BN

محمد عامر رانا


خلیجی ریاستوں میں تبدیلی کے آثار اور مسلم معاشرے


21 سال پہلے، امریکا میں ہونے والے نائن الیون کے حملوں نے مسلم معاشروں میں سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے ایک سلسلے کی بنا رکھی تھی۔دنیا بھر میں مسلم معاشرے ان سے متاثر ہوئے۔وہ جن کو الزام دیا گیا اور وہ بھی جو اس ساری صورتحال سے لا تعلق تھے ۔راہ چلتے ہر اس فرد کو نفرت کا نشانہ بنایا جانے لگا جو حلیئے سے مسلمان یا مسلمانوں جیسا نظر آتا تھا۔بتایا گیا کہ اس حملے کے پیچھے القاعدہ تھی۔ مشرق وسطیٰ اْس وقت نقطہِ اشتعال پہ تھا، کیونکہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ القاعدہ کے نظریے کی
منگل 20  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

ٹی ٹی پی سے مذاکرات

جمعرات 14 جولائی 2022ء
محمد عامر رانا
اگر پارلیمنٹ کالعدم ٹی ٹی پی کو محفوظ راستہ دیتی ہے تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔بظاہر دہشت گرد گروپ کے ساتھ امن مذاکرات کا بوجھ اور ذمہ داری پارلیمنٹ پر ڈالی گئی ہے جو کہ کمزور ہے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کندھا دینے کو تیار نظر آتی ہے۔ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات خطے کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں شامل محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔بلکہ یہ پاکستان کی روح کا معاملہ ہے۔ ریاست اور سماج دونوں نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں ایک نادر اتفاق رائے پیدا کیا ہے،ملک کو اپنے نظریاتی نمونے پر
مزید پڑھیے


کالعدم ’تحریکِ طالبان پاکستان‘ کے ساتھ مذاکرات

پیر 04 جولائی 2022ء
محمد عامر رانا
’تحریکِ طالبان پاکستان‘ (TTP) کے ساتھ معاہدے کے اقدام پر تحفظات رکھنے والے شہریوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ہلکی پھلکی دہائی تہائی کے بعد عسکری قیادت نے سیاسی رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ آئین سے ماورا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔دوہفتے قبل ’قومی سلامتی کمیٹی‘ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کا خفیہ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں قائد ایوان یعنی وزیر اعظم، دیگر رہنماؤں کو اس میں شامل کریں گے۔ اس بیان سے یہ تاثر ملا ہے کہ ٹی
مزید پڑھیے


سی پیک اور کثیرالثقافتی میل جول کا پہلو

پیر 15 فروری 2021ء
محمد عامر رانا
جغرافیائی اور علاقائی باہمی رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہونے کے تناظر سے قطع نظر پاک چین اقتصادی راہداری نے اس بات کی بھی امید پیدا کردی تھی کہ اس سے پاکستان کی معاشی اٹھان ممکن ہوگی اور صنعتی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ لیکن یہ امید آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مقتدر اشرافیہ اس منصوبے کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ منصوبے کا ڈھانچہ بھی مربوط و منضبط حیثیت میں متشکل نظر نہیں آیا۔ سی
مزید پڑھیے


دہشت گردی کا بدلتا منظر نامہ

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
محمد عامر رانا
کچھ ایسے اقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی متشدد دہشتگردانہ کاروائیوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔حالیہ کچھ دنوں میں ہونیوالے واقعات ایسے ہیں ، جن کے سبب پاکستان میں تشدد پسندی کا منظرنامہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔کا لعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہوجانے والے دو متحارب گروہوں نے ایک بار پھر اس تنظیم سے اتحاد کرلیا ہے۔ خطے میں سرگرم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں برسرپیکار قوم پرست عناصر ایک بار پھر سندھ میں سرگرم ہوئے ہیں۔دریں اثناء حکومت کی جانب سے
مزید پڑھیے



گمشدہ سیاسی فکر

اتوار 12 جولائی 2020ء
محمد عامر رانا
دہشت گردی کے حالیہ واقعات بالخصوص بلوچستان اور سندھ میں نسل پرستوں کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیوں سے دو پہلو نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ دہشت گردی کا خطرہ چاہے وہ مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے ہو یا پھر قوم پرست تشدد پسندوں کی طرف سے ابھی تک موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ دہشت گردی کے حالیہ اسباب کو محض طاقت کے استعمال سے ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے جامع حکمت عملی جس میں مصالحت اور مذاکرات دونوں شامل ہوں اس کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ریاست نے نیم
مزید پڑھیے


رشید مصباح کے لئے

اتوار 05 جولائی 2020ء
محمد عامر رانا
’’کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے‘‘جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟ کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں مہارت
مزید پڑھیے


طالبان کی طاقت

اتوار 28 جون 2020ء
محمد عامر رانا
افغان طالبان کے اس اصرار نے کہ افغانستان میں القاعدہ کا وجود نہیں، دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ طالبان کے اس بیان سے اس برس امریکہ سے کئے گئے معاہدے پر کوئی خوش کن اثر نہیں پڑنے والا۔ اگرچہ طالبان کے انکار کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بھی تاریخ رہی ہے لیکن طالبان کے افغانستان میں القاعدہ کے وجود نہ ہونے کا بیان ان کی سیاسی مجبوریوں کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان روابط کی طویل تاریخ ہے جس کو اب برقرار رکھنے میں طالبان کو دقت محسوس ہو رہی
مزید پڑھیے


چین بھارت کشیدگی: پاکستان کیا کرے؟

اتوار 21 جون 2020ء
محمد عامر رانا
بھارت کو چین کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت سخت دبائو میں ہے۔ اس کی حکومت کا لبہ و لہجہ وہ نہیں جو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دنوں میں ہوتا ہے بلکہ مودی کا یہ بیان کہ چین نے بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی چینی فوجی بھارتی سرحدوں کے اندر آئے۔ ہر کافی لے دے ہورہی ہے۔ بیس انڈین فوجیوں کی ہلاکت اور دس فوجیوں جن میں اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں ان کی گرفتاری۔ بھارت کی عسکری تاریخ
مزید پڑھیے


تزویراتی تبدیلی ؟

اتوار 14 جون 2020ء
محمد عامر رانا
ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل( جغرافیائی سیاسی)منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جارہا ہے،رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک(تزویراتی)نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کررہے ہیں۔بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے،اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا،یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن نہیں
مزید پڑھیے








اہم خبریں