BN

محمد عامر خاکوانی


خواب سے تعبیر کا سفر


کالم کے ساتھ رشتہ کب اور کیسے جڑا؟اب مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھتا ہوں تو دھندلے سے نقوش نظر آتے ہیں۔ یاد نہیں کہ چھٹی ساتویں یا پھرآٹھویں کلاس کے زمانے سے کالم پڑھنے کی چاٹ لگی۔عمرگیارہ بارہ سال ہی ہوگی کہ میں نے پورے چودہ سال کی عمر میں میٹرک کر لیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ستائیس جون کو میٹرک کا نتیجہ آیا اور تین دن بعد یکم جولائی کو میری چودھویں سالگرہ تھی۔میٹرک کے بعد اخباری کالموں میں دلچسپی بڑھ گئی ۔ ایک اخبار گھر میں آتا تھا،دو تین کالج لائبریری میں پڑھ لیتا۔ ارشاد احمد حقانی
جمعه 18 دسمبر 2020ء

اپوزیشن نے لاہور جلسہ سے کیا حاصل کیا؟

منگل 15 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پی ڈی ایم کے مینار پاکستان، لاہور پر جلسے کو مکمل طو رپر ناکام یا مایوس کن کہنا درست نہیں ہوگا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پولیس، سپیشل برانچ اور آئی بی نے چار پانچ ہزار افراد کی شرکت کی رپورٹ کی ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر ان تینوں سویلین اداروں کو اپنا مانیٹرنگ سسٹم بہتر بنانے کی شدید ضرورت ہے، کم از کم اپنے مخبروں کی عینک کا نمبر ہی بدلوا دیں۔ جلسے کی حاضری ان رپورٹوں سے کہیں زیادہ تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق بیس پچیس ہزار کے لگ بھگ لوگ ہوں گے۔لاہورمیں اتوار کے دن
مزید پڑھیے


چین بمقابلہ آسٹریلیا

منگل 08 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اگلے روز ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ بڑی سادگی اور معصومیت سے انہوں نے سوال کیا ،’’ آخر پاکستان بھارت کے ساتھ کیوں بنا کر نہیں رکھتا؟ بھارت کے ساتھ ہم دوستی کر لیں تو ہمارے کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ ‘‘ یہ ایسا سوال تھاجس کے جواب میں ایک پورا لیکچر دینے کی ضرورت ہے، لمبی چوڑی تفصیل کے بغیر یہ نکتہ سمجھنا آسان نہیں۔ میں نے بات کو آسان رکھنے کی خاطر مختصراً کہا کہ کوئی بھی کام یک طرفہ نہیں ہوسکتا۔ ذاتی زندگی میں آپ کبھی ایسے شخص کے ساتھ دوستی نہیں رکھ سکتے جس کا
مزید پڑھیے


سیاسی اجتماعات کا اب کوئی جواز نہیں

منگل 01 دسمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ملک میں کورونا کی صورتحال جس قدر بگڑ گئی ہے، جس تیزی سے روزانہ ہزاروں لوگ شکار ہو رہے ہیں، اموات کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اس کے بعد ملک میںسیاسی اجتماعات کا کوئی جواز نہیں۔کوروناکا ہمارے ہاں بہت لوگ مذاق بھی اڑاتے رہے ہیں، ایسی کئی مثالیں دیکھیں کہ جو ایسا کرتے تھے، وہی بعد میں نشانہ بنے۔غیر سنجیدہ رویہ رکھنے والے بعض لوگ دنیا سے رخصت بھی ہوگئے۔ اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے، مگراتنے خطرناک حالات میں آخر ہماری سیاست قیادت کیوں اتنا غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہے؟ صرف پی ڈی ایم
مزید پڑھیے


نجکاری پر اعتراض کیوں؟

اتوار 29 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
بعض اوقات کسی خاص موضوع پر کالم لکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں ،اتنے میں ایسی مختلف خبریں سامنے آتی ہیں جن پر کچھ لکھنا یا کہنا ضروری لگتا ہے۔ آج کا یہ کالم ایسی پہ ایک خبر اور اس پر تبصرے کے حوالے سے ہے۔ خبر سٹیل ملز سے ساڑھے چار ہزار سے زائد ملازمین نکالنے کے حوالے سے ہے۔تفصیل کے مطابق پاکستان سٹیل ملز انتظامیہ نے 4544 ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے، تاہم سٹیل ملز کے سکول اور کالج کے سٹاف کو نہیں نکالا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جون میں وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ
مزید پڑھیے



ہم کورونا سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

جمعه 27 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
میں دو ماہ پہلے کورونا کے مرض کا شکار ہوا تھا۔ تیئس ستمبر کو ایک کھانے میں شرکت سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ۔ اگلے تین ہفتے اس مسئلے کا شکار رہا، ٹیسٹ نیگیٹو آنے پر جان چھوٹی ۔ مجھے نسبتاً ہلکا(MILD)اٹیک ہوا تھا، ا س لئے الحمدللہ تکلیف زیادہ نہیں ہوئی۔ سانس کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوا۔کورونا مگر ہلکا ہو تب بھی اعصاب توڑ دیتا ہے۔ خاصی کمزوری ہوجاتی ہے بلکہ ٹیسٹ نیگیٹو ہوجانے کے کئی ہفتوں بعد تک جسم پر اس کے اثرات رہتے ہیں۔کورونا سے متاثر ہونے والے بعض دوستوں نے بتایا کہ جسم کے دیگر
مزید پڑھیے


تاریخ انسانی کا عظیم ترین ناول

منگل 24 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
’’ول ڈیوراں (Will Durant) نامور لکھاری اور فلسفی گزرے ہیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ لکھا :’’ ایک بار مجھے کچھ لیکچرز دینے کے سلسلے میں دوسرے ملک جانا پڑا۔ میں مہینے بعد گھر واپس لوٹا۔ شام کو بیوی کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے میں نے پوچھا کہ تم آج کل میری لائبریری سے کیا پڑھ رہی ہو۔ اس نے جواب دیا دنیا کا بہترین ناول۔ میں نے جواباً کہا کہ تم غلط کہہ رہی ہو کیونکہ دنیا کے بہترین ناول فیودور دستوئیفسکی(دوستو فسکی) کے لکھے ’’برادرز کراما زوف ‘‘کو تو میں خود پڑھ رہا ہوں اور اسے
مزید پڑھیے


جنازوں کا فرق

اتوار 22 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والا علامہ خادم حسین رضوی کا جنازہ افراد کی شرکت کے حوالے سے ایک غیر معمولی ، تاریخ ساز اجتماع تھا۔پاکستان کی تاریخ کے چند یادگار جنازوں میں سے ایک۔لاہور کی تاریخ میںجنازے کے دو چار بہت بڑے اجتماع ہوئے ہیں، علامہ خادم رضوی کا جنازہ ان سے زیادہ نہیںتو، ان میں سے ایک ضرور ہے۔ تقسیم سے پہلے غازی علم الد ین شہید کا جنازہ تاریخ ساز تھا، ویسے اجتماع کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی ۔ عاشق رسول ﷺ کے آخری سفر کے لئے خلق خدا امڈآئی تھی۔ علامہ اقبال کا جنازہ
مزید پڑھیے


گلگت بلتستان الیکشن: اپوزیشن جماعتیں کیوں ہاریں؟

بدھ 18 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ایک ویب شو کے اینکر نے سوال اٹھایا گیا، گلگت بلتستان (GB)کے انتخابات میں پاکستانی اپوزیشن جماعتوں کو شکست کیوں ہوئی؟ میں نے جوابی سوال کیا، آپ کن اپوزیشن جماعتوں کی بات کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا، وہی اپوزیشن جو سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ ہے۔ اس پر عرض کیا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دانشمندی سے کام نہیں لیا، خودغرضی ان کی سیاسی فراست پر غالب آگئی ، بطور پی ڈی ایم اتحاد نہیں لڑا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سچ پوچھیں تو گلگت بلتستان میں دھاندلی کے گھسے پٹے الزامات لگانے کے بجائے اپوزیشن اپنا
مزید پڑھیے


بیانئے کی غلطی

اتوار 15 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست اور پاکستانی سیاستدانوں پر بات کرنی ہے، مگر پہلے حالیہ امریکی انتخابات میں ہونے والے ایک اہم عنصر پر نظرڈالتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے کالم نگار اور معروف امریکی تجزیہ نگار نکولس کرسٹوف کا امریکی صدارتی الیکشن پر تجزیہ چند دن پہلے پڑھا۔ کرسٹوف اپنی تحقیقی رپورٹس پر دوبارمشہور صحافتی پلٹرز ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔ کرسٹوف نے اپنے کالم میں بڑے تاسف اور ایک طرح کی حیرت کے ساتھ لکھا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ امریکی عوام جو پچھلے چار برس سے صدر ٹرمپ کو دیکھ رہے تھے، کورونا کے حوالے سے
مزید پڑھیے