BN

محمد عامر خاکوانی



طالبان کہاں کھڑے ہیں؟


افغانستان کامنظرنامہ تبدیل ہونے جا رہا ہے، پچھلے سترہ برس میں رونما ہونے والی پہلی جوہری تبدیلی۔ امریکی افواج کے انخلا میں ابھی کچھ وقت لگے گا، کم سے کم چند ماہ، اس کے بعد دیکھنا ہوگا کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ جو کچھ اب سامنے آیا اور آنے جارہا ہے ، اس کا تجزیہ البتہ ہوسکتا ہے۔ چند بکھرے بکھرے نکات ہیں، جن پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، یکسوئی اگر ملے تو ان شااللہ افغانستان پر مکمل سیریز لکھی جائے، سردست اتنے پر اکتفا کیجئے۔ طالبان امریکہ مذاکرات کے حوالے سے مختلف حلقے
اتوار 03 فروری 2019ء

افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟

جمعه 01 فروری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے سترہ اٹھارہ برسوں میں پہلی بار افغانستان میں ایک اہم ترین تبدیلی رونما ہو رہی ہے ، جسے نہ صرف غور سے دیکھنا اور سمجھناچاہیے بلکہ حسب توفیق کچھ نہ کچھ سبق بھی اخذ کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے تو ان لوگوں سے معذرت جنہیںافغان طالبان سخت ناپسند ہیں، جنہوں نے ہمیشہ یہی پروپیگنڈہ کیا اور لکھا، طالبان افغانستان میں شکست کھا چکے ہیں، اگر پاکستان مداخلت نہ کرے تو افغانستان میں مکمل امن وامان قائم ہوجائے گا اور امریکہ فتح یاب ہوگا۔‘‘ ان احباب کے دلی جذبات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ امریکیوں نے افغانستان چھوڑنے کا اعلان
مزید پڑھیے


’’آخری چٹان‘‘ سے’’ ارطغرل ‘‘تک

منگل 29 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
میرے بچپن کی جن چیزوں نے شخصیت پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ، یا یوں کہہ لیں کہ اس زمانے کا تصور کرتے ہوئے وہ فوری ذہن میں آتی ہیں، ان میں سے ایک نسیم حجازی کے تاریخی ناول اور دوسرا پی ٹی وی کے سدا بہار قسم کے شاہکار ڈرامے۔ ان ڈراموں نے میری نسل اور ہم سے پانچ سات سال بعد کی نسل کے لوگوں کی زندگیوں میں بے شمار خوشی کے لمحات شامل کئے۔ پاکستانی ٹیلی ویژن کے ان فن کاروں، پروڈیوسرحضرات اور دیگر تکنیکی شعبوں میں کام کرنے والوں کا میں ممنون ہوں کہ
مزید پڑھیے


درداں دی ماری دلڑی

اتوار 27 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سرائیکی کی ایک طلسماتی اثر رکھنے والی کافی کا مصرع دکھ، غم اورالم کی دلگداز داستان سناتا ہے۔ درداں دی ماری دلڑی علیل اے ۔بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان مکمل کیا تو اختتام اسی مصرع پر کیا۔ بھٹو نے یقینا یہ کافی سن رکھی ہوگی، اپنی داستان الم سنانے کے لئے اسے اس لئے بھی موزوں سمجھا ہوگاکہ اس کے اگلے مصرع میں دکھ درد کی تفصیل ہمدردانہ انداز میں نہ سننے والے کا شکوہ کیا گیا ہے۔ سوہنٹرا نہ سنڑدا ڈکھاں دی اپیل اے (وہ سوہنا میرے دکھوں پر مبنی درخواست بھی
مزید پڑھیے


سانحہ ساہیوال ،نئے ڈرامائی انکشافات کاجائزہ

جمعه 25 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سانحہ ساہیوال کے ذمہ دار ملزموں پر دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا ہے، سی ٹی ڈی کے پوری ٹاپ مینجمنٹ اور بعض دیگر اہم پولیس افسر بطور سزا معطل یا تبدیل ہوئے ہیں۔یہ بات تو خوش آئند ہے کہ جن لوگوں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوں فائر کھول کر بے گناہوں کو ہلاک کیا، ان کے خلاف مقدمہ چلے گا۔تحریک انصاف کی حکومت ہلکی سی تھپکی کی مستحق ہوگئی ہے۔(اس مرحلے پر مکمل اطمینان کا اظہار کرنا ضرورت سے زیادہ خوش گمانی ہوگی، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ملزموں
مزید پڑھیے




فیصلہ اب ریاست کو کرنا ہے

منگل 22 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سانحہ ساہیوال کرسٹل کلیئر یعنی شیشے کی طرح شفاف ہے ۔ ظلم ہوا، انتہائی درجے کا ظلم ۔قوم پر یہ بات آشکار ہوچکی۔ کسی جے آئی ٹی رپورٹ کا انتظار نہیں۔ چینلز پرخبروں کی پٹی چلتی ہے کہ جے آئی ٹی میں دو ارکان کا اضافہ ہوگیا، فلاں اس کو لیڈکرے گا، وغیرہ وغیرہ،اس پر حیرت ہوتی ہے کہ ارباب اقتدار عوامی جذبات اور احساسات سے اس قدر لاعلم ہیں۔حکمرانوں کو کیوں خبر نہیں کہ عوام کو اس جے ٹی آئی کی ذرا برابر پروا نہیں۔جے آئی ٹی کیا معلوم کرے گی اور اس کی رپورٹ میں کون سے
مزید پڑھیے


تصویر کے مختلف ٹکڑے

اتوار 20 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
تجزیہ کرنے کا بنیادی اصول ہے کہ زیرنظر معاملے کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیا جائے اور پھر ایک مکمل تصویرپڑھنے، دیکھنے والوں کے سامنے پیش کی جائے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ تصویر کے مختلف ٹکڑے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک ٹکڑا مسنگ ہو تو تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ ادھورا، نامکمل اور کنفیوژ کر دینے والا تاثر سامنے آئے گا۔یہی حالت سیاسی تجزیوں کی ہے۔ اگر رائے دیتے وقت جان بوجھ کر یا پھر نادانستگی میں تمام فیکٹرز کا جائزہ نہیں لیا جا سکا تو تجزیے کاحق ادا نہیں ہوگا۔ اب تحریک انصاف کی حالیہ حکومت ہی کو
مزید پڑھیے


گزارا کرنا سیکھ لیں

جمعه 18 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
افواہوں،غلط بیانیوں،گھٹیا سازشی نظریات اورپلانٹیڈ خبروں کا ایک ریلا ہے جو حقائق اور سچ کی فصیلوں سے سر پٹخ پٹخ کر اندر گھسنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد تجزیوں اور طعنے، کوسنے دینے سے کبھی سچ مغلوب ہوا؟ وقتی طور پرچند آنکھیں ضرورچندھیائی جا سکتی ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ زیادہ دیر تک ہر ایک کو بے وقوف بنایا جائے۔ بلبلہ خواہ کسی قدر بڑا ہو، اسے چند لمحوں بعد پھٹنا ہی ہے،سورج نکلنے،دھوپ پڑنے سے گھاس پر گری نمی رخصت ہوجاتی ہے۔یہ قوانین قدرت ہیں۔ کسی کی خواہش یا چاہنے سے تبدیل نہیں
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی کیوں ناکام ہو رہی ہے؟

منگل 15 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جماعت اسلامی کے حوالے سے پچھلے تین چار دنوں میں بہت سے لوگوں سے بات ہوتی رہی۔ سوشل میڈیا کے آنے سے جہاں سماج کے دیگر شعبوں میں تبدیلی آئی، جماعت اسلامی جیسی سخت ڈسپلن والی جماعت پر بھی اس کے اثرات پڑے۔ اب جماعت اسلامی کے اراکین اور ہمدرد حضرات بلا ججھک اپنی رائے سوشل میڈیا پر دے دیتے ہیں، اندرونی حلقے میں تو خیر تنقید چلتی رہتی ہے، مگر اب اس کی لہریں باہر بھی چھلک آتی ہیں۔کراچی، پشاور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مقیم بعض جماعتی احباب سے بھی ڈسکشن چلتی رہی۔ ایک بات میں
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی کی واپسی

جمعه 11 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جماعت اسلامی کی جانب سے غیر رسمی انداز میں بتا دیا گیا کہ وہ ایم ایم اے سے الگ ہی کام کرے گی، یہ صرف انتخابی اتحاد تھا اور اس پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی تو اس کے ڈسپلن کے پابند رہیں گے، مگر مجموعی طور پر جماعت اسلامی اپنے فیصلے خود کرے گی اور اپنے انداز میں سیاسی جدوجہد کی جائے گی۔ اسے یو ٹرن کہا جائے یا جماعت اسلامی کی درست ٹریک پر واپسی ، … اپنی فہم کے مطابق آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ میرے نزدیک جماعت اسلامی کا ایم ایم اے میں
مزید پڑھیے