BN

محمد عامر خاکوانی


صدر ٹرمپ اور عمران خان میں کیا فرق ہے؟


امریکی صدر ٹرمپ الیکشن کیسے ہارے، بائیڈن کیوں جیتے؟ …اس حوالے سے آپ بہت سے ٹی وی ٹاک شوز دیکھ چکے ہوں گے۔ کالم اور تجزیے بھی شائع ہورہے ہیں، بیشتر باتیں کہی جا چکیں، میں آپ کو اس پر بور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایک نکتہ جس پر ہماری اپوزیشن جماعتیں زور دے رہی ہیں، اس پر بات ہوسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی شکست کے بعد پی ڈی ایم کے رہنمائوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ٹرمپ چلا گیا، اب عمران خان کی باری ہے۔ تاثر دینے کی کوشش ہوئی کہ دونوں ایک سے ہیں،
منگل 10 نومبر 2020ء

موروثی سیاست پر اعتراض کیوں؟

اتوار 08 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ چند سال پہلے کی بات ہے ، اخبار کے میگزین کے لئے معروف خاتون سیاستدان بیگم عابدہ حسین کا انٹرویو کرنا تھا۔ ان دنوں وہ سیاست میں خاصی فعال تھیں۔ عابدہ حسین کا انٹرویو کرنے والے جانتے ہیں کہ ان کا ایک خاص دبنگ سا ، کیئر فری سٹائل ہے۔ جو بات وہ کہنا چاہتی ہے، بغیر لگی لپٹی کہہ ڈالتی ہیں۔ ان کی سیاست روایتی انداز کی ہے، عام سیاستدانوں جیسی، مگر شخصیت عام سیاستدانوں والی نہیں۔ موروثی سیاست کے حوالے سے سوال کیا تو بیگم عابدہ حسین نے بھرپور دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا ، اگر
مزید پڑھیے


ڈاکٹراعجاز قریشی بھی چلے گئے

جمعه 06 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب سے پہلی ملاقات پچیس سال پہلے سردیوں کی ایک خنک دوپہر میں ہوئی۔ اردو ڈائجسٹ جوائن کئے مجھے کچھ دن ہوچکے تھے۔ ڈاکٹر اعجازقریشی ان دنوں پاکستان سے باہر کسی کاروباری دورے پر گئے تھے، ان کی جگہ انتظامی معاملات ان کے صاحبزادے طیب اعجاز قریشی کے ہاتھ میں تھے، طیب اعجاز نے الطاف حسن قریشی صاحب سے میرامختصر انٹرویو کرایا اور یوں بطور سب ایڈیٹر صحافتی سفر کا آغاز ہوگیا۔آج کل یہی طیب اعجاز قریشی ہی اردو ڈائجسٹ کے تمام معاملات سنبھالے ہوئے ہیں، ان کی ہمت ہے کہ بزرگوں کی نشانی عمدگی سے
مزید پڑھیے


کیا اچھی بیوی بننا عورت کی توہین ہے؟

بدھ 04 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کسی اور موضوع پر کالم لکھنے کا ارادہ تھا، مگر پھر اپنی عادت کے مطابق مختلف ویب سائٹس وزٹ کرتے ہوئے ایک معروف عالمی خبر رساں ایجنسی کی سائٹ پر سٹوری نے چونکایا۔ سید قاسم علی معروف موٹیویشنل سپیکر، ٹرینر اور مصنف ہیں۔ سائٹ کے فرنٹ پیج پر قاسم علی شاہ کی تصویر کے نیچے دو سطریں لکھی تھیں، ’’کیا عورت کو بس ماں، بیوی ہی بننا ہوتا ہے، ان کی اپنی کوئی زندگی نہیں۔‘‘پہلے تو میں نے سوچا کہ شائداس ویب سائٹ نے قاسم علی شاہ کا کالم شروع کر دیا۔اس پر کچھ حیرت بھی ہوئی کیونکہ جو شخص
مزید پڑھیے


نئے امکانات، نئی امیدیں

اتوار 01 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوشل میڈیا کے منفی پہلو بہت سے ہیں، اتنے کہ خاکسار کئی کالموں کی سیریز لکھ سکتا ہے۔ مثبت پہلو بھی مگر کم نہیں۔ سوشل میڈیا ایک وسیع اصطلاح ہے۔عام طور پر فیس بک اور ٹوئٹرکا ذکر مقصود ہوتا ہے۔ فیس بک کو ایک ایڈوانٹیج ہے کہ واٹس ایپ جیسی بڑی میسجنگ سائٹ کی ملکیت اس کے پاس ہے، انسٹا گرام بھی فیس بک گروپ کا حصہ ہے۔ ٹوئٹر نے تن تنہا اپنی اہمیت اور قوت منوائی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں اہم شخصیات اور سماج کے فعال طبقات ٹوئٹر زیادہ استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں بھی ٹوئٹر
مزید پڑھیے



فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ، پس منظر

بدھ 28 اکتوبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم اس بار عرب دنیا سے ابھری ہے۔یہ پرجوش ردعمل شدید ہے اور ا س نے ایک خاص سطح پر فرانس کی تجارتی دنیا کو متاثر بھی کیا ہے، فرانس کی حکومت اس پر اپنا آفیشل ردعمل دینے پر مجبور ہوئی، ان کی وزارت خارجہ نے مسلم اور عرب دنیا سے اپیل کی ہے کہ بائیکاٹ کی مہم میں شامل نہ ہویا جائے۔ ہمارے ہاں بھی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مباحث میں مختلف سوالات پیدا ہورہے ہیں۔ ان پر بات ہونی چاہیے۔ کوئی بھی مہم
مزید پڑھیے


تیسرا جلسہ۔ کیا نتائج برآمد ہوں گے ؟

منگل 27 اکتوبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں اپنا تیسرا جلسہ کر لیاہے۔ ان کے جلسوں کی ہیٹ ٹرک ہوچکی ہے، اب ان کی سیاسی حکمت عملی اور بیانیہ واضح طور پر سامنے آ چکا ہے، رائے دینا آسان ہوگیا ۔ پہلے دونوں جلسوں کی طرح کوئٹہ کا جلسہ بھی خاصا بڑا اور بھرپور رہا۔ تینوں جلسوں میںلوگ نہ صرف جلسہ گاہ میں جمع ہوئے بلکہ باہر تک موجود تھے۔ مجھے حیرت ہے کہ تحریک انصاف کے وفاقی ، صوبائی وزرا بار بار ان جلسوں کو جلسی کہہ کر مذاق اڑا رہے ہیں، سفید جھوٹ بولے جار
مزید پڑھیے


آگ کون بجھائے گا؟

جمعه 23 اکتوبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوال یہ نہیں کہ کون آگے بڑھے گا، کون پیچھے ہٹے گا؟ سوال یہ ہے کہ کوئی ہے جو اس بڑھتی ہوئی آگ پر پانی ڈالے اور سیاسی کشیدگی میں کمی لے آئے؟بظاہر اس کا جواب نفی میں لگ رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایسے دور میں ہیں جب غیر متنازع ثالث موجود نہیں۔ ایسے بڑے نہیں جن کی بات مانی جا سکے۔ ہمارے ہاں’’ کونسل آف ایلڈرز‘‘ نام کا کوئی غیر رسمی ادارہ بھی نہیں، جو ٹکرائو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بحران میں پریشر والو کا کام دے۔ دو دن پہلے ایک قاری خاتون کا فون
مزید پڑھیے


ٹک ٹاک پر پابندی ، معذرت خواہانہ رویہ کیوں؟

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ٹک ٹاک (TikTok)ایک معروف چینی موبائل ایپ ہے۔اسے ویڈیو شیئرنگ سوشل نیٹ ورک سروس کہہ سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک میں تین سے پندرہ سکینڈز کی شارٹ میوزک، کامیڈی، ڈانس،ٹیلنٹ ویڈیوز بنائی جاسکتی ہیں۔صرف تین سال پہلے یہ ایپ چین سے باہر کے ممالک میں متعارف کرائی گئی اور اپنے مخصوص فارمیٹ کی وجہ سے اسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس ایپ سے دو ارب کے قریب ویڈیوز ڈائون لوڈ ہوچکی ہیں۔ ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنا نا اور اپ لوڈ کرنا بہت آسان ہے، چند سکینڈ ز کے لئے کسی گانے پر پرفارم
مزید پڑھیے


چند مشہور مفروضے جوسائنسی طور پر غلط ہیں

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے پچھلا کالم ٹرو /فالس لکھتے ہوئے ارادہ تھا کہ اسے ہمارے ہاں کے چند معروف سیاسی تصورات پر منطبق کیا جائے۔ بات مگر لمبی ہوگئی اور اس طرف محض اشارہ ہی کیا جا سکا۔ آج کا کالم بھی اس پر نہیں لکھ سکوں گاکہ بعض قارئین نے باقاعدہ ای میلز اور ٹیکسٹ میسجز بھیج کر استفسار کیا ہے کہ ایسے کون سے مشہورِعام مفروضے ہیں جو درحقیقت درست نہیں۔ سچی بات ہے کہ میں ایسی چیزوں کے حوالے سے ماہر نہیں، میری تحقیق بھی انکل گوگل کی محتاج ہے۔نیٹ پر کچھ دیر گزارنے کے بعد ایسے کئی مفید آرٹیکلز
مزید پڑھیے