BN

محمد عامر رانا


دہشت گردی کا بدلتا منظر نامہ


کچھ ایسے اقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی متشدد دہشتگردانہ کاروائیوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔حالیہ کچھ دنوں میں ہونیوالے واقعات ایسے ہیں ، جن کے سبب پاکستان میں تشدد پسندی کا منظرنامہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔کا لعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہوجانے والے دو متحارب گروہوں نے ایک بار پھر اس تنظیم سے اتحاد کرلیا ہے۔ خطے میں سرگرم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں برسرپیکار قوم پرست عناصر ایک بار پھر سندھ میں سرگرم ہوئے ہیں۔دریں اثناء حکومت کی جانب سے
جمعرات 17  ستمبر 2020ء

گمشدہ سیاسی فکر

اتوار 12 جولائی 2020ء
محمد عامر رانا
دہشت گردی کے حالیہ واقعات بالخصوص بلوچستان اور سندھ میں نسل پرستوں کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیوں سے دو پہلو نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ دہشت گردی کا خطرہ چاہے وہ مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے ہو یا پھر قوم پرست تشدد پسندوں کی طرف سے ابھی تک موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ دہشت گردی کے حالیہ اسباب کو محض طاقت کے استعمال سے ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے جامع حکمت عملی جس میں مصالحت اور مذاکرات دونوں شامل ہوں اس کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ریاست نے نیم
مزید پڑھیے


رشید مصباح کے لئے

اتوار 05 جولائی 2020ء
محمد عامر رانا
’’کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے‘‘جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟ کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں مہارت
مزید پڑھیے


طالبان کی طاقت

اتوار 28 جون 2020ء
محمد عامر رانا
افغان طالبان کے اس اصرار نے کہ افغانستان میں القاعدہ کا وجود نہیں، دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ طالبان کے اس بیان سے اس برس امریکہ سے کئے گئے معاہدے پر کوئی خوش کن اثر نہیں پڑنے والا۔ اگرچہ طالبان کے انکار کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بھی تاریخ رہی ہے لیکن طالبان کے افغانستان میں القاعدہ کے وجود نہ ہونے کا بیان ان کی سیاسی مجبوریوں کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان روابط کی طویل تاریخ ہے جس کو اب برقرار رکھنے میں طالبان کو دقت محسوس ہو رہی
مزید پڑھیے


چین بھارت کشیدگی: پاکستان کیا کرے؟

اتوار 21 جون 2020ء
محمد عامر رانا
بھارت کو چین کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت سخت دبائو میں ہے۔ اس کی حکومت کا لبہ و لہجہ وہ نہیں جو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دنوں میں ہوتا ہے بلکہ مودی کا یہ بیان کہ چین نے بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی چینی فوجی بھارتی سرحدوں کے اندر آئے۔ ہر کافی لے دے ہورہی ہے۔ بیس انڈین فوجیوں کی ہلاکت اور دس فوجیوں جن میں اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں ان کی گرفتاری۔ بھارت کی عسکری تاریخ
مزید پڑھیے



تزویراتی تبدیلی ؟

اتوار 14 جون 2020ء
محمد عامر رانا
ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل( جغرافیائی سیاسی)منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جارہا ہے،رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک(تزویراتی)نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کررہے ہیں۔بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے،اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا،یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن نہیں
مزید پڑھیے


عام آدمی کے لئے انصاف

پیر 08 جون 2020ء
محمد عامر رانا
پاکستان میں عام آدمی کے لئے انصاف کی بات ایک گھسا پیٹا موضوع لگتا ہے۔ اخبار اور ٹی وی سکرین کے لئے ایسی خبروں میں زیادہ کشش نہیں ہوتی اور سوشل میڈیا پر باسی کڑی میں ابال کی طرح کبھی کبھار اس پر ٹرینڈ چلتا ہے اور چند گھنٹوں میں دم توڑ دیتا ہے۔ عدالتیں ‘تھانے ‘ہسپتال‘ فیکٹری کھیت کھلیان، پہاڑ، صحرا اور حتیٰ کہ دفتر اور گھر کے اندر تک کمزور استحصال کا شکار ہے۔ مختلف ادارے اور تنظیمیں اعداد و شمار جمع کرتی اور شائع کرتی ہیں۔ عام آدمی کے لئے انصاف ریاست اور سماج کی ترجیح نہیں
مزید پڑھیے


شہزاد اکبر کون ہے؟

اتوار 31 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
’’شہزاد اکبر کون ہے؟‘‘ جب یہ سوال 2010ء کے لگ بھگ پوچھا جاتا تھا تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہوتا تھا کہ بیرسٹر آزاد رائے رکھنے والا آدمی ہے ،دراصل بیرسٹر شہزاد اکبر اتنی اچانک سے منظر عام پر آیا کہ اس کے کوائف اور حسب نسب کے بارے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ امریکی حکومت اور خصوصاً سی آئی اے کے خلاف پانچ سو ملین ڈالر کا دعویٰ دائر کرنا بڑا حوصلے کا کام تھا اور اس نے یہ دعویٰ وزیرستان سے اپنے موکل کریم خان کے کہنے پر ڈرون
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں کی عید

اتوار 24 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
عید ایک خوف کے عالم میں گزرے گی ۔یہ تو معلوم تھا لاک ڈائون کے عملاً خاتمے کے بعد کورونا کی وبا نے جو کروٹ لی ہے‘ تہوار کے دن کے جو چند معمولات کے بارے میں منصوبہ بندی کی تھی وہ کھٹائی میں پڑتے دِکھ رہے تھے۔لیکن پی آئی اے کے طیارے کے حادثے نے سوگ کا اضافہ بھی کر دیا ہے بلکہ اس سوگ نے تو کورونا کی وبا کا خوف بھی بھلا دیا ہے۔ وقت کی بات ہے ایک سانحے کے دکھ کو کم کر نے کے لئے ایک نئے حادثے کا سہاراہوا ہے ۔شاعر اس پر
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں میں دہشت گردی کا خطرہ

اتوار 17 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
اس وقت جب دنیا کورونا کی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف عمل ہے‘ اقوام اور عالمی تنظیمیں وبا کے انسانوں ‘معیشت اور سماج اور نفسیات پر منفی اثرات کا جائزہ لینے میں جتی ہوئی ہیں‘وبا کے خوف کے سایے میں بھی سکیورٹی خطرات موجود ہیں گو غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز پر دنیا کی توجہ کم ہے۔ مثال کے طور پر کورونا وبا کے دوران بھی دہشت گردی کے خطرے میں کوئی کمی نہیں دکھائی دیتی بلکہ کچھ علاقوں میں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جیسا کہ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔عالمی برادری افغانستان پر
مزید پڑھیے