BN

محمد عامر خاکوانی


سوشل میڈیا کے’’ بلیک ہول‘‘ سے بالزاک تک


لاک ڈائون کے دنوںسے ہم نے کوشش کی کہ سوشل میڈیا پر گزارے گئے کچھ گھنٹے کم کر کے پھر سے کتابیں پڑھی جائیں۔اس پر یکسو ہوچکا ہوں کہ’’ سوشل میڈیا‘‘ بھی اپنی طرز کا بلیک ہول ہی ہے۔بلیک ہول کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے،وہی جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ پوری کائنات ہڑپ کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا بھی انسان کی توجہ،خیال ، یکسوئی غرض ہرچیزکو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔ آدمی کے سینکڑوں ، ہزاروں گھنٹے یہاںغائب ہوجاتے ہیں۔بہت بار تین چار گھنٹے فیس بک یا ٹوئٹر پر گزارنے کے بعد آپ
منگل 23 جون 2020ء

سفاک رُت

جمعه 19 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اللہ رحم فرمائے ،یہ رُت کچھ ایسی سفاک اور لہورنگ ہے کہ اب تو وحشت ہونے لگی ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے چہار سو رخصت ہونے کا موسم چھایا ہے۔ کہیں نہ کہیں سے کوئی پریشان کن خبر سننے کو مل جاتی ہے۔ جاننے والوں میں سے کئی بیمار ہوئے، الحمدللہ کہ وہ شفایاب ہوئے، مگر سخت تکلیف بھگتنا پڑی ۔ ہمارے اداریہ نویس اور ادارتی سیکشن کے سربراہ اشرف شریف کورونا کا شکار ہوئے، پچھلے تین ہفتے انہیں سخت تکلیف بھگتنا پڑی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ خطرے سے نکل آئے، صحت یاب ہوگئے۔ یہ وائرس مگر
مزید پڑھیے


ایک ٹیسٹ جو نیگیٹو آیا

منگل 16 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
چند دن پہلے کورونا سے متاثر ہونے کا شبہ ہوا۔ علامات کچھ زیادہ ظاہر نہیں ہوئیں، ہلکے پھلکے اشارے سے تھے، معمول کی خشک کھانسی، گلے میں چبھن وغیرہ ۔بس یہ ہوا کہ ایک ایسے عزیز سے ملاقات ہوئی ،بعد میں معلوم ہواکہ کورونا کے مشتبہ مریض ہیں،کام کی جگہ پر بھی کچھ لوگ متاثر ہوئے، جس میڈیکل سٹور سے روٹین کی دوائیاں لیتا ہوں، وہاں کیسز نکلے۔ ماہرین مشورہ دے رہے ہیں کہ علامات ظاہر نہ ہوں تو ٹیسٹ نہ کرایا جائے۔ٹیسٹ کا فیصلہ یوں کیا کہ اگر خدانخواستہ پازیٹو نکلے تو پھر زیادہ احتیاط کی جائے ، گھر
مزید پڑھیے


ہمارے شاہ صاحب

اتوار 14 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
تصوف یاعام فہم الفاظ میں میں روحانیت کہہ لیں، اس سے میری دلچسپی سکول ، کالج کے زمانے سے شروع ہوئی۔ تصوف کے بارے میں کتابیں پڑھنا شروع کیں تو اندازہ ہوا کہ درویشوں کی بہت سی اقسام ہیں، مگر ایک بڑی تقسیم یہ ہے کہ کچھ درویش مال ووولت سے دور رہنا پسند کرتے ہیںجبکہ بعض درویش دنیا میں رہ کر دل کو دین اور روحانیت کی طرف مرتکز رکھتے ہیں۔ ان کے اردگرد دنیاوی آسائشیں اور سہولتیں موجود ہوتی ہیں، مگر دنیا کی کشش دل میںسرائیت نہیں کرتی ۔ملتان کے حضرت بہائوالدین زکریا ؒ ایسے ہی ایک بہت
مزید پڑھیے


ٹیم دوبارہ بنانی ہوگی

جمعه 12 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پیگی نونن معروف امریکی کالمسٹ اور صحافی ہیں، وہ ممتاز امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل کے لئے کالم لکھتی ہیں، کئی نیوزچینلزکے پولیٹیکل کمنٹری بھی کرتی ہیں، صدر ریگن اور بش کی سپیچ رائٹر بھی رہیں۔ پیگی کی صدر ریگن پر لکھی کتاب خاصی مشہور ہے۔ اس میں ایک دلچسپ ، فکرانگیز ٹکڑا انہوں نے لکھا۔ برسوں پہلے روئیداد خان کی کتاب’’ پاکستان انقلاب کے دھانے پر ‘‘میں اس کا حوالہ پڑھا۔ روئیداد خان کی یہ کتاب ایسے بے شمار نہایت دلچسپ، معلومات افزا اقتباسات، فقروں اور واقعات سے معمور ہے۔ کسی ایک کتاب میں اتنے زیادہ خوبصورت حوالے ، اس
مزید پڑھیے



روحانی امیونٹی

منگل 09 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وبا کے موسم کی اپنی زندگی ہے، عام دنوں سے بہت مختلف۔ڈری ، سہمی،نامعلوم کے خطرے سے دوچار۔ کب ، کہیں پر خطرناک، نظر نہ آنے والا وائرس ٹکرا جائے۔ زندگی کا پورا پیٹرن بدل کر رکھ دے۔اگلے دو تین ہفتوں کے لئے قرنطینہ کی خوفناک تنہائی۔ کچھ پتہ نہیں کہ آزمائش کے ان دنوں سے کیا برآمد ہو؟کچھ پتہ نہیں کہ پھر سے نیاآغاز ہوپائے گا یا یہیں ، بجھے بجھے ، اداس دنوں میں سفر ختم۔چندجاننے والے ، دوست کورونا کا شکار ہوئے، ان کی ویڈیوز دیکھتا رہا۔ زندگی سے بھرپور، چہکتے، مہکتے ، مسکراتے لوگ جب سانس
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کی کامیابی پاپولزم کی وجہ سے تھی ؟

اتوار 07 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کو وزیراعظم بنے پونے دو سال ہوچکے ہیں، مگر ان کی سیاسی کامیابی آج بھی تجزیہ نگاروں کو تجزیہ کرنے پر اکساتی ہے۔ ہمارے دانشور دوستوں کے خیال میں عمران خان نے پاپولزم(Populism) کو استعمال کر کے یہ کامیابی استعمال کی، اس حوالے سے پوسٹ ٹروتھ (Post Truth)کی ترکیب بھی برتی جاتی ہے۔ پاپولزم سے مراد ایسی سیاست ہے جس میںعوام یا کسی عوامی گروہ کی محرومیوں یا شکایات کو جارحانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے سیاسی کامیابی حاصل کی جاتی ہے، پاپولسٹ سیاستدان کئی بار اس طبقے سے تعلق نہیں رکھتا، مگر وہ اس طبقے کا نمائندہ
مزید پڑھیے


عِفریت کے ساتھ جیناسیکھیں

جمعه 05 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کورونا کی وبا کے حوالے سے اب ہمیں ایک بنیادی نکتے میں یکسو اور واضح ہوجانا چاہیے۔یہ وباپاکستان سے آسانی کے ساتھ نہیں جائے گی۔ اس پر قابو پانے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اگلے چند ماہ تک یہ موذی بیماری ہمارے درمیان ہی رہے گی۔ ایسا کوئی شارٹ کٹ یا انتظامی طریقہ نہیں رہا جس سے اسے کنٹرول کیا جا سکے۔ زندگی میں معجزات رونما نہیں ہوتے، غیر معمولی معرکے برپا کرنے پڑتے ہیں۔ چین نے ایسا کر دکھایا،چند ایک اور استثنائی مثالیں بھی ہیں۔ ہمیں جو کرنا چاہیے تھا ، وہ ہم نہیں کر پائے۔ جو
مزید پڑھیے


جس کا جو حق ہے، وہ ضرور ملنا چاہیے

منگل 02 جون 2020ء
محمد عامر خاکوانی
شیخ رشید احمد کے حوالے سے خاکسار کی یہ دیرینہ رائے ہے کہ ان کے بیشتر دعوے غلط اور بہت سی باتیں صرف پبلسٹی لینے کی خاطر ہوتی ہیں۔بیشتر سیاستدانوں کی طرح شیخ صاحب میڈیا کوریج کے دیوانے ہیں، ہوشیارآدمی ہونے کے ناتے جلد اندازہ لگا لیا کہ نیوز چینلز کی دنیا میں تیز، کاٹ دار جملہ پھینکنے والے اور انتہائی پوزیشن لینے والے کو کوریج ملتی ہے۔ سوئپنگ سٹیٹمنٹ دینے اور مستقبل کی غلط سلط پیش گوئیاں کرنے کی وجہ سے کئی برسوں سے شیخ صاحب نیوزچینلز کے موسٹ وانٹیڈ گیسٹ ہیں۔ نوے کے عشرے میں ان کی خودنوشت’’
مزید پڑھیے


طالبان کیا سوچ رہے ہیں؟

اتوار 31 مئی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہوجانے کے بعد امن کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، مگر راستے میں بڑے چیلنجزاور سپیڈ بریکر موجود ہیں۔ افغانستان کی موجودہ حکومت سے معاملات طے ہونا بھی بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن امریکہ کا اصل درد سر طالبان کی مستقبل کی پالیسیاں ہیں ۔ا امریکہ کے جانے کے بعد طالبان کا کیا رویہ ہوگا، کیا وہ القاعدہ سے دور رہیں گے یا پرانے تعلقات عود کر آئیں گے، طالبان پولیٹیکل ونگ کی جانب سے ہونے والے معاہدوں پر ان کے فیلڈ کمانڈر اور جنگجو کس حد تک عمل کریں گے ؟سب سے
مزید پڑھیے