BN

محمد عامر خاکوانی


عمر سعید شیخ: ڈینیل پرل مرڈر کیس


عمر سعید شیخ کو پچھلے اٹھارہ برس ڈینیل پرل مرڈر کیس میں قید بھگتنا پڑی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی انہیں الزام سے مکمل بری نہیں کیا بلکہ یہ کہا گیا کہ ان پر اس جرم کی معاونت کا الزام بنتا ہے ، جس کی سزاسات سال قید ہے، مگر چونکہ وہ اٹھارہ سال قید پہلے ہی بھگت چکے ہیں، اس لئے انہیں رہا کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے سندھ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ، اگرچہ اس پر نظرثانی زیرسماعت ہے۔ سوال یہ ہے ڈینیل پرل مرڈر کیس ہے کیا اور اس میں عمر سعید شیخ کیوں
منگل 09 فروری 2021ء

عمر سعید شیخ : تہاڑ جیل سے قندھار تک

اتوار 07 فروری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
بیس اکتوبر، : 1994دہلی کے ایک ڈھابہ میں کھانا کھانے والے امریکی سیاح بیلا نوس یا ناس (Nuss)کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ بیس اکیس سالہ نوجوان روہت شرما جو اس کے ساتھ بیٹھا خوش دلی سے گپیں ہانک رہا ہے ، وہ برطانیہ پلٹ بھارتی شہری نہیں بلکہ جہادی تنظیم سے تعلق رکھتا اور اسے اغوا کرنے کے چکر میں ہے۔ کیلی فورنیا کے سکول ٹیچر کو کیا خبر تھی کہ چند ماہ قبل سری نگر میں دو ایسے لوگ پولیس نے گرفتار کئے ہیں، جو جہادی تنظیموں کے لئے بہت اہم ہیں۔ بیلانوس نے گپ
مزید پڑھیے


عمر سعید شیخ۔ لندن سے تہاڑ جیل تک

جمعه 05 فروری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
سب سے پہلے تو یہ وضاحت کہ اپنے ان کالموں کے ذریعے کسی کو ہیرو یا اینٹی ہیرو بنانا یا ثابت کرنا مقصود نہیں۔ عمر سعید شیخ ممکن ہے جہادی حلقوں کے لئے آج بھی پرکشش شخصیت ہو، ایک صحافی کے طور پر میرے لئے وہ محض ایک کردار ہے۔ عسکریت پسندی کے ایک طالب علم کے طور پر مختلف گوریلا تنظیموں، ان کے کمانڈروں اور حکمت عملی پر لکھتا رہا ہوں۔ ایک زمانے میں ، گارگل جنگ کے دوران،مشہور کشمیری گوریلا کمانڈر الیاس کشمیری کا انٹرویو کرنے کا موقعہ ملا۔ ان دنوں اردو ڈائجسٹ کے لئے کام کرر ہا
مزید پڑھیے


عمر سعید شیخ ۔ پراسرار کردار کی ڈرامائی کہانی

جمعرات 04 فروری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے چند دنوں سے اعلیٰ عدالتوں کے ایک فیصلے نے پاکستان اور امریکہ کے مابین عجیب طرح کی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔اٹھارہ سال پہلے کراچی میں قتل ہونے والے امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی رہائی کے عدالتی فیصلے سے یہ مسئلہ پیدا کیا۔احمد عمر سعید شیخ جو عمر شیخ کے نام سے مشہور ہے، اسے ڈینئل پرل قتل کیس میں بارہ فروری 2002کو گرفتار کیا گیا۔تب سے وہ جیل میں اسیر ہے۔ ماتحت عدالتوں سے اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اسے
مزید پڑھیے


سیاستدانوں پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟

منگل 02 فروری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے پچھلے کالم میں اس پر تفصیل سے بات کی تھی کہ سیاستدانوں کی کرپشن پر بات کرنا غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ افزائی نہیں۔ اسے جمہوریت دشمنی نہیں کہنا چاہیے۔ بات بڑی واضح ہے، سیاستدانوں کا یہ کام ہے کہ وہ الیکشن لڑیں، عوام سے ووٹ لیں اوراکثریت حاصل ہونے پر اقتدارمیں آئیں۔یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام نہیں۔دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک خاص کردار ہے، ہمارے ہاں بھی وہی ہونا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ نیشنل سکیورٹی ایشوز پر اپنی اِن پٹ دیتی اورپالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے ۔پیچھے رہ کر یہ سول حکومت کی معاونت اور مدد کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے



سیاسی تنقید جمہوریت دشمنی نہیں

اتوار 31 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
سب سے پہلے یہ وضاحت کہ میں ذاتی طور پر یکسو ہوں کہ انسانی سماج کو دستیاب نظام میں سے جمہوریت اپنے اندر موجود کچھ خامیوں کے باوجود دوسروں سے بہتر ہے۔پرامن انتقال اقتدار کا اس سے بہتر اور طریقہ موجود نہیں۔ انسانی شعور نے اسے قبول کر لیا ہے اور ایک طرح سے اس پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ ہمارے ہاں قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنائے جانے کے بعد جمہوریت کا مقدمہ مزید مضبوط ہوگیا ہے ۔ آئینی طو رپر ہمارے ملک میں اسلامی شریعت ہی سپریم ہے اور شریعت سے متصادم کوئی قانون منظور نہیں ہوسکتا۔
مزید پڑھیے


صرف ایک گھنٹہ

جمعه 29 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
مرزا صاحب کئی برسوں سے میرے فیس بک فرینڈ ہیں۔ مرزا صاحب نے اگلے روز ایک تحریر میرے ساتھ شیئر کی۔ ان کے بقول یہ ایک قریبی دوست کی سچی روداد ہے، جسے اس نے ایک ناقابل فراموش تجربے سے گزرنے کے بعد رقم کی۔ تحریرزیادہ طویل نہیں تھی۔ اپنی زندگی کی کہانی لکھنے والے صاحب کا فرضی نام شاہد تصور کر لیں ۔اس تحریر کا خلاصہ یا تلخیص پیش کرنے لگا ہوں۔ شاہد صاحب لکھتے ہیں ،’’ میں کراچی کا رہنے والا ہوں، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ۔لوئر مڈل کلا س خاندان سے تعلق ہے، والد اوسط درجے کی
مزید پڑھیے


مایوسی در مایوسی

منگل 26 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل عجیب سی صورتحال بنی ہے۔ سیاست اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے باقاعدہ چڑ ہونے لگی ہے۔ نیوز چینلز لگائیں تو ہر طرف وہی گھسے پٹے سیاسی بیانیہ پر گفتگو ملے گی۔ آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ٹاک شوز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے کیوں بلائے جاتے ہیں؟ لوگ کسی رکن اسمبلی سے اس کی پارٹی کی پریس ریلیز کیوں سنیں؟ وہی دہرائی ہوئی پامال گفتگو۔ ایک دوسرے پر الزامات،اونچا بول کر اپنے آپ کو پارٹی کا زیادہ بڑا وفادار ثابت کرنا۔ ابکائی آنے لگتی ہے۔ نیوز چینلز سے ہٹ کر انٹرٹینمنٹ چینل لگائیں تو ایک
مزید پڑھیے


پانچواں چولہا

منگل 19 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے گزشتہ کالم میں مینجمنٹ اور ورک ، لائف بیلنس کے حوالے سے مشہور فور برنرز تھیوری پر بات کی تھی۔ اس تھیوری کے مطابق آپ کی زندگی سے چار چولہے یا برنر منسلک ہیں، انہیں آپ کے وجود ہی سے انرجی یا گیس ملتی ہے۔پہلا چولہافیملی(اہل خانہ)، دوسرا کیرئر، تیسرا صحت اور چوتھا دوست احباب۔ انسان کی زندگی کے یہ چار اہم ترین گوشے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ ان سب کو کس طرح بیلنس رکھنا ہے تاکہ کوئی اہم شعبہ نظرانداز نہ ہو۔ فور برنر تھیوری کے مطابق ہر کامیاب آدمی کو کم از کم ایک چولہے
مزید پڑھیے


زندگی کے چار چولہے

اتوار 17 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
ہفتہ کی صبح فیس بک پر سکرولنگ کرتے ایک دلچسپ تصویر دیکھی۔ ایک گیس کا سیلنڈر ہے اور اس کے پائپ کے ساتھ چار چولہے(Burners) جل رہے ہیں۔ پہلے پر فیملی لکھا ہے، دوسرے پر کام ، تیسرا دوست اور چوتھا صحت ہے۔یہ ممتاز ٹرینر، ماہر نفسیات، مصنف عارف انیس ملک کی پوسٹ تھی۔ عارف انیس(Arif Anis) کو دیو ہزار دست ہی کہنا چاہیے۔ ماشااللہ قدرت نے انہیں اتنی انرجی اور فوکس عطا کیا ہے یا یوں کہہ لیں قدرت کی مہربانی سے انہوں نے اپنے اندر یہ صلاحیتیں پیدا کر لی ہیں کہ بیک وقت کئی بڑے
مزید پڑھیے