BN

محمد عامر خاکوانی



اپوزیشن کہاں کھڑی ہے؟


اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ پر جائزے، تبصرے چل رہے ہیں۔ اعلامیہ کے لفظ لفظ پر بحث ہورہی ہے۔ تجزیہ کار اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے منصوبوں کا اندازہ لگانا چاہ رہے ہیں۔ اپوزیشن اس اے پی سی کو شاندار کامیابی قرار دے رہی ہے توحکمران جماعت کے ترجمان اس میں نقص نکالتے ہوئے اسے بے فائدہ، بے مقصد قرار دے رہے ہیں۔اپوزیشن کے حامی حلقے اسے تاریخی اعلامیہ قرار دے رہے ہیں توبعض حلقے اسے نشستند، گفتند،خوردند، برخاستند(نشست ہوئی، گپ شپ لگی، کھایا پیا گیا اور پھر نشست برخاست ہوگئی یعنی سب کچھ بلامقصد ہوا)کہہ
جمعه 28 جون 2019ء

نئے حکومتی ماڈل کو سمجھیں

بدھ 26 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سیاسی محفلوں، ڈرائنگ روم گپ شپ ہو یا تھڑوں پر ہونے والی بحثیں… ان سب میں دو تین سوال بار بار زیربحث آ جاتے ہیں۔ عمران خان کیا کر رہا ہے؟حکومت کب تک رہے گی اور کیا اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہوجائے گی؟ تیسرا سوال بھی ان سے منسلک ہی ہے کہ کیا ڈیل ہونے والی ہے؟ ان سوالوں پر ہر ایک کے جوابات مختلف اور اپنی اپنی پسند کے مطابق ہی ہیں۔ مسلم لیگ ن والوں کا اپنا بیانیہ ہے، پیپلزپارٹی والے ان سوالات کو اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں، تحریک انصاف کے پاس اپنے جواز، دلائل ہیں جبکہ
مزید پڑھیے


اخوان المسلمین کی خطا کیا تھی؟

اتوار 23 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سابق مصری صدر ڈاکٹر مرسی کی المناک موت کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اخوان المسلمین ایک بار پھر سے زیربحث آ رہی ہے۔ اخوان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ غیروں نے تو ظلم کرنا ہی تھا، اپنوں نے بھی قیامت ڈھائی ۔ مغربی میڈیا میں اخوان المسلمین کے موقف کو کبھی درست انداز سے سمجھا یا پیش ہی نہیں کیا گیا۔’’ پولیٹیکل اسلام‘‘ کی اصطلاح تخلیق کر کے اخوان کو مغربی تہذیب کے لئے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔عرب میڈیا(انگریزی، عربی دونوں طرح کے اخبارات، چینلز) نے مغربی میڈیا
مزید پڑھیے


اخوان المسلمون کو جانے بغیر رائے نہ دیں

جمعه 21 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
لکھنے والے بسا اوقات کئی باتیں ایک خاص انڈسٹینڈنگ کے تحت لکھتے ہیں ، اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین اس ایشو کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہوں گے اور کچھ لوگوں کا اس حوالے سے سے مطالعہ زیادہ تفصیلی ہوگا۔بہت سی باتیں انڈرسٹڈ سمجھی جاتی ہیں کہ پڑھنے والے اس بارے میں جانتے ہی ہوں گے۔جیسے آج کل اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح بہت زیادہ سننے، بولنے میں آ رہی ہے۔ کالم نگار اسٹیبلشمنٹ کے کردار ، اس کی سوچ ، غلطیوں وغیرہ کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی لکھنے والا ہر بار پہلے ایک کالم
مزید پڑھیے


جوہر امتحان میں سرخرو ہوا

بدھ 19 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یہ دس سال پہلے ،دسمبرکی ایک سہہ پہر تھی جب مجھے قاہرہ میں اخوان المسلمین (Muslim Brotherhood)کے دفتر وزٹ کرنے کا موقع ملا۔مصرپر ان دنوں بدترین مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت تھی، ٹھیک سوا سال بعد قاہرہ کی سڑکیں ’’ارحل یا مبارک (مبارک چلے جائو)‘‘کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی تھیں۔ یہ عرب سپرنگ کا آغاز تھا، جس نے مڈل ایسٹ کو ہلا کر رکھ دیا، تیونس ، مصر، لبیا، یمن کی حکومت الٹ گئیں، شام میں خوفناک خانہ جنگی شروع ہوئی جس نے یہ حسین ملک لاشوں کا ڈھیر اور کھنڈر بنا دیا۔خیروہ لمحات ابھی مستقبل
مزید پڑھیے




شکست کی ذلت

منگل 18 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
صاحبو! ہم اس کے قائل نہیں کہ’’ قومی کرکٹ ٹیم تم ہارو یا جیتو، ہمیں تم سے پیار ہے‘‘۔ ہرگز نہیں ہمارا پیار اتنا بھی غیر مشروط نہیں، پہلے خود کو اس کا مستحق ثابت کریں۔یہ بھی ایک بیکارجملہ ہے کہ کھیل میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے، اس لئے جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔پہلی بات تو یہ کہ جذبات سے بے بہرہ کون ہوسکتا ہے؟صرف مجسمے، مجنوں ،اورمردہ ہی اس سے پاک ہوسکتے ہیں۔ ہار جیت بے شک سکے کے دو رخ ہیں، ایک ٹیم نے ہارنا، ایک نے جیتنا ہے۔ ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ ہمیشہ جیتتے رہو۔ کوئی احمق
مزید پڑھیے


تقریر اور اس کے بعد

جمعه 14 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کالم نگاروں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کالم کا موضوع،مواد، اس کے لئے وقت سب کچھ میسر ہے، مگر اس دن کالم نہیں دے سکتے کہ ہر کالم نگار کو مخصوص دن الاٹ ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارا کالم جمعہ، اتوار، منگل کو شائع ہوتا ہے۔عمران خان کی تقریر کے اگلے روز اس پر لکھنے کا ارادہ تھا، مگر ممکن نہیں ہوسکا، اب دو دن گزر گئے ، کئی سینئر ساتھیوں نے اس پر لکھ بھی ڈالا۔ اس کے باوجود ہم بھی اپنا کتھارسس کر یں گے، اس لئے کہ اس رات اپنے زیادہ دلچسپ، مفید کام
مزید پڑھیے


سرائیکی وسیب میں چند دن

منگل 11 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلا پورا ہفتہ سرائیکی وسیب میں گزرا۔’’وسیب ‘‘کی اصطلاح سرائیکی خطے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ستائیس رمضان سے لے کر عید کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد تک احمدپورشرقیہ، بہاولپور اور پھر ملتان میں رہا۔سخت گرمی نے ہر ایک کے حواس مختل کر رکھے تھے۔ چھیالیس، اڑتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں آدمی آخر کیا کر سکتا ہے؟روزمرہ معمولاتِ زندگی مگر موسموں کی سختی سے بے نیاز ہیں۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی سخت گرمی پڑتی ہے،جنوبی پنجاب میں مگر صحراکے اثرات سے’’ آتشی مزاج لو‘‘میں تندی، کاٹ بڑھ جاتی ہے۔ ملتان میں تو خاص طور سے
مزید پڑھیے


عہد جو زندگی بدل سکتے ہیں

جمعه 31 مئی 2019ء
محمد عامر خاکوانی
زندگی میں بعض واقعات، مکالمے یا لمحات ایسے بھی آتے ہیں جن کے نقش کبھی مدھم نہیں پڑتے۔جب کبھی ان کا خیال آیا، دل انبساط سے سرشار ہوجاتاہے۔ ہمارے ہاں یہ عام رواج بن گیا ہے کہ اِدھر اُدھر سے منفی واقعات ڈھونڈ، انہیں یکجا کر کے سماج کی ایک بدہئیت، سیاہ تصویر بنا دی جاتی ہے۔ لفظوں کا کچھ ایسا تانا باناتحریر کر دیا گیا جسے پڑھنے کے بعد آدمی ڈپریشن اور مایوسی کی خوفناک دلدل میں دھنستا چلا جائے۔ ایسا نہیں کہ ہمارے آس پاس ظلم، نفرت،وحشت موجود نہیں۔ بہت کچھ ناپسندیدہ ہے۔ خاصا کچھ مگر وہ بھی
مزید پڑھیے


وزیرستان میں کسی بلنڈر کی گنجائش نہیں

بدھ 29 مئی 2019ء
محمد عامر خاکوانی
والدہ محترمہ کی علالت کی وجہ سے پچھلے چند دنوں سے بری طرح الجھا ہوا ہوں۔ ماں اگر آئی سی یو میں ہو تو ظاہر ہے تما م تر توجہ ادھر ہی مرکوز ہوگی۔انتظار گاہ میں بیٹھے سامنے لگے ٹی وی سیٹ پر البتہ نظر پڑ جاتی توخبروں کے ٹکرز دیکھ لیتا۔وزیرستان میں جس طرح اچانک کشیدگی بڑھی ، اس سے بڑی تشویش ہو رہی ہے۔ فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان ٹکرائو ہمیشہ خطرناک اور نہایت نقصان دہ ہوتاہے ،خواہ اس کا دائرہ کار جتنا بھی محدود ہو۔ محسن داوڑ اور اس کے ساتھیوں کی جانب
مزید پڑھیے