Common frontend top

محمد صغیر قمر


اعتبار انقلاب!!


بات قائد اعظم ؒ کے کردار کی ہے ا وران کے پاکستان کے رہنمائوں کی زبان پر تذکرہ عام ہے۔صاحب کردار، جہد مسلسل،دیانت دار،حوصلہ مند،صاحب حمیت،دوربیں اور راست با زقائد۔ ان کی ایمانداری‘ جرأت‘ کردار اور فراست اور پائے استقلال کی گرد کو پانے والا دور دور تک نہیں ہے۔حسن اے شیخ بتاتے ہیں’’یہ 1946کا ذکر ہے‘ میں ان دنوں مسلم لیگ مزنگ شاخ (لاہور) کے شعبہ نشرو اشاعت سے منسلک تھا۔ قائد اعظم ؒ لاہور تشریف لائے‘ تو میںاپنے دوستوں کو ساتھ لیے اسمبلی ہال پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ بے ضابطگی تھی ،تاہم مجھے قائد اعظم کی اس
منگل 13  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

ہنوز دلی دور است

جمعرات 08  ستمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
ریاست جموں کشمیر کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس کی قیادت کے دعوے دار ہمیشہ عین وقت پر فروخت ہو جاتے رہے اوربظاہرووٹ کی طاقت سے آنے ولے حریت کیش مجاہدین کی جدجہد کو دائو پر لگاتے رہے ۔ ان میں شیخ عبداللہ سرفہرست تھے۔ وہ کشمیریوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتے’’پاکستان سے رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ۔‘‘پھر اپنی شیر وانی کی جیب سے سبز رومال نکال کر لہراتے اور پوچھتے‘ ’’یہ سبز رومال تمہیں نظر آ تا ہے؟‘‘’’ہاں …‘‘ میں جواب سن کر کہتے…’’میں اور میرا سب اس رومال پر قربان۔‘‘ لوگ
مزید پڑھیے








اہم خبریں