BN

محمد عامر خاکوانی


عمران خان کو نیا ایجنڈا بنانا چاہیے


عمران خان کی سیاست اب ایک اہم موڑ پر آ گئی ہے۔ وزیراعظم وہ پہلے ہی بن چکے ہیں، بلکہ اپنی ممکنہ مدت کا ایک چوتھائی یعنی پچیس فیصد (پندرہ ماہ)گزار بھی چکے ہیں۔ ان کے پاس وقت اب بہت زیادہ نہیں رہا۔ اگلے سال ڈیڑھ ، دو میں انہیںکچھ کر دکھانا ہے۔ اگر وہ اپنی مدت (پانچ سال)مکمل کر گئے ، جو کہ ہمارے ہاں آسان نہیں، تب بھی آخری سال الیکشن کا ہوگا اور اس میں انتخابات کو پیش نظر رکھ کر ہی ترقیاتی کام کئے جاتے ہیں، اصلاحات کا ایجنڈا درمیانے عرصے میںہی ممکن ہے۔ عمران خان نظام
جمعه 22 نومبر 2019ء

ڈیل، ارینجمنٹ، بندوبست ؟

منگل 19 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست نے ایک اہم موڑ لیا ہے۔ میاں نواز شریف اپنا علاج کرانے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں چار ہفتوں کی مہلت دی، مگر عمومی تاثریہی ہے کہ میاں صاحب کی صحت کے پیش نظر اس مدت میں توسیع ہو گی۔ پاکستانی سیاست میں کوئی بات قطعیت سے نہیں کہی جا سکتی۔ یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔قومی شناختی کارڈ نہ رکھنے والا شخص ملک کا نگران وزیراعظم بن جاتا ہے۔ تحریری معاہدہ کرنے والے سات برس تک معاہدے سے انکار کرتے رہتے ہیں، جب معاہدہ سامنے آ جائے تب خاموشی سادھ
مزید پڑھیے


مولانا نے دھرنے میں کیا کھویا، کیا پایا؟

جمعه 15 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن اپنے ڈائی ہارڈ ساتھیوں، کارکنوں اور حامیوں سمیت اسلام آباد میں دو ہفتے تک دھرنا دینے کے بعد اب رخصت ہوچکے ۔ اب ملک بھر میں مختلف مقامات پراہم سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے مولانا نے پلان بی کا نام دیا ہے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پلان اے کی ناکامی کے بعد پلان بی کا کیا حشر ہوگا؟ ویسے بھی جی ٹی روڈ، موٹر وے یا شہروں کی اہم سڑکیں بند کرنے سے عوام ہی خوار ہوتے ہیںا ور ان کی تمام تر صلواتیںایسا کرنے والے کو پڑتی ۔مولانا اپنے پلان
مزید پڑھیے


دو دھرنے، ایک انجام ؟

منگل 12 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں دھرنے کو بارہ دن ہوگئے، آج تیرھواں روزہے۔ ابتدائی دنوں میں مولانا فضل الرحمن اور ان کے کارکن اسے دھرنا نہیں مارچ کہتے رہے۔ مارچ سے پہلے مولانا نے بھی ایک دو بار اخبارنویسوںکو کہا کہ ہم نے کبھی دھرنا کا لفظ استعمال نہیں کیا، ہم تو صرف آزادی مارچ کرنا چاہ رہے ہیں ، میڈیا ازخود ہی سے دھرنا کہہ رہا ہے۔ اسلام آباد میں جلسہ کے بعد مولانا بھی دھرنے پر مجبور ہوگئے۔ دو ہفتے ہونے کو ہیں یہ دھرنا جاری ہے۔ مولانا کا دھرنا مگر عمران خان کے پانچ
مزید پڑھیے


مولانا بندگلی میں جا چکے ہیں؟

اتوار 10 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی زندگی کے اہم ترین چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ ان کی کامیابی ہی سیاسی ساکھ اور عوامی پزیرائی کی ضامن ہوگی ،جبکہ اندازے کی غلطی ، کوئی ایڈونچر انہیں ہیرو سے زیرو بنا سکتا ہے۔ شائد یہی احساس مولاناکے اعصاب پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ وہ ایک گھاگ، تجربہ کار ، گرم سرد چشیدہ سیاستدان ہیں۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں، واپسی کا راستہ کھلا رکھتے اور سیاسی یوٹرن لینے میں عار نہیں سمجھتے ۔ اگرچہ ہرسمجھدار آدمی کی طرح وہ اسے یوٹرن نہیں کہتے اور نہ اس کا دفاع کرنے کی غلطی کرتے
مزید پڑھیے



مولانا کا پلان بی کہاں ہے؟

جمعه 08 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی مذاکرات آنیاں جانیاں ہی ہوتے ہیں۔مختلف تجاویز پیش کی جاتی ہیں، پھر ان پر اعتراض، جواب در جواب ، اس دوران اعلیٰ سطح سے مشاورت ، پھر نئے ترمیمی نکات، پھر سے بحث۔ یہ سب چلتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں مذاکرات اسی کو کہتے ہیں۔ معروف امریکی صحافی باب وڈورڈ نے اپنی کتاب میں سابق پاکستانی سفیر اور متنازع صحافی کا ایک واقعہ سنایا۔افغانستان کے حوالے سے امریکی جیت چاہتے تھے، پاکستان عدم تعاون سے وہ ناخوش تھے۔امریکی پاکستان پر ڈو مور
مزید پڑھیے


ڈراپ سین ؟

منگل 05 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کیا مولانا فضل الرحمن کے مارچ/ دھرنے کا ڈراپ سین ہونے جا رہا ہے۔ اتوار کی شام مولانا خاصی تاخیر سے پشاور موڑ جلسہ گاہ میں پہنچے۔وہ مائیک پر آئے تو اگرچہ نیوز چینلز پر خبر چل چکی تھی کہ مولانا کی جماعت نے اے پی سی بلوانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ہر ایک نظریں ان کی تقریر پر تھیں۔مولانا فضل الرحمن کی تقریر ان کے مخصوص انداز کا عمدہ نمونہ تھی، مگرخاصے عرصے بعد ان کی گفتگو بے ربط محسوس ہوئی۔ ذہنی طور پر بھی وہ الجھے ہوئے تھے ،ایک دو بار ڈی ٹریک بھی ہوئے ، مگر
مزید پڑھیے


مولانا کیا کر سکتے ہیں؟

اتوار 03 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا اہم ترین رائونڈ اب چل رہا ہے۔ اسی پر ان کی کامیابی، ناکامی کا دارومدار ہے۔ حکومت کی کامیابی اور ناکامی بھی اسی سے منسلک ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مولانا کی کامیابی شائد حکومت کی ناکامی ہوگی اور حکومت کی کامیابی مولانا کے لئے پریشان کن نتیجہ لا سکتی ہے۔ ایک تیسری وِن وِن صورتحال(win win Situation)بھی ہوسکتی ہے، جس میں دونوں فریقوںکا بھرم رہ جائے اور کسی کے حصے میں شکست کا داغ نہ آئے۔ افسوس کہ پاکستانی سیاست میں ایسی نوبت کم ہی آتی ہے۔ ہرفریق دوسرے کو
مزید پڑھیے


مولانا کا مارچ، چند تاثرات

جمعه 01 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانافضل الرحمن کا آزادی مارچ اپنے اہم ترین حصے میں داخل ہوگیا۔ سندھ اور پنجاب سے ہوتے ہوئے وہ اسلام آباد پہنچ گئے ۔ ان سطروں کے پڑھے جانے تک ان کے اسلام آباد میں قیام کے حوالے سے اپ ڈیٹس آپ کے سامنے آ چکی ہوں گی۔ میں صرف ان کے اس مارچ کے حوالے سے اپنے چند تاثرات بیان کرنا چاہوں گا۔مولانانے اب تک کیا حاصل کیا، کیا کھویا؟ پہلے مثبت نکات پر بات کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے اس مارچ کے ذریعے سیاسی طور پر خاصا کچھ حاصل کیا ہے۔ شارٹ
مزید پڑھیے


احمد جاوید سے ایک خصوصی مکالمہ

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ نئی بات، فکر انگیز جملہ سننے، پڑھنے کو نہیں ملتا۔ فکری سطح پر ایسا خوفناک قسم کا جمود طاری ہے کہ اب تو اسے توڑنا بھی محال لگنے لگا۔ تازہ ہوا کا جھونکا تک نہیں آتا۔ایسے میں اگر کہیں پر فکرافروز گفتگو پڑھنے کو ملے تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کی خرابیاں بہت سی، مگر اس سے چند ایک ویب سائٹس ایسی پھوٹیں جنہوں نے بہت سے نئے لکھنے والوں کو پلیٹ فارم دیا، ان کی تربیت، تہذیب کی جبکہ کئی پرانے لکھنے والوں
مزید پڑھیے