ہیں۔پاکستانی غازی آئیں گے اور انہیں نجات دلائیں گے۔یہ امیداور آس پون صدی سے قائم ہے لیکن جن سے امیدیں اور تمنائیں وابستہ ہیں انہیں اپنے حال کی خبر نہیں۔ اس وقت پاکستان اپنی تاریخ کے سنگین ترین بحران سے گزر رہا ہے اورحکمرانوں کی بصیرت ہمیشہ کی طرح غلط فیصلوں پر مصر ہے۔قوم اس صورت حال سے نہ تو پوری طرح آگاہ ہے نہ ہی اس کے تدارک کے لیے ذہنی اور قلبی آمادگی رکھتی ہے ۔افغان پالیسی میں’’سب سے پہلے پاکستان ‘‘ کے نام پر جو تبدیلی کی گئی
مزید پڑھیے



تانگیر بابا

جمعرات 23 فروری 2023ء
محمد صغیر قمر
یہ کئی برس ادھر کی بات ہے 1984کا سال اور دسمبر کا مہینہ… سلسلہ کوہ ہندو کش نے برف کا احرام پہن لیاتھا ۔ہوائیں کہستانوں سے ٹکراتی پھرتی تھیں ۔سخت سردی میں زندگی ٹھٹھر کر رہ گئی تھی ۔ اسلام آباد میں انتظار کی طویل گھڑیاں گزار کر ہم ان دیکھی منزل گلگت کی جانب محو پرواز تھے ۔ جہاز میں کھسر پھسر کے بعد طویل سناٹا چھا گیا تھا ۔ زمین پر ہر چیز نکھر کر ابھر ی تھی ۔آج کئی دنوں کے بعد سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ جہاز میںہر چہرے پر مسرت تھی
مزید پڑھیے


اب گنجائش ختم!!

جمعرات 16 فروری 2023ء
محمد صغیر قمر
اہل پاکستان نے کشمیری عوام سے کب اظہار یک جہتی میں کمی آنے دی ہے۔ پاکستانی اور کشمیری یک جان دو قالب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ کشمیری بھی ملت اسلامیہ پاکستان کا حصہ اور اس کا جزو لاینفک ہیں، انہوں نے بھی قیام پاکستان کی جدوجہد میں اس طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا،جس طرح غیر منقسم ہندوستان کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے۔ یہ بات تو طے تھی کہ پاکستان ان ہی علاقوں میں بنے گا، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی۔ یوں مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں اور ہندو اکثریت والے علاقے بھارت میں شامل ہوں
مزید پڑھیے


نام نہاد دانشور

جمعرات 09 فروری 2023ء
محمد صغیر قمر
کیا پدی کیا پدی کا شوربہ! یہ نام نہاد دانشور اپنی دانشوری سنبھال کر رکھیں ۔ جن کی شکلوں کو دیکھ دیکھ کر آنکھیں تھک گئی ہیں۔ یہ چہرے سرشام مختلف چینلز پر آ ٹپکتے ہیں اور اپنے افلاطونی خیالات سے اس الم نصیب قوم کو ’’بہرہ ور‘‘ کرتے ہیں۔آج پچھہتر برس بعد یہ قوم کو بتا رہے ہیں کہ پاکستان کیوں بنایاگیا تھا۔مقصد وجود کی اس بحث میں وہ بھول جاتے ہیں کہ قائد اعظم ؒ ان سے زیادہ عقل اور فہم کے مالک تھے۔قائد اعظم ؒ کے کردار اور عظمت کی گرد کو بھی یہ دانش فروش نہیں
مزید پڑھیے


نا تمام حسرتوں کی قسم !

هفته 04 فروری 2023ء
محمد صغیر قمر
ہم کشمیریوں اور کشمیر سے محبت کرنیوالوں کا بھی عجب نصیب ٹھہرا؟ الم نصیبی ہے،غم لامتناعی ہے اور دُکھ بلا کا ہے،پوری زندگی خوش کی تمنا میں جیتے رہے،قلم اور زبان کوحوصلے بڑھانے اور خوش کُن زبان استعمال کرنے پر صرف کر دیا۔ادر ادر گھلتے رہے لیکن کبھی شکوہ زبان پر نہیں آنے دیا۔پاک سر زمین سے عشق گھٹی میں ڈال کر پلایا گیا تھا،دل وجاں کو سوا بھی کچھ ہوتا تو اس مٹی پر نچھاور کرے کہ اس سرزمین نے ہماری لُٹی پِٹی مائوں کو پناہ دی تھی۔پاکستان اہل کشمیر کے لیے ایک ملک نہیں،حرمین کے بعد مقدس سرزمین ہے۔یہ
مزید پڑھیے


وقتی اُبال۔جذباتی نعرے

جمعه 27 جنوری 2023ء
محمد صغیر قمر
اس ہجوم نما قوم پر جب بھی کوئی مشکل مرحلہ آتا ہے،ریاست حقوق سلب کرتی ہے یاکوئی آفت آتی ہے،نت نئے نجات کے راستے تلاش کرتی ہے۔اس ملک کا ایک طبقہ پہلے دن سے اس ہجوم نما قوم کی منزل کے راستے میں آن کھڑا ہوا تھا۔استعما ر کے پروردہ ان لوگوں کو اس ملک کا قیام ہی کھٹک رہا تھا۔اس طبقے نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ نشان منزل کی جستجو میں سرگرداں اس ہجوم کو کب سمجھ آئے گی ؟کب اپنے سامان سفر کے ساتھ منزل کی طرف بڑھیں گے، کب
مزید پڑھیے








اہم خبریں