BN

محمد عامر خاکوانی



بدترین فیصلہ


دو دن پہلے دوستوں کی ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی، ہم اس پر کڑھ رہے تھے کہ نجانے بطور قوم ہم اس قدر غیر ذمے دار اور لاابالی کیوں بن چکے ہیں کہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں، اسے بے ڈھنگے پن سے بگاڑ دیتے ہیں۔ فائدہ پہنچنے کا امکان ہو تب بھی ہمارے حصے میں نقصان ہی آتا ہے۔مثالیں تو بے شمار دی جاسکتی ہیں، مگر ہماری بحث حالیہ کوالامپور کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کی عدم شمولیت کے حوالے سے تھی۔ یہ پورا معاملہ بدترین مس ہینڈلنگ کا شاخسانہ ہے۔ ذاتی طور پر میں اس کے
جمعه 20 دسمبر 2019ء

انصاف سے کام لینا ہوگا

بدھ 18 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
وکلا کے پی آئی سی پر حملے کے حوالے سے شدید مذمت ہوچکی ، یہ سلسلہ جاری ہے۔ وکلا کو ملک کے کسی بھی طبقہ سے حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ یہ بات وکلا رہنمائوں کو ہضم نہیں ہو رہی ۔ انہیں شائد یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں۔ جہاں انہوں نے قدم جما رکھے ہیں، وہ زمین دلدلی ہے۔ جتنا زور لگائیں گے اتنا وہ اس میں مزید دھنسیں گے۔بہترین طریقہ یہی تھا کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے اورگناہ کی دلدلی زمین سے ہٹ کر اصلاح کی پکی شاہراہ پر
مزید پڑھیے


اس بار تو انصاف ملنا چاہیے

جمعه 13 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
چند ماہ پہلے والدہ محترمہ شدید علیل ہوئیں اور ایک ہفتے تک ایک نجی ہسپتال کے آئی سی یو میں رہیں۔ وہ اپنے ہوش میں نہیں تھیں اور مسلسل آکسیجن لگی رہی۔ یہ سات روز ہم دونوں بھائیوں کے لئے زندگی کے شائد سب سے کٹھن دن تھے۔ آئی سی یو(انتہائی نگہداشت وارڈ)کا اپنا ایک میڈیکل پروٹوکول ہوتا ہے، وہاں مریض کے اٹینڈنٹ کو بھی ٹھیرنے کی اجازت نہیں۔ بار بار ہم بھائی جاتے اور غشی کی حالت میں سوئی والدہ کو پرامید نظروں سے تکتے رہتے۔ اس امید پر کہ شائد ابھی کوئی معجزہ ہوجائے اور وہ آنکھیں کھول
مزید پڑھیے


اختتام

منگل 10 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
بعض منظر چاہے آپ نے دیکھے ہوں یا محض تخئیل کی پیداوار ہوں، وہ ذہن میں نقش رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ محو نہیں ہوتے۔ چند سال پہلے مغلپورہ کی شالیمار لنک روڈ پر ایک قتل کے بعد کا منظر کبھی نہیں بھلا سکتا۔کسی کام سے جارہا تھا، اچانک دو تین فائر ہوئے، آواز سن کر رک گیا۔اتنے میں ایک سفید کار نہایت تیز رفتاری سے قریب سے گزر گئی۔ کسی راہ گیر نے اشارہ کر کے بتایا کہ اس گاڑی والوں نے پیچھے کسی کو گولی ماری ہے۔ تجسس کے پیش نظر میں بھی دیکھنے چلا گیا۔ وہاں
مزید پڑھیے


خدا کی بنائی دنیا

اتوار 08 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سوشل میڈیا کی دو اہم ویب سائٹس میں فیس بک اور ٹوئٹر شامل ہیں۔ فیس بک استعمال کرتے مجھے دس سال گزر گئے، چند دن پہلے فیس بک نے اپنے ایک فیچر کے تحت پرانی پوسٹوں کی یاد دلائی تو پتہ چلا کہ نومبر 2009ء میں فیس بک جوائن کی تھی۔ اپنے دس سالہ سفر پر کبھی الگ سے کچھ لکھوں گا۔ ٹوئٹر میں استعمال کرتا ہوں، اگرچہ ہر کچھ عرصے کے بعد اس سے اکتا کر بریک لینا پڑتی ہے۔ فیس بک استعمال کرنے والوں کو شائد ٹوئٹر زیادہ پرکشش نہیں لگتا۔ٹوئٹر ویسے ون لائنر لکھنے والوں کا
مزید پڑھیے




طلبہ یونین کی بحث، چند وضاحتیں

جمعه 06 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے کالموں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ اخبارات میں بحث کو طول دینا ذاتی طور پر پسند نہیں۔ہر جگہ مناظرہ سجانے کا موقعہ نہیں ہوتا، بہتر طریقہ یہی ہے کہ اپنا نقطہ نظر بیان کر کے آگے بڑھ جائیں۔جوابی طور پر کچھ سامنے آئے، تب ایک آدھ اور تحریر لکھ دی جائے۔ پچھلے کالم میں طلبہ تنظیموں کے حوالے سے چند ناخوشگوار مشاہدات لکھے تھے۔ اس پر آنے والا ردعمل خاصا وسیع اور توقعات سے زیادہ رہا۔ بہت سے لوگوں نے میرے فیس بک پیج پر اپنے مشاہدات اور تاثرات لکھے۔
مزید پڑھیے


طلبہ سیاست، چند ناخوشگوار مشاہدات

بدھ 04 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یہ نومبر1995ء کا واقعہ ہے۔ لاہور پہلی بار آنا ہوا تھا۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج اپنے ایک دوست سے ملنے گیا۔ڈاکٹرہاسٹل کے فرسٹ فلورپر جانا تھا۔ ابھی کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ نیچے سے فائرنگ کی آواز آئی۔ سب لڑکے نیچے بھاگے ،دیکھا کہ سیڑھیوں کے نیچے جہاں موٹر سائیکل ٹھیرانے کی جگہ تھی، وہاں ایک بائیک پر نوجوان اوندھے منہ گرا پڑا ہے، سر کی پچھلی طرف سے خون بہہ رہا تھا۔پتہ چلا کہ دو نوجوان اسے گولیاں مار کر موٹرسائیکل بھگاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کوئی سٹوڈنٹ لیڈر ہے، شائد کسی دوست
مزید پڑھیے


کیا طلبہ یونین بحال ہونی چاہئیں؟

منگل 03 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
دو تین دن پہلے ایک ویب چینل کے لئے انٹرویومیں یہی سوال پوچھا گیا کہ کیا تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین بحال ہونی چاہئیں؟ انٹرویوز میں چند سکینڈز کے اندر جواب دینا پڑتا ہے اور زیادہ تفصیلی بات کرنے کا موقعہ بھی نہیں مل پاتا، اس لئے بات کی ،مگر کچھ تشنہ رہ گئی۔ طلبہ یونین کی بحالی کا مقدمہ ہمارے ہاںخاصے لوگ لڑتے ہیں اور ان کا موقف بے وزن یا کمزور نہیں۔دوسری جانب طلبہ یونین پر پابندی لگانے والے بھی ایک باقاعدہ بیانیہ رکھتے ہیں، اتنی آسانی سے اسے بھی اٹھا کر پھینکا نہیں جا سکتا۔ اب تو
مزید پڑھیے


سرخ سویرے کاخواب

اتوار 01 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جب لال لال لہرائے گا،تب ہوش ٹھکانے آجائے گا، سرخ ہوگا سرخ ہوگا ایشیا سرخ ہوگا… یہ اور اس طرح کے نعرے ہم نے چند دن پہلے لاہور کے فیض امن میلے میں سنے۔انداز دلچسپ تھا، نوجوانوں کا ایک گروہ ایک نیم دائرہ سا بنا کر کھڑا ہوجاتا ، ایک لڑکا گول سے ساز (طبوقہ)پر طبلہ کے انداز میں سنگت دینے لگتا جبکہ باری باری مختلف لڑکے لڑکیاں تالیوں کی تال پر بلند آواز میں نعرے لگاتے۔فطری طور پر لوگ متوجہ ہوئے، نوجوانوں کا جوش وخروش دیدنی تھا، ان کی باہمی کیمسٹری بھی خوب تھی اور ہم آہنگی کے ساتھ
مزید پڑھیے


The Comedy of Errors

جمعه 29 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کامیڈی آف (آو)ایریرز شہرہ آفاق برطانوی ڈرامہ نگار، شاعر شیکسپئر کا ایک مشہور کامیڈی ڈرامہ ہے۔ شیکسپئیر کے یہ اولین دور کا ڈرامہ ہے، سادہ سی کہانی اور سیچویشنل کامیڈی پر سارا انحصار ہے۔ دو ہم شکل جڑواں بھائی جو ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ، انہیں پیش آنے والے دلچسپ واقعات، ایک کی جگہ دوسرے کو سمجھا گیا اور پے در پے ایسی غلطیاں ہوتی گئیں، مزاح بھی ایسی غلطیوں سے ہی پیدا ہوا۔ کامیڈی آف ایررز مگر صرف شیکسپئیر کاایک ڈرامہ نہیں رہا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک مکمل اصطلاح بن گئی ہے۔ آج اس حوالے
مزید پڑھیے